غیر مسلم شعراء کا نبی کریم کو خراج عقیدت 07-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, June 22, 2019

غیر مسلم شعراء کا نبی کریم کو خراج عقیدت 07-2019


نبی ﷺ .. غیر مسلم شعراء وادباء کا خراج عقیدت

تحریر: جناب رانا محمد شفیق خاں پسروری
پیارے رسولe کی شان اقدس عظمتوں کی انتہاؤں سے بھی بالا ہے۔خالقِ کائنات نے خود فرمایاہے: {ورفعنالک ذکرک} کہ ہم نے آپ کے ذکر مبارک کو بلند ترین کردیا ہے۔جب آپؐ کا ذکر عرش والے نے بلند کردیا ہے تو کون ہے جو اس بلندی کو چھونے کا تصور بھی کر پائے؟
آپe کی ذات ِوالا صفات کے کیا کہنے! آپؐ کا اسم گرامی ہی تقاضا کرتا ہے کہ آپe کی مدحت و منقبت، سب سے زیادہ اور ہروقت ہو، ہر جہت میں آپe کی تعریف گونجے اور ہر کوئی آپe کی مدحت و نعت کے ذریعے اپنا نامہ اعمال بہتر کرنے کے جتن کرے۔آپe کے چاہنے والوں اور آپe کے حضور ہدیہ نعت و عقیدت پیش کرنے والوں میں ہر طبقۂ فکر سے تعلق رکھنے والے اور ہر مذہب و ملت کے لوگ شامل ہیں۔
ہم یہاں برصغیر سے تعلق رکھنے والے چند غیر مسلموں کی لکھی نعتوں سے صرف نمونہ کلام پیش کررہے ہیں، ورنہ ان کی لکھی نعتوں کے بیان کے لئے تو کئی دفاتر چاہئیں۔ رویندر جین نے بجا کہا تھا:
آپؐ کے ماننے والوں میں ضروری تو نہیں
صرف شامل ہوں مسلمانِ رسول اکرمؐ
جبکہ شیش چندرسکسینہ نے کہا تھا:
یہ ذاتِ پاک تو ہر انسان کو ہے محبوب
مسلم ہی نہیں وابستہ دامانِ محمدؐ
بابا گرو نانک جی: سکھ مت کے بانی باباگورونانک جی نے کئی مواقع پر آپe کی تعریف کی، وہ آپe سے حددرجہ متاثر تھے اور اسلام قبول کرنے کا اعلان کرتے کرتے(اپنے معاشرتی مصالح کے باعث) رہ گئے۔ان کا ایک شبدہے:
اٹھے پہر بھوندا پھرے کھاون منٹرے سُول
دوزخ پوندا کیوں رہے جاں چت نہ ہوئے رسولؐ
م محمدؐ من توں، مَن کتاباں چار
مَن خدائے رسولؐ نُوں، سچا اِی دربار
’’وہ شخص آٹھوں پہر بھٹکتا پھرے اور اس کے سینے میں درد اٹھتا رہے، وہ دوزخ میں کیوں نہ پڑے جب اس کے دل میں رسولe کی چاہ نہ ہو‘‘۔ ’’تُو حضرت محمدe کو مان اور چاروں کتابوں کو بھی مان۔تُو خدا اور رسولe (دونوں) کو مان کیونکہ خدا تعالیٰ کا دربار سچا ہے‘‘۔
گرونانک جی نے حساب کے ذریعے سے یہ ثابت کیا تھا کہ ذکر محمدe کائنات کی ہر شے میں جلوہ گر ہے۔اپنے ایک شبد میں انہوں نے بڑے یقین کے ساتھ کہا کہ دنیا کی کوئی بھی شے اسم محمدe سے خالی نہیں ہے، وہ لکھتے ہیں کہ
نام لیو جس پکش کا کرو چو گناتا
دو ملاؤ پنج گن کرو کاٹو بیس بنا
نانک جو بچے، سو نو گنے دو اس میں ملا
