اداریہ 07-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, June 22, 2019

اداریہ 07-2019


اداریہ ... شہزادہ محمد بن سلمان کا دورۂ پاکستان

ذوالفقار علی بھٹو نے وزیر اعظم کا حلف اٹھانے کے بعد سب سے پہلے چین کا دورہ کیا تو چین کے اس وقت کے وزیر اعظم چو این لائی نے جو امور خارجہ کے ماہر تھے نے ذوالفقار علی بھٹو کو گریٹ ہال میں دیئے گئے استقبالیہ میں مشورہ دیا تھا کہ پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی کا محور مشرق وسطی کو بنانا چاہیے کیونکہ عرب پاکستان کے فطری اتحادی ہیں۔ تاریخ کے اوراق پلٹنے سے یہ حقیقت طشت از بام ہوتی ہے کہ چو این لائی نے جو کہا وہ صد فی فیصد درست تھا۔ لیبیا سمیت عرب ممالک اور بالخصوص سعودی عرب نے پاکستان کا ہر مشکل گھڑی میں ساتھ دیا۔ پاکستان میں جب بھی سماوی آفات کا قہر نازل ہوا تو سعودی عرب نے سب سے پہلے اپنے خزانوں کے منہ کھولے۔ غذائیں‘ ادویات‘ ملبوسات اور دیگر ضروریات زندگی پر مشتمل سامان بہم پہنچایا۔ مظفر آباد میں آنے والا زلزلہ ہو یا سیلابوں کی تباہ کاریاں پاکستان کے ایٹمی دھماکے ہوں یا دہشت گردی کی جنگ‘ سعودی عرب نے قدم قدم پر پاکستان کا ساتھ دیا اور یہ اعزاز بھی بخشا کہ اسلامی فوج کی سربراہی جنرل راحیل شریف کو سونپی۔ اس وقت موجودہ نا تجربہ کار حکومت کو قدموں پر کھڑا کرنے کے لیے سعودی عرب نے امدادی پیکج دیا اور اب شہزادہ محمد بن سلمان اپنے ویژن ۲۰۳۰ء کے تحت پاکستان میں بہت بڑی سرمایہ کاری کا پروگرام لے کر پاکستان آ رہے ہیں۔
محمد بن سلمان سعودی عرب کو جدید خطوط  پر استوار کرنے کا عزم رکھتے ہیں اسی لئے سعودی عرب میں ہر کوئی ان سے والہانہ محبت کرتا ہے‘ اس کا اہم سبب ان کی بدعنوانی کے  سر طان کے خلاف جنگ ہے ۔دسویں سالانہ عرب یوتھ سروے جس میں سولہ عرب ممالک کے نوجوانوں نے حصہ لیا کے نتائیج کے مطابق ۹۰ فیصد سعودی نوجوانوں اور ۶۰فیصد عرب نوجوان محمد بن سلمان کو بااثر ومضبوط  قوت ارادی کا مالک رہنما  سمجھتے ہیں جو مستقبل میں خطے میں اثر انداز ہونے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہیں ۔سعودی عرب اس وقت عرب دنیا کی قیادت کر رہا ہے ۔اسے دیر پا حکمت عملی تشکیل دینے کے لئے ایک ایسے حکمران کی ضرورت ہے کہ جو دور جدید کے تقاضوں پر پورا اترتا ہو ۔مشرق وسطی اس وقت جس تباہی سے دوچار ہے اس سے بعض ممالک کی بہار خزاں کا روپ دھار چکی ہے۔ لیبیا سے یمن تک کا علاقہ بحرانی کیفیت سے دوچار ہے۔ شام لاشوں کے ڈھیر پر کھنڈر بن چکا ہے اور ایران خطے میں ہر تنازعے کا حل عسکری مداخلت میں ڈھونڈتا ہے ۔وہاں تشدد سے مزید تشدد جنم لے رہا ہے اور ملیشیاؤں کو مسلح کرنے سے قبرستانوں کو آباد کرنے کی صنعت نے فروغ پایا ہے۔ ا ن گھمبیر حالات اور یاس ونا امیدی کی گھڑیوں میں مرد بحران محمد بن سلمان  سب کی امیدوں کا محور ہیں۔ شہزادہ محمد نے نہ صرف ویژن ۲۰۳۰ء کے عنوان سے طویل المدتی پلان دیا  بلکہ فوری طور پر اس پر عمل بھی شروع کر دیا ۔ویژن ۲۰۳۰ء کا بنیادی مقصد سعودی عرب کی معیشت  کا انحصار تیل سے کم کر کے ٹیکنالوجی کی طرف منتقل کرنا ہے۔ اس ضمن میں سعودی عرب میں اہم تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں۔ اعلی تعلیم یافتہ نوجوانوں کو اہم ذمہ داریاں سونپی جا رہی ہیں۔ اگر اقتصادی طور پر دیکھا جائے تو یہ اقدامات سعودی معیشت میں دور رس نتائیج کے حامل ہوں گے۔ ویژن ۲۰۳۰ء کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اگست ۲۰۱۷ء میں شاہ سلمان نے جاپان ،انڈونیشا ،ملائیشیا ،برونائی اور چین کا برق رفتار دورہ کیا تھا جہاں صرف چین سے ۶۵ ارب ڈالر کے معاہدے ہوئے۔ عین انہی لمحات میں جب چین کے ساتھ معاہدوں کی سیاہی بھی خشک نہ  ہو پائی تھی شہزاد ہ محمد صدر ٹرمپ سے واشنگٹن میں اس سے دگنی مالیت کی سرمایہ کاری کے معاہدات پر دستخط کر رہے تھے۔
ویژن ۲۰۳۰ء کی کامیابی کے لئے شہزادہ محمد نے چند روز کے اندر متحدہ عرب امارات بحرین ،تیونس ، موریطانیہ ،الجزائراور ارجنٹائن کا دورہ کیا ،بیونس آئرس میں جی ۲۰ اجلاس میں ان کی موجودگی اہمیت کی حامل تھی ۔سعودی عرب نے اسی ویژن کے تحت اب پاکستان میں بڑی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے جس کا آغاز فروری  کی ابتداء میں ہونے جا رہا ہے۔ سعودی ولی عہد کے دورے میں پندرہ ارب کی تاریخی سرمایہ کاری ہو رہی ہے ۔سعودعی عرب سی پیک میں چین کے ساتھ تیسرے اہم شراکت دار کی حیثیت سے شامل ہو رہا ہے ۔اس سے سعودی عرب سے ہمارے رشتے جو پہلے ہی بہت مضبوط تھے اب ان کی پائیداری  بحر ہند سے بھی گہری ،ہمالیہ سے بلنداور شہد سے بھی شیریں ہو گی ۔ان رشتوں کو پختگی اور دوام بخشنے کے لئے جس شخصیت نے بنیادی کردار ادا کیا وہ پاکستان میں سعودی سفیر عزت ماب سعید النواف ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی معیشت کو سہارا دینے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا اور پھر سعودی سرمایہ کاروں کا ایک وفد لے کر گوادر پہنچ گئے اور انہیں یہ باور کرانے میں کامیاب ہو گئے کہ ویژن ۲۰۳۰ء کی کامیابی کے لئے سی پیک میں شرکت ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہے ۔ان کے بعد سعودی وزیر توانائی وقدرتی وسائل حامد الغامدی آئے‘ ابھی چند روز قبل وزیر پیڑ ولیم و انرجی شہزادہ خالد بن عبدالعزیز تشریف لائے‘ انہوں نے کہا کہ شاہ سلمان کی خواہش ہے کہ پاکستان پر امن اور ترقی یافتہ ملک بن جائے۔