Mz08-20-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, May 11, 2019

Mz08-20-2019


عفو ودرگذر ... ایک بہترین خصلت

تحریر: جناب مولانا لیاقت علی باجوہ
نبی کریمe نے ارشاد فرمایا:
[لیس الشدید بالصرعة انما الشدید الذی یملک نفسہ عند الغصب] (متفق علیہ)
’’بہادر وہ نہیں جو کشتی لڑنے میں غالب ہو جائے بلکہ حقیقی بہادر وہ ہے جو غصہ کی حالت میں اپنے آپ پر قابو پالے۔‘‘ (بخاری ۱۶۱۲، مسلم البر والصلۃ ۱۰۷)
ایک متقی اور دینی تعلیمات پر لبیک کہنے والا مسلمان عفو و درگزر کرنے والا ہوتا ہے۔ عفو و درگزر ایک بلند انسانی خصلت ہے جس کی قرآنی نصوص میں بہت زیادہ تعریف کی گئی ہے۔ اس سے آراستہ ہونے والوںکو تقویٰ کا بلند نمونہ قرار دیا گیا ہے کیونکہ ان کا شمار نیکوکار لوگوں کے زمرے میں آتا ہے۔ ارشاد ربانی ہے:
{وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ وَاللّہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ} (آل عمران: ۱۳۴)
’’جو لوگ غصہ پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کر دیتے ہیں ایسے نیک لوگ اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہیں۔‘‘
اس فضیلت کے مستحق وہ لوگ اس لئے ہوتے ہیں کہ انہوں نے اپنا غصہ پی لیا اور کسی سے بغض، نفرت و کینہ نہیں رکھا۔ بلکہ نفرت و کینہ کے بھاری بوجھ سے آزاد ہو گئے اور عفو و مغفرت، نرمی و چشم پوشی کی وسیع فضائوں میں زندگی گزارنے لگے۔ چنانچہ خوش خلقی، راحت نفس اور اس سے کہیں بڑھ کر اللہ کی محبت و خوشنودی سے وہ سرفراز ہوئے۔ قرآن مجید نے غصہ پر قابو پانے والوں کی تعریف فرمائی ہے:
{وَالَّذِیْنَ یَجْتَنِبُونَ کَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ وَإِذَا مَا غَضِبُوا ہُمْ یَغْفِرُونَ} (الشوریٰ: ۳۷)
’’وہ لوگ جو بڑے گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے بچتے ہیں اور جب غصہ میں آجاتے ہیں تو معاف کر دیتے ہیں۔‘‘
عفو و درگزر ایک بلند مقام ہے جس کی بلندی تک وہی لوگ پہنچ سکتے ہیں جن کے دلوں کے دروازے اسلامی تعلیمات کے لئے کھل گئے ہوں اور جن کے نفوس اسلام کے وسیع اخلاق سے اثرپذیر ہوئے ہوں۔ چنانچہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ملنے والی مغفرت، ثواب اور عزت افزائی کو انتقام اور بدلہ کی خواہش اور نفس کی دیگر خواہشات پر ترجیح دی ہو۔
سیدنا انسt سے روایت ہے کہ نبی کریمe کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو کشتی کر رہے تھے آپe نے فرمایا: کیا ہو رہا ہے؟ لوگوں نے کہا کہ فلاں مرد جس سے بھی کشتی کرتا ہے اسے گرا دیتا ہے۔ آپe نے فرمایا: میں تمہیں اس سے زیادہ طاقت ور آدمی نہ بتائوں؟ وہ آدمی جس سے کسی آدمی نے (غصہ دلانے والی) بات کی تو وہ اپنے غصہ کو پی گیا پس اس پر غالب آ گیا اور اپنے ساتھی کے شیطان پر بھی غالب آگیا۔ (رواہ البزار بسند حسن، فتح الباری کتاب الادب)
صحیح مسلم میں ابن مسعودt سے روایت ہے کہ رسول اللہe نے ارشاد فرمایا کہ تم پہلوان کسے شمار کرتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ جسے آدمی گرا نہ سکیں تو آپe نے فرمایا: پہلوان صرف وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔ غصے پر قابو پانے کے لئے رسول اللہe نے کئی طریقے بتائے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ سمجھنا چاہیے کہ غصے کو بھڑکانا اصل میں شیطان کی طرف سے ہوتا ہے، اس کے لئے اس کا علاج بھی یہی ہے کہ شیطان سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
’’اگر تمہیں شیطان کی طرف سے چوکا لگے (شیطان غصے کو مشتعل کر دے) تو اللہ کی پناہ مانگ، یقینا وہی سننے والا جاننے والا ہے۔‘‘
سیدنا سلیمان بن صردt فرماتے ہیں کہ میں نبی کریمe کے ہمراہ تھا کہ دو آدمی آپس میں گالی گلوچ کر رہے تھے، ان میں سے ایک کا چہرہ سرخ ہو گیا اور گلے کی رگیں پھول گئیں تو نبی کریمe نے فرمایا: مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے اگر یہ کلمہ کہہ لے (اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم) تو جو کچھ اس پر گزر رہی ہے وہ ختم ہو جائے گی۔(بخاری: ۳۲۸۲)
سیدنا عبداللہ بن عباسtسے روایت ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا:
[اذا غضب احدکم فلیسکت] (احمد، صحیح الجامع: ۶۹۳)
’’جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو خاموش ہو جائے۔‘‘
سیدنا ابوذرt سے روایت ہے کہ نبیe نے ارشاد فرمایاـ: جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے اور وہ کھڑا ہو تو بیٹھ جائے، اگر غصہ ختم ہو جائے تو بہتر ورنہ لیٹ جائے۔(احمد، ابودائود، ابن حبان، صحیح الجامع ۶۹۴)
حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ حقیقی قوت جسمانی قوت نہیں بلکہ معافی سب سے بڑی قوت ہے۔ جس طرح اجنبی دشمنوں سے جو اللہ کے دین کی مخالفت کریں مقابلہ ضروری ہے اور اس کے لئے قوت کی ضرورت ہے اسی طرح نفس جب اللہ کے احکام کی مخالفت پر اتر آئے خصوصاً جب وہ غصے میں مشتعل ہو چکا ہو اور شیطان اس کو برابر بھڑکا رہا ہو۔ اس وقت اس پر قابو پانا بڑی بہادری ہے۔ اسی طرح آپe نے ارشاد فرمایا کہ مسلمان وہ ہے:
[المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ۔] (بخاری کتاب الایمان: ۱۱)
’’ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان سلامتی میں رہیں۔‘‘
جب انسان کو غصہ آتا ہے تو اخلاق کا دامن چھوڑ دیتا ہے اور منہ میں جو آتا ہے کہہ ڈالتا ہے۔ حالانکہ رسول اللہe نے ارشاد فرمایا ہے:
[اکمل المومنین ایمانا احسنھم خلقا۔] (ابوداؤد کتاب السنۃ: ۴۶۸۲)
سب سے کامل ایمان والے وہ ہیں جومسلمانوں میں سب سے زیادہ اچھے اخلاق والے ہیں۔ مزید فرمایا کہ میزان میں حسن اخلاق سے زیادہ بھاری کوئی چیز نہ رکھی جائے گی اور یقینا حسن اخلاق والا شخص روزے اور نماز پڑھنے والے کا درجہ پا لیتا ہے۔ (ترمذی کتاب البر والصلۃ:۲۰۰۳)
جب انسان کو غصہ آئے تو اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے اور صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
سیدنا ابوہریرہt سے روایت ہے کہ آپe سے ایک شخص نے کہا کہ مجھے وصیت کیجئے تو آپe نے فرمایا: لا تغضب غصہ مت کر، اس آدمی نے کئی مرتبہ یہ سوال دہرایا کہ مجھے کچھ نصیحت کریں لیکن آپe نے اسکے جواب میں بار بار یہی فرمایا کہ لاتغضب غصہ مت کر۔ (بخاری: ۶۱۱۶)
غصہ میں آ کر آدمی اعتدال سے نکل جاتا ہے، اس لئے آپe کی وصیت تمام مسلمانوں کے لئے ہے۔ رسول اللہe نے ہمیں غصے سے بچنے کا حکم دے کر بے شمار قباحتوں سے بچ جانے کا اہتمام فرمایا۔ کیونکہ غصے کی آگ سے انسان کا چہرہ اور آنکھیں سرخ ہو جاتی اور ہاتھ پائوں کانپنے لگتے ہیں بلکہ شکل ہی بدل جاتی ہے۔ غصے کے ساتھ ہی عقل پر پردہ پڑ جاتا ہے، آدمی وحشیانہ حرکتیں کرنے لگتا ہے۔ بسا اوقات اپنے ہی کپڑے پھاڑ دیتا ہے، اپنے آپ کو ہی مارنا شروع کر دیتا ہے۔ غرض ایسے کام کرتا ہے کہ اگر ہوش کی حالت میں اپنے آپ کو دیکھے تو شرمندہ ہو جائے۔ یہ تو ظاہری نقصان ہے لیکن دل کا نقصان اس سے بھی بڑھ کر ہوتا ہے کہ غصے کی وجہ سے دل بغض، کینے و حسد اور آتش انتقام سے بھرا رہتا ہے۔ سکون اور اطمینان رخصت ہو جاتے ہیں، انسان اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر تل جاتا ہے اور دوستوں رشتہ داروں اور اہل ایمان بھائیوں سے قطع تعلق کر لیتا ہے۔ اب آپ رسول اللہe کی اس حکیمانہ وصیت پر غور کریں کہ آپe نے اس چھوٹے سے جملے میں کتنی حکمت کی باتیں سمودی ہیں، اس پر عمل کرنے سے انسان کو کتنے فائدے حاصل ہوتے ہیں اور وہ کتنے نقصانات سے بچ جاتا ہے۔
سیدنا انسt سے روایت ہے کہ رسول اللہe نے ارشاد فرمایا: [من کف غضبہ کف اللہ عنہ عذابہ۔] (طبرانی) جو شخص اپنے غصے کو روک لے اللہ تعالیٰ اس سے اپنا عذاب روک لے گا۔‘‘
آدمی کو چاہیے کہ ہمیشہ نرمی کو اپنائے کیونکہ اس کے دنیا اور آخرت میں بہت زیادہ فوائد ہیں۔ آپe نے فرمایا: [من یحرم الرفق یحرم الخیر] ’’جو نرمی سے محروم کیا گیا وہ خیر سے محروم کیا گیا۔‘‘ ام المومنین سیدہ عائشہr سے روایت ہے کہ رسول اللہe نے ارشاد فرمایا: ’’اے عائشہؓ! بے شک اللہ تعالیٰ نرمی کرنے والا ہے نرمی کو پسند کرتا ہے، نرمی پر وہ جو کچھ عطا فرماتا ہے وہ سختی اور اس کے علاوہ کسی چیز پر عطا نہیں فرماتا۔ (مسلم کتاب البر والصلۃ: ۶۶۰۱)
آپ e نے فرمایا:
جو شخص اپنے غصے کو روکے اللہ تعالیٰ اس کے عیبوں پر پردہ ڈالے گا اور جو شخص اپنے غصے کو ایسی حالت میں پی جائے کہ اگر وہ غصہ پورا کرنا چاہتا تو کر سکتا تھا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے دل کو امید سے بھر دے گا۔ (انتھی، کنزالعمال: ۷۱۶۵)
ایک متقی اور باشعور آدمی نرمی سے پیش آتا ہے اور سختی و درشتی سے اجتناب کرتا ہے۔ اس لئے اہل ایمان کا کردار یہ ہے کہ وہ معاملات میں غصہ اور سختی کی بجائے نرمی اور آسانی اختیار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لئے یہی پسند فرماتا ہے۔
{یُرِیْدُ اللّہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلاَ یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ}
’’اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے اور سختی نہیں کرنا چاہتا۔‘‘ (البقرۃ: ۱۸۵)
 تعلیمات نبویؐ میں بھی آسانی پیدا کرنے پر اکسایا گیا ہے اور سختی سے منع کیا گیا ہے۔غصہ کرنے اور معاملات کو پیچیدہ بنانے کا وہی شخص سہارا لیتا ہے جس کے اخلاق میں کجی، طبیعت میں تنگی اور تربیت میں نقص و خلل ہو۔ رہا وہ انسان جو سلیقہ شعار اور اسلامی آداب سے آراستہ ہو نہ وہ سختی کرتا ہے، نہ ہی پیچیدگی چاہتا ہے، نہ معاملات میں رخنہ ڈالتا ہے، نہ غصے میں رہتا ہے اور نہ دوسروں کے مفادات معطل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
سیدنا سہل بن معاذ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہe نے ارشاد فرمایاـ: جو شخص غصے کو روکے حالانکہ اس کو اپنا غصہ نکالنے کا اختیار ہو تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کو تمام لوگوں کے سامنے بلا کر فرمائے گا کہ جس حور کو تو چاہے پسند کرے۔ (ابودائود، کتاب الادب: ۴۷۷۷)
بعض آدمی جب غصے میں آتے ہیں تو لڑائی جھگڑا کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے چہرے پر بھی مارتے ہیں۔ ابوہریرہt سے روایت ہے کہ رسول اللہeنے ارشاد فرمایا:
[اذا قاتل احدکم فلیجتنب الوجہ۔]
’’جب کوئی شخص تم میں سے لڑے تو چہرے پر مارنے سے بچے۔‘‘ (بخاری: ۲۵۵۹۱)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غصے میں ایک دوسرے کے چہرے پر کوئی بھی چیز مارنا منع ہے حتیٰ کہ اپنے غلام خادم یا شاگرد کو ادب سکھانے کے لئے سزا دیتے وقت بھی منہ پر کوئی چیز مارنا حرام ہے۔
اگر کوئی کسی پر زیادتی کرتا ہے تو قرآن نے بدلہ لینے کا حق دیا ہے تا کہ اپنے آپ سے ظلم و زیادتی دور کرے لیکن اسلام نے اس سے بڑھ کر معافی کا درس دیا ہے جو کہ اولوالعزمی کا مقام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۂ شوریٰ میں ارشاد فرمایا ہے: ’’اور جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو اس کا بدلہ لیتے ہیں، برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے پھر جو کوئی معاف کر دے اور اصلاح کرے اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے، اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ جو لوگ ظلم ہونے کے بعد بدلہ لیں ان کو ملامت نہیں کی جاسکتی، ملامت کے مستحق تو وہ ہیں جو دوسروں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق زیادتیاں کرتے ہیں، ایسے لوگوں کے لئے دردناک عذاب ہے البتہ جو شخص صبر سے کام لے اور درگزر کرے تو یہ بڑی اولوالعزمی کے کاموں میں سے ہے۔ (شوریٰ: ۳۹-۴۳)
اہل ایمان کا معاشرہ ایسا ہوتا ہے کہ اس میں افراد کے درمیان معاملات چھوٹی بڑی چیزوں میں گرفت، باز پرس اور ذاتی انتقام پر مبنی نہیں ہوتے بلکہ اس کے برعکس معافی، چشم پوشی، عفو و درگزر اور صبر پر قائم رہتے ہیں۔ جب بھی برائی کا بدلہ برائی سے دیا جائے گا تو سینوں میں غیظ کے شعلے بھڑکیں گے۔ حسد و کینہ کے جذبات مشتعل ہوں گے اور بغض و نفرت کے احساسات پروان چڑھیں گے لیکن جب برائی کا بدلہ نیکی سے دیا جائے گا تو اس سے غیظ و غضب کے شعلے سرد پڑیں گے، نفس کا اشتعال ماند پڑ جائے گا اور بغض و نفرت کی کدورتیں دل سے دھل جائیں گی چنانچہ جن کے درمیان باہم دشمنی چلی آ رہی تھی وہ کسی ایک کی طرف اچھی بات ظاہر ہونے یا محبت آمیز مسکراہٹ کا اظہار ہونے سے پکے دوست بن جائیں گے اور باہم شیر و شکر ہو جائیں گے۔ یقینا یہ اس شخص کی بڑی کامیابی ہے جس نے برائی کا بدلہ نیکی سے دیا، یہ وہ مقام ہے جسے بڑے نصیبے والا ہی کر سکتا ہے۔
رسول اللہe مسلمانوں کے دلوں میں ہمیشہ عفو و درگزر کا اخلاق راسخ کرتے اور انہیں یہ تعلیم دیتے کہ اگرچہ لوگ ان کے ساتھ قطع تعلق کا معاملہ برتیں مگر وہ ان کے ساتھ رواداری اور عفو درگزر کا برتائو کریں۔ آپe اللہ تعالیٰ کی عنایات تربیت اور نگاہ بلندی سے یہ اچھی طرح ادراک رکھتے تھے کہ لوگ شدت و سختی اور ترک تعلق کے مقابلہ میں بلند اخلاقی اور بھائی چارہ کے تعلق سے قریب ہوتے ہیں۔ اس لئے جب آپe سے سیدنا عقبہ بن عامرؓ نے پوچھا کہ سب سے افضل اعمال کون سے ہیں تو آپؐ نے انہیں مندرجہ ذیل چیزوں کی تعلیم دی کہ
اے عقبہ! جو تم سے قطع تعلق کرے تو اس کے ساتھ صلح رحمی کر، جو تمہیں محروم کرے اسے دو اور جو تم پر ظلم کرے اس سے درگزر کرو۔ ایک روایت میں ہے واعف عمن ظلمک جو تم پر ظلم کرے تم اسے معاف کر دو۔ (مسند احمد: ۴۔۱۵۸)
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں درگزر کرنے اور بہادر بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

No comments:

Post a Comment

View My Stats