اس بدھر کے نام سے نام محمدؐ بنا
یہی بات ہندی زبان کے مشہور شاعر بھگت کبیرداس بنارسی نے اپنے ایک عجیب و غریب دوھے میں کہی ہے جس کی رو سے دنیا کے تمام الفاظ اورجملوں سے ’’محمدe‘‘ کا عدد (۹۲) برآمدہوتا ہے۔یہ دوھا اس بات کا غماز ہے کہ دنیا کی کوئی چیز ذکر محمدe سے خالی نہیں ہے، وہ لکھتے ہیں:
نام لو ہر دستو کا چوگن کر لووائے
دو ملایو،پچ گن کر لو اور بیس کا بھاگ لگائے
باقی بچے کو نوگن کرلو اور دو دیو ملائے
کہت کبیر ہر دستو میں نام محمدؐ پائے
ہندو شعراء(کا نمونہ ء کلام)
پنڈت رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری:
انوار بے شمار معدود نہیں
رحمت کی شاہراہ مسدود نہیں
معلوم ہے کچھ تم کو، محمدؐ کا مقام
وہ اُمتِ اسلام میں محدود نہیں
رمیش نرائن سکسینہ گلشن بریلوی:
آنے کو تو سنسار میں  آئے ہیں نبی اور
آیا ہے نہ آئے گا محمدؐ سا کوئی اور
یاد آتی ہے جب دوریٔ سرکارِ مدینہ
بڑھ جاتی ہے گلشن مِری آنکھوں میں نمی اور
٭…٭…٭
ہو کس سے بیاں، منزلت و شان محمدؐ
ہے آپ خداوند، ثناء خوان محمدؐ
پنڈت بش نرائن حامی بریلوی
٭…٭…٭
ذکرِ محمدؐ کی خاطر ہے
سانس کا میری آنا جانا
جسٹس (ر) بھگوان داس
٭…٭…٭
میں لکھتا رہا نعت اور حق نے شب بھر
قمر کو مری پاسبانی میں رکھا
(چودھری دلو رام کوثری)
٭…٭…٭
اگر مل جائے محبوب خدا کا آستاں مجھ کو
تو میں سمجھوں گا، گویا مل گیا سارا جہاں مجھ کو
ڈاکٹر لالہ بیلی رام کانپوری
٭…٭…٭
ہر دم تصور شہ والا جنابؐ ہو
لب پر ہمیشہ ذکرِ رسالت مآبؐ ہو
گنگا سہائے تمیز لکھنوی
٭…٭…٭
واہ کیا آن ہے، کیا شان رسولِ عربیؐ
تم پہ سو جی سے ہوں قربان رسولِ عربیؐ
منشی سکھدیو پرشاد بسمل الٰہ آبادی
٭…٭…٭
بیاں کیا ہو جنابِ مصطفیؐ کا
یہاں دم بند ہے عقلِ رسا کا
مدن لال ساحر
٭…٭…٭
طاقت کہاں بشر کی، لکھے شانِ مصطفیؐ
جب آپ ہی خدا ہو ثناء خوانِ مصطفیؐ
منشی رانجھا عاشق ہوشیار پوری
سلام اس ذاتِ اقدس پر، سلام اس فخرِ دوراں پر
ہزاروں جس کے احسانات ہیں دنیائے امکان پر
جگن ناتھ آزاد
سکھ شعراء کے نعتیہ کلام کا نمونہ ملاحظہ ہو:
اب دولتِ کونین کی پروا نہیں مجھ کو
حاصل ہے مجھے دولتِ دیدار محمدؐ
پورن سنگھ ہنر
٭…٭…٭
کوئی منزل ہو، کوئی آستاں ہو، کوئی محفل ہو
وہ نورِ سرمدی ہی جابجا معلوم ہوتا ہے
کنور مہندرسنگھ بیدی سحر
٭…٭…٭
اُسی کی ہیں صبحیں، اسی کی ہیں شامیں
جو لیتا ہے ہر صبح، نامِ محمدؐ
قیامت سے محبت کو ڈراتا ہے ناصح
پتا ہے ، کہ میں ہوں غلام محمدؐ
سرجیت سنگھ ناشاد
٭…٭…٭
اے کہ تجھ سے صبح عالم کو درخشانی ملی
ساغرِ خورشید کو صہبائے نورانی ملی
