خطبہ حرم 07-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, June 22, 2019

خطبہ حرم 07-2019


نفرت انگیز اندازِ گفتگو

امام الحرم المکی فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر سعود الشریمd
26 جمادی الثانی 1440ھ بمطابق  1 فروری  2019ء
حمد و ثناء کے بعد!
اے لوگو! اللہ سے ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ دین اسلام کی مضبوط رسی کو سختی سے تھامے رکھو۔ مسلمان جماعت کے ساتھ جڑے رہو کیونکہ اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہے۔
’’اے مومنو، تم سب مل کر اللہ سے توبہ کرو، توقع ہے کہ فلاح پاؤ گے۔‘‘ (النور: ۳۱)
اللہ کے بندو! اس دنیا کا ہر وہ معاشرہ جو چاہتا ہے کہ وہ علم وثقافت میں مستحکم ہو جائے، اس کی گفتگو میں توازن آ جائے اور وہ ہر طرح کے جائز اختلافات کو برداشت کرنے کے قابل بن جائے، اسے چاہیے کہ وہ بہترین اسباب اور ذرائع اپنائے۔ کیونکہ معاشروں کو گفتگو اور بات چیت کے حوالے سے جتنی بھی پریشانیاں لاحق ہوتی ہیں یا جن کا انہیں خدشہ ہوتا ہے، ان سب کی وجہ اُن اسباب پر عمل کرنے میں کوتاہی ہی ہوتی ہے، جو اس بیماری کو درست کرتے ہیں یا ان سے بچاتے ہیں۔
جو شخص امت اسلامیہ کو درپیش مسائل پر غور کرتا ہے اور دیکھتا ہے کہ اسے قلمی اور میڈیائی جنگوں اور زبان سے ہونے والے بے لگام اور بے انتہا جھگڑوں کا سامنا ہے، اسے یقینی طور پر یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ اِس جنگ کو بھڑکانے میں اور اس کے شعلوں کو ہوا دینے میں نفرت انگیز انداز گفتگو کا بہت بڑا کردار ہے۔ وہ نفرت انگیز انداز گفتگو، جو امت کے باشندوں میں اور اس کے لکھاریوں میں خشک گھاس میں آگ کی طرح پھیلا ہوا ہے۔ وہ اندازِ گفتگو کہ جس سے کسی نفع کی یا بجا طور پر حاصل ہونے والے کسی فائدے کی توقع نہیں ہوتی۔ اس انداز گفتگو  کے حق میں زیادہ سے زیادہ نرمی برتی جائے، تو بھی یہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ انداز اچھا، صالح اور فائدہ مند انداز نہیں، بلکہ یہ انداز تو ایسا منتر ہے جس سے بولنے والے اور اس کے مخاطب کے درمیان یقینی طور پر شیطان کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ یاد رہے کہ شیطان کے وسوسوں کو روکنے اور ان کا سد باب کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ ہے کہ بھلی بات بولی جائے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’اے محمد! میرے بندوں سے کہہ دو کہ زبان سے وہ بات نکالا کریں جو بہترین‘ ہو دراصل یہ شیطان ہے جو انسانوں کے درمیان فساد ڈلوانے کی کوشش کرتا ہے۔‘‘ (الاسراء: ۵۳)
نفرت انگیز باتوں میں ہر وہ لکھی یا بولی جانے والی بات شامل ہے جو افراد یا معاشرہ میں فتنے، شدت پسندی، تحقیر، تعصب یا امتیازی رویوں کو ہوا دیتی ہو۔
یہ انداز گفتگو اس لیے انتہائی خطرناک ہے کہ یہ فکری امن اور معاشرتی امن پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ امن کی یہی دو شکلیں ہیں کہ جن سے علم و معرفت کو فروغ ملتا ہے اور جن سے معاشرے میں بھائی چارہ پھیلتا ہے۔ توفیق الٰہی کے بعد یہی امن کی وہ دو شکلیں ہیں، جن پر معاشرے کے استحکام کا دارومدار ہوتا ہے۔ یہی وہ دو چیزیں ہیں جن کے ذریعے معاشرے کے افراد اور جماعات کے درمیان سوشل میڈیا پر پھیلنے والی انارکی کا سدباب کیا جاسکتا ہے۔
