اداریہ 09-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, June 22, 2019

اداریہ 09-2019


اداریہ ... پاک سعودی تعلقات کا نیا دور

مرد آہن شہزادہ محمد بن سلمان کا پاکستان میں جس طرح شایان شان استقبال کیا گیا ہے ماضی میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ شہزادہ محمد بن سلمان ویژن ۲۰۳۰ء کے تحت سعودی عرب کی معیشت میں انقلاب لانے کے لیے پر عزم ہیں۔ وہ جہاں سعودی عرب میں انٹرٹینمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی سٹی کی تعمیر کا آغاز کر رہے ہیں وہیں مصر اور اردن کی سرحد کے ساتھ ’’نیوم‘‘ کے نام سے تجارتی شہر بسانے کے لیے بھی پر عزم ہیں۔ نوجوان اور دور اندیش ولی عہد محمد بن سلمان بخوبی آگاہ ہیں کہ سعودی عرب کی معاشی سماجی ترقی کا راستہ سی پیک سے ہو کر گزرتا ہے۔ چنانچہ اپنے خواب ویژن ۲۰۳۰ء کے تحت سی پیک میں تیسرے بڑے اہم پارٹنر کی حیثیت سے پاکستان اور چین کا دورہ کیا جس کی ابتداء پاکستان سے ہوئی۔
پاکستان میں ان کا تاریخی استقبال کیا گیا۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ پاکستان ہمارا دوسرا گھر ہے۔ ہم پاکستان کے دکھ سکھ کے ساتھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر بھی ہیں۔ دونوں ملکوں میں دین کا رشتہ بہت مضبوط اور مستحکم ہے اور پاکستان کا ہر شہری اور بچہ بچہ سعودی عرب کے حکمرانوں اور عوام سے اس لیے محبت کرتا ہے کہ انہیں حرمین شریفین کی خدمت کا لا زوال شرف حاصل ہے۔ پاکستان آمد پر شہزادہ محمد بن سلمان کو پاکستان کا اعلیٰ ترین سول اعزاز ’’نشان پاکستان‘‘ بھی دیا گیا۔ شہزادہ محمد بن سلمان کے اس دو روزہ دورے میں ۲۰ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کے معاہدے ہوئے جس سے نہ صرف سعودی عرب کو فائدہ ہو گا بلکہ پاکستان جیسے معاشی حوالے سے ڈانواں ڈول ملک میں عوام کی خوشحالی کی راہیں کھلیں گی۔ شہزادہ محمد بن سلمان کے دورے کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے پریس کانفرنس کی اور مشترکہ اعلامیہ جاری کیا۔ وزیر اعظم نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی قیادت اور ان کی حکومت کی دانشمندانہ کوششوں بالخصوص سالانہ کروڑوں عازمین حجاج کرام کے لیے خدمات کو سراہا۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کو اسلامی‘ سماجی واقتصادی اصولوں پر مبنی فلاحی ریاست بنانے کے ایجنڈے کی تعریف کی اور سعودی عرب کی جانب سے تعاون وحمایت جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔
مذاکرات میں پاکستان نے سعودی عرب کی جانب سے دنیا بھر میں مسلم امہ کو درپیش مسائل کے حل کے لیے قائدانہ کردار ادا کرنے پر سراہا۔ فریقین نے دو طرفہ مضبوط دفاعی وسلامتی تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا اور اس شعبہ میں مشترکہ مقاصد کی جانب تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ اس وقت پاکستان اور سعودی عرب دونوں ممالک کو دشمنوں کے ناپاک عزائم اور ان کی پیدا کردہ دہشت گردی کا سامنا ہے۔ ہمارا قریبی ہمسایہ بھارت جس نے ٹی ٹی پی جیسی دہشت گرد تنظیموں کو اسلحہ وبارود دے کر پاکستان میں ہزاروں لوگوں کو خاک وخون میں تڑپایا‘ اسی طرح ایرانی بندر گاہ چاہ بہار پر اس نے دہشت گرد نیٹ ورک قائم کر کے بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک کو بڑھاوا دیا۔ اب پلوامہ کے واقعہ کی آڑ میں بھارتی میڈیا نے پورے ہندوستان کو جنگ کے بخار میں مبتلا کر دیا ہے۔ بی جے پی اور اپوزیشن سبھی اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے پاکستان کو جنگ کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ہماری طرح سعودی عرب کو بھی دشمنوں سے خطرات لاحق ہیں۔ حوثی باغیوں نے بارہا ایرانی ساختہ میزائلوں سے سعودی عرب پر حملہ کیا حتی کہ حرمین شریفین پر بھی میزائل داغے‘ لیکن وہ بھی ابرہہ کی طرح ناکامی کی خاک چاٹیں گے۔ دہشت گردی کا شکار دونوں ممالک نے ایوان صدر کی تقریب میں انتہا پسندی‘ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانیں قربان کرنے والے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے وزیر اعظم کی جانب سے بھارت کے ساتھ مذاکرات کے لیے کھلے پن کا مظاہرہ کرنے پر اور اس حوالے سے کوششوں کی تعریف کی کہ انہوں نے کرتار پور بارڈر کھولنے کے اقدام کو بھی سراہا اور کہا کہ خطے میں امن واستحکام اور دیرینہ مسائل کے حل کے لیے مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ سپریم کو آرڈینیشن کونسل قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا‘ کونسل کی سربراہی سعودی عرب کی جانب سے ولی عہد‘ نائب وزراء اور پاکستان کی جانب سے وزیر اعظم ہوں گے۔ سپریم کو آرڈینیشن کونسل کا مقصد تمام فیصلوں‘ معاہدوں اور یاد داشتوں پر عمل در آمد کرنا ہے۔ سعودی عرب نے ویزا فیس میں کمی کا پاکستان کا دیرینہ منصوبہ بھی مان لیا ہے۔ سعودی عرب کی ترقی میں پاکستانی ہنر مند اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستانی ماہرین‘ تعلیم‘ انجینئرنگ‘ صحت اور دیگر شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ظاہر ہے جہاں انسان بستے ہیں انہیں اپنی ضروریات کے لیے ایک دوسرے کے تعاون کی ضرورت ہوتی ہے تو پھر ان میں تعلقات میں بھی گرم جوشی اور کبھی سرد مہری آتی رہتی ہے۔ لڑائی جھگڑے اور جرائم بھی ہوتے ہیں اور لوگوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانا پڑتا ہے۔ اس وقت سعودی عرب میں تقریبا پانچ ہزار پاکستانی قید ہیں۔ اکثریت معمولی معاملات میں سزا کاٹ رہے ہیں۔ ان کی سزا اور جیل جانے سے پاکستان میں ان کے رشتہ دار نہ صرف ان کی ابتلاء پر پریشان ہیں بلکہ معاشی تنگدستی کا بھی شکار ہیں۔ وزیر اعظم کی درخواست پر جناب شہزادہ محمد بن سلمان نے فی الفور ۲۱۰۷ء قیدیوں کی رہائی کا حکم دیا اور باقی کے بارے کہا کہ وہ ان کی رہائی کے لیے جو کچھ کر سکتے ہیں ضرور کریں گے۔
سعودی عرب اور پاکستان میں جہاں آئل ریفائنری اور آئل سٹی بسانے سمیت لا تعداد معاہدے ہوئے وہیں شہزادہ محمد بن سلمان نے خیبر پختونخواہ میں ’’فرمان خان شہید ہاسپٹل‘‘ بنانے کا اعلان بھی کیا۔ فرمان خان نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر جدہ میں سیلاب کے دوران چودہ سعودی باشندوں کی جان بچائی تھی۔
سعودی شہزادہ کی آمد پر پوری قوم میں ایک جوش وولولہ دیکھننے میں آیا لیکن حکومت اور اپوزیشن میں سرد مہری کی فضا بنی رہی۔ حکومت نے تمام تقریبات میں اپوزیشن کے کسی فرد کو شمولیت کی دعوت نہ دے کر بہت بڑی غلطی کی۔ اللہ نہ کرے اگر ملک کسی مشکل سے دو چار ہو اور حکومت کو اپوزیشن کا تعاون درکار ہوا تو پھر کس منہ سے حکومت اپوزیشن کا تعاون مانگے گی۔
بھارت میں پلوامہ حملے کے بعد حکمران جماعت اور اپوزیشن دونوں ایک پیج پر جمع ہیں۔ اپوزیشن نے لاکھ اختلاف کے باوجود اور الیکشن میں ایک دوسرے کے خلاف معرکہ آرائی کے باوجود حکومت کو یقین دلایا کہ وہ جو بھی اقدامات کرے گی تو اپوزیشن اس کے ساتھ ہو گی۔ اس لیے حکومت کو چاہیے کہ اگر وہ ملک میں امن واستحکام چاہتے ہیں تو اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلے۔ 

No comments:

Post a Comment