پروفیسر کرپال سنگھ بیدار
٭…٭…٭
عشق ہو جائے کسی سے ، کوئی چارہ تو نہیں
صرف مسلم کا محمدؐ پہ اجارہ تو نہیں
خود بخود اُن کے تصور سے سنور جاتا ہے
ہم نے خود اپنے مقدر کو سنوارا تو نہیں
کنور مہندر سنگھ بیدی سحر
عیسائی شعراء کا نمونہ کلام:
والشمس تھے رُخسار تو والیل تھیں زلفیں
اک نُور کا سورہ تھا سراپائے محمدؐ
جون رابرٹس جان لکھنوی
اخلاقِ عالیہ کا بیان
ایک ہندو ادیب کی زبانی:
یوم النبیؐ ۱۹۳۵ء کی تقریب پر سیرت کمیٹی اجمیر کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہُوا جس میں وقت کے مشہور انشا پرداز اور ادیب منشی للتا پرشاد  شاد میرٹھی نے ایک نہایت ہی دلچسپ اور عمدہ تقریر فرمائی، ہم اس تقریر کے بعض اجزاء کو شائع کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں:
آنحضرتe کی رحمدلی:
عمرو بن امیہ جو بعد میں مسلمان ہوگئے تھے، جاہلیت کے عالم میں دوسرے عربوں کی طرح دشمن کو غفلت، خواب یا دھوکہ سے قتل کر دینے کے لئے بدنام تھے۔ جو لوگ امن و سایہ میں آجاتے تھے، انہیں بھی مار ڈالتے تھے۔ یہ کیفیت ایام جہالت میں تمام عرب کی تھی۔ چنانچہ ابو سفیان نے ایک دن قریشیوں سے کہا کہ محمدe کومدینہ کے بازاروں میں پھرتے ہوئے بحالت غفلت کوئی قتل کرسکتا ہے؟ ایک بدوی تیار ہوگیا اور خنجر چھپا کر چلا۔ آنحضرت e مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ وہ بدوی روبرو آیا، آپe نے اسے دیکھ کر معاً فرمایا کہ یہ شخص غدار نظر آتا ہے۔ ایک صحابی نے فوراً جائزہ لیا۔ اس کے پائجامہ سے خنجر برآمد ہُوا۔ اب تو اس شقی نے گڑاگڑا کر امان مانگی اور آنحضرت کا رحم ملاحظہ فرمائیے کہ آپe نے فوراً معاف فرما دیا اور سارا حال سن کر اسے چھوڑ دیا۔ قارئین! آپ کو معلوم ہے کہ اس رحم و کرم کا کیا نتیجہ نکلا؟… وہ بدوی آپe کے اس طرز عمل سے اس قدر متاثر ہُوا کہ اسی وقت مسلمان ہوگیا۔
در عفو لذتیست کہ در انتقام نیست
رحم و اخلاق کے رات دن ایسے معاملات دیکھ کر خالد بن ولید کا دل بھی کچھ پسیجا، چنانچہ اس نے آپ کو چند گھوڑے  نذر کئے۔ اس وقت تک وہ آپ کا اور اسلام کا سخت مخالف، بلکہ جانی دُشمن تھا اور مخالفوں کی طرف سے بڑی بہادری اور دلیری سے لڑا کرتا تھا۔ اس نذر پر ابو سفیان بہت برہم ہوا اور خالد سے لڑنے لگا، لیکن واقعات سے متاثر ہو کر دشمنوں کے کیمپ میں بھی خالد کے کئی طرف دار ہوگئے تھے۔
ایک بار قریش پر حملہ کرنے کے لئے آپe نے خاموش و خفیہ  تیاریاں شروع کیں، مگر ایک صحابی حاطب نامی نے تمام باتوں کی خبر مخالف کیمپ کو بھیج دی۔ سیدنا عمرt نے قاصد کو پکڑ لیا اور خط پڑھا گیا تو سب نے حاطب کو قتل کی سزا دینا چاہی، مگر آپe نے بالکل معاف کر دیا۔