نفرت انگیز باتیں چونکہ وسطیت کی راہ سے ہٹی ہوئی ہیں تو یہ بات خود بخود ظاہر ہو جاتی ہے کہ ان کی وجہ یا تو حد سے بڑھی ہوئی مبالغہ آرائی ہوتی ہے یا گھٹیا ٹیڑھا پن ہوتا ہے۔ یہ وہ دو انتہائیں ہیں جو مل کر معتدل اندازِ گفتگو پر حملہ کرتی ہیں۔ مبالغہ آرائی کرنے والے کے نزدیک معتدل انداز گفتگو ٹیڑھے پن کا شکار ہوتا ہے کیونکہ وہ شدت اور تھڑ دلی میں ان کے انداز سے نرم ہوتا ہے۔ جبکہ ٹیڑھے پن کے شکار لوگوں کے یہاں معتدل انداز گفتگو ضرورت سے زیادہ نرم سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہ گالم گلوچ اور بے لگامی کی انتہا سے دور ہوتا ہے۔ یہ دونوں انداز گفتگو ایسے ہیں جنہیں دانشمندوں کے کان قبول نہیں کرتے۔ سمجھ دار، اہل وقار اور خبروں کی تحقیق کرنے والوں کے کانوں پر کوئی اثر نہیں کرتے۔
رہی بات معتدل انداز گفتگو کی تو وہ تو کان سے دل کا فاصلہ بجلی کی چمک کی طرح عبور کر جاتا ہے۔ یہ کوئی قابل تعجب بات نہیں، کیونکہ سچی زبان سب سے زیادہ اثر رکھنے والی زبان ہوتی ہے اور اسے ہمیشہ بلندی ہی ملتی ہے۔ فرمان الٰہی ہے:
’’انہیں سچائی کی بہت بلند زبانیں عطا کی تھیں۔‘‘ (مریم: ۵۰)
جو چاہتا ہے کہ لوگ اس کی باتوں کو قبول کر لیں، وہ اپنی نیک باتیں لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب ہو جائے اور وہ لوگوں پر اثر بھی کریں‘ وہ اپنی باتوں کا حقیقی محرک لوگوں کی تذلیل نہیں بلکہ ان کی کی خیرخواہی بنا لے۔ اسی طرح اسے چاہیے کہ وہ انہیں نقصان پہنچانے کی بجائے ان کا فائدہ اور بھلا کرنا اپنا مقصد بنالے۔ وہ ان کے ساتھ نرمی کرے اور ان پر سختی سے گریز کرے۔ اللہ کی قسم! سردار دو عالمe کی باتیں ایسی ہی ہوتی تھیں۔ اللہ تعالی آپe کے متعلق فرماتے ہیں:
’’دیکھو! تم لوگوں کے پاس ایک رسول آیا ہے جو خود تم ہی میں سے ہے، تمہارا نقصان میں پڑنا اس پر شاق ہے، تمہاری فلاح کا وہ حریص ہے، ایمان لانے والوں کے لیے وہ شفیق اور رحیم ہے۔‘‘ (التوبہ: ۱۲۸)
لوگوں کے ساتھ نرمی کرنا، ان کے لئے آسانیاں پیدا کرنا اور ان کے ساتھ بھلا کرنے کی کوشش کرنا ایسی صفات ہیں جو اگر کسی شخص میں اکٹھی ہو جائیں تو اس کی زبان پر کوئی نفرت انگیز بات آ ہی نہیں سکتی۔
اللہ کے بندو! بعض لوگوں نے آزادی اظہارِ رائے کو غلط انداز میں سمجھ لیا ہے۔ آزادی اظہار کا مفہوم جو وہ بیان کرتے ہیں وہ آزادی سے کسی طرح بھی کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ انہوں نے لوگوں کی عزت، آبرو اور رازوں کو اتنی ہی حیثیت دی ہے جتنی کسی گھاس کو دی جاتی ہے۔ جو چاہتا ہے اس پر ہاتھ ڈال لیتا ہے۔ انہیں ایسا ورد بنا دیا ہے جو ہرایک کی زبان پر آ سکتا ہے اور جو دوسروں کے نقصان پر اکساتا ہے، جس میں گالم گلوچ بھی شامل ہوتی ہے اور جس سے لوگوں کو رسوا بھی کیا جاتا ہے۔ اس گندے جوہڑ سے وہی لوگ پیتے ہیں جو بے چینی اور اضطراب پھیلانے والے ہیں یا وہ کہ جو آسانی سے دوسروں کی باتوں میں آنے والے ہیں۔
