احکام ومسائل 07-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, June 22, 2019

احکام ومسائل 07-2019


احکام ومسائل

جناب مولانا الشیخ حافظ ابومحمد عبدالستار الحمادd
خط وکتابت:  مرکز الدراسات الاسلامیہ ۔ سلطان کالونی‘ میاں چنوں‘ خانیوال‘ پاکستان  ای میل:  markaz.dirasat@gmail.com

قرض سے زیادہ وصول کرنا
O میں نے اپنے ایک دوست کو سال بعد ادائیگی پر ایک لاکھ قرض دیا‘ آپ جانتے ہیں کہ قرض کی رقم دن بدن کم ہوتی جائے گی‘ اس رقم سے آج جتنی اشیاء خریدی جا سکتی ہیں سال بعد اتنی نہیں خریدی جا سکتیں۔ کیا میں اس خسارے کی تلافی زیادہ رقم کی وصولی سے کر سکتا ہوں؟!
P سوال میں ذکر کردہ اضافی رقم کی وصولی ایک سودی ذہنیت ہے‘ سود میں بھی یہی کچھ ہوتا ہے کہ قرض سے زیادہ رقم کی وصولی کا تعین‘ واپسی کی مدت کے تناسب سے پہلے ہی سے کر لیا جاتا ہے۔ ہمارے رجحان کے مطابق قرض کی بناء پر اصل رقم سے زیادہ وصول کرنا سنگین گناہ‘ اللہ اور اس کے رسولe سے جنگ کرنے کے مترادف ہے۔ صحابہ کرام اس معاملہ میں بہت حساس تھے‘ قرض دے کر طے شدہ اضافہ لینا تو بہت دور کی بات ہے وہ مقروض سے کوئی تحفہ یا ہدیہ لینے سے بھی منع کرتے تھے۔ چنانچہ سیدنا ابوبردہ بن ابوموسیٰ اشعریw ایک دفعہ سیدنا عبداللہ بن سلامt سے ملاقات کے لیے آئے تو انہوں نے فرمایا: ’’تم ایسی سرزمین میں رہتے ہو جہاں سود لینے دینے کا بہت رواج ہے‘ اگر تمہارا کسی شخص کے ذمے کوئی حق (قرض) ہو اور وہ تمہیں توریٰ‘ جو یا چارہ غیرہ بطور ہدیہ بھیجے تو اسے مت قبول کرنا کیونکہ یہ سود ہے اور یہ حرام اور ناجائز ہے۔‘‘ (بخاری‘ المناقب: ۳۸۱۴)
قرض کی روح ایثار اور ہمدردی ہے اور قرض دینے والے کا مطمع نظر رضائے الٰہی کا حصول ہوتا ہے۔ یہ اسی بناء پر اپنے مسلمان بھائی سے تعاون کرتا ہے اور اپنے مال کے حق استعمال سے رضاکارانہ طور پر دست بردار ہو جاتا ہے‘ وہ اللہ کے ہاں اس قرض کے بدلے اجر وثواب کا حقدار ہے۔ جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعودt سے روایت ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا: ’’بلاشبہ قرض آدھے صدقہ کے برابر ہے۔‘‘ (مسند امام احمد: ج۶‘ ص ۷)
بہرحال کسی نادار کو قرض دینا اللہ کے ہاں اجر وثواب کا باعث ہے‘ لہٰذا اس سے زیادہ وصول کرنے کی نیت سے نہ صرف ثواب کا ضیاع ہے بلکہ ایک سنگین جرم کا ارتکاب ہے۔ ایک مسلمان کو اس قسم کی ذہنیت سے خود کو پاک رکھنا چاہیے۔ ہاں اگر مقروض اپنی طرف سے کوئی چیز شرط کے بغیر دیتا ہے تو اسے لیا جا سکتا ہے۔ واللہ اعلم!
رجوع کے بغیر طلاق دینا
O مجھے ان دنوں ایک مشکل درپیش ہے وہ یہ کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی پھر ایک ماہ بعد رجوع کیے بغیر دوسری طلاق دے دی‘ اب عدت بھی گذر چکی ہے‘ کیا میں اس سے رجوع کر سکتا ہوں؟ بعض اہل علم کہتے ہیں کہ رجوع کے بغیر طلاق دینے سے طلاق نہیں ہوتی۔ وضاحت کریں۔
P طلاق کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ خاوند اپنی بیوی کو ایسے طہر میں ایک طلاق دے جس میں وہ اس کے پاس نہ گیا ہو‘ پھر وہ عدت گذرنے کا انتظار کرے‘ ممکن ہو تو دوران عدت رجوع کرے بصورت دیگر اسے رہنے دیا جائے تا آنکہ عدت پوری ہو جائے۔ عدت کے بعد نکاح ختم ہو جاتا ہے‘ اگر عدت گذرنے کے بعد باہمی اتفاق ہو جائے تو نئے نکاح سے دوبارہ گھر آباد کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں ایسا ہوتا ہے کہ بیوی کو جب تک تین طلاق نہ دی جائیں ہمارا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوتا۔ طلاق مسنون کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ دوران عدت رجوع ہو سکتا ہے اور نئے نکاح کی ضرورت نہیں پڑتی اور بعد از عدت بھی نکاح جدید سے راستہ باقی رہتا ہے۔ قرآن کریم نے بھی اسی طرف اشارہ کیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’طلاق‘ صرف دوبار ہے‘ اس کے بعد یا تو بیوی کو شائستہ طریقہ سے نکاح میں رہنے دیا جائے یا پھر اسے بھلے طریقہ سے چھوڑ دیا جائے۔‘‘ (البقرہ: ۲۱۹)
اب ایک آدمی طلاق دینے کے بعد رجوع کے بغیر دوسری طلاق دے دیتا ہے۔ اس انداز سے طلاق دینا مشروع ہے اور پھر دوسری طلاق ہو جاتی ہے یا نہیں‘ اس میں اہل علم کی دو آراء حسب ذیل ہیں:
|          رجوع کے بغیر طلاق دینا غیر مسنون ہے لہٰذا ایسا کرنا ناجائز ہے اور اس سے طلاق نہیں ہو گی۔
|          رجوع کے بغیر طلاق دینا اگرچہ ناجائز ہے تا ہم ایسا کرنے سے طلاق ہو جاتی ہے۔
چونکہ مسئلہ اجتہادی ہے‘ فریقین اپنے پاس دلائل رکھتے ہیں‘ ہمارے رجحان کے مطابق رجوع کے بغیر طلاق دینے سے طلاق ہو جاتی ہے اگرچہ طلاق دینے والا گنہگار ہوتا ہے۔ کیونکہ اس نے طلاق کے لیے غیر مسنون راستہ اختیار کیا ہے۔ تا ہم طلاق ہو جائے گی جیسا کہ دوران حیض طلاق دینا ناجائز ہے تا ہم اگر کوئی بحالت حیض اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے تو ناجائز ہونے کے باوجود طلاق ہو جائے گی۔ جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن عمرw نے اپنی بیوی کو دوران حیض طلاق دے دی تھی تو اسے شمار کر لیا گیا تھا۔ اسی طرح رجوع کے بغیر اگر طلاق دی جائے تو طلاق ہو جائے گی کیونکہ عدت کے دوران وہ اس کی بیوی ہے اور اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے۔ صورت مسئولہ میں سائل نے اپنی بیوی کو پہلی طلاق کے بعد رجوع کے بغیر طلاق دی ہے اور اس کی عدت بھی گذر چکی ہے‘ لہٰذا اس کی دو طلاقیں ہو چکی ہیں۔ اب چونکہ عدت گذرنے سے اس کا نکاح ختم ہو چکا ہے لہٰذا تجدید نکاح کے ساتھ اپنے گھر کو آباد کر لے‘ آئندہ کے لیے احتیاط کرے کیونکہ اسے ایک طلاق کا اختیار ہے جو فیصلہ کن ہو گا۔ اس کے بعد عام حالات میں رجوع بھی نہیں ہو سکے گا۔ واللہ اعلم!
زنا کار سے نکاح
O میری ایک ایسے شخص سے منگنی ہوئی ہے جس کا ماضی انتہائی داغدار ہے‘ اس کے غیر محرم عورتوں سے ناجائز تعلقات رہے ہیں۔ کیا ایسے شخص سے نکاح ہو سکتا ہے جو زناکار ہے؟ کتاب وسنت کی روشنی میں میری رہنمائی کریں۔
P زنا کار مرد سے شادی کرنا کئی ایک مفاسد کا پیش خیمہ ہے‘ ایک پاکدامن عورت کا زانی مرد سے نکاح جائز نہیں اور نہ ہی بدکار عورت سے کسی شریف آدمی کا نکاح درست ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’زانی مرد‘ زانیہ یا یا مشرکہ کے علاوہ کسی اور سے نکاح نہیں کرتا‘ اسی طرح زانیہ عورت بھی کسی زانی یا مشرک مرد کے علاوہ کسی اور سے نکاح نہیں کرتی‘ اہل ایمان پر یہ حرام کر دیا گیا ہے۔‘‘ (النور: ۳)
مفسرین نے اس کے متعلق صراحت سے لکھا ہے کہ زنا کار مردوں کا پاکدامن عورتوں سے اور بدکار عورتوں کا شریف انسانوں سے شادی کرنا حرام ہے۔ اگر خالص نیت سے توبہ کر لی جائے اور خود کو درست کر لیا جائے تو شادی کرنا جائز ہے۔ صورت مسئولہ میں اگر آدمی نے بدکاری سے توبہ کر لی ہے تو ایسے شخص سے نکاح ہو سکتا ہے۔ توبہ کے لیے درج ذیل اقدامات کیے جائیں:
|          غیر محرم اور اجنبی عورتوں کے ساتھ خلوت کرنے سے اجتناب کرے۔          
|          موسیقی اور گانے سننے سے احتراز کرے کیونکہ یہ امور زنا کا وسیلہ ہیں اور اس تک پہنچنے کا ذریعہ ہیں۔
|          نماز پنجگانہ کا اہتمام کیا جائے اور باجماعت ادائیگی کا عزم ہو‘ کیونکہ نماز برے کاموں اور بے حیائی سے روکتی ہے‘ ادائیگی کے وقت خشوع وخضوع کا خیال رکھا جائے۔
|          نیک اور پارسا لوگوں سے دوستی لگائی جائے‘ ان کی صحبت اختیار کی جائے۔
|          تلاوت قرآن اور سیرت کی کتابیں پڑھنے میں خود کو مصروف رکھے۔
|          اپنی نگاہوں کی حفاظت کی جائے اور انہیں راستہ چلتے وقت نیچا رکھا جائے۔
مذکورہ کام کرنے سے دل میں طہارت اور دماغ میں پاکیزگی پیدا ہو گی اور انسان کی توبہ ثمر آور ثاتب ہو گی‘ اگر واقعی سچے دل سے توبہ کی ہے تو اللہ تعالیٰ کی مدد اس کے شامل حال ہو جائے گی۔ ایسے حالات میں نکاح کیا جا سکتا ہے۔ واللہ اعلم!
محرم کے بغیر حج یا عمرہ کرنا
O میں صاحب استطاعت ہوں اور حج کرنا چاہتی ہوں لیکن میرے ساتھ کوئی محرم نہیں۔ کیا میں محرم کے بغیر حج کر سکتی ہوں؟ نیز محرم کی کیا شرائط ہیں؟ اس کی وضاحت کر دیں۔
P اسلام نے عورتوں کے حج کرنے پر ایک اضافی شرط رکھی ہے کہ اس کے ساتھ اس کا محرم موجود ہو تا کہ وہ غلط مقاصد کے حامل لوگوں سے محفوظ رہے۔ اس بنا پر عورت کا محرم کے بغیر سفر حج کرنا جائز نہیں۔ اس سلسلہ میں متعدد احادیث وارد ہیں۔ چنانچہ سیدنا عبداللہ بن عباسw بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہe نے فرمایا: ’’کوئی بھی عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔‘‘ یہ بیان سننے کے بعد ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا اللہ کے رسول! میں نے فلاں غزوہ میں شمولیت کے لیے اپنا نام لکھوا دیا ہے جبکہ میری بیوی حج پر جا رہی ہے۔ آپe نے فرمایا: ’’تم اپنی بیوی کے ساتھ حج پر جاؤ۔‘‘ (بخاری‘ الجہاد: ۳۰۰۶)
رسول اللہe نے جہاد چھوڑ کر بیوی کے ساتھ حج پر جانے کا حکم دیا‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ محرم کے بغیر سفر حج ناجائز ہے اور اہل علم نے محرم کے لیے درج ذیل شرائط بیان کی ہیں:
|          محرم‘ مرد ہو سکتا ہے‘ کوئی عورت کسی عورت کی محرم نہیں بن سکتی۔
|          وہ شخص مسلمان ہو‘ کوئی کافر کسی بھی مسلمان عورت کا محرم نہیں بن سکتا۔
|          وہ بالغ ہو‘ نا بالغ بچے کسی عورت کے محرم نہیں ہو سکتے۔
|          وہ عقلمند ہو‘ بے وقوف‘ عقل سے عاری انسان بھی محرم نہیں ہو سکتا۔
|          وہ آدمی‘ عورت پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو‘ عارضی حرمت محرم بننے سے رکاوٹ ہے جیسا کہ بہنوئی وغیرہ۔
باپ‘ بھائی‘ بیٹا‘ چچا‘ ماموں‘ سسر اور رضاعی بھائی وغیرہ محرم بن سکتے ہیں۔ ان کے ہمراہ حج کیا جا سکتا ہے۔ ہمارے ہاں عورتوں کے گروپ کے ساتھ اجنبی عورت کو بھیج دیا جاتا ہے‘ ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔ کیونکہ کوئی عورت‘ کسی دوسری عورت کی محرم نہیں بن سکتی۔ واللہ اعلم!

No comments:

Post a Comment

Pages