عظمت صحیح بخاری 09-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, June 22, 2019

عظمت صحیح بخاری 09-2019


عظمت صحیح بخاری شریف

تحریر: جناب مولانا محمد شفیع
نبی کریم e کے زمانہ میں اورصحابہ وتابعین کے زمانہ میں احادیث کتابوں میں جمع نہیں کی گئی تھیں، البتہ بعض صحابہ کرام نے متفرق طورپر کچھ حدیثیں لکھ رکھی تھیں، اس کی کئی وجوہات بتائی جاتی ہیں:
1         ایک وجہ یہ ہے کہ شروع میں حدیث لکھنے سے نبی اکرمe نے منع فرمادیا تھا تاکہ قرآن کریم کے ساتھ کس حدیث کا اختلاط نہ ہوجائے۔
2         دوسری وجہ یہ ہے کہ صحابہ کرام قوت حافظہ میں اپنی مثال آپ تھے، ان کے اندر تمام اقوال وواقعات کو جن کو انہوں نے آپ e سے بالمشافہ یا کسی اورذریعے سے سنا یا دیکھا تھا پوری طرح حفظ کرنے کی صلاحیت موجودتھی اور لکھنے کی ضرورت نہ تھی۔
3         تیسری وجہ یہ ہے کہ اس زمانہ میں اکثرلوگ لکھنا نہیں جانتے تھے۔
جب دنیا میں اسلام پھیلا اورعلماء دوردراز شہروں میں پھیل ہوگئے اور صحابہ مختلف اطراف میں متفرق ہوگئے اوراکثرصحابہ کی وفات ہوگئی اورلوگوں کی قوت حافظہ کچھ کمزور ہوگئی، ضبط حدیث میں کمی آگئی اور خارجی ورافضی اورتقدیر کے منکرین نے بدعات کو رواج دینا شروع کردیا تب علماء نے احادیث کو کتابوں میں جمع کرنے کی ضرورت محسوس کی اورتابعین کے آخری زمانہ میں تدوین حدیث کا کام شروع ہوگیا۔ چنانچہ اس سلسلے میں سب سے پہلی کامیاب کوشش ربیع بن صبیحؒ نے کی (ایک صالح مجاہد تھے اور ۱۶۰ھ میں سندھ میں لڑتے لڑتے شہید ہوگئے) اوردوسری شخصیت سعید بن ابی عروبہؒ (۱۵۶ھ) کی تھی جنہوں نے رسول اکرمe کے آثار واحادیث کو جمع کرنے کی کامیاب کوشش فرمائی، پھردوسری صدی کے وسط میں امام مالکؒ (۱۷۹ھ) تشریف لائے اورانہوں نے مدینہ منورہ میں مؤطا لکھی، انہوں نے اس کتاب میں صرف اہل حجاز کی روایت کردہ احادیث جمع فرمائیں مگراحادیث نبویہ کے ساتھ ساتھ انہوں نے اقوال صحابہ وتابعین بھی جمع فرمائے۔
امام مالکa کے بعدجن علماء نے تدوین حدیث میں اپنی خدمات کوپیش کیا ان میں چندقابلِ قدرشخصیات مندرجہ ذیل ہیں:
1         ابومحمد عبدالملک بن عبدالعزیز بن جریجؒ (ت ۱۵۰ھ) مکہ مکرمہ میں۔
2         ابوعمرعبدالرحمن بن عمرو اوزاعیؒ (ت ۱۵۷ھ) شام میں۔
3         ابوعبداللہ سفیان بن سعید ثوریؒ (ت ۱۶۱ھ) کوفہ میں