خطبہ حرم 08-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, June 22, 2019

خطبہ حرم 08-2019


ہر موقعے کو غنیمت جانو

امام الحرم المکی فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر ماہر المعیقلیd
3 جمادی الثانی 1440ھ بمطابق  8 فروری  2019ء
حمد و ثناء کے بعد!
اے مؤمنو! اللہ تعالیٰ نے اگلوں اور پچھلوں کو یہی نصیحت فرمائی ہے کہ وہ اپنے بلند وبالا الٰہ سے ڈرتے رہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پرہیزگاری ہی عزت، کامیابی اور نجات کا ذریعہ ہے۔ جو اس پر قائم رہتا ہے، وہ کبھی ناکام نہیں ہوتا اور جو اسے چھوڑ دیتا ہے، وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔
’’اے لوگو جو عقل رکھتے ہو! اللہ کی نافرمانی سے بچتے رہو، امید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی۔‘‘ (المائدہ: ۱۰۰)
اے امت اسلام! اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کو پیدا فرمایا۔ انہیں زمین کو آباد کرنے اور اسے بہتر بنانے کا حکم دیا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’وہی ہے جس نے تم کو زمین سے پیدا کیا ہے اور یہاں تم کو بسایا ہے۔‘‘ (ہود: ۶۱)
بسانے میں ہر نفع بخش اور فائدہ مند چیز کی فراہمی شامل ہے، چاہے وہ چیز افراد کے لیے مفید ہو یا گروہوں کے لیے۔ جیسے زراعت، صناعت، عمارتیں بنانا اور گھر تعمیر کرنا، دفاعی اسباب اور طاقت کے ذرائع اپنانا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے ہر وہ چیز فراہم کی ہے جو زمین میں بسنے کے لیے ضروری ہے۔ اس نے لوگوں کو اپنی ظاہر اور پوشیدہ نعمتیں کھول کر عطا فرمائی ہیں۔ کامیابی اور نجات کے مواقع عطا فرمائے ہیں۔ صاحب توفیق وہی ہے، جو ان مواقع کو غنیمت جانتا ہے، ان سے فائدہ اٹھانے میں سنجیدگی اور محنت دکھاتا ہے، اپنا بھی بھلا کرتا ہے اور اپنے ملک کی تعمیر وترقی میں حصہ بھی ڈالتا ہے اور اپنی امت کو سربلند بھی کرتا ہے۔
اللہ کے بندو! یہ مواقع قربِ الٰہی اور فرماں برداری کے مواقع بھی ہو سکتے ہیں، ایسے کاموں کے مواقع بھی ہو سکتے ہیں جن کا فائدہ سب کے لیے عام ہو، ملک کی تعمیر وترقی میں حصہ ڈالنے کے مواقع بھی ہو سکتے ہیں، اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے کے مواقع بھی ہو سکتے ہیں، اعلیٰ مرتبے پانے کے مواقع بھی ہو سکتے ہیں، جنہیں معاشرے اور ملک کی خدمت کے لیے وقف کیا جا سکتا ہو یا اسلام اور مسلمانوں کی فلاح وبہبود میں لگایا جا سکتا ہو۔
بلند ہمت والا وہی ہے جو اپنے لیے خود مواقع پیدا کرتا ہے۔ وہ ان کے انتظار میں نہیں بیٹھا رہتا کہ کب وہ اس کے دروازے پر دستک دیں گے۔ بلکہ وہ انہیں پانے میں خود پیش قدمی کرتا ہے۔ چاہے یہ مواقع دنیاوی اعتبار سے فائدہ مند ہوں یا آخرت کے حوالے سے۔
مُصَنَّف ابن ابی شیبہ میں ابن مسعود t کی روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں اس نکمے شخص کو سخت نا پسند کرتا ہوں جو نہ دنیا کے لیے کچھ کرتا ہے اور نہ آخرت کے لیے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء اور رسولوں کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا:
