درس قرآن وحدیث 09-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, June 22, 2019

درس قرآن وحدیث 09-2019



درسِ قرآن
اعتدال کی اہمیت
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَ يَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا﴾ (ال عمران)
’’اور اسی طرح ہم نےتمہیں ایک معتدل امت بنایاہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور اور  رسول e تم پر گواہ ہوں۔‘‘
اسلام نے اپنے پیروکاروں کو حسن اخلاق کی جو تعلیم دی ہے اس میں ایک صفت اعتدال اور میانہ روی ہے۔ اسلام اس خاص صفت کی بدولت دوسرے ادیان اورمذاہب سے منفرد اور ممتاز ہے۔اسلام اپنے ماننے والوں کو زندگی کے تمام معاملات میں افراط وتفریط سے بچنے اور میانہ روی اختیار کرنے کی تلقین کرتا ہے۔زندگی کا کوئی بھی گوشہ ہو چاہے وہ معیشت و معاشرت ہو یا رسوم ورواج ، کھانا ،پینا اورپہننا ہو یا خوشی ، غمی کے اوقات ان سب معاملات میں میانہ روی کی تعلیم وتلقین کی گئی ہے۔آیت مبارکہ میں بھی اسی بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ یعنی اے امت مسلمہ کے افراد! آپ کا مذہب اور دین افراط وتفریط کے درمیان ایک راہ راست پر قائم ہے۔
عبادات میں میانہ روی کی مثال دعا میں آواز کوبالکل  پست یابہت  بلندکرنے کی بجائے حکم ہوتا ہے:
﴿وَ لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَ لَا تُخَافِتْ بِهَا وَ ابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا۰۰۱۱۰﴾
’’تم اپنی نماز (دعا) میں نہ بہت زور سے پکارو اور نہ بہت ہی چپکے چپکےپڑھو _بلکہ ان دونوں کی درمیانی راہ تلاش کرو۔‘‘ (الاسراء)
چال ڈھال میں میانہ روی اختیار کرنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے:
﴿وَ اقْصِدْ فِيْ مَشْيِكَ وَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ١ؕ اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيْرِ۰۰۱۹﴾ (لقمان)
’’درمیانی چال چلو اور اپنی آوازدھیمی رکھوبلاشبہ سب سے بری آواز گدھے کی آواز ہے۔‘‘
یعنی آپ کی چال نہ اتنی تیز ہوکہ اس میں متانت ، سنجیدگی اوروقار باقی نہ رہے اور نہ اتنی سست ہو کہ ریا کاروں یا بیماروں کی سی بن جائے۔ اسی طرح آواز میں بھی اعتدال ہونا چاہیے نہ تو چیخ چلا کر بات کرو،اور نہ ہی بالکل دھیمی آواز سے بات کرو کہ سننے والے کو سننے میں دقت ہو۔ اسی طرح کھانے پینے ، پہننے اور خرچ کرنے میں بھی اسراف و تبذیرکی بجائے درمیانی راہ اختیارکرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ حد سے تجاوز کرنے منع کیا گیا ہے۔ اس لیے بحیثیت مسلمان ہمیں اسلام کے اس امتیازی وصف کو اپنی زندگی کے ہر کام اور ہر عمل میں  اپنانا چاہیے _ جس کے نتیجے میں تمام افراد معاشرہ کے لیے سہولت اور آسانی پید ا ہوگی۔

درسِ حدیث
شفاعت رسول ﷺ
فرمان نبویﷺ ہے:
[عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: ﴿يَوْمَىِٕذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَا﴾ قَالَ: "أَتَدْرُونَ مَا أَخْبَارُهَا؟" قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: "فَإِنَّ أَخْبَارَهَا أَنْ تَشْهَدَ عَلىٰ كُلِّ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ بِمَا عَمِلَ عَلىٰ ظَهْرِهَا أَنْ تَقُولَ: عَمِلَ كَذَا وَكَذَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا". قَالَ: "فَهَذِهٖ أَخْبَارُهَا."] (ترمذی)
سیدنا ابوہریرہt سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہe نے سورۃ زلزال کی آیت ﴿يَوْمَىِٕذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَھَا﴾ یعنی اس دن وہ اپنی خبریں بیان کر دے گی تلاوت فرمائی پھر ارشاد فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ اس کی خبریں کیا ہیں؟ صحابہ کرام] نے عرض کی اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپe نے فرمایا: اس (زمین) کی خبریں یہ ہیں کہ وہ ہر مرد اور عورت کے خلاف گواہی دے جو انہوں نے اس کی پشت پر عمل کئے۔ زمین کہے گی کہ اس نے فلاں فلاں دن یہ یہ عمل کئے تھے پس یہی اس کی خبریں ہیں۔‘‘ (ترمذی)
انسان دنیاوی زندگی میں بعض اوقات ایسے اعمال کر گزرتا ہے جن کی اسے اجازت نہیں ہوتی اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ مجھے کون دیکھ رہا ہے؟ وہ اپنی دانست کے مطابق پوری راز داری کا اہتمام کرتا ہے مگر مالک کائنات کی نظروں سے کوئی چیز اوجھل نہیں ہے۔ اس کے باوجود اللہ نے ہر انسان کا اعمال نامہ مرتب کرنے کے ساتھ ساتھ گواہی کا بھی اہتمام کیا ہے ان گواہیوں میں انسان کا اعمال نامہ مرتب کرنے کے ساتھ ساتھ گواہی کا بھی اہتمام کیا ہے۔ ان گواہیوں میں انسان کے اپنے اعضاء بھی شامل ہیں جو اللہ کے حکم سے بول کر گواہی دیں گے تو انسان کہے گا تم میرے خلاف گواہی کیوں دیتے ہو۔ اعضاء جواب دیں گے کہ آج ہمیں اس ذات نے بولنے کی طاقت عطا فرمائی ہے جس نے ہر چیز کو زبان دے دی ہے۔ اسی طرح سب سے بڑی گواہی اس زمین کی ہو گی جس کی پشت پر انسان گناہ کرتا رہا۔ جب رسول مقدسe نے سورۃ زلزال کی اس آیت کی تلاوت فرمائی تو خود ہی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بتایا کہ زمین کی خبریں یہ نہیں کہ قطعہ زمین جس پر ظلم ہوا یا رب کی نافرمانی ہوئی، یا رسول اکرمe کے فرمان کی مخالفت ہوئی، بول کر بتائے گا کہ اے اللہ! فلاں بندے نے فلاں وقت فلاں گناہ کیا تھا۔ کوئی گناہ اس دن اللہ کی نظروں سے اوجھل نہیں ہو گا اور گواہ بھی پیش ہو جائیں گے اس دن کوئی ہمدرد یا خیر خواہ نہیں ہوگا لہٰذا لوگوں کو یا زمین کو اپنے گناہوں پر گواہ نہیں بنانا چاہیے۔ انسان اس جگہ گناہ کرے جہاں کوئی اسے دیکھ نہ رہا ہو، جہاں کوئی نہیں دیکھتا وہاں اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہوتا ہے وہ جگہ اور زمین دیکھ رہی ہوتی ہے جس کی پشت پر گناہ سرزد ہو رہا ہوتا ہے۔

No comments:

Post a Comment

View My Stats