نماز میں خشوع خضوع 07-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, June 22, 2019

نماز میں خشوع خضوع 07-2019


نماز میں خشوع وخضوع

(پہلی قسط)  تحریر: جناب الشیخ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ
اسلامی عبادات میں ایک اہم مسئلہ نماز پڑھنے کے طریقے کا ہے کہ نماز کس طرح پڑھی جائے‘ اس کے آداب کیا ہیں اور خشوع وخضوع کی اہمیت اور اس کا مطلب کیا ہے؟ نیز خشوع وخضوع کے بغیر پڑھی گئی نماز کی حیثیت کیا ہے؟!
اس کا جواب واضح ہے اور وہ یہ کہ نماز سنت نبویe کے مطابق ادا کی جائے‘ جیسا کہ نبی e نے بھی فرمایا:
[صَلُّوا کَمَا رَاَیْتُمُوْنِیْ اُصَلِّیْ] (بیہقی)
’’تم نماز اس طرح پڑھو جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔‘‘
نبی کریمe کے اس فرمان سے مذکورہ سوالوں کا جواب سامنے آجاتا ہے اور وہ یہ کہ
\          نماز کے آداب‘ نماز کو سنت نبویe کے مطابق ادا کرنا ضروری ہے۔
\          آپ e نماز نہایت خشوع وخضوع کے ساتھ ادا فرماتے تھے۔
\          خشوع وخضوع کا مطلب‘ نماز کے ہر رکن کو پورے اطمینان اور سکون سے ادا کرنا ہے جسے ’’تعدیل ارکان‘‘ کہا جاتا ہے یعنی تعدیل ارکان بھی نہایت ضروری ہے۔
\          جو نماز تعدیل ارکان یعنی خشوع وخضوع کے بغیر پڑھی جائے گی وہ نبی کریمe کے طریقے اور اسوہ حسنہ کے خلاف ہو گی‘ لہٰذا وہ نا مقبول ہو گی۔
اس کے دلائل حسب ذیل ہیں:
اللہ تعالیٰ نے کامیابی کی نوید انہی اہل ایمان کے لیے بیان کی ہے جو اپنی نمازوں میں خشوع وخضوع کا اہتمام کرتے ہیں‘ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ٭ الَّذِیْنَ ہُمْ فِیْ صَلَاتِہِمْ خٰشِعُوْنَ٭} (المؤمنون: ۱-۲)
’’مومن یقینا فلاح پا گئے وہ جو اپنی نماز میں خشوع کا اہتمام کرتے ہیں۔‘‘
اس کے برعکس سستی سے نماز پڑہنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
{فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ٭ الَّذِیْنَ ہُمْ عَنْ صَلَاتِہِمْ سَاہُوْنَ٭ الَّذِیْنَ ہُمْ یُرَآء ُوْنَ٭} (الماعون)
’’تباہی ہے ان نمازیوں کے لیے جو اپنی نماز سے غفلت کرتے ہیں‘ جو دکھاوا کرتے ہیں۔‘‘
منافقین کی صفات بیان فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ان کی ایک صفت یہ بیان فرمائی ہے:
{اِذَا قَامُوْٓا اِلَی الصَّلٰوۃِ قَامُوْا کُسَالٰی ۱ یُرَآء ُوْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ اِلَّا قَلِیْلًا٭} (النساء)
’’جب وہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو دل سے نہ چاہتے ہوئے‘ لوگوں کو دکھانے کے لیے کھڑے ہوتے ہیں اور وہ اللہ کو بس تھوڑا ہی یاد کرتے ہیں۔‘‘
گویا خشوع وخضوع کے بغیر نماز‘ ‘ مسلمان کی نماز نہیں‘ منافق کی نماز ہے‘ ایسی نماز عند اللہ کس طرح قبول ہو سکتی ہے؟
خشوع ہی سے نماز کے ثمرات وفوائد حاصل ہوتے ہیں:
علاوہ ازیں نماز کے وہ ثمرات وفوائد‘ جو قرآن کریم اور احادیث صحیحہ میں بیان کیے گئے ہیں‘ اس وقت ملتے اور مل سکتے ہیں جب نماز کو سنت نبویe کے مطابق اطمینان وسکون کے ساتھ ادا کیا جائے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے نماز کا ایک نہایت اہم فائدہ یہ بیان فرمایا ہے:
{اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآء ِ وَ الْمُنْکَرِ٭}
’’بے شک نماز بے حیائی (کے کاموں) سے اور منکرات سے روکتی ہے۔‘‘ (العنکبوت: ۴۵)
اکثر لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ نماز بھی پڑھتے ہیں لیکن بے حیائی کے کاموں اور منکرات کا ارتکاب بھی کرتے ہیں‘ حالانکہ اللہ کا فرمان جھوٹا نہیں ہو سکتا:
{وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰہِ قِیْلًا٭}(النساء: ۱۲۲)
’’اللہ سے زیادہ سچی بات کس کی ہو سکتی ہے؟‘‘
اس کی وجہ یہی ہے کہ ہماری نمازوں میں رسول اللہe کی سنتوں کا اہتمام نہیں ہے‘ خشوع وخضوع کا فقدان ہے اور انابت الی اللہ کی کمی ہے‘ گویا ہمارا حال علامہ اقبالؒ کے اس شعر کا مصداق ہے۔   ؎
جو سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمین سے آنے لگی صدا
ترا دل ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
تیرا امام بے حضور‘ تیری نماز بے سرور
ایسی نماز سے گزر‘ ایسے امام سے گزر
قرآن وحدیث کے اتباع کا حکم اور اس کی اہمیت:
بنا بریں ضروری ہے کہ ہم ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کے احکام کو سامنے رکھیں اور انہی کے مطابق سارے کام انجام دیں‘ ورنہ محنت اور عمل کے باوجود ان کے ضائع ہونے کا شدید خدشہ ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
{یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْٓا اَعْمَالَکُمْ٭} (محمد)
’’ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور اللہ کے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو باطل نہ کرو۔‘‘
اس سے معلوم ہوا کہ جس عمل میں اللہ ورسول کی اطاعت نہیں ہو گی‘ وہ عمل باطل ہے۔ اللہ کے ہاں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہو گی‘ عمل کرنے والا اس کی بابت چاہے کتنا بھی خوش گمان ہو‘ محض خوش گمانی سے کوئی عمل بارگاہ الٰہی میں مقبول نہیں ہو سکتا۔ فرمان الٰہی ہے:
{قُلْ ہَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًا٭ اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُہُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ ہُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّہُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا٭}(الکہف: ۱۰۳-۱۰۴)
’’کہہ دیجیے! کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اعمال میں سب سے زیادہ خسارے میں کون ہیں؟ جس کی کوشش دنیاوی زندگی میں اکارت گئی‘ جب کہ وہ سمجھتے رہے کہ وہ اچھے کام کر رہے ہیں۔‘‘
یہ فرمان الٰہی ایسے ہی لوگوں کے بارے میں ہے جو اللہ‘ رسول کو مانتے ہی نہیں‘ یا مانتے تو ہیں‘ لیکن صرف زبان کی حد تک‘ اعمال میں ان کی اطاعت کو اہمیت نہیں دیتے بلکہ اپنے من مانے طریقے سے عمل کرتے ہیں۔ نتیجے کے اعتبار سے ان دونوں میں فرق نہیں۔ اس لیے رسول اللہe نے بھی اپنی زندگی کے آخری ایام میں فرمایا:
[تَرَکْتُ فِیکُمْ اَمْرَیْنِ، لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّکْتُمْ بِہِمَا: کِتَابَ اللَّہِ وَسُنَّۃَ نَبِیِّہِ۔] (موطأ امام مالک)
’’میں تمہارے اندر دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں‘ جب تک تم انہیں مضبوطی سے پکڑے رہو گے‘ ہرگز گمراہ نہیں ہو گے (اور وہ ہیں) اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت۔‘‘
ایک اور حدیث میں اللہ کے رسولe نے اس بات کو اس طرح واضح فرمایا:
[کُلُّ اُمَّتِی یَدْخُلُونَ الجَنَّۃَ إِلَّا مَنْ اَبَی، قَالُوا: یَا رَسُولَ اللَّہِ، وَمَنْ یَاْبَی؟ قَالَ: مَنْ اَطَاعَنِی دَخَلَ الجَنَّۃَ، وَمَنْ عَصَانِی فَقَدْ اَبَی۔] (بخاری)
’’میری ساری امت جنت میں جائے گی سوائے اس کے جس نے انکار کیا۔‘‘ صحابہ کرام] نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! انکار کرنے والا کون ہے؟ آپe نے فرمایا: ’’جس نے میری اطاعت کی‘ وہ جنت میں گیا اور جس نے میری نافرمانی کی تو اس نے انکار کیا۔‘‘
نماز میں اطمینان اور خشوع وخضوع کی اہمیت:
نماز اسلام کا اہم ترین فریضہ ہے‘ اگر یہی سنت نبویe کے مطابق نہ ہوئی جس کی بابت روز قیامت سب سے پہلے باز پرس ہو گی تو دوسرے عملوں کا اللہ ہی حافظ ہے۔ جیسے ایک صحابی سیدنا حذیفہt کا واقعہ آتا ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا جو رکوع سجود اطمینان سے نہیں کر رہا تھا۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو سیدنا حذیفہt نے اس سے کہا [ما صلیت] ’’تو نے نماز نہیں پڑھی۔‘‘ راوی کا بیان ہے کہ میرے خیال میں سیدنا حذیفہt نے اس کو یہ بھی کہا:
[لَوْ مُتَّ مُتَّ عَلَی غَیْرِ سُنَّۃِ مُحَمَّدٍﷺ]
’’(اس حالت میں) موت آگئی تو محمدe کے طریقے پر موت نہیں آئے گی۔‘‘ (بخاری)
بلکہ اسی طرح کا ایک واقعہ نبی کریمe کی مبارک زندگی میں بھی ہے جس میں ہمارے لیے بڑی عبرت ہے‘ وہ اس طرح ہے کہ ایک شخص مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کے لیے آیا‘ نبی کریمe مسجد میں تشریف فرما تھے۔ اس شخص نے نماز پڑھی‘ آپe اس کو دیکھ رہے تھے‘ نماز سے فارغ ہو کر وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام عرض کیا‘ آپ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: [اِرْجِعْ فَصَلِّ فَاِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ] ’’واپس جاؤ اور پھر نماز پڑھو اس لیے کہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔‘‘
وہ گیا اور جا کر دوبارہ نماز پڑہی‘ پھر رسالت مآبe کی خدمت میں حاضر ہو کر سلام عرض کیا۔ آپe نے سلام کا جواب دے کر پھر فرمایا: [اِرْجِعْ فَصَلِّ فَاِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ] ’’واپس جاؤ اور پھر نماز پڑھو‘ اس لیے کہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔‘‘
تین مرتبہ جب اس طرح ہوا تو اس شخص نے کہا:
[وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَآ اُحْسِنَ غَیْرُہٗ فَعَلِّمْنِیْ]
’’اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ (نبی بنا کر) بھیجا (مجھے تو اس طرح ہی نماز آتی ہے۔) اس سے بہتر انداز میں نماز نہیں پڑھ سکتا۔ پس آپ مجھے طریقہ نماز سکھا دیجیے۔‘‘
نبی کریمe نے اس سے فرمایا:
’’جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو اللہ اکبر (تکبیر تحریمہ) کہہ۔ پھر تیرے لیے جو آسان ہو قرآن کا کچھ حصہ (سورۂ فاتحہ وغیرہ پڑھ‘ پھر رکوع کر اور خوب اطمینان سے رکوع کر پھر رکوع سے سر اٹھا اور سیدھا کھڑا ہو جا۔ پھر سجدہ کر اور نہایت اطمینان سے سجدہ کر‘ پھر سجدے سے سر اٹھا اور خوب اطمینان سے بیٹھ جا‘ پھر دوبار سجدہ کر اور پورے اطمینان سے سجدہ کر۔ (ایک دوسرے مقام پر اس کے بعد ہی الفاظ ہیں کہ دوسرے سجدے کے بعد پھر اطمینان سے بیٹھ جا‘ یعنی جلسۂ استراحت کر اور پھر دوسری رکعت کے لیے کھڑا ہو اور پھر اپنی ساری نماز (ہر رکعت میں) اسی طرح کر۔‘‘ (بخاری: ۸۹۳‘ ۶۲۵۱)
نبی کریمe کے اس مذکورہ طریقہ نماز کی وضاحت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص نماز اطمینان سے نہیں پڑھتا تھا اور بار بار کہنے کے باوجود اس کی نماز اطمینان سے خالی تھی۔ نہ قیام وقراء ت میں اطمینان تھا‘ نہ رکوع اور قومے میں اطمینان تھا‘ نہ سجدوں میں اور نہ ان کے درمیان وقفے میں اطمینان تھا۔ آپe نے ایسی نماز کو تین مرتبہ کالعدم قرار دیا (تو نے نماز ہی نہیں پڑھی) حالانکہ وہ بار بار نماز پڑھ کر آ رہا تھا لیکن آپ یہی فرماتے رہے کہ تو نے نماز ہی نہیں پڑھی۔
اس سے معلوم ہوا کہ جس نماز میں سنت رسولe کے مطابق اطمینان اور اعتدال ارکان نہیں ہو گا وہ نماز‘ نماز ہی نہیں‘ محض اٹھک بیٹھک ہے یا کوے کی طرح ٹھونگے مارنا ہے۔
ایک اور حدیث میں رسول اللہe نے فرمایا:
[لَا تُجْزِئُ صَلَاۃُ الرَّجُلِ حَتَّی یُقِیمَ ظَہْرَہُ فِی الرُّکُوعِ وَالسُّجُودِ۔] (ابوداؤد: ۸۵۵)
’’آدمی کی نماز اس وقت تک کافی نہیں ہوتی جب تک وہ اپنی پیٹھ رکوع اور سجدے میں پوری طرح سیدھی نہ کرے۔‘‘
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہa نے اس موضوع پر بڑی تفصیل سے بحث کی ہے‘ ہم اس کا ضروری خلاصہ پیش کرتے ہیں۔ امام صاحب یہ حدیث نقل کر کے فرماتے ہیں:
’’یہ حدیث اس بارے میں نص صریح ہے کہ ارکان میں اعتدال واجب ہے‘ جب رکوع اور سجود کے پورا کرنے کے لیے اعتدال واجب ہے تو رکوع اور سجدے کو اطمینان کے ساتھ کرنا زیادہ بڑا واجب ہے۔‘‘
پھر امام صاحب حدیث کے الفاظ کہ وہ ’’اپنی پیٹھ رکوع اور سجدے میں پوری طرح سیدھی کرے‘‘ کا مفہوم واضح کرتے ہیں۔
اسی لیے حدیث کے الفاظ ہیں:
’’اپنی پیٹھ کو رکوع اور سجود میں پوری طرح سیدھا کر۔‘‘ اس سے واضح ہوتا ہے کہ رکوع سے سر اٹھا کر اطمینان سے کھڑے رہنا اور اسی طرح سجدے سے سر اٹھا کر اطمینان سے بیٹھنا اسی طرح واجب ہے جس طرح رکوع اور سجدے کو پورا کرنا واجب ہے۔‘‘
امام صاحب a اس نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے آگے مسند احمد کے حوالے سے یہ حدیث نقل کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہe کی خدمت میں حاضر ہوئے‘ ہم نے آپ کی بیعت کی اور آپ کے پیچھے نماز پڑھی‘ پس آپ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ نماز صحیح طریقے سے ادا نہیں کر رہا یعنی اپنی پیٹھ‘ رکوع اور سجدے میں پوری طرح سیدھی نہیں کرتا‘ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا:
’’اے مسلمانوں کی جماعت! اس شخص کی نماز نہیں جو اپنی پشت رکوع اور سجدے میں پوری طرح سیدھی نہیں کرتا۔‘‘