’’یہ لوگ نیکی کے کاموں میں دَوڑ دھوپ کرتے تھے اور ہمیں رغبت اور خوف کے ساتھ پکارتے تھے، اور ہمارے آگے جھکے ہوئے تھے۔‘‘ (الانبیاء: ۹۰)
یعنی یہی وہ لوگ ہیں جو نیکی کے کاموں میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتے تھے اور کسی ایسے نیک کام کو نہیں چھوڑتے تھے جسے وہ کرنے پر قادر ہوں۔ وہ ہر موقع سے فائدہ اٹھاتے تھے۔
یہ ہیں اللہ کے نبی موسیu۔ جب رب العالمین کے ساتھ ہم کلام ہونے کے بعد انہیں شرح صدر نصیب ہو گیا اور وہ جان گئے کہ جس کے ساتھ وہ مخاطب ہیں وہ رب الارباب ہے۔ تو انہوں نے موقع کو غنیمت جانتے ہوئے یہ دعا کی کہ
’’پروردگار! میرا سینہ کھول دے اور میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے اور میری زبان کی گرہ سُلجھا دے تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں اور میرے لیے میرے اپنے کنبے سے ایک وزیر مقرر کر دے ہارونؑ، جو میرا بھائی ہے اُس کے ذریعہ سے میرا ہاتھ مضبُوط کر اور اس کو میرے کام میں شریک کر دے۔‘‘ (طٰہٰ: ۲۵-۳۲)
تو اللہ تعالی نے آپ کی دعا کو قبول فرمایا۔ فرمایا:
’’دیا گیا جو تو نے مانگا اے موسیٰ۔‘‘ (طٰہٰ: ۳۶)
جب سیدنا زکریاu‘ سیدہ مریمr کے پاس گئے تو وہ عبادت کے لیے تنہائی میں بیٹھی تھیں۔ ان کا نہ کوئی کمائی کا ذریعہ تھا اور نہ ہی کوئی تجارت تھی۔ اس کے باوجود ان کے پاس بے موسم پھل موجود تھا۔ پوچھا کہ
’’مریم! یہ تیرے پا س کہاں سے آیا؟ اس نے جواب دیا اللہ کے پاس سے آیا ہے، اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب دیتا ہے۔‘‘ (آل عمران: ۳۷)
جب انہوں نے اللہ کے فضل اور رحمت الٰہی کا اثر دیکھا تو اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انہیں نیک بیٹا عطا فرمائے کیونکہ جو مریم کو ذریعۂ کمائی کے بغیر بھی رزق دے سکتا ہے وہ بوڑھے انسان کو بیٹے سے بھی نواز سکتا ہے۔
’’یہ حال دیکھ کر زکریاؑ نے اپنے رب کو پکارا پروردگار! اپنی قدرت سے مجھے نیک اولاد عطا کر تو ہی دعا سننے والا ہے۔ جواب میں فرشتوں نے آواز دی، جب کہ وہ محراب میں کھڑا نماز پڑھ رہا تھا کہ اللہ تجھے یحییٰؑ کی خوش خبری دیتا ہے‘ وہ اللہ کی طرف سے ایک فرمان کی تصدیق کرنے و الا بن کر آئے گا‘ اس میں سرداری و بزرگی کی شان ہو گی، کمال درجہ کا ضابط ہو گا‘ نبوت سے سرفراز ہو گا اور صالحین میں شمار کیا جائے گا۔‘‘ (آل عمران: ۳۸-۳۹)
ایک تیسرا موقع، جو کہ بڑا ہی عجیب ہے، اللہ کے نبی سلیمان uکا قصہ ہے۔ جب گھوڑوں کی وجہ سے  وہ ذکر اور شام کی نماز سے غافل ہو گئے تو انہیں سخت ندامت ہوئی اور انہوں نے تقرب الٰہی کے لیے اسی چیز کی قربانی دے دی جس نے انہیں غافل کیا تھا۔ آپ نے ان سب گھوڑوں کو قربان کرنے کا اور ان کا گوشت صدقہ کرنے کا حکم دے دیا۔ آپ نے ندامت وتوبہ کے اس موقعے کے ساتھ ساتھ رحمت الٰہی کے نزول کو بھی غنیمت جانا۔ دعا کی کہ