ایک روز دوران خطبہ میں تمام قریشیوں کوآزاد و معاف کر دیا جس کا  اتنالاجواب اثر ہوا کہ صد ہا مرد و عورت حتیٰ کہ بہت سے قریش خود بھی مسلمان ہوگئے اور ابوسفیان کی بیوی اور اس کے بیٹے کی بہو بھی حلقہ بگوش اسلام ہوگئے۔
غربت و سادگی:
آپe کی غربت و سادگی کا حال بیان کرنا  مشکل ہے۔ کھانا بہت سادہ اور مقدار میں بہت کم ہوتا تھا، کپڑے ہمیشہ سادہ، معمولی اور اکثر پیوند لگے ہوئے پہنتے تھے۔ وفات کے بعد سیدہ عائشہr نے آنحضرتe کا زندگی بسر کرنے کا تذکرہ اس طرح کیا کہ گھر میں سے ایک کمبل نکال کر دکھایا جس میں کئی پیوند تھے اورجابجا پھٹا ہوا تھا۔ یہی کمبل آپe کے استعمال میں وقت وفات تھا۔
بعض اوقات تیل کی کمی کے باعث حجرہ میں روشنی تک نہ ہو سکتی تھی اور اندھیرے میں ہی رات کٹتی تھی۔ آپ کے انتقال کے وقت سیدہ عائشہr نے ایک ہمسایہ سے تیل مانگ کر روشنی کی تھی۔ آپe کی لخت جگر سیدہ فاطمہr چکی پیستیں اور گھر کا تمام کام دھندا خود کرتی تھیں، حتیٰ کہ ہتھیلی پر چھالے پڑ گئے تھے۔ سیدنا علیt خود پانی بھرتے تھے۔ ایک بار چاہا کہ رسول اللہe سے ایک خادم مانگ لیں، مگر تکلیف و پریشانی کے باوجود فرمائش کرتے ہوئے شرم سی محسوس ہوتی تھی۔
ایک شب کا ذکر ہے کہ آپe کو خوب نیند آئی، صبح اُٹھنے پر دریافت کیا کہ کیا بستر بچھایا تھا جو اس قدر آرام ملا۔ معلوم ہوا کہ روزانہ استعمال کا ٹاٹ ہی بچھایا گیا تھا مگر اتفاقاً اس روزاس کی چارتہیں کر دی گئی تھیں۔ وفات کے وقت موٹے کھدر کا تہبند اور ایک پیوند لگا ہوا کمبل جسم پر تھا۔ آپ کی سادگی کا اثر صحابیوں پر بھی خوب پڑا۔ سیدنا ابوبکر صدیقt تاجر تھے۔ بعد وفات رسولؐ خلیفہ منتخب ہوئے اور سب نے بیعت کی، مگر باوجود اس شان و عزت کے اگلے روز ہی کپڑوں کی گٹھڑی کندھوں پر رکھ کر بیچنے کے لئے نکل کھڑے ہوئے۔ انسانی ذمہ داری کا اتنا احساس فی زمانہ نہایت مشکل ہے۔
سیدنا ابوبکرt کا فرمانا تھا کہ جو کمزور ہے وہ قوی ہے، میں اسے اس کا حق دلاؤں گا اور جو قوی ہے وہ کمزور  ہے، اُس سے حق لے کر رہوں گا۔ آج اس مقولہ کے برعکس جس کی لاٹھی اس کی بھینس پر عملدرآمد ہوتا ہے۔ پردئہ عالم پر کمزوروں پر ہی حکومت کی جاتی ہے۔ ایسا کون ہے جو اپنی طاقت و قوت کا مظاہرہ اور گھمنڈ نہ کرتا ہو۔
