تبصرہ کتب 08-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, June 22, 2019

تبصرہ کتب 08-2019


تبصرۂ کتب

تحریر: جناب الشیخ حافظ محمد اسلم شاہدروی
نام کتاب:               مولانا عبدالرحیم اشرف‘ حیات وخدمات
تالیف:                    ڈاکٹر زاہد اشرف
صفحات:        432 صفحات   میڈیم سائز
ناشر:                    مکتبہ المنبر‘ سرگودھا روڈ۔ فیصل آباد  041-8847601-2
تبصرہ نگار:               جناب حافظ محمد اسلم شاہدرویؔ
                             (معاون ناظم طبع وتالیف مرکزی جمعیت اہل حدیث پنجاب)
زیر تبصرہ کتاب جناب حضرت مولانا حکیم عبدالرحیم اشرفa پر اہل علم وقلم کے مضامین اور تأثرات کا مجموعہ ہے۔ حضرت مرحوم کو اللہ تعالیٰ نے گوناں گوں خوبیوں سے نوازا تھا۔ ان کی پیدائش ۱۹۲۲ء کو امرتسر میں ہوئی‘ قیام پاکستان سے قبل ہی انہوں نے کئی شعبوں میں مہارت پر خوب تعارف حاصل کر لیا تھا۔ کبار اہل علم کی شاگردی اختیار کی‘ پھر درس وتدریس نیز طب وحکمت میں بھر پور خدمات انجام دیں۔ کئی کتب لکھ کر شائع کیں‘ پندرہ روزہ المنبر فیصل آباد‘ آپ ہی کے قلم گوہر بار سے باقاعدگی کے ساتھ تشنگانِ علم کو سیراب کرتا رہا۔
جامعہ تعلیمات اسلامیہ فیصل آباد کی عظیم درسگاہ اور اسی نام سے ایک وفاق المدارس کی منظوری بھی آپ کی جد وجہد کا نتیجہ ہے۔
۲۸ جون ۱۹۹۶ء کی صبح فجر سے قبل اڑھائی بجے اس عظیم شخصیت نے داعئ اجل کو لبیک کہا‘ ان کی وفات کے بعد ادارہ المنبر ان کی حیات وخدمات پر ایک ضخیم یادگاری نمبر شائع کرنا چاہتا تھا جس میں بوجوہ تاخیر ہوتی گئی اور بالآخر یہ طے ہوا کہ ان کے متعلق مضامین‘ تاثرات اور منظوم خراج عقیدت کو کتاب کی شکل میں شائع کر دیا جائے۔ اس پر جب غور وخوض کیا گیا تو اس کی چار جلدیں تجویز ہوئیں۔
یہ کتاب اس سلسلے کی پہلی جلد ہے‘ باقی جلدوں کی جلد اشاعت کی امید کی جاتی ہے۔ اس کتاب کے آغاز میں چند اکابرین ملت کے پیغامات ہیں‘ پھر ایک حصہ نگارشاتِ علماء کرام پر مشتمل ہے۔ سولہ علماء کے یہ مضامین صفحہ ۳۱سے ۱۳۱ تک ہیں۔ اس کے بعد اصحاب تعلیم کے لیے نگارشات کا حصہ صفحہ ۱۳۵ سے شروع ہوتا ہے جو ۲۲۳ صفحہ تک ہے‘ اس میں سترہ ماہرین تعلیم کا خراج عقیدت ہے۔ ۳۲ اہل قلم کی نگارشات کا حصہ صفحہ ۲۲۹ سے ۴۱۵ تک ہے۔ اس کے بعد کتاب کے آخر تک منظوم خراج عقیدت ہے۔
عیسوی اعتبار سے ۷۶ برس یعنی پون صدی سے زائد عمر پانے والی اس شخصیت کی یہ سوانح حیات بہت عمدہ انداز میں مرتب کی گئی ہے۔ دیگر جلدوں کا انتظار رہے گا تا کہ نئی نسل پر مرحوم کی ہمہ جہت زندگی کے اور پہلو بھی کھل سکیں۔