’’اے میرے رب! مجھے معاف کر دے اور مجھے وہ بادشاہی دے جو میرے بعد کسی کے لیے سزاوار نہ ہو، بیشک تو ہی اصل داتا ہے۔‘‘ (ص: ۳۵)
اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور انہیں بہتر نعم البدل نصیب فرمایا۔ ارشادِ ربانی ہے:
’’تب ہم نے اس کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا جو اس کے حکم سے نرمی کے ساتھ چلتی تھی جدھر وہ چاہتا تھا اور شیاطین کو مسخر کر دیا، ہر طرح کے معمار اور غوطہ خور اور دوسرے جو پابند سلاسل تھے‘ یہ ہماری بخشش ہے، تجھے اختیار ہے جسے چاہے دے اور جس سے چاہے روک لے، کوئی حساب نہیں‘ یقینا اُس کے لیے ہمارے ہاں تقرب کا مقام اور بہتر انجام ہے۔‘‘ (ص: ۳۶-۴۰)
رہی بات ہمارے نبی کی، اللہ کی رحمتیں اور سلامتیاں ہوں آپ e پر، آپ e تو مواقع سے فائدہ اٹھانے میں بہترین نمونہ تھے۔ جب وہ مدینہ پہنچے اور موقع ملا تو فورًا ہی ذمہ داریوں کو تقسیم کر دیا۔ خصوصی قابلیت اور صلاحیتوں کے مالک کو آگے کیا اور ان کے لیے مواقع پیدا کیے، بلال tکو اذان کی ذمہ داری سونپی، خالد بن ولیدt کو تلوار سے دین کی مدد میں لگایا، شعر وادب سے دین کی نصرت میں حسان کا کردار زیادہ رہا۔ اللہ تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جائے۔
ایک روز رسول اللہe مدینہ کے بازار سے گزرے۔ لوگ خرید و فروخت میں مصروف تھے۔ اس وقت رسول اللہ e نے مناسب سمجھا کہ لوگوں کے لیے دنیا کی حیثیت واضح کی جائے۔ ناقص خلقت والے بکری کے مردہ میمنے کے پاس سے گزرے تو آپ e نے اس موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے اٹھایا اور اس کا کان پکڑ کر فرمایا کہ کون چاہتا ہے کہ اسے ایک درہم میں  خرید لے۔ کون چاہتا ہے کہ اسے ایک درہم میں خرید لے۔ کون چاہتا ہے کہ اسے ایک درہم میں خرید لے۔ لوگوں نے کہا ہم تو اسے مفت بھی نہ لیں۔ یہ ہمارے کس کام کا؟ آپe نے فرمایا: کیا تم پسند کرتے ہو کہ یہ مفت میں آپ کا ہو؟ لوگوں نے کہا کہ اگر یہ زندہ بھی ہوتا تو بھی یہ عیب والا تھا کیونکہ اس کے کان چھوٹے ہیں۔ اب تو یہ مردہ بھی ہے۔ اس پر آپ e نے فرمایا: اللہ کی قسم! جتنا آپ کو یہ بے حیثیت لگ رہا ہے، اللہ کے ہاں دنیا کی اتنی حیثیت بھی نہیں۔ اللہ کی قسم! جتنا آپ کو یہ بے حیثیت لگ رہا ہے، اللہ کے ہاں دنیا کی اتنی حیثیت بھی نہیں۔ (مسلم)
مسند امام احمد میں ہے کہ ایک روز سیدنا ابن مسعودt درخت پر چڑھے تاکہ رسول اللہ e کے لئے ایک مسواک توڑ کر لے آئیں۔ آپ کی ٹانگیں کمزور سی تھیں اور جب ہوا چلی تو وہ دائیں بائیں ہلنے لگے۔ یہ دیکھ کر لوگ ہنسنے لگے۔ رسول اللہ e نے پوچھا: کس چیز پر ہنس رہے ہو؟ لوگوں نے کہا اللہ کے رسول! ان کی ٹانگوں کی کمزوری پر۔ آپe نے فرمایا: اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہی ٹانگیں میزان میں احد پہاڑ سے بھی بھاری ہوں گی۔
