اداریہ 08-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, June 22, 2019

اداریہ 08-2019


دفاعِ حرمین شریفین کنونشن

|          سعودی عرب کا دشمن اسلام اور پاکستان کا دشمن ہے‘ سعودی عرب کا دفاع پاکستان اور عالم اسلام کا دفاع ہے
|          سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو ہر پاکستانی دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتا ہے۔
|          ان کا دورۂ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور اخوت کو مزید پروان چڑھائے گا۔ پروفیسر ساجد میر
|          حوثی باغیوں کو ایک ہمسایہ ملک مدد دے رہا ہے جن کے عزائم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ ناظم اعلیٰ سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم
|          سعودی عرب کے خلاف ہونے والی ہر قسم کی سازش کا منہ توڑ جواب دیں گے۔ علامہ ابتسام الٰہی ظہیر
|          سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔ رانا شفیق خاں پسروری
|          حرمین پر قبضے کا خواب دیکھنے والوں کو فرزندان توحید کے خون کی ندیوں سے گزرنا ہو گا۔ ڈاکٹر ریاض الرحمن یزدانی

لاہور (۱۳ فروری) مرکزی جمعیت اہل حدیث لاہور کے زیر اہتمام مرکز اہل حدیث ۱۰۶ راوی روڈ لاہور میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورۂ پاکستان کی آمد کے سلسلے میں منعقدہ دفاع حرمین شریفین کنونشن کے اعلامیہ میں قرار دیا گیا ہے کہ حرمین شریفین کے تقدس پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ اگر کسی نے بھی حرمین شریفین کی طرف میلی آنکھ اٹھائی تو وہ آنکھ نکال دی جائے گی۔
امیر محترم سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے دفاع حرمین شریفین کنونشن سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ سعودی عرب کا دشمن اسلام اور پاکستان کا دشمن ہے۔ سعودی عرب کا دفاع پاکستان اور عالم اسلام کا دفاع ہے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو ہر پاکستانی دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتا ہے۔ ان کا دورۂ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور اخوت کو مزید پروان چڑھائے گا۔ پاکستان اس وقت شدید اقتصادی مسائل سے دو چار ہے اور سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کا مشکل وقت میں ساتھ دیا ہے۔ پاکستان سعودی عرب کے احسانات کا بدلہ نہیں چکا سکتا۔ جو لوگ سعودی عرب اور خادم حرمین شریفین کے درمیان فرق کرتے ہیں وہ اسلام اور حرمین شریفین کے ساتھ مخلص نہیں ہیں۔ ہمارے اسلاف نے سعودی عرب کی اس زمانے میں مدد کی جب وہاں پر تیل اور ریال کا کوئی وجود نہ تھا۔ ہمارے علماء یہاں سے سعودی عرب کے لیے مختلف شکلوں میں امدادی سامان بھیجا کرتے تھے۔
سعودی عرب کے ساتھ ہمارا رشتہ عقیدے اور ایمان کا رشتہ ہے۔ ہمارا رشتہ دولت اور مادی وسائل کی بنیاد پر نہیں۔ ماضی میں پارلیمنٹ نے یمن کے مسئلہ پر کھل کر سعودی عرب کا ساتھ نہیں دیا تھا مگر سعودی عرب نے کبھی اس بنیاد پر پاکستان کی مدد سے ہاتھ نہیں کھینچا۔ یہ ان کی اعلیٰ ظرفی اور محبت کی بہترین مثال ہے۔