ایک دوسری روایت میں الفاظ ہیں۔ فرمایا:
’’اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف نہیں دیکھتا جو رکوع اور سجدے کے درمیان اپنی پشت پوری طرح سیدھی نہیں کرتا۔‘‘ (ابن ماجہ: ۷۸۱۔ مسند احمد)
اس سے واضح ہے کہ پشت کو پوری طرح سیدھا کرنا‘ اسی کا نام ’’اعتدال فی الرکوع‘‘ ہے۔ مسند احمد کی ایک اور روایت ہے۔ رسول اللہe نے فرمایا:
’’سب سے بدتر چور وہ ہے جو اپنی نماز سے چوری کرتا ہے۔ صحابہ کرام] نے پوچھا: اپنی نماز سے چوری کس طرح کرتا ہے؟ آپe نے فرمایا: ’’نماز میں رکوع اور سجدہ پورا نہیں کرتا۔‘‘ یا فرمایا: ’’رکوع اور سجدوں میں اپنی پشت پوری طرح سیدھی نہیں کرتا۔‘‘
نیز سنن ابوداؤد‘ نسائی اور ابن ماجہ میں حدیث ہے:
’’رسول اللہe نے منع فرمایا کہ کوے کی طرح ٹھونگے مارنے سے‘ درندوں کی طرح پیر بچھا کر بیٹھنے اور یہ کہ آدمی مسجد میں (مستقل طور پر) اس طرح جگہ مقرر کر لے جیسے اونٹ کر لیتا ہے۔‘‘
یہ تینوں چیزیں اگرچہ باہم مختلف ہیں لیکن رسول اللہe نے ان تینوں کو جمع فرما دیا ہے کیونکہ ان تینوں میں نماز کی حالت میں بہائم (چوپایوں) کے ساتھ مشابہت میں اشتراک ہے‘ پس آپe نے کوے کے فعل کی مشابہت سے‘ درندوں کے مشابہ فعل اور اونٹ کے فعل کی مشابہت سے منع فرما دیا۔ اگرچہ کوے کا ٹھونگے مارنا باقی دونوں فعلوں سے زیادہ سخت ہے۔ علاوہ ازیں اس کی بابت اور بھی احادیث ہیں جیسے صحیحین میں سیدنا انسt سے مروی روایت میں رسول اللہe نے فرمایا:
’’سجود میں اعتدال اختیار کرو اور تم میں سے کوئی شخص اپنے بازو کتے کی طرح نہ پھیلائے۔ بالخصوص دوسری حدیث میں اسے [صلاۃ المنافقین] ’’منافقین کی نماز‘‘ قرار دیا اور اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں خبر دی ہے کہ وہ منافقین کا عمل ہرگز قبول نہیں کرے گا۔‘‘
چنانچہ صحیح مسلم میں سیدنا انس بن مالکt کی حدیث ہے‘ رسول اللہe نے فرمایا:
’’یہ منافق کی نماز ہے کہ وہ (نماز عصر میں دیر کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ جب سورج (غروب ہونے کے قریب) شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان آجاتا ہے تو کھڑا ہو جاتا ہے اور چار ٹھونگے مار لیتا ہے‘ اس میں اللہ کا ذکر برائے نام کرتا ہے۔‘‘
اس حدیث میں اللہ کے رسولe نے بتلایا کہ منافق فرض نماز کا وقت ضائع کر دیتا ہے اور اپنا فعل (نماز کا پڑھنا) بھی ضائع کر دیتا ہے اور صرف ٹھونگے مارتا ہے۔ اس سے یہ رہنمائی حاصل ہوئی کہ یہ دونوں فعل مذموم ہیں۔ (نماز کا اصل وقت ضائع کرنا اور پھر نماز کو کوے کی طرح ٹھونگے مار کر پڑھنا) حالانکہ یہ دونوں چیزیں (وقت پر نماز پڑھنا اور اعتدال کے ساتھ پڑھنا) واجب ہیں‘ منافق ان دونوں واجبات کا تارک ہے۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ نماز کو ٹھونگے مار کر پڑھنا ناجائز ہے اور یہ اس شخص کا فعل ہے جس میں نفاق پایا جاتا ہے۔ یہ حدیث بجائے خود ایک مستقل دلیل ہے اور ما قبل کی حدیث کی تفسیر کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
{اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰہَ وَ ہُوَ خَادِعُہُمْ۱ وَ اِذَا قَامُوْٓا اِلَی الصَّلٰوۃِ قَامُوْا کُسَالٰی ۱ یُرَآئُوْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ اِلَّا قَلِیْلًا٭}
’’منافقین اللہ کو دھوکہ دیتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے انہیں دھوکے میں ڈال رکھا ہے اور جب وہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو دل سے نہ چاہتے ہوئے لوگوں کو دکھانے کے لیے کھڑے ہوتے ہیں اور وہ اللہ کو بس تھوڑا ہی یاد کرتے ہیں۔‘‘ (النساء: ۱۴۲)
اس آیت میں ان لوگوں کے لیے سخت وعید ہے جو اپنی نمازوں میں ٹھونگے مارتے ہیں اور اعتدال واطمینان سے پوری طرح نہ رکوع کرتے اور نہ سجدہ کرتے ہیں۔
نبی کریمe نے جو (منافق) کی مثال بیان فرمائی ہے وہ بہترین مثال ہے۔ اس لیے کہ نماز دلوں کی خوراک ہے جس طرح کہ غذا جسم کی خوراک ہے‘ پس جب جسم تھوڑا کھانے سے (پوری طرح) غذا حاصل نہیں کر پاتا (اس لیے اس میں قوت وتوانائی نہیں آتی) تو دل بھی ٹھونگے مار نماز سے خوراک حاصل نہیں کر پاتا‘ اس کے لیے بھی ضروری ہے کہ ایسے کامل انداز سے نماز پڑھی جائے جس سے دلوں کو پوری خوراک حاصل ہو۔ حدیث میں ایک اور واقعہ آتا ہے جو صحیح ابن خزیمہ میں موجود ہے:
سیدنا ابوعبداللہ اشعریt بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہe نے اپنے صحابہ کرام کو نماز پڑھائی‘ پھر ان کے ایک گروہ میں بیٹھ گئے‘ اتنے میں ایک شخص آیا اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگا‘ رکوع کرتا اور سجدے میں ٹھونگے مارتا‘ رسول اللہe اس کو دیکھ رہے تھے‘ آپe نے فرمایا: ’’اس کو دیکھتے ہو؟‘‘ اگر اس کو (اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے) موت آگئی تو محمدe کی ملت کے علاوہ کسی اور ملت پر اس کو موت آئے گی۔ یہ اپنی نماز میں اس طرح ٹھونگے مارتا ہے جیسے کوا خون (یا مٹی) میں ٹھونگے مارتا ہے۔ یاد رکھو! اس شخص کی مثال جو نماز پڑھتا ہے اور رکوع پوری طرح نہیں کرتا اور اپنے سجدے میں ٹھونگے مارتا ہے‘ اس بھوکے کی طرح ہے جو ایک یا دو کھجوریں کھاتا ہے جو اس کی بھوک کے لیے یکسر نا کافی ہوتی ہے۔ اس لیے (سب سے پہلے) کامل طریقے سے وضو کرو‘ ان لوگوں کے لیے ہلاکت ہے اور آگ کی وعید ہے جن کی ایڑیاں خشک رہیں اور رکوع اور سجود پوری طرح کرو۔‘‘ (ابن خزیمہ: ۱/۳۵۵‘ رقم ۶۶۵)
صحیح بخاری کے حوالے سے سیدنا حذیفہt کا واقعہ بھی گذر چکا ہے جس میں انہوں نے بھی بغیر اعتدال ارکان نماز پڑھنے والے کی موت کی بابت اسی قسم کا اندیشہ ظاہر فرمایا تھا جو نبی کریمe نے فرمایا کہ
’’تیری موت اس فطرت پر نہیں ہو گی جس پر اللہ تعالیٰ نے محمدe کو مبعوث فرمایا۔‘‘
سنت سے مراد ایک تو وہ فعل ہوتا ہے جو فرض نہیں ہوتا‘ لیکن یہاں سنت سے مراد دین وشریعت ہے‘ اس لیے غیر الفطرہ اور غیر السنہ دونوں سے یہاں مراد ایک ہی ہے یعنی دین اور شریعت۔ مستحبات مراد نہیں‘ اس لیے کہ مستحبات کے ترک پر اتنی مذمت اور وعید نہیں ہوتی۔ بنا بریں جب یہ کہا جائے کہ تیری موت سنت پر یا فطرت پر نہیں آئے گی تو اس کا مطلب ہے کہ دین اسلام اور شریعت محمدیہ پر نہیں آئے گی۔‘‘ (ملخص از فتاویٰ شیخ الاسلام ابن تیمیہ: ۲۲/۵۲۶-۵۴۷)  ………(جاری ہے)

No comments:

Post a Comment

View My Stats