طب وصحت 08-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, June 22, 2019

طب وصحت 08-2019


چقندر ... مہلک بیماریوں کا کامیاب نسخہ

تحریر: جناب حکیم راحت نسیم سوہدروی
چقندر پاکستان،ہندوستان‘ شمالی امریکہ اور یورپ میںکثرت سے سبزی کے طور پر کاشت کیا جاتا ہے۔اگرچہ اس کی جنگلی قسم بھی ہے،مگر اس کو خوراک اور علاج دونوں کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔یورپ میں اس کا پودا ۱۵۴۸ء میںافریقہ سے لایا گیا اور اب یہ وہاں کی خوراک اور صنعت میںآلو کے بعد سب سے مقبول سبزی ہے۔ چقندر کا تعلق پالک کے ساگ کے خاندان سے۔ البتہ اس کا خوراک میں پسندیدہ حصہ جڑ ہے جس میںغذائی عناصر جمع ہو کر شلغم کی سی شکل بن جاتی ہے اس گولے کے اوپر جڑوں کے مزید ریشے اور بال ہوتے ہیں۔ عام طور پر چقندر کا رنگ اندر سے بھورا اور قرمزی ہوتا ہے جسے لال کہا جاتا ہے،اس کی سفیدی قسم بھی ہوتی ہے۔یورپ میں اس کی بستانی سفید،سمندری،شکری اور ایک قسمMengietwuzre پائی جاتی ہے۔ چقندر کی پھولی ہوئی جڑ اور پتے خوراک میںاستعال ہوتے ہیں۔ یہ سلاد کے طور پر پکایا جاتا ہے۔اسے اُبال کرکھاتے ہیں،گوشت کے ساتھ سالن کے طور پر بھی پکایا  جاتا ہے۔ اس کا اچار ڈالتے ہیں اور اِس سے یورپ میں کھانڈ بنتی ہے،کیونکہ اس کی شکری قسم میں ۲۴ فیصد شکر پائی جاتی ہے۔ چقندر سے حاصل ہونے والی چینی زیادہ سفید چھوٹے دانوں والی اور مٹھاس میںگنے کی کھانڈ سے پھیکی ہوتی ہے۔ چقندر کی ایک قسمBela Cicla کی جڑ کی موٹائی قابل توجہ نہیں ہوتی۔آئر لینڈ کے ساحلوں کے اطراف کے علاقوں میں اسے زیادہ طور پر رس بھرنے اور لذیذ پتوںکی وجہ سے کاشت کیا جاتا ہے۔پالک کے زیادہ استعمال سے گردے کی پتھری اور پیشاب میں جلن پیدا ہو جاتی ہے،کیونکہ پالک کے ساگ میں آکسیلٹ زیادہ ہوتے ہیں،مگر چقندر کے پتوں میںایسی کوئی بات نہیںہوتی۔
چقندر کے نقصانات
اس میںغذائیت کم ہوتی ہے‘ اس کا کھانا پیٹ کو بوجھل کر دیتا ہے، خون کو جلاتا ہے اِس لئے فقر الدم پیدا کرتا ہے۔ اس کی اصلاح کے لئے سرکہ اور السی کو شامل کرنا مفید ہے۔ چقندر کی اکثراقسام قبض پیدا کرتی ہیں اور اس وجہ سے پیٹ میں گیس پیدا ہوتی ہے۔محدثین کرام نے جو باتیں چقندر کے لئے کی ہیں ان میں سے اکثر حضور اکرمe کے مشاہدات کے برعکس ہیں۔ آپe نے سیدنا علیt کو چقندر کھانے کو کہا اور اُس وقت جب وہ بیماری سے اُٹھے تھے اور نقاہت محسوس کر رہے تھے ایسے میں ان کو ایسی غذا استعمال کرنا تھی جو جلد ہضم ہو اور ان کی کمزوری کو رفع کرے۔اس غرض سے حضور اکرمe نے چقندر کا سالن پسند فرمایا تو یقینی بات ہے کہ اس سالن میں کمزوری دور کرنا اور جلد ہضم ہو جانے کی صلاحیت موجود تھی۔
کیمیائی ہیت
چقندر میںایک کیمیائی جزو عاملBetin پائی جاتی ہے یہ خون کو بڑھاتی ہے، پیشاب آور ہے،معدہ اور آنتوں میں اگر جلن ہو تو یہ اس کو رفع کرتی ہے،سفید چقندر سے حاصل ہونے والا جزول عامل ملین ہے،جبکہ سرخ قسم سے میسرآنے والی صرف حیض آور ہے‘ اس کے اندر شکرکی مقدار ۲۴ فیصد پائی جاتی ہے، جو بیماری کے بعد لوگوں کو شوگر دی جاتی ہے،گلوکوز کی شکل میںاگر چقندر استعمال کیا جائے تو وہ بھی گلوکوز کا ہی کام کرے گا، شکر کی موجودگی یقینی کمزوری کو ختم کرتی ہے۔
چقندر کا پانی مفید ہے
سب سے پہلے تو یہ کہ ہر قسم کی سبزی اور پھل کے اندر ناقابل ِ ہضم مادہ کثیر مقدار میں ہوتا ہے جو قبض دورکرتا ہے،سفید چقندر میں تسکین دینے والی ٹھنڈک ہے۔ سیاہ قسم قابض ہوتی ہے اس کا پانی نکال کر لگانے سے خارش اور چھپ اور خاص کر داد کو فائدہ ہوتا ہے‘ یہاں پر توجہ طلب حقیقت یہ ہے کہ جلد کی جو بیماری یہاںبیان کی گئی ہے وہ سب پھپھوندی کی وجہ سے ہوتی ہے جس سے ظاہر ہے چقندر کا عرق پھپھوندی کو ختم کرتاہے۔ تمام جراثیم کش دوائیںآج کل مستعمل ہیں وہ تمام پھپھوندی سے تیارہوتی ہیں ،اِس لئے عین ممکن ہے کہ جسم سے ان کے زہریلے اثرات کو زائل کرنے میں چقندر کا بھی دخل ہو، چقندر کے پانی کو اگر شہد کے ساتھ پیا جائے تو بڑھی ہوئی تلی کو کم کیا جا سکتا ہے،جگر میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں بھی چقندر اور شہد کے ذریعے کم ہو سکتی ہیں،شہد یرقان کا بہترین علاج ہے۔طب جدید میں کیونکہ یرقان کے علاج میں گلوکوز دیا جاتا ہے اِس لئے نئے نقطہ نظر سے شہد اور چقندر کا پانی یرفان میں مفید ہے۔ چقندر اور شہد کا پانی صفرا کی نالیوں میں پتھری یا دوسرے اسباب سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں کا علاج بھی ہے۔ چقندر کا پانی اگر ان جگہوںپر لگایا جائے جہاں سے بال اُڑ گئے ہوں تومفید ہے، اس کے پانی سے سر دھونا سکری کو دورکرتا ہے، چہرے پر بڑے دانے داغ حساسیت اور چھپ میں مفید ہے،ورم والے مقام پر اس کا پانی لگانے سے ورم ختم ہو جاتا ہے۔آگ سے جھلسی ہوئی جلد پر اس کا پانی لگانے سے آرام ملتا ہے۔کان کا ورم اور درد، چقندر کے پانی کے اندر اگر شہد ملا کر کان میںڈالا جائے تو آرام ملتا ہے۔ چقندر کے پتوں کا پانی نکال کر اس سے کلی کرنا یا اسے مسوڑھوں پر ملنے سے دانت کا درد جاتا رہتا ہے۔بعض اطباء کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے کے بعد آئندہ درد نہیںہوتا۔ چقندر کے اجزاء دست آور ہیں،جبکہ اس کا پانی دستوں کو روکتا ہے،چقندر کی جڑوں کا جوس نکال کراگر ناک میںٹپکایا جائے تو سر درد اور دانت کا درد دور کرتا ہے۔اگر اس کے اطراف میں لگایا جائے تو آنکھوں کی جلن اور سوزش میں مفید ہے،سفید چقندر کا پانی جگر کی بیماریوں میںاچھے اثرات رکھتا ہے،چقندر کے قتلوں کو اُبال کر اس کی ایک پیالی اگر صبح ناشتہ سے ایک گھنٹہ پہلے پی لیں تو پرانی قبض جاتی رہتی ہے اور بواسیر کی شدت میں کمی آتی ہے،اطباء قدیم اور محدثین کرام نے چقندر کو اچھے لفظوں میں بیان نہیں کیا۔ اس کے باوجود دُنیا میں یہ سبزی مقبول ہے اگر اس سبزی میںنقصانات ہوتے تو لوگ کب کے چھوڑ چکے ہوتے،مگر مشاہدات اس کے برعکس ہیں،چقندر ایک مفید اور قوی غذا اور خارش کی متعدد قسموں کے لئے مقامی استعمال کے قابل ِ اعتماد دوا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ (مفہوم)’’مَیں نے دُنیا میں کوئی چیز بے کار نہیں بنائی‘ ہرایک میںحکمت ِ خدا وندی موجود ہے اگر تم غور کرو  توتمہارے لئے کھلی کھلی نشانیاں ہیں‘‘۔
چقندر کے فوائد
چقندر ٹھنڈک رکھتا ہے مگر ایسی کہ جسم کو ناگوار نہیںگزرتی،سم کے سدے کھولتا ہے۔ اس کی سیاہ قسم قابض ہے،چقندر کوکاٹ کر اگر سر پر ملا جائے تو بال گرنا رُک جاتے ہیں،اسے پکا اور پانی میںگھوٹ کر لگانے سے سر کی جوئیں مر جاتی ہیں۔چقندر کھانے سے جگر کا بہتر انداز میں کام جاری رہتا ہے۔چقندر کا استعمال تلی کو کم کرتا ہے،کالے مسور کی دال کے ساتھ پکانا پیٹ کے لئے ثقیل ہے،لیکن سفید قسم کی مونگ کی دال کے ساتھ پکانا یا کھانا قولنج سے پیدا ہونے والی کمزوری کو دور کرتا ہے،سفید چقندر اسہال کو دورکرتا ہے۔

2 comments: