حاجی محمد سموں 08-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, June 22, 2019

حاجی محمد سموں 08-2019


یادِ رفتگان ... حاجی محمد غازی سموں

تحریر: جناب ذکاء اللہ سموں
طویل قد، سرخی مائل گندمی رنگ، کھلی پیشانی، چوڑاچہرہ، کھلاہاتھ، کھلا دل، مکمل داڑھی جو عمر کے ساتھ ساتھ تقریبا سفید ہوچکی تھی۔ ہنس مکھ اور خوش مزاج، تہجدگذار، اُمِی ہونے کے باوجود کتاب وسنت اور فقہ کے بیشتر مسائل سے باخبر، دین اسلام کے خاموش مبلغ، علماء وصلحاء سے دیرینہ تعلقات رکھنے والے، اسلامی کانفرنسز کو رونق محفل بخشنے والے۔ سادہ لباس، کندھے پر رومال، لوگوں کو خوش کرنے کی علت سے کوسوں دور، ایک اللہ کو راضی کرنے والے مرد مجاھد میرے دادا حاجی محمدغازی رحمہ اللہ۔ آپ کے مختصر حالات زندگی قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔
ضلع تھرپارکر کے ایک گاؤں کا نام ’’حاجی ابراہیم سموں‘‘ ہے جس میں ۱۹۷۴ء میں انڈیا کے ضلع گچھ اور گاؤں ڈنارا سے ہجرت کرکے آنے والے لوگ آباد ہیں۔ حاجی غازیؒ اسی گاؤں کے باشندے تھے۔ ’’سموں‘‘ برادری سے ان کا تعلق تھا۔ آپ کا خاندان مولوی عبدالرحیم پچھمیؒ کی تبلیغ سے اہلحدیث ہوا۔ اس سے قبل آپ کا خاندان مشرکانہ عقائد کا پرچار کرتا اور انڈیا کے ضلع کچھ میں ’’حاجی پیر‘‘ نامی درگاہ پر ہندوؤں کے ساتھ مل کر پوجا پاٹ، نذر ونیاز اور پرستش کرتا۔
۱۹۷۴ء میں آپ کے بیٹے محمد حسن سموں (موجودہ امیر مرکزی جمعیت اہلحدیث ضلع تھرپارکر) کی پیدائش کے ایک ماہ بعد آپ نے پاکستان ہجرت کرنے کا ارادہ کرلیا۔ حالات انتہائی ناسازگار تھے۔ غربت وافلاس نے گھر میں ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ پھر بھی آپ نے پاک سرزمیں کو اپنی آنکھوںسے دیکھنے اور پھرساری زندگی ارضِ پاک کی آزادانہ فضاؤں میں خدا کی بندگی کرتے ہوئے بسر کرنے کی ٹھان لی۔پھر آپ نے ۲۴ گھنٹوں کا کٹھن سفر اور میلوں پر مشتمل نمک کا سمندر طے کرنے کے لیے اپنے ساتھ دو اونٹ لئے اور کچھ اتنا ہی سامان گھر میں  تھا کہ دو گدھوں پر لادا جاسکتا تھا، لے کر مع اہل وعیال نکل پڑے اور ارض پاک تک پہنچتے پہنچتے آپ کی ایک بیٹی آپ کا ساتھ چھوڑ کر اللہ کو پیاری ہوچکی تھی۔ارضِ پاک پر پاؤں پڑتے ہی ڈیپلو پولیس نے آپ کے پورے خاندان کو جیل میں ڈال دیا۔ ڈیپلو شہر کی مشہور معزز اہلحدیث خاتون مریم میمن کو پتا چلا تو انہوں نے پورے خاندان کو آزاد کروایا اور کچھ دن ضیافت بھی کی۔ پھرآپ کچھ عرصہ کُنری کے نزدیک ایک گاؤں حاجی محمد سموں میں بطور کسان کھیتی باڑی کرتے رہے۔ اس کے بعد مستقل طور پر گوٹھ حاجی ابراہیم سموں میں تشریف لے آئے۔ یہاں کھیتی باڑی تو تھی نہیں اس لئے نوری آباد میں واقع حفاظ پائپ فیکٹری میں ساری زندگی ملازمت کرتے گذار دی۔ آپ نے محنت مزدوری کے ساتھ ساتھ اپنی آخرت سنوارنے اور تاقیامت اجرت ملنے کی لالچ میں ایک چھوٹا سا پودا بھی لگادیا۔ وہ پودا یہ تھا کہ آپ نے اپنے تین بیٹوں علی محمد، محمد حسن، عبدالرحیم کو دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے مدرسہ میں بھیج دیا۔ آج یہ چھوٹا پودا تناور درخت بن چکا ہے۔ آج آپ کے خاندان میں ۲۵ عالم دین، ۱۱ حفاظ قرآن، ۱۰ داعیان اسلام اور اسی طرح ۲۰ کے قریب عالمات وحافظات آپ کی اجرت میں اضافہ کرتے رہتے ہیں۔ یہ اجرت آپ ہوں نہ ہوں تاقیامت آپ کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوتی رہے گی۔
آپ کادین کے ساتھ اس قدر لگاؤ تھا کہ دورانِ ملازمت آپ کو جس جگہ پتاچلتا کہ فلاں جگہ جلسہ ہے آپ اس میں ضرور شریک ہوتے۔ علماء سے مصاحبت اختیار کرتے‘ ان کی مجالس میں بیٹھتے‘ خاص طور پر علامہ بدیع الدین شاہ راشدیؒ اور علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ کا سندھ میں کوئی بھی پروگرام نہ چھوڑتے۔ آپ علماء کی تقاریر سن کر دینی احکامات بحوالہ آپ کو برزبان یاد ہوگئے تھے۔ چھوٹے چھوٹے علماء آپ کے سامنے تقریر کرنے سے کتراتے کیونکہ آپ تقریر کے بعد بروقت ان کی اصلاح کردیتے۔
آپ کی اولاد نرینہ میں ۶ بیٹے ہیں ۔ بڑے بیٹے محمد صدیق کو چھوڑ کرماشاء اللہ سارے عالم ہیں ۔ جن کے اسماء گرامی یہ ہیں۔
محمد صدیق، علی محمد، محمد حسن، عبدالرحیم، محمد یعقوب، حبیب الرحمن۔ اور یہ سارے علماء الحمدللہ ضلع تھرپارکر کی مشہور دینی درسگاہ جامعہ دارالعلوم السلفیہ میں تدریسی وتنظیمی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس درسگاہ سے فارغ التحصیل سینکڑوں علماء وحفاظ سندھ میں پھیلے ہوئے ہیں۔ جامعہ کی سینکڑوں شاخیں ضلع تھر میں قرآن وسنت کی تعلیم دینے کے عمل میں مصروف ہیں۔
آپ اور آپ کی زوجہ محترمہ جوکہ کچھ عرصہ قبل فوت ہوئیں دونوں تہجد گذار تھے، دونوں کو اللہ تعالی نے حج نصیب کیا۔ نماز سے آپ کا اس قدر گہرا تعلق تھا کہ دوران بیماری آپ پانچ وقت نمازیں پڑھ رہے تھے۔
آپ ۲۳ جنوری بروز بدھ اس دار فانی کو الوداع کہہ کر اپنے پروردگارسے جاملے۔ نماز جنازہ میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی جس میں کثیر تعداد علماء حفاظ اور طلبہ کی تھی جو آپ کے لیے مغفرت کی دعائیں کررہے تھے۔ اللہ تعالی دادا مرحوم کی تمام بشری لغزشوں کومعاف فرمائے اور آپ کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ آپ کے خاندان کو اللہ تعالی مزید دین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

No comments:

Post a Comment

View My Stats