یہاں رسول اللہ e نے موقع کو غنیمت جانتے ہوئے لوگوں کو یہ بتا دیا کہ قیامت کے دن لوگ اپنی شکلوں اور جسامت کی بنیاد پر ایک دوسرے سے بہتر نہیں بنیں گے بلکہ اپنی نیکی اور اپنے اعمال کی بدولت ہی وہ بہتر بن سکیں گے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ شکلوں، رنگوں اور جسموں کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ e نے فرمایا: قیامت کے دن ایک ایسے شخص کو لایا جائے گا جو ہو گا تو بڑا موٹا تازہ اور جسیم مگر اللہ کے ہاں اسے مکھی کے پَر سے بھی کم حیثیت حاصل ہو گی۔ پھر فرمایا کہ یہ آیت پڑھو:
’’قیامت کے روز ہم انہیں کوئی وزن نہ دیں گے۔‘‘ (الکہف: ۱۰۵)
موقع کو غنیمت جاننے کی ایک مثال وہ بھی ہے جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ابن عباس wکی روایت میں آتی ہے کہ جب رسول اللہe نے بتایا کہ ستر ہزار لوگ بغیر کسی حساب یا عذاب کے جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ تو عُکّاشَہ بن مِحْصِنt کھڑے ہوئے اور کہنے لگے اے اللہ کے رسول! اللہ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی انہی میں شامل فرما دے۔ آپ e نے فرمایا: اے اللہ! اسے اُن میں شامل فرما دے۔ پھر ایک اور انصاری صحابی اٹھے اور انہوں نے بھی کہا کہ اللہ کے رسول! دعا کیجئے کہ اللہ مجھے بھی ان میں شامل کردے تو آپe نے فرمایا: عکاشہ سبقت لے گیا۔ عکاشہ سبقت لے گیا۔
اے میرے با برکت بھائی! ذراغور کر کہ عکاشہt نے کس طرح پیش قدمی کی اور موقع کو غنیمت جانا۔ پھر ایک ہی لمحے میں، جی ہاں! ایک ہی لمحے میں وہ جنت کو بغیر حساب اور عذاب کے پانے میں کامیاب ہوگئے۔
اے مسلمانو! نیکی کا ہر موقع غنیمت ہے۔ چاہے وہ بہت چھوٹا اور بظاہر بے وزن ہی کیوں نہ ہو؟ آگ سے بچنے کی کوشش کرو چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے سے۔ جسے یہ بھی نہ ملے وہ لوگوں سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملے۔
صحیح مسلم میں روایت ہے کہ رسول اللہ e نے فرمایا: میں نے دیکھا کہ ایک شخص جنت کی نعمتوں میں مزے کر رہا ہے، صرف اس لئے کہ اس نے ایک ایسے درخت کو راستے سے ہٹا دیا تھا جو ہر آتے جاتے مسلمان کو اذیت دیتا تھا۔
اے مومن بھائیو! یاد رکھو کہ کچھ مواقع ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا دوبارہ میسر آنا ممکن نہیں ہوتا ۔ ان میں سے ایک موقع والدین کی زندگی ہے۔ والدین کی زندگی ۔ والد جنت کا درمیانی دروازہ ہے۔ والد جنت کا درمیانی دروازہ ہے۔ اگر چاہو تو اس دروازے کی حفاظت کرو‘ اگر چاہو تو یہ موقع بھی گنوا دو۔
صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ e نے فرمایا: وہ شخص ذلیل و رسوا ہو! پھر ذلیل و رسوا ہوا! پھر ذلیل و رسوا ہوا۔ کہا گیا: کون؟ اے اللہ کے رسول! آپ e نے فرمایا: جسے بڑھاپے کی حالت میں دونوں والدین مل جائیں یا دونوں میں سے ایک مل جائے اور پھر بھی وہ جنت میں نہ جا سکے۔
افسوس ہے اس شخص پر کہ جس نے والدین کی موجودگی کو غنیمت نہیں جانا اور اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا اور اب اس کے والدین اس کے پاس نہیں  رہے۔ یاد رکھو کہ اللہ کی خوشنودی والدین کی خوشنودی میں ہے اور اس کی ناراضی والدین کی ناراضی میں ہے۔
دوسرا خطبہ
حمد وصلوٰۃ کے بعد!
ارشاد ربانی ہے:
’’جس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا، تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے، اور وہ زبردست بھی ہے اور درگزر فرمانے والا بھی۔‘‘ (الملک: ۲)
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد eاللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ آپe نے اللہ کی یوں عبادت کی جیسے عبادت کرنے کا حق تھا، یہاں تک کہ آپ کی رخصتی کا وقت آگیا۔ اللہ کی رحمت، برکت اور سلامتی ہو آپ e پر، اہل بیت پر، صحابہ کرام] پر اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر۔
اے مومنو! انسان کی زندگی ہی اس کے لیے سب سے بڑا موقع ہے۔ اسے چاہیے کہ وہ دیکھے، اگر وہ نیک عمل کر رہا ہے تو وہ مزید نیک عمل کرنے کی کوشش کرے اور اگر وہ گناہ کررہاہے تو توبہ کر لے اور اللہ کی طرف رجوع کر لے۔
مستدرک امام حاکم میں صحیح سند سے روایت ہے کہ رسول اللہ e نے فرمایا: پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو۔ اپنی جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، صحت اور تندرستی کو بیماری سے پہلے، مالداری کو فقر و فاقہ سے پہلے، فراغت کو مصروفیت سے پہلے اور زندگی کو موت سے پہلے۔
انسان اپنی زندگی میں جتنا سنجیدہ ہو گا، جتنا اپنی خواہشات اور شہوات سے دور ہو گا اتنا ہی وہ موقع سے فائدہ اٹھانے والا ہوگا اور اس طرح وہ دوسروں سے آگے  نکل جائے گا۔ فرمان الہٰی ہے:
’’اور آگے والے تو پھر آگے وا لے ہی ہیں‘ وہی تو مقرب لوگ ہیں‘ نعمت بھری جنتوں میں رہیں گے۔‘‘ (الواقعہ: ۱۰-۱۳)
یہ اللہ تعالی کی مہربانی ہے کہ اس نے زندگی کے آخری لمحے تک مواقع موجود رکھے ہیں۔
مسند امام احمد میں ہے کہ رسول اللہ e نے فرمایا: اگر قیامت قائم ہو جائے اور کسی کے ہاتھ میں پودا ہو تو اگر وہ اٹھنے سے پہلے اسے لگا سکے تو لگا کر ہی اٹھے۔
تو اے اللہ کے بندے! اے اللہ کے بندے! مواقع ختم ہونے سے پہلے ان سے فائدہ اٹھا لو۔ یاد رکھو کہ مواقع نعمتیں ہیں اور نعمتیں، اگر چھین لی جائیں تو عین ممکن ہے کہ وہ پھر کبھی نہ دی جائیں۔ ابن القیمa فرماتے ہیں:
جس شخص کو اللہ تعالی نیکی کا کوئی موقع عطا فرمائے اور پھر وہ اس کا فائدہ نہ اٹھائے تو اللہ تعالی اسے یہ سزا دیتا ہے کہ وہ اس کے دل اور ارادے کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔ پھر وہ اپنے ارادے کا مالک نہیں رہتا۔
’’جان رکھو کہ اللہ‘ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے اور اسی کی طرف تم سمیٹے جاؤ گے۔‘‘ (الانفال: ۲۴)
جو اپنی سستی اور کاہلی کو اپنائے رکھتا ہے اور خود مواقع ضائع کرتا جاتا ہے تو اسے ایسے وقت میں ندامت کا سامنا ہوگا جس وقت اسے ندامت کا کوئی فائدہ نہ ہو گا۔
’’اُس دن انسان کو سمجھ آئے گی اور اس وقت اُس کے سمجھنے کا کیا حاصل؟ وہ کہے گا کہ کاش میں نے اپنی اِس زندگی کے لیے کچھ پیشگی سامان کیا ہوتاـ‘‘ (الفجر: ۲۳-۲۴)
تو اے میرے بھائی! موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرو اور اسے ضائع مت کرو۔ کیوں کہ عزت اسی میں ہے کہ مواقع سے فائدہ اٹھایا جائے۔ عمر کے پہلے حصے کو غنیمت جان کراس سے فائدہ اٹھاؤ کیونکہ جب یہ بڑھاپے کے ساتھ بڑھتی جائے گی تو کم ہوتی جائے گی۔
اے اللہ! خلفائے راشدین، ابوبکر، عمر، عثمان،  اور علی ] سے راضی ہو جا۔ تمام صحابہ اور تابعین سے اور قیامت تک انکے نقشِ قدم پر چلنے والوں سے راضی ہو جا۔ اپنا خاص فضل و کرم اور احسان فرما کر ہم سب سے بھی راضی ہو جا۔
اے اللہ! ہمارے دین کی اصلاح فرما جس پر ہمارے معاملے کا دارومدار ہے۔ ہماری دنیا کی اصلاح فرما جس میں ہماری کمائی ہے۔ اور ہماری آخرت کی اصلاح فرما جس کی طرف ہم نے لوٹ کر جانا ہے۔ اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! اپنی رحمت سے زندگی کو نیکیوں میں اضافے کا ذریعہ بنا اور موت کو ہر برائی سے بچنے کا سبب بنا۔

No comments:

Post a Comment