Mz09-20-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, May 11, 2019

Mz09-20-2019


مناظرِ اسلام ... مولانا محمد علی حامد

تحریر: جناب محمد شعیب حامد
حضرت مولانا محمد علی بن شیر محمد بن عبدالحکیم۔ ۱۹۳۷ء میں فیروز پور کے قبصہ بڈھیمال میں پیدا ہوئے۔
بڈھیمال میں چار پانچ سال سکول کی تعلیم حاصل کی۔ پاکستان آنے کے بعد ابتدائی تعلیم جھوک دادو میں حاصل کی۔ اس کے بعد جامعہ محمدیہ اوکاڑا میں تشریف لے گئے جہاں کچھ درس نظامی کی کتب پڑھیں۔ اس دور میں آپ نے جڑانوالہ کے قریب چک نمبر ۲۳ گ ب میں امامت وخطابت کا سلسلہ بھی شروع کر دیا۔ پھر جامعہ تعلیم الاسلام مامونکانجن میں وارد ہوئے اور بخاری شریف کی سند حافظ عبداللہ بڈھیمالویa سے حاصل کی۔ آپ دوران تعلیم ہی بیمار ہو گئے۔ اس دوران میں روزانہ چک نمبر ۲۳ گ ب سے ریل گاڑی پر مامونکانجن جاتے اور اسباق پڑھ کر واپس آجاتے۔ درس نظامی مکمل کرنے کے بعد آپ نے فاضل فارسی کیا جو منشی فاضل کہلاتا تھا۔ اس کے بعد جڑانوالہ اسلامیہ ہائی سکول میں پرائیویٹ طور پر پڑھانے لگے لیکن وہ تہبند باندھنے کے عادی تھے جبکہ سکول میں شلوار پہننا پڑتی تھی لہٰذا انہوں نے سکول کو خیر باد کہہ دیا۔ اصل میں آپ کو قدرت نے دین حنیف کی تدریس کے لیے منتخب کر لیا تھا‘ سکول کیا پڑھاتے۔
خطابت کے میدان میں: مولانا محمد علی حامد تقریبا چھبیس سال چک ۲۳ گ ب میں امامت وخطابت کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ ہمیشہ نماز فجر کے بعد درس قرآن ارشاد فرماتے۔ اس دوران آپ نے کئی مرتبہ ا ل م سے والناس تک درس ارشاد فرمائے۔ ارد گرد کے دیہات سے بہت سے تشنگان علم بلاتمیز مسلک جوق در جوق آتے اور اپنی علمی پیاس بجھاتے۔ ایک دفعہ چک ۲۳ گ ب کے ساتھ چک بائیس میں مولانا محمد امین (سائیکل والے) کے گھر آپ نے تقریر کی۔ گاؤں کے بریلوی مولوی نے اعلان کر دیا کہ گاؤں میں گستاخ آگئے ہیں لہٰذا لاٹھیاں وغیرہ لے کر پہنچو۔ بہت سے لوگ مسلح ہو کر آگئے۔ آپ نے بے خوف ہو کر انہیں قرآن وسنت کے دلائل دیے جس سے متأثر ہو کر بہت سے لوگ عامل بالقرآن والسنت ہو گئے۔ آج اس گاؤں میں اہل حدیث کی بہت بڑی مسجد مولانا کی محنتوں اور دعوتی تڑپ کی داستان سنا رہی ہے۔
تبلیغی خدمات: مولانا کو اللہ تعالیٰ نے خطابت کا ملکہ وافر مقدار میں عطا فرمایا تھا۔ آپ لحن داؤدی رکھتے تھے۔ بے مثال ترنم میں درد وغم کی آمیزش آپ کے سوز کو ایک قدرتی ساز بخشتی تھی۔ لوگ آپ کی تقریر میں دل کھول کر آنسو بہاتے تھے۔ آپ خود بھی پرنم ہو جاتے۔ آپ خانپور‘ جہانیاں‘ بچیانہ‘ جڑانوالہ اور دیگر بہت سے شہروں میں بڑی بڑی کانفرنسوں سے خطاب فرماتے تھے۔ اس دور میں آپ خطابت کے عروج پر تھے۔ مامونکانجن میں تقریبا دو سال خطبہ جمعہ دینے کے بعد آپ نے فیصل آباد جڑانوالہ روڈ سائیں دی کھوئی سٹاپ کے قریب چک نمبر بارہ کلاں میں ستائیس سال خطبہ جمعہ دینے کا اعزاز پایا۔ آپ کی خطابت سے اللہ تعالیٰ نے سینکڑوں کو توحید وسنت کے دامن سے وابستہ فرمایا۔ چک نمبر ۲۳ گ ب میں آپ کی محنتوں سے بابا عبدالعزیز‘ عبداللہ گجر‘ ڈاکٹر لیاقت‘ احمد اللہ اور چک نمبر ۲۴ گ ب کے محمد امیر اہل حدیث ہوئے جو آج بھی زندہ ہیں۔ مامونکانجن اور ستیانہ بنگلہ میں آپ سالہا سال عید کی نماز کی امامت بھی کرتے رہے۔ ستیانہ بنگلہ میں آپ امتحانات کے چیکر کی حیثیت سے بھی تشریف لاتے۔ اس دوران نمازیں بھی پڑھاتے رہے۔ آپ کی نمازوں میں قراء ت نے ستیانہ میں آپ کے کئی مداح پیدا کیے جن میں سے ایک محمد اسحاق بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے نماز میں ان کی قراء ت سنی اور جتنا سرور اس نماز میں آیا کبھی دوبارہ حاصل نہیں ہوا۔
میدان مناظرہ میں: آپ ایک بہترین مناظر بھی تھے‘ آپ نے اپنی مستعار زندگی میں کئی مناظرے کیے جن میں سے کچھ کا ذکر کرتے ہیں۔ مسلک بریلوی کے علماء سے آپ کے بہت سے مناظرے ہوئے جن میں کنجوانی کا مناظرہ مشہور ہے۔ آپ کا ایک اور معروف مناظرہ چک سیداں میں ہوا۔ چک نمبر ۲۳ گ ب میں ایک کنواں ہوتا تھا جس کے کنارے آپ کے بہت سے بریلوی علماء سے مناظرے ہوتے رہے۔ اہل حدیث کی طرف سے حاجی نور دین‘ مولوی چراغ دین‘ افضل جٹ‘ چوہدری ناظر‘ نمبردار ولی محمد‘ ماسٹر بارک اللہ‘ ادریس وغیرہ کتابیں لے کر چوک میں چلے جاتے۔ ایک دفعہ وہیں شاہ صاحب سے مناظرہ ہوا تو اگلے مناظرے سے شاہ صاحب بھاگ گئے۔ ایک دفعہ چک نمبر ۳۵ گ ب میں مولانا عبداللہ امجد چھتوی اور مولانا محمد علی حامد مرحوم کی مولوی عنایت اللہ سانگلہ والے سے گفتگو ہوئی۔ اسی طرح ایک مرتبہ مولانا محمد علی حامد‘ مولانا رفیع الدین فردوسی اور مولانا محمد عبداللہ مشتاق تین دن تک مامونکانجن کے دیوبندی مدرسہ احیاء العلوم کے مفتی فقیر اللہ اور دیگر دیوبندی علماء سے سپیکر میں مناظرہ کرتے رہے۔ جب مارکیٹ کے سامنے جو مقام مناظرہ تھا دیوبندی علماء نہ پہنچے تو جامعہ تعلیم الاسلام میں اہل حدیث کی طرف سے کامیابی کی خوشی میں ایک جلسہ منعقد کیا گیا جس میں مولانا شمشاد سلفی کو مدعو کیا گیا۔
تدریس: ۱۹۸۱ء میں آپ کو جامعہ تعلیم الاسلام میں بطور مدرس لے جایا گیا۔ آپ نے تقریبا ۲۲ سال وہاں تدریسی خدمات انجام دیں۔ اس کے بعد ۲۱ دسمبر ۲۰۰۲ء  کو آپ وہاں سے خیر باد کہہ کر دار الدعوہ السلفیہ ستیانہ بنگلہ میں مدرس کے طور پر تعینات ہوئے۔ وہاں دو سال خدمات انجام دینے کے بعد آپ نے تین سال جامعہ سلفیہ للبنات جڑانوالہ میں تدریس کی۔ دو ہزار دس میں دوبارہ آپ جامعہ تعلیم الاسلام مامونکانجن سے بطور شیخ الحدیث وابستہ ہو گئے اور پانچ سال تک تا دم واپسیں اسی عظیم ادارے سے وابستہ رہے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ میری خواہش ہے کہ میری روح تدریس کے دوران نکلے۔
بطور مفتی: جامعہ تعلیم الاسلام مامونکانجن میں مولانا حافظ محمد بنیامین طور اور مولانا محمد علی حامد کا ہی فتویٰ چلتا تھا۔ لوگ دور دراز سے چل کر آتے اور آپ سے فتاوی جات لے کر جاتے۔ ایک دفعہ مامونکانجن سے ایک دیوبندی عالم کے بھائی نے اپنی بیوی کو طلاق ثلاثہ دے دیں۔ بات حلالے تک پہنچی تو مولانا صاحب کا بھائی خود مولانا محمد علی مرحوم کے پاس آیا۔ مولانا نے فتویٰ دیا تو ان کا مسئلہ حل ہوا۔ اس طرح اور کئی معاملات میں آپ کے فتاویٰ جات سے مسائل حل ہوئے۔
وفات: مولانا محمد علی حامد کو گذشتہ پانچ سال سے دل کا عارضہ تھا۔ ۲۰۱۵ء میں رمضان کی چھٹیاں ہوئیں تو انہیں شدید درد شروع ہو گیا۔ انتقال سے کچھ دن پہلے کارڈیالوجی ہسپتال فیصل آباد لے جایا گیا اور چیک کروانے کے بعد واپس لایا گیا۔ ایک دن پہلے دوبارہ لے جایا گیا اور ڈاکٹرز نے انہیں پھر چھٹی دے دی۔ آخری دن نماز عصر کے وقت جان لیوا درد شروع ہوا۔ ستیانہ میں ڈاکٹر اللہ رکھا کے کلینک لے جایا گیا۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ ہارٹ اٹیک ہے‘ انہیں فوری کارڈیالوجی لے جائیں۔ رمضان المبارک کی گیارہ تاریخ تھی۔ نماز مغرب کے وقت ہسپتال پہنچے۔ آپ نے اپنے تیمار داروں کو افطاری کے لیے جانے پر مجبور کیا۔ اس کے بعد محض ایک سانس میں نہایت سکون واطمینان کے ساتھ اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔ یہ سوموار کا د ن تھا۔ فوت ہونے سے محض تین دن قبل آپ نے اپنا آخری جمعہ بھی چک بارہ میں پڑھایا۔ آخری نماز بھی قضاء نہیں کی۔
جنازہ: آپ کے جسد خاکی کو ستیانہ بنگلہ لایا گیا۔ اگلی صبح ساڑھے آٹھ بجے ان کی نماز جنازہ مدرسہ ستیانہ میں آہوں اور سسکیوں کے ساتھ ادا کی گئی۔ جنازہ پر آنے والی گاڑیوں کی کثرت کے سبب جنازے کے وقت فیصل آباد اوکاڑہ روڈ بلاک ہو گیا جو یہ اعلان کر رہا تھا کہ ولی اللہ کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے۔ اس روز سب راستے‘ سب قافلے مدرسہ ستیانہ کی جانب ہی رواں دواں تھے۔ پہلی نماز جنازہ مولانا عبداللہ امجد چھتوی نے پڑھائی جبکہ د وسری نماز جنازہ ان کے آبائی گاؤں چک نمبر ۳۶ گ ب میں مولانا عبدالعزیز علوی نے پڑھائی۔ گاؤں میں بیشمار لوگ شریک جنازہ تھے۔
اساتذہ اور شاگرد: ان کے چند اساتذہ کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں: مولانا حافظ عبداللہ بڈھیمالویؒ‘ مولانا شرف الدین دہلوی‘ مولانا محمد عبدہ‘ مولانا محمد حسین طور‘ مولانا لکھویS۔ ان کے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے شاگردوں میں چند ایک کے نام یہ ہیں: شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل‘ شیخ الحدیث مولانا عبدالرشید ضیاء‘ پروفیسر عنایت اللہ رحمانی‘ پروفیسر مولانا یونس‘ قاری حفیظ الرحمن‘ مولانا یوسف قمر‘ قاضی محمد رمضان صدیقی‘ مولانا اصغر سلفی‘ مولانا محمد افضل‘ مولانا محمد شعیب‘ پروفیسر محمد خبیب‘ مولانا عبدالرحمن فردوسی‘ مولانا محمد اسلم صدیقی‘ حافظ محمد اقبال راشد‘ مولانا محمد حنیف عاجز‘ محمد امین شاہد‘ حافظ محمد اسلم جاوید‘ مولانا محمد رفیق شورکوٹی‘ مولانا عبدالرحمن بلتی‘ مولانا محب اللہ افغانی‘ مولانا محمد عبداللہ افغانی وغیرہ۔

No comments:

Post a Comment