اللہ کے بندو! نفرت انگیز انداز گفتگو لفظوں کا تشدد ہے۔ جو چیز اللہ تعالیٰ نرمی کے ذریعے عطا فرماتا ہے، وہ سختی کے ذریعے کبھی نہیں دیتا۔ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرمe سے فرمایا تھا:
’’(اے پیغمبر!) یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم اِن لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو ورنہ اگر کہیں تم تند خو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب تمہارے گردو پیش سے چھٹ جاتے۔‘‘ (آل عمران: ۱۵۹)
نفرت انگیز انداز گفتگو سے لوگ بکھرتے ہیں، اکٹھے نہیں ہوتے۔ اس سے دوریاں پھیلتی ہیں، قربتیں پیدا نہیں ہوتیں۔ فساد برپا ہوتا ہے اور اصلاح نہیں ہوتی۔ اس کی مثال تو ہاتھ سے پھینکی جانے والی کنکری کی سی ہے جو آنکھ تو پھوڑ سکتی ہے مگر شکار کی جان نہیں لے سکتی۔
نفرت انگیز انداز گفتگو بالکل سیلاب کی جھاگ کی طرح ہے، جو جلد ہی اڑ جاتی ہے اور زمین میں دیر تک نہیں رہتی۔ اس انداز کو جو بھی اپناتا ہے، اس کی وحشیانہ گفتگو سے دانشمندوں کے کان دور بھاگنے لگتے ہیں۔ وہ اس کی باتیں سننا یا اس کی لکھی ہوئی باتیں پڑھنا شدید ناپسند کرنے لگتے ہیں۔ یہ ایسا انداز گفتگو ہے جو بندے کو ایک چھوٹے سے دائرے میں محصور کر دیتا ہے، جہاں وہ اپنے علاوہ کسی کو نہیں دیکھ پاتا۔ پھر اس کے ہاں اچھے گمان کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ اختلاف رائے کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ وہ ایسا بھڑکتا ہوا آتش فشاں ہوتا ہے جو شعلے ہی پھینکتا ہے، وہ جس چیز پر بھی پڑتے ہیں، اسے جلا کر راکھ کر دیتے ہیں یا اسے مائع بنا دیتے ہیں۔
نفرت انگیز انداز گفتگو بے وقوف کا اخلاق اور احمق کا ہتھیار ہوتا ہے۔ یہ کینے، غرور، جذبۂ انتقام اور جعلی کامیابی سے بھرے دل سے نکلنے والی قے ہے۔
اللہ کے بندو! نفرت انگیز انداز گفتگو کوئی وراثتی بیماری نہیں جس کا علاج انسان کے بس میں نہیں ہوتا، بلکہ یہ مختلف چیزوں سے تیار ہونے والی ایک معجون ہے، جو اپنی غذائیت ٹیڑھی افکار سے اور نفس کی پریشانی سے حاصل کرتی ہے۔ یہ دونوں چیزیں در حقیقت ہوا میں گھومنے والے ایسے جرثومے ہیں، جو ہر اُس نفس کا رخ کرتے ہیں جو اخلاق اور عدل و انصاف سے خالی ہوتا ہے۔ پھر جسم میں ان کی پرورش، قوت مدافعت کی موجودگی یا عدم موجودگی کی مرہون منت ہوتی ہے۔ یعنی ان جرثوموں کے آنے سے پہلے بھی ان کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ یا کم ازکم آنے کے بعد انہیں قتل تو کیا ہی جا سکتا ہے۔ مگر یاد رہے کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے۔ کیونکہ پرہیز کے ذریعے ان جرثوموں سے زیادہ دور رہا جاسکتا ہے اور اس طرح ان سے حفاظت یقینی بن جاتی ہے۔
اگر انسان اپنی گفتگو کو مہذب بنانے اور اسے نرمی، محبت اور خیر خواہی کے رنگ میں رنگنے سے قاصر ہو تو پھر وہ آخری دوا جو یقینی طور پر کام کر جاتی ہے وہ خاموشی ہے۔ ایسا کیوں نہ ہو، جب کہ رسول اللہe فرما چکے ہیں:
’’جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ بھلی بات کرے یا خاموش رہے۔‘‘ (بخاری ومسلم)