ایک روز سیدنا علیt نے اپنے کسی دشمن کو جنگ میں پچھاڑ دیا جو انہیں قتل کرنا چاہتا تھا، نیچے گر کر غصہ میں اس نے سیدنا علیt کے منہ پر تھوک دیا۔ آپ فوراً چھاتی سے اتر پڑے اور یہ کہہ کہ چھوڑ دیا کہ جا بھاگ جا، بہ حالتِ غصہ قتل کرنا حرام ہے، اندیشہ ہے کہ کہیں تیری حرکت پر غصہ نہ آجائے۔
بعض دیگر خوبیاں:
حضرت محمدe کی خوش خلقی اور مہمان نوازی بے نظیر تھی۔ وہ دشمن سے بھی مسکراہٹ ملائمت اور آہستگی سے گفتگو کرتے تھے۔ غصہ تو دور رہا وہ زور سے بولے تک نہ تھے۔ ایک بار عیسائیوں کا وفد آیا جو خاص عزت اور خاطر تواضع کے ساتھ ٹھہرایا گیا اور جب ان کی عبادت کا وقت ہوا تو خود مسجد نبویؐ کے صحن میں عبادت کے لئے اجازت عطا فرما دی۔
ایک بار کچھ پھل بطور تحفہ کہیں سے آئے۔ آپؐ نے سب سے پہلے اس میں سے ایک حصہ اپنے ہمسایہ یہودی کو بھیجا اور پھر اہل و عیال میں تقسیم کرکے بعد میں خود استعمال فرمایا۔ آپ اکثر غارِ حرا میں آبادی سے دور قیام فرمایا کرتے تھے اور مراقبہ کی حالت میں رہتے تھے، جہاں صرف پانی کا ایک مشکیزہ ان کے پاس رہتا تھا۔
عدل و مساوات کا پیغمبرؐ
مہاتما گاندھی کا خراج عقیدت
اسلام اپنے شاندار زمانے میں غیر روا دار نہیں تھا، بلکہ تمام دنیا اس کی تعریف کر رہی تھی۔ اس وقت جب کہ  مغربی دنیا اندھیرے میں غرق تھی، اُفق مشرق کاایک روشن ستارہ چمکا، جس سے بے چین دنیا کو روشنی اور تسلی نصیب ہوئی۔ اسلام جھوٹا مذہب نہیں ہے۔ ہندوؤں کو بھی اس کا اسی طرح مطالعہ کرنا چاہیے جس طرح مَیں نے مطالعہ کیا ہے پھر وہ بھی میری ہی طرح اس سے محبت کرنے لگیں گے۔
مَیں پیغمبر اسلام کی زندگی کا مطالعہ کر رہا تھا۔ جب مَیں نے کتاب کی دوسری جلد بھی ختم کر لی تو مجھے افسوس ہوا کہ اس عظیم الشان زندگی کا مطالعہ کرنے کے لئے اب میرے پاس کوئی اور کتاب باقی نہیں ہے۔ اب مجھے پہلے سے بھی زیادہ یقین ہوگیا ہے کہ یہ تلوار کی قوت نہ تھی جس نے اسلام کے لئے دنیا کا میدان فتح کیا، بلکہ یہ پیغمبر اسلام کی انتہائی سادگی، بے نفسی، وعدہ وفائی اور بے خوفی تھی۔ یہ آپ کا اپنے دوستوں اور پیرو کاروں سے محبت کرنا اور خدا پر بھروسہ رکھنا تھا۔ یہ تلوار کی قوت نہیں تھی، بلکہ یہ اوصاف اور خوبیاں تھیں جن سے تمام رکاوٹیں بہہ گئیں اور آپؐ تمام مشکلات پر غالب آئے۔
مجھ سے کسی نے کہا تھا کہ جنوبی افریقہ میں جو یورپین آباد ہیں، وہ اسلام کی تبلیغ سے لرز رہے ہیں۔ اُسی اسلام سے جس نے سپین کو تہذیب عطا کی۔ اسی اسلام سے جس نے مراکش میں روشنی پھیلائی اور اہل دنیا کو بھائی بھائی بن جانے کی ترغیب دی۔ بے شک جنوبی افریقہ کے یورپین اسلام سے ڈرتے ہیں، لیکن دراصل وہ اس حقیقت سے ڈرتے ہیں کہ اگر افریقہ کے دیسی باشندوں نے اسلام قبول کر لیا تو وہ سفید قوموں کی برابری کا حق طلب کرنے لگیں گے، آپ ان کو ڈرنے دیجئے۔ اگر بھائی بھائی بننا گناہ ہے، اگر وہ اس امر سے پریشان ہیں کہ ان کی نسلی بڑائی قائم نہ رہ سکے گی تو ان کا خوف بجا ہے۔ کیونکہ مَیں نے دیکھا ہے کہ اگر ایک زولو عیسائی ہو جاتا ہے تو وہ سفید رنگ عیسائیوں کے برابر نہیں ہو سکتا، لیکن جونہی کہ وہ اسلام قبول کرتا ہے، بالکل اسی وقت وہ اسی پیالے میں پانی پیتا ہے اور اسی طشتری میں کھانا کھاتا ہے جس میں کوئی اور مسلمان پانی پیتا اور کھانا کھاتا ہے۔ اصل بات یہ ہے جس سے یورپین کانپ رہے ہیں۔
    مائیکل ہارٹ کی تصنیف میں ذکر رسولﷺ   
ممتاز امریکی ادیب و مصنف مائیکل ہارٹ نے عالمی عہد ساز شخصیات پر ایک کتاب The 100 The Most Infuluential Persons in History لکھی ہے جس میں تاریخ عالم پر اثر انداز ہونے والی اہم ترین شخصیات کے کارناموں کو یکجا کیا گیا ہے۔ فاضل مصنف نے ان عہد ساز شخصیتوں میں حضرت محمدe کو سرفہرست رکھا ہے اور ایسا کرنے کی وجوہ بھی لکھی ہیں۔
ان شخصیات کا تعلق ۶۰۰ سال قبل مسیح سے لے کر ۲۰ ویں صدی تک ہے۔
زمانہ کے لحاظ سے فہرست
عہد (زمانہ)
تعداد
600 سال قبل مسیح کی شخصیات
3
600 ق م سے 201 ق م تک
13
200 ق م سے 1400 عیسوی تک
16
15ویں صدی کی شخصیات
4
16ویں صدی کی شخصیات
8
17ویں صدی کی شخصیات
10
18ویں صدی کی شخصیات
12
19ویں صدی کی شخصیات
19
20ویں صدی کی شخصیات
15
ٹوٹل
100

کارناموں کی نوعیت کے اعتبار سے
شعبہ جات
شخصیات کی تعداد
سائنس دان وموجد
37
سیاسی اور فوجی شخصیات
30
سیکولر فلاسفر
14
مذہبی لیڈر
11
فن وادب
6
مہم جو اور معرکہ آراء شخصیات
2
ٹوٹل
100

تاریخی شخصیات کا خطہ وار تعلق
خطہ اور علاقہ
تعداد
برطانیہ
18
جرمنی وآسٹریا
15
فرانس
10
اٹلی
8
یونان
5
سپین
4
روس
3
باقیماندہ یورپ
8
شمالی امریکہ
7
جنوبی امریکہ
1
افریقہ
3
چین
7
انڈیا
3
انڈیانا
1
منگولیا
7
مغربی ایشیا
100

نوٹ: خطے کے اعتبار سے ان میں یوکلڈ (ماہر اقلیدس) ہومر، ارسطو اور سکندر اعظم کا تعلق یونان سے تھا۔ جوزف سٹالین کا روس سے الیگزنڈر گراہم بیل کا برطانیہ اور امریکہ، دونوں سے تھا۔
