احکام ومسائل 08-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, June 22, 2019

احکام ومسائل 08-2019


احکام ومسائل

جناب مولانا الشیخ حافظ ابومحمد عبدالستار الحمادd
خط وکتابت:  مرکز الدراسات الاسلامیہ ۔ سلطان کالونی‘ میاں چنوں‘ خانیوال‘ پاکستان  ای میل:  markaz.dirasat@gmail.com

والد کے کہنے پر جھوٹ بولنا
O میں اکثر اپنے گھر میں ہوتا ہوں‘ اگر کوئی آدمی باہر سے آکر دروازہ کھٹکھٹاتا ہے تو والد صاحب کہتے ہیں کہ کوئی میرے متعلق پوچھے تو اسے کہہ دیں کہ ’’گھر میں نہیں ہیں۔‘‘ حالانکہ وہ گھر میں موجود ہوتے ہیں۔ کیا ایسا کرنا شرعا جائز ہے؟
P ہمارے ہاں اکثر گھروں اور دفاتر میںایسے ہوتا ہے کہ دفتر میں صاحب موجود ہوتے ہیں اور ملازم کو کہہ دیا جاتا ہے کہ صاحب موجود نہیں ہیں یا وہ کسی اہم میٹنگ میں مصروف ہیں یا گھر میں کوئی فون آتا ہے تو والد صاحب کہہ دیتے ہیں کہ وہ گھر میں نہیں ہیں۔ یا وہ صاحب فراش ہیں حالانکہ وہ گھر میں موجود ہوتے ہیں اور بیمار بھی نہیں ہوتے۔ اس پر المیہ یہ ہے کہ ہم اس عادت کو معمولی خیال کرتے ہیں اور اسے اپنانے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے۔ حالانکہ یہ صریح جھوٹ ہے اور جھوٹ بولنے پر شریعت میں سخت وعید آئی ہے۔ چنانچہ رسول اللہe نے فرمایا: ’’تم جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ گناہوں کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتے ہیں‘ انسان بڑی دیدہ دلیری سے جھوٹ بولتا ہے حتی کہ وہ اللہ کے ہاں جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔‘‘ (بخاری‘ الادب: ۶۰۹۴)
جھوٹ بولنے والے سے رحمت کے فرشتے کس قدر نفرت کرتے ہیںاس امر کا اندازہ درج ذیل حدیث سے لگایا جا سکتا ہے۔ رسول اللہe نے فرمایا: ’’جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو اس کی بدبو کی وجہ سے فرشتہ میلوں دور چلا جاتا ہے۔‘‘ (ترمذی‘ البر والصلۃ: ۱۹۷۲)
حدیث میں اس انداز سے جھوٹ بولنے کو بہت بڑی خیانت قرار دیا گیا ہے‘ رسول اللہe نے فرمایا: ’’بڑی خیانت یہ ہے کہ تو اپنے کسی مسلمان بھائی سے کوئی بات کرے‘ وہ اس میں تمہیں سچا جانتا ہو جبکہ تو اس سے جھوٹ بول رہا ہو۔‘‘ (ابوداؤد‘ الادب: ۴۹۹۱)
اس کی نزاکت کا اندازہ درج ذیل واقعہ سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عامرt بیان کرتے ہیں کہ ایک روز میری والدہ نے مجھے بلایا جبکہ رسول اللہe ہمارے گھر میں تشریف فرما تھے۔ میری والدہ نے مجھے کہا: ’’آؤ‘ میں تمہیں چیزیں دوں۔‘‘ رسول اللہe نے فرمایا: ’’تم نے اسے کیا دینے کا ارادہ کیا ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا‘ میں نے اسے ایک کھجور دینے کا ارادہ کیا ہے۔ رسول اللہe نے فرمایا: ’’اگر تم اسے کوئی چیز نہ دیتی تو تمہارے ذمے ایک جھوٹ لکھ دیا جاتا۔‘‘ (ابوداؤد‘ الادب: ۴۹۹۱)
صورت مسئولہ میں اگر والد گرامی کسی سے نہ ملنا چاہتے ہوں تو بچوں کو جھوٹ کی تعلیم دینے کی بجائے کوئی اور دوسرا اسلوب اختیار کیا جا سکتا ہے۔یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس وقت وہ بات نہیں کرنا چاہتے‘ بہرحال ہمیں اس عادت بد پر نظر ثانی کرنا ہو گی۔ واللہ اعلم!
زر ضمانت پر زکوٰۃ
O میں کسی سے ایک دکان کرایہ پر لیتا ہوں‘ اس کے لیے جمع زرِ ضمانت کے طور پر کچھ رقم ایڈوانس دینا پڑتی ہے تا کہ جب میں دکان چھوڑوں تو نہ ادا کردہ بلوں کی ادائیگی یا اس کی ٹوٹ پھوٹ کی تلافی اس جمع شدہ رقم سے ہو سکے‘ کیا اس پر مجھے زکوٰۃ ادا کرنا ہو گی؟!
P ہمارے ہاں کرایہ داری نظام میں یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی مکان یا دکان کرایہ پر لی جاتی ہے تو ماہانہ کرایہ کے علاوہ کچھ رقم زر ضمانت کے طور پر لی جاتی ہے۔ وہ عام طور پر دو ماہ کا کرایہ ہوتا ہے‘ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ کرایہ دار جب دکان یا مکان چھوڑ کر جائے اور اس کے ذمے کرایہ کی مد میں کچھ واجبات ہوں تو وہ اس زر ضمانت سے منہا کیے جا سکیں یا اس میں جو تنصیبات ہیں‘ ان کی توڑ پھوڑ کی تلافی اس سے کی جا سکے یا پانی‘ بجلی اور گیس وغیرہ کے بل اگر ادا نہ کیے ہوں تو زر ضمانت سے ان کی ادائیگی ہو سکے۔ اس سلسلہ میں درج ذیل دو باتوں کاخیال رکھنا چاہیے:
\          یہ زر ضمانت دو یا تین ماہ کے کرایہ تک محدود ہونا چاہیے‘ ہمارے ہاں جو لاکھوں روپیہ ایڈوانس کے طور پر لیا جاتا ہے یہ انتہائی محل نظر ہے۔
\          یہ ایڈوانس بطور امانت ہے جیسے کسی سے قرض لے کر اپنی کوئی چیز اس کے ہاں گروی رکھی جاتی ہے۔ اس سے فائدہ اٹھانا درست نہیں۔ اسی طرح یہ زر ضمانت بھی امانت ہے۔ اس سے کاروبار کرنا درست نہیں۔ اگر مالک کی اجازت سے کاروبار میں لگانا ہے تو مضاربت کے اصول کے مطابق اس کے منافع کی تقسیم کی شرح طے کر لی جائے اور اسے کرایہ کی مد سے منہا کر دیا جائے۔ اسے مالک کی اجازت کے بغیر کاروبار میں لگانا جائز نہیں۔ چونکہ اصل مالک وہ ہے جس نے زر ضمانت ادا کیا ہے اس لیے اس کی زکوٰۃ وہ خود ادا کرے گا‘ جیسا کہ کسی کو قرض دیا جاتا ہے تو اس کی زکوٰۃ بھی مقروض کے ذمے نہیں بلکہ قرض دینے والا ادا کرتا ہے۔ اسی طرح زر ضمانت ادا کرنے والا ہی اس کا مالک ہے اور وہی اس کی زکوٰۃ ادا کرے گا اگرچہ وہ اس میں تصرف نہیں کر سکتا۔ واللہ اعلم!
صلح کراتے وقت جھوٹ بولنا
O میرے دو قریبی دوست آپس میں عرصہ دراز سے ناراض ہیں‘ میں ان کے درمیان صلح کرانا چاہتا ہوں‘ مجھے اس بات کا بھی علم ہے کہ صلح کرانے کے لیے جھوٹ بولنے کی اجازت ہے۔ کیا ایسے کام کے لیے ہر قسم کا جھوٹ بولنا جائز ہے؟ وضاحت کر دیں۔
P جھوٹ ایک سنگین جرم ہے لیکن جب اس سے مقصود شر اور فساد کو دفع کرنا ہو تو شریعت نے اس کی اجازت دی ہے۔ چنانچہ حدیث میں ہے: ’’جو شخص دو آدمیوں کے درمیان صلح کرا دے اور اس میں کوئی اچھی بات منسوب کر دے یا اچھی بات کہہ دے تو وہ جھوٹا نہیں۔‘‘ (بخاری‘ الصلح: ۲۶۹۲)
اس سے مراد خلاف واقعہ یا ان کہی باتیں کرنا ہے۔ ایک دوسری حدیث میں اس کی مزید وضاحت ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا: ’’تین موقعوں پر خلاف واقعہ بات کرنے میں کوئی حرج نہیں‘ ایک جنگ کے موقع پر جھوٹ بولنا تا کہ دشمن دھوکے میں آجائے‘ دوسرا صلح کراتے وقت خلاف واقعہ بات کہنا اور تیسرا خاوند بیوی کا ایک دوسرے کو خوش کرنے کے لیے جھوٹ بولنا۔‘‘ (مسلم‘ البر والصلۃ: ۶۶۳۳)
خلاف واقعہ بات اس طرح کی جا سکتی ہے کہ ایک آدمی باہمی آویزش رکھنے والوں میں سے کسی کے پاس جا کر کہتا ہے کہ دوسرا بھائی تو آپ کے متعلق بڑے اچھے جذبات رکھتا ہے اور امید ہے سرد جنگ ختم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اسی طرح دوسرے کو بھی صلح پر آمادہ کرنے کے لیے خلاف واقعہ باتیں کرے‘ اس قسم کے جھوٹ پر باز پرس نہیں ہو گی۔ لیکن ایسا جھوٹ جس کے متعلق کوئی خصوصی وعید احادیث میں آئی ہو‘ اس قسم کے جھوٹ سے اجتناب کیا جائے‘ اس قسم کے جھوٹ کی درج ذیل امثلہ ہو سکتی ہیں:
\          قرآن پر ہاتھ رکھ کر اللہ کا نام لے کر قسم اٹھائے کہ دوسرا شخص آپ کے متعلق بہت اچھے جذبات رکھتا ہے‘ اس قسم کی جھوٹی قسم اٹھانے کی چنداں ضرورت نہیں۔
\          یوں کہا جائے کہ مجھے آپ کا والد خواب میں ملا تھا‘ اس نے غصہ ختم کرنے کا پیغام دیا‘ اس طرح کے جھوٹے خواب بیان کرنا بھی بہت بڑا جرم ہے۔
\          رسول اللہe کے حوالے سے بات کرے کہ وہ مجھے خواب میں صلح کا اشارہ کر رہے تھے۔ کیونکہ رسول اللہe پر جھوٹ باندھنا بھی سنگین جرم ہے۔
بہرحال صلح کراتے وقت جھوٹ بولا جا سکتا ہے لیکن وہ جھوٹ جو فریقین سے تعلق رکھتا ہو اور ایسا جھوٹ نہ ہو جس کے متعلق الگ سے کوئی وعید آئی ہو۔ واللہ اعلم!
ناخن پالش اور وضوء
O اگر ناخنوں پر نیل پالش لگی ہوتو کیا اس کی موجودگی میں وضوء ہو سکتا ہے؟ واضح رہے کہ ناخن پالش‘ ناخنوں کے خشک رہنے کا باعث ہے کیونکہ ان تک پانی نہیں پہنچتا۔
P ناخن پالش عورتوں کے لیے باعث زینت ہے‘ ان کے لیے اس کا استعمال جائز ہے۔ حیض ونفاس کی حالت میں ہمہ وقت اس کا استعمال مباح ہے۔ البتہ جن خواتین نے نماز ادا کرنا ہے‘ وہ وضوء کے بعد اسے لگا سکتی ہیں کیونکہ اس کی موجودگی میں وضوء نہیں ہوتا۔ کیونکہ ناخن پر اس کی تہہ جم جاتی ہے اور یہ تہہ ناخن تک پانی پہنچنے میں رکاوٹ ہے اور اعضاء وضوء جنہیں دھویا جاتا ہے اگر وہ خشک رہ جائیں تو وضوء نہیں ہوتا۔ جیسا کہ رسول اللہe نے ایک شخص کو وضو کرتے ہوئے دیکھا اور اس نے پاؤں پر ایک ناخن کے برابر جگہ خشک چھوڑ دی آپe نے فرمایا: ’’دوبارہ وضو کر کے نماز ادا کرو۔‘‘ (مسلم‘ الطہارہ: ۲۴۳)
اس طرح رسول اللہe نے کچھ لوگوں کو وضوء کرتے ہوئے دیکھا اور ان کی ایڑیاں خشک تھیں تو آپe نے فرمایا: ’’ان ایڑیوں کے لیے آگ کی تباہی ہے۔‘‘ (مسلم‘ الطہارہ: ۲۴۱)
اگر کوئی زینت صرف رنگ کی حد تک ہے‘ اس کی تہہ نہیں بنتی یعنی ناخن پر چھلکا سا نہیں بنتا تو اس کے ہوتے ہوئے وضوء کیا جا سکتا ہے۔ اسے ہٹانا ضروری نہیں جیسے مہندی وغیرہ۔ لیکن ناخن پالش میں ایسا نہیں ہوتا‘ اس کی ناخن پر تہہ جم جاتی ہے‘ اگرچہ کچھ کمپنیاں دعویٰ کرتی ہیں کہ ان کی تیار کردہ نیل پالش لگا کر وضوء کیا جا سکتا ہے لیکن یہ صرف دعوے کی حد تک ہے۔ واللہ اعلم!

No comments:

Post a Comment