یاد رکھو کہ امت اسلامیہ پر اللہ تعالی کی ایک نعمت یہ بھی ہے کہ وہ اپنی شریعت کی بدولت، نفرت انگیز انداز گفتگو سے کوسوں دور ہے۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کیونکہ اللہ تعالی نے اس کے متعلق فرمایا ہے:
’’اِسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک ’’اُمت وسط‘‘ بنایا ہے۔‘‘ (البقرہ: ۱۴۳)
یعنی تمہیں عدل پر قائم رہنے والی اور بہترین امت بنایا ہے۔ جس کے لوگ اپنی باتوں میں اور اپنے مخالفوں کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت عدل سے کام لیتے ہیں۔ وہ بہترین امت بنایا جس کے لوگ اپنے ہر کام میں اور دوسروں کے ساتھ تعامل میں عدل سے کام لیتے ہیں۔ لیکن وہ خرابی جو مجموعی طور پر امت میں عام ہو چکی ہے، اس کی وجہ اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ امت کے باشندے اس فضیلت کو ذہن نشیں نہیں رکھ پائے اور نتیجے کے طور پر اس پر قائم بھی نہیں رہ پائے۔ پھر کچھ باشندے اس فضیلت کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کو اپنانے لگے ہیں جو کسی طرح بھی قابل تعریف نہیں ہو سکتیں۔
اگر انسان اپنی باتوں میں بھی اللہ سے ڈرنے والا ہو تو وہ زبان سے ہر لفظ نکالتے وقت اللہ کی نافرمانی سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ بہترین گفتگو وہ ہے جس میں رحمت کا پہلو شامل ہوتا ہے اور بدترین گفتگو وہ ہے جس سے نفرت کی بدبو آتی ہے۔
دوسرا خطبہ
حمد وصلوٰۃ کے بعد:
اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو اور یاد رکھو کہ زمانے کے اِس عشرے میں غیر مسلمانوں میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں منفی سوچ پھیل گئی ہے۔ اس سوچ نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز انداز گفتگو کو فروغ دیا ہے۔ یہاں تک کہ یہ ان کے ذرائع ابلاغ کا مرکزی موضوع بن گیا ہے۔ اس سوچ کے اور اس کی وجوہات کے بارے میں بہت سی باتیں ہو چکی ہیں۔ بھرحال نتیجہ اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز انداز گفتگو کی وجہ یا تو کوئی من گھڑت عقیدہ ہے یا پھر اسلام کا نام لینے والوں میں سے کچھ لوگوں کے غیر مقبول کاموں کا رد عمل ہے۔ یا دونوں امور ایک ساتھ اس کی وجوہات ہیں۔
جس چیز کی وجہ غیر مسلموں کا کوئی گھڑا ہوا عقیدہ ہے، تو اس کے بارے میں اہل اسلام کچھ نہیں کرسکتے۔ کیونکہ اگر انہیں ساری نشانیاں بھی دیکھا دی جائیں تو بھی اہل اسلام ان کے عقیدہ کو ان کے دلوں سے نکالنے پر قادر نہیں ہیں، الا یہ کہ اللہ ہی اسے ان کے دلوں سے نکالنا چاہے۔ کیونکہ انسان جس عادت پر جوان ہوتا ہے، بڑھاپا میں بھی اسی پر قائم رہتا ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
’’اُن اہل ایمان سے اُن کی دشمنی اِس کے سوا کسی وجہ سے نہ تھی کہ وہ اُس خدا پر ایمان لے آئے تھے جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے۔‘‘ (البروج: ۸)
رہی وہ چیزیں جو اہل اسلام کی کچھ غلطیوں کے ردعمل کے طور پر سامنے آئی ہیں تو یہ چیزیں ہماری توجہ کا مرکز ہیں۔ کیونکہ اہل اسلام کو دوسروں کے لئے بہترین نمونہ ہونا چاہیے اور ان کے سارے کام اُسی دین کے مطابق ہونا چاہیں جس کا نام وہ لیتے ہیں۔ غیر مسلم تو دینِ اسلام اور مسلمانوں کے درمیان فرق نہیں کرتے۔ جو غلطی بھی کسی مسلمان سے ہو گی، اس کے نتیجے میں وہ اسلام ہی کو قابل ملامت ٹھہرائیں گے۔ یہ بات بڑی افسوسناک ہے کہ غیر مسلموں کے ساتھ ملنے جلنے والے بہت سے مسلمان اپنی باتوں، کاموں اور اخلاق سے غیرمسلموں کے سامنے اسلام کی مثبت تصویر پیش نہیں کرتے۔ ان کے ذریعے غیر مسلموں کو اسلام کی شمولیت، اس کے عدل وانصاف، اس کی عالم گیریت اور ہر زمان ومکان میں اس کے کمال کے متعلق کچھ پتہ نہیں چل پاتا۔ چنانچہ عمومی طور پر تمام اہل اسلام کا اور پڑھے لکھے مسلمانوں کا خاص طور پر فرض ہے کہ وہ معتدل انداز گفتگو، معتدل انداز کتابت اور بہترین تعامل کے طریقے اپنا کر غیر مسلم ممالک میں اسلام کا روشن چہرہ بن کر دکھائیں۔ اُن کا فرض ہے کہ وہ غیر مسلموں میں اسلام کے فلسفۂ حیات کی تشہیر کریں، اس کے سیاسی تصور، معاشی تصور، ثقافتی تصور اور تہذیبی تصور کی ترویج کریں۔ سب کو بتائیں کہ اسلام ہر فرد کو کس نگاہ سے دیکھتا ہے، چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔ وہ ایک خاندان کو کس نظر سے دیکھتا ہے، جو چند افراد سے بنتا ہے اور اس معاشرے کو کس نگاہ سے دیکھتا ہے، جو چند خاندانوں سے تشکیل پاتا ہے۔
ان کا فرض ہے کہ وہ لوگوں کو بتائیں کہ اسلام ایک بہترین دین ہے جس میں زندگی کے ہر معاملے کے حوالے سے رہنمائی موجود ہے۔ اگر اس کے کسی فرد سے کوئی غلطی ہوتی ہے تو وہ غلطی اسی فرد کی ہے نہ کہ پورے اسلام کی۔
اسی طرح میڈیائی اداروں اور دوسری تنظیموں کو بھی اس کام میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کے سر پر جو ذمہ داری ہے وہ دوسروں کی ذمہ داری سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ ذمہ داری ادا کرنے کا سب سے آسان اور سستا طریقہ اعلیٰ اخلاق اپنا لینا اور ایسا شاندار انداز گفتگو کو اپنانا ہے جس میں خیر خواہی شامل ہو اور جس کی بدولت ان کے دل اسلام اور اہل اسلام کے لئے کھل جائیں۔ کیونکہ اخلاق میں اتنا اثر ہے کہ کوئی چیز اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ اور اللہ ہی سیدھی راہ دکھانے والا ہے۔
اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے درود و سلام بھیجو مخلوق میں بہترین اور انسانوں میں افضل ترین ہستی محمد بن عبداللہe پر جو کہ حوض کوثر والے اور شفاعت کبریٰ والے ہیں۔ اللہ تعالی نے آپ کو ایک ایسا حکم دیا ہے جس میں سب سے پہلے اس نے اپنا ذکر کیا ہے پر فرشتوں کا ذکر کیا ہے جو اللہ کی تسبیح کرنے والے ہیں اور پھر آپ کو اے اہل ایمان کہہ کے پکارا ہے۔
اے اللہ! اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! اپنی رحمت سے پریشان حال مسلمانوں کی پریشانی دور فرما! مصیبت زدہ مسلمانوں کی مصیبتیں آسان فرما۔ قرضدار مسلمانوں کی فرض ادا فرما۔
اے اللہ! ہمیں ہمارے ملکوں میں امن نصیب فرما۔ ہمارے حکمرانوں اور اماموں کی اصلاح فرما۔ ہمارے حکمران ایسے لوگوں کے ہاتھ میں دے جو در سے ڈرنے والے اور پرہیزگاری اختیار کرنے والے ہو۔ آمین!

No comments:

Post a Comment