فاضل مصنف نے سرور کائناتe کو ان عہد سائز، انقلاب انگیز اور معرکہ آراء شخصیات میں سرفہرست رکھنے کی وجہ یہ لکھی ہے کہ دنیا میں جتنے بھی انقلابات رونما ہوئے یا حالات کا رخ موڑنے والے واقعات برپا ہوئے ان کا وقوع پذیر ہونا یا انجام پانا… ناگزیر ہو چکا تھا… وہ لکھتا ہے کہ اگر مارکونی ریڈیو ایجاد نہ کرتا تو آئندہ چند سالوں کے اندر کوئی دوسرا شخص یہ کارنامہ انجام دے سکتا تھا۔ سپین کا برنانڈو کورٹیز اگر منظر پر نہ ابھرتا، تب بھی سپین، میکسیکو پر قبضہ کر لیتا۔ ماہر حیاتیات چارلس ڈارون سائنسی تحقیق و جستجو نہ کرتا تب بھی نظریہ ارتقاء چند سالوں میں دنیا کے علم میں آ جاتا۔ لیکن حضرت محمدe ان شخصیات میں سے ہیں کہ جو کارنامے انہوں نے انجام دیئے، وہ کسی اور کے ہاتھ سے کبھی انجام نہ پا سکتے تھے۔
عظیم کارناموں اور تاریخ کے نئے ابواب رقم کرنے والوں میں آنحضرتe کو سرفہرست رکھنے کے بعد فاضل مصنف نے خود عیسائیت سے تعلق رکھنے کے باوجود حضرت عیسیٰؑ کا تیسرے نمبر پر ذکر کیا ہے۔ حضرت موسیٰ کا ۱۶ویں، ارسطو مل ۱۴ویں اور مصلح عیسائیت مارٹن لوتھر کا ۲۳ویں نمبر پر ذکر کیا ہے۔ سکندر اعظم کا ۳۳ویں، نپولین بونا پارٹ کا ۳۴ویں، بابائے علم اقتصادیات ایڈم سمتھ کا ۳۷ویں، ممتاز موجد تھامس ایڈیسن کا ۳۸ویں، افلاطون کا ۴۰ویں، آلیور کرامویل کا ۴۷ویں، جوزف سٹالین کا ۶۳ویں، جولیئس سیزر کا ۶۵ویں، ولیم (فاتح) کا ۶۹ویں، جرمن فلاسفر مانی کا ۸۳ویں، واسکوڈے گاما کا ۸۴ویں، سائرس دی گریٹ (ذوالقرنین) کا ۸۶ ویں، شہرہ آفاق قانون دان اور منصف جسٹینین اول کا ۹۶ویں نمبر پر ذکر کیا گیا ہے اور تمام دنیا اور تمام چنیدہ شخصیات میں سے آپؐ کو سب سے افضل و اعلیٰ قرار دیا اور بجا دیا۔
مائیکل ہارٹ:
دنیا کی سب سے زیادہ ذی اثر شخصیات کی لسٹ میں محمدe کو سب سے پہلے رکھنا بعض لوگوںکو حیرت میں ڈال دے گا اور وہ معترض ہوں گے، لیکن تاریخ میں واحد یہ شخصیت گرامی ہیں کہ مذہبی اور دنیاوی طور پر انتہائی کامیاب  ہوئے۔معمولی لوگوں میں پیدا ہو کر محمدe نے دنیا کے بڑے مذاہب میں سے ایک کی بنیاد رکھی اور اسے رائج کیا اور انتہائی ذی اثر شخصیات میں سے نمایاں سیاسی لیڈر بنے۔
ای۔ ڈی ۔ منگھم:
محمدe اس لئے عظیم نہیں تھے کہ وہ امن کے علمبردار تھے بلکہ آپe دنیا کے سب سے کامیاب ترین پیغمبر تھے۔ جتنے اذہان و قلوب آپ نے مسخر کئے کسی اور نے نہیں کئے۔
لین پول:
آپe میں یہ بے مثال صلاحیت تھی کہ آپe دوسروں کو متاثر کر سکتے تھے۔ اس بے پناہ صلاحیت کا استعمال آپe نے صرف خیر کی سربلندی کے لئے کیا۔ روئے زمین پر محمدe جیسا دُور اندیش اور صاحب بصیرت انسان کوئی دوسرا دکھائی نہیں دیتا۔
 ایل۔ وی۔ و اگلیزی:
تعصب اور لاعلمی کی وجہ سے اگر دنیا محمدe کو ایک مذہبی رہنما قبول کرنے سے کتراتی ہے تو میں بھی پورے یقین سے دعویٰ کرتا ہوں کہ آپe کو ایک نہ ایک دن سب سے بڑے سماجی مصلح کی حیثیت سے دنیا کو تسلیم کرنا پڑے گا۔
اے۔ جی۔ لیونارڈ:
جسمانی اور اخلاقی پاکیزگی کے نقطہ  نظر سے محمدe ہر نوع سے ایک جوہر تھے۔ آپe جسمانی، ذہنی اور روحانی پاکیزگی کی تعلیم فرماتے تھے۔ آپ کی تعلیمات رہتی دنیا کے لئے مشعل راہ ہیں۔ جس سرعت سے اسلام کی فتح ہوئی وہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ محمدe اور ان کے خلفا نہایت اعلیٰ درجہ کے انسان رہے ہوں گے۔ مذہب کو کامیابی اس کے رہنماؤں کے اعلیٰ اخلاق کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے۔
پروفیسر گسے پی:
حضرت محمدe کے دین کا تمام نسل انسانی پر بڑا احسان ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ حضرت محمدe بہت بڑے اور عظیم انسان تھے، ان کے علاوہ کوئی اور ہوتا تو خدائی کا دعویٰ کر دیتا۔
گبن:
محمدe کے پہلے چاروں خلفاء کے اطوار یکساں صاف اور ضرب المثل تھے۔ عیسائی اس بات کو یاد رکھیں کہ محمدe نے اپنے پیرو کاروں میں ایسا دینی جذبہ پیدا کیا کہ عیسیٰ ؑ کے ابتدائی پیروکاروں میں بھی یہ جذبہ تلاش کرنا بے سود ہے۔
اس کی بدولت نصف صدی سے کم عرصہ میں بھی اسلام بہت سی عالیشان اور سر سبز سلطنتوں پر غالب آ گیا۔ جب عیسیٰ ؑ کو سولی پر لٹکایا جا رہا تھا تو ان کے پیروکار انہیں بچانے کی بجائے بھاگ گئے اور اس کے برعکس محمدe کے پیروکار اپنے مظلوم پیغمبر ؐ کے گردو پیش رہے اور ان کے بچاؤ کے لئے اپنی جانیں، گھر بار تک خطرہ میں ڈال کر انہیں دشمنوں پر غالب کر دیا۔
ڈاکٹر گستاؤلی بان فرانسی:
جس وقت ہم فتوحات عرب پر نظر ڈالیں گے اور ان کی کامیابی کے اسباب کو اُبھار کر دکھائیں گے تو معلوم ہوگا کہ اشاعت مذہب میں تلوار سے مطلق کام نہیں لیا گیا کیونکہ مسلمان ہمیشہ مفتوح اقوام کو اپنے مذہب کی پابندی میں آزاد چھوڑ دیتے ہیں۔ اگر اقوام نے دین اسلام کو قبول کیا تو اس وجہ سے کہ اپنے قدیم حاکموں کی نسبت ان مسلمانوں کے حاکم میں انصاف پایا گیا اور ان کے مذہب کو اپنے مذہب سے زیادہ سچا اور سادہ پایا۔
جون ڈیون پورٹ:
یہ خیال کہ قرآنی مذہب تلوار کے ذریعے سے شائع ہوا تھا بالکل غلط ہے کیونکہ ہر ایک منصف مزاج اور غیر متعصب یہ معلوم کر سکتا ہے کہ محمدe کے مذہب نے انسان کی قربانی اور خون ریزی کی جگہ نماز و زکواۃ قائم کی، ہمیشہ کے جھگڑوں کی  جگہ باہمی اخلاق و محبت کی بنیاد ڈالی۔ حقیقت میں یہ مذہب اہل مشرق کے لئے سرتاپا برکت تھا اور محمدe نے ہرگز اس قدر خون ریزی نہیں کی جس قدر موسیٰu کو بت پرستی کی بیخ کنی کے لئے کرنا پڑی۔

No comments:

Post a Comment

View My Stats