سعودی عرب اور پاکستان  امن کے اہم ستون ہیں اور پاکستان سعودی عرب ایک دوسرے کے دل کے قریب ہیں‘ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کی ترقی میں اپنا حصہ ٖڈالیں ۔یہی حصہ ڈالنے کے لئے معزز مہمان محمد بن سلمان پاکستان تشریف لا رہے ہیں ۔سو سعودی عرب گوادر میں آئل سٹی کی تعمیر کے ساتھ پندرہ ارب ڈالر کی  تاریخی سرمایہ کاری کرنے جا رہا ہے ۔حکومت پاکستان نے آئل سٹی کی تعمیرکے لئے اسی ہزار ایکڑ زمین دی ہے جہاں آئل ریفائنری قائم کی جائے گی جس پر دس ارب ڈالر خرچ ہوں گے اور ابتدائی طور پر ڈھائی لاکھ بیرل تیل یومیہ ریفائن کیا جائے گا ۔اس آئل ریفائنری سے قبل سعودی عرب کے تیل کی  فر وخت پر چالیس دن لگتے تھے اب آئل سٹی کی تعمیر سے سعودی تیل گوادر کے راستے صرف پانچ دنوں میں چین پہنچے گا۔ اس طرح جہاں سعودی عرب کی ترسیل بڑھے گی وہیں چین کو بہت ارزاں قیمت پر قلیل مدت میں تیل کی ترسیل جاری رہے گی ۔پوری دنیا میں تیل کا یومیہ خرچ نو کروڑ ۹۵ لاکھ بیرل ہے جس میں سے امریکہ میں دو کروڑ بیرل اور چین کا یومیہ خرچ ڈیڑھ کروڑ بیرل ہے جو وہ پندرہ ممالک سے خریدتا ہے ۔سی پیک اور آئل ریفائنری سے سعودی تیل کی اہمیت اور بھی بڑھ جائے گی۔ یوں تو سعودی تیل  کی ہر دور میں اہمیت رہی ہے اگر آپ کو یاد ہو کہ شاہ فیصل نے اسرائیل اور مغربی دنیا کے خلاف تیل کا ہتھیار استعمال کر کے اس کو جھکنے پر مجبور کر دیا تھا ۔آئل ریفائینری میں تیل ریفائن کرنے کے علاوہ سعودی عرب گوادر میں اپنے تیل کی ذخیرہ گاہ بھی بنائے گا جہاں تیس لاکھ ٹن بیرل تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہو گی ،پاکستان کی ّ  آ ئل ریفائنری میں ایک کروڑ ۹۰ لاکھ  ٹن تیل ریفائن کیا جا سکتا ہے لیکن سعودی آئل ریفائنری  جہاں جدید ٹیکنالوجی استعمال ہو گی اس  سے  پاکستان بھی استفادہ کر سکتا ہے۔
ولی عہد محمد بن سلمان کی آمد سے قبل گوادر میں پیڑو کیمیکل کمپلیکس تعمیر اور دیگر منصوبوں کو حتمی شکل دینے کے لئے پاک اور سعودی حکام میں تیزی سے عمل درآمد کے حوالے سے ہوم ورک ہو رہا ہے۔ اس سلسلے میں دونوں ملکوں  کے تجارتی مشن سے وابستہ ذمہ داران کی باہم ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے ۔حال ہی میں جدہ میں دونوں ملکوں  کے تجارتی مشن کا دو روزہ اجلاس ہوا  جس میں سولہ پاکستانی اور اسی سعودی غذ ائی اور تعمیراتی کمپنیوں کے نمائندے شریک ہوئے ۔پاکستان کے کاروباری وفد نے سعودی عرب کی فروغ  برآمدی اتھارٹی کی دعوت پر سعودی عرب کا دورہ کیا اور باہمی تجارت کو فروغ دینے سے متعلق بات چیت کی۔