کنونشن میں پروفیسر ساجد میرd نے شرکاء سے حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے ہرقسم کی جانی ومالی قربانی کا حلف لیا۔ کنونشن کے شرکاء نے ہاتھ بلند کرتے ہوئے حلف اٹھایا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ حرمین کے تقدس پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ پروفیسر ساجد میرd نے کہا کہ طالبان کو خوارج اور دہشت گرد کہنے والوں کی زبانیں آج یمن کے حوثی باغیوں کے بارے میں کیوں بند ہو گئی ہیں۔ بندوق کے زور پر آئینی حکومتوں کا تختہ الٹنے کی روایت ختم کرنا ہو گی۔ یمن کے باغیوں کے خلاف سعودی عرب آپریشن نہ کرتا تو آج خطہ عرب انارکی اور فتنوں کی خوفناک آگ میں جل رہا ہوتا۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جب بھی سعودی عرب کو اپنے دفاع کے لیے پاک فوج کی ضرورت پڑے تو بغیر کسی تحفظات کے اسے روانہ کر دیا جائے۔ پاک فوج سعودی عرب بھیجنا سعودی عرب کا نہیں پاکستان کا اعزاز ہو گا۔ پروفیسر ساجد میرکا کہنا تھا کہ یمن کی قانونی حکومت کے خلاف حوثی باغیوںکی بغاوت اور ان کی طرف سے سعودی عرب کو دی گئی تازہ دھمکیاں اور ماضی میں ہونے والی سرحدی خلاف ورزیاںکسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ ہم نے نواز شریف سے کہا تھا کہ آپ نے سعودی عرب فوج بھیجنے کے معاملے میں دل کی بجائے دماغ سے کام لیا اور حرمین شریفین کے معاملے کا تعلق دل سے ہے۔ ماضی میں پارلیمنٹ نے جو متفقہ قرارداد منظور کی وہ عوامی جذبات کی حقیقی ترجمان نہیں تھی۔
ناظم اعلیٰ سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریمd نے اپنے خطاب میں کہا کہ سعودی عرب یمن کی قانونی حکومت کی درخواست پر باغیوں کو کچلنے کے لیے مدد کررہا ہے۔ یمن کی کشیدہ صورتحال انتہائی غیر معمولی ہے۔ وہاں ایک طرف ظالم ہیں اور دوسری مظلوم۔ سعودی عرب نے مظلوموں کا ساتھ دیا۔ جسکے ردعمل میں اس خطے میں کشیدگی پائی جاتی ہے‘ باٖغیوں کی بھی ایک ہمسایہ ملک مدد کررہا ہے۔ جن کے عزائم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ اس تناظر میں سعودی عرب کوبھی اپنی سلامتی اور خاص طور پر حرمین شریفین میں ممکنہ طور پر فتنوں کے سراٹھانے کے حوالے سے تشویش ہے۔ ایک پرامن سعودی عرب اورپرامن یمن عرب ممالک کے لیے ناگزیر ہے۔
علامہ ابتسام الٰہی ظہیر نے کہا کہ حرمین شریفین کا تحفظ ہر کلمہ گو کے اوپر لازم ہے۔ ہم سعودی عرب کے خلاف ہونے والی ہر قسم کی سازش کا منہ توڑ جواب دیں گے۔ ڈاکٹر ریاض الرحمن یزدانی امیر لاہور سٹی نے کہا کہ سعودی حکمران پاکستان کی مدد کرتے ہیں‘ ان کے پیش نظر یہاں کوئی بھی حکمران ہو اس کے مقابلے میں وہ ملک کو دیکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حرمین پر قبضے کا خواب دیکھنے والوں کو فرزندان توحیدکے خون کی ندیوں سے گزرنا پڑے گا۔اگرکوئی سمجھتا ہے کہ ہم اسلحہ کے زور پر مقامات مقدسہ پر قبضہ کرلیں گے تو یہ اس کی بھول ہے۔ کوئی بھی پارلیمنٹ حرمین شریفین سے زیادہ مقدس نہیں ہو سکتی۔
کنونشن سے مولانا عبدالرشید حجازی‘ رانا شفیق خاں پسروری‘ مولانا محمد نعیم بٹ‘ حافظ محمد یونس آزاد‘ ڈاکٹر عبدالغفور راشد‘ مولانا یوسف پسروری‘ رانا خلیق خاں پسروری‘ حافظ معتصم الٰہی ظہیر‘ حافظ بابر فاروق رحیمی‘ مولانا آصف ربانی‘ مولانا عتیق اللہ عمر‘ مولانا ارشد یزدانی‘ مولانا عبدالستار حامد‘ مولانا نواز چیمہ‘ قاری عزیر احمد‘ مولانا مبشر مدنی‘ حافظ عثمان شاکر‘ حافظ عبدالرزاق‘ مولانا عبدالحمید عامر‘ رانا عبدالوحید‘ مولانا محمد علی یزدانی ودیگر نے خطاب کیا۔ کنونشن کے موقع پر سکیورٹی کے انتظامات اہل حدیث سٹوڈنٹس فیڈریشن اور اہل حدیث یوتھ فورس کے کارکنوں نے سنبھال رکھے تھے۔ کنونشن کے شرکاء کے پرجوش نعروں نے ہال کو گرمائے رکھا۔ شہزادہ محمد بن سلمان کی پاکستان آمد پر ہال میں استقبالی بینرز آویزاں تھے۔

No comments:

Post a Comment

View My Stats