نام کتاب:               تاریخ طب‘ عہد بعہد
تالیف:                        ڈاکٹر زاہد اشرف
صفحات:           271 صفحات   میڈیم سائز
ناشر:        اشرف اکادمی سرگودھا روڈ فیصل آباد
تبصرہ نگار:               جناب حافظ محمد اسلم شاہدرویؔ
                                (معاون ناظم طبع وتالیف مرکزی جمعیت اہل حدیث پنجاب)
اللہ تعالیٰ نے جو بھی بیماری نازل کی ہے اس کی دوا بھی ضرور اتاری ہے۔ قرآن کریم میں سیدنا ابراہیمu کا فرمان نقل کیا گیا ہے کہ ’’جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہ (اللہ) مجھے شفا عطا فرماتا ہے۔‘‘ ہو الشافی یعنی وہی شفا دینے والا ہے۔
انسانی اجسام پر جب بیماریاں آنے لگیں تو انسانوں نے ان کے علاج اور صحت کے اسباب‘ ذرائع اور ادویات کو اختیار کیا۔ مختلف ازمنہ اور امکنہ میں مختلف طریقہ ہائے علاج دنیا میں مروج رہے ہیں۔
آیور ویدک‘ یونانی طب‘ ہومیو پیتھک اور اب ایلوپیتھک علاج کے معروف طریقے ہیں‘ یونانی طب کو دنیا بھر کے ماہرین امراض نے عموما ترجیح دی ہے۔ طب اسلامی بھی طب یونانی کے قریب تر ہے۔ احادیث مبارکہ کی کتب میں کتاب الطب بالخصوص شامل کی گئی ہے۔
جناب ڈاکٹر زاہد اشرف کا تعلق خاندانی طور پر ایک طبی اور علمی گھرانے کے ساتھ ہے‘ طب وحکمت میں ان کے ادارے اشرف لیبارٹریز کا دنیا میں ایک خاص مقام ہے‘ المنبر کے علاوہ بھی طب وحکمت میں یہ کتب اور رسائل شائع کرتے رہتے ہیں۔
زیر تبصرہ کتاب میں انہوں نے طب کی عہد بعہد تاریخ مختصر انداز میں بیان کی ہے۔ طب کی تعریف‘ طب کا آغاز‘ طب اور اس کی شاخیں مختلف ادوار میں ما قبل بعثت محمدe‘ عربی اور اسلامی طب‘ بعثت محمدیہ سے عصر حاضر تک‘ اس کتاب کے چند نمایاں عنوانات ہیں۔
ان عنوانات کے تحت مؤلف نے بہت عمدگی سے اپنا مقصود پختہ تاریخی حقائق کے ساتھ آسان الفاظ میں بیان کر دیا۔ آخر میں عربی اور اسلامی ادوار میں طب کے کارہائے نمایاں پر خوب روشنی ڈالی گئی ہے۔ مصادر ومراجع بھی اہل علم کے لیے اس فن میں مزید تحقیق کے لیے درج کر دیئے گئے ہیں۔
جس خوبصورت اور آسان پیرائے میں یہ کتاب مرتب کی گئی ہے یہ مؤلف کا قابل تحسین خاصہ ہے‘ دلچسپ اور رواں تحریر ماہرین فن سے لے کر عوام تک بہت زیادہ استفادے اور پھر افادے کا باعث ہے۔ کتاب کی جلد‘ کمپوزنگ اور کاغذ سب بہت اعلیٰ معیار کے ہیں۔

نام کتاب:               دعائے محرومی
تالیف:                    ڈاکٹر زاہد اشرف
صفحات:                  176 صفحات   میڈیم سائز
ناشر:                 مکتبہ المنبر‘ سرگودھا روڈ۔ فیصل آباد
تبصرہ نگار:               جناب حافظ محمد اسلم شاہدرویؔ
                                (معاون ناظم طبع وتالیف مرکزی جمعیت اہل حدیث پنجاب)
اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرمایا‘ اس کی ضروریات اور حاجات عطا فرما دیں‘ پہلے انسان ابوالبشر سیدنا آدمu سے ہی انسانوں کو یہ تعلیم دے دی کہ اپنی حاجات اور ضروریات میں اللہ تعالیٰ کو پکاریں اور اس سے دعا کریں۔ رب کریم نے خود فرمایا: ’’جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میںاس کی پکار قبول کرتا ہوں۔‘‘
ایک اور ارشاد گرامی ہے: ’’تمہارے رب نے فرمایا ہے کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہارے لیے قبول کروں گا۔‘‘
احادیث مبارکہ کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دعاؤں پر قبولیت کا وعدہ فرمایا ہے لیکن اس کے ہاں قبولیت کی مختلف صورتیں ہیں۔
دعاؤں کی بھی متعدد صورتیں ہیں‘ ان کی ایک تقسیم ایجابی اور سلبی کی ہے۔ یعنی کبھی بندہ اللہ سے اپنے لیے کچھ حاصل کرنا مانگتا ہے اور کبھی کچھ حاصل نہ کرنا بلکہ کسی تکلیف کا دور کرنا اور اس سے بچ جانا مانگتا ہے‘ وہ اس سے محروم رہنا چاہتا ہے‘ یہی اس کتاب کا بنیادی مقصد ہے۔
سورۂ البقرہ کی آخری آیات میں اللہ تعالیٰ نے دعاؤں کے دونوں انداز یعنی ایجابی اور سلبی جمع فرما دیئے ہیں اور قرآن ہی ہمارے لیے مشعل راہ اور نمونہ ہے۔
مشہور ملکی اور ملی جریدے پندرہ روزہ المنبر فیصل آباد میں جناب زاہد اشرف نے ۱۹۹۱ء سے ۱۹۹۵ء تک محرومی کی دعائیں لکھنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ ۲۱ برس تک یہ سلسلہ بند رہنے کے بعد جون ۲۰۱۶ء میں دوبارہ شروع ہوا‘ جب بنگلہ دیش میں سابق امیر جماعت اسلامی جناب مطیع الرحمن نظامی کو پاکستان سے محبت کی پاداش میں پھانسی دے دی گئی۔
ملک پاکستان اور دنیا بھر کے اسلامیان کے لیے جناب زاہد اشرف نے مختلف مواقع پر سلبی انداز میں محرومی کی جو دعائیں لکھی ہیں وہ کتاب میں جمع کر دی گئی ہیں۔ اس سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ موصوف اپنے اکابر کی طرح ملک وملت کا درد اپنے سینے میں رکھتے ہیں اور انہیں درد دل سے کی گئی محرومی کی اپنی دعاؤں میں محروم نہیں رکھتے۔

No comments:

Post a Comment

View My Stats