سعودی عرب نے صوبہ پنجاب میں قدرتی مائع گیس(ایل این جی) سے چلنے والے پاور پلانٹس کے حصص خریدنے  میں  بھی د لچسپی کا اظہار کیا ہے ۔اسی طرح دونوں ملکوں میں ایک اور معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت خیبر پی کے اور آزاد جموں کشمیر میں صحت اور تعلیم کے منصوبوں کے لئے سعودی گرانٹ ملے گی ۔تجارت کے فروغ کے لئے بزنس ویزہ کی سہولت  دستیاب ہو گی ۔پاکستانی حکام کی طرف سے یہ کوششیں بھی کی جا رہی ہیں کہ سعودی عرب ہماری زراعت کو دو چند کرنے کی لئے یہاں سرمایہ کاری کرے۔اسی طرح فاسفیٹ کھاد بنانے اور متبادل توانائی کے منصوبے لگانے میں بھی سعودی عرب کی دلچسپی نظر آتی ہے ۔ ۔زراعت میں انقلاب کے ساتھ ساتھ ولی عہد محمد بن سلمان کو دفاعی شعبے میں پاکستان کی کارکردگی سے روشناس کرانا بھی ضروری ہے‘ اس کے لئے ٹیکسلا ہیوی کمپلیکس کا دورہ بہت مفید ہو سکتا ہے ۔دفاعی سامان کی خرید سے سعودی عرب کا امریکہ اور مغرب  پر انحصار کم ہو گا ۔سعودی عرب اس وقت یمن کی منتخب حکومت کی بحالی کے لیے جو جنگ لڑ رہا ہے اس کے سبب اسے روزانہ ایران ساختہ  میزائلوں کا سامنا ہے۔ محمد بن سلمان سے بڑھ کر سعودی عرب کے دفاع کی اہمیت سے کون واقف ہو سکتا ہے۔ انہوں نے یہ عزم کیا ہے کہ  نیو نازی ازم کے عزائم کو شکست دینے کے لئے سعودی عرب کا ایٹمی قوت ہونا ضروری ہے ۔گوادر جس سنگم پر واقع ہے وہاں پانی کا ہونا ناگزیر ہے ۔پانی کی قلت کو ختم کرنے کے لئے ڈیموں کا ہونا بہت ضروری ہے ۔بلوچستان کی سطح تک بارشوں کے پانی کو جمع کرنے کے لئے چھوٹے ڈیم ،بھاشا اور مہمند جیسے ڈیموں کی از حد ضرورت ہے۔ ان کی تعمیر کا بہتر ین طریقہ یہ ہے کہ سعودی عرب سمیت پاکستان اور بیرون دنیا کے سرمایہ کاروں کو ڈیمز کی تعمیر پر سرمایہ کاری پر راضی کیا جائے اور اس اہم مسئلے پر شہزادہ محمد کی آمد سے قبل کوئی حل تلاش کیا جائے۔
آج چین اور سعودی عرب نے سی پیک کی اہمیت کے پیش نظر جس سرمایہ کاری کے لئے قدم بڑھایا ہے اس میں موجودہ حکومت کی کاوشیں قابل قدر ہیں لیکن اس کا سہرا بہر حال نواز شریف کے سر ہی سجتا ہے ۔ بلاشبہ اقتصادی راہداری منصوبہ سے چین کو پوری دنیا سے جوڑنا چینی صدر کا تخیل تھا لیکن اسے عملی جامہ پہنانے میں کلیدی کردار میاں نواز شریف ہے۔ اگر انہیں دھرنوں  جیسی مشکلات میں نہ الجھایا جاتا تو اب تک سعودی آئل ریفائنری تعمیر ہو چکی ہوتی ۔ہمیںسالار اعظم جناب قمر جاوید باجوہ کا بھی شکر گزار ہونا چاہیے کہ انہوں نے تذبذب میں مبتلا چینی قیادت کو یقین دلایا کہ سی پیک پر کسی کو سازش کرنے نہیں دی جائے گی کیونکہ یہ کسی فرد کا نہیں بلکہ قوم کا منصوبہ ہے۔ بہر حال ’’دیر آید درست آید‘‘ کے تحت ہم شہزادہ محمد بن سلمان کو پاکستان آمد پر اھلا و سھلا مرحبا کہتے ہیں ۔

No comments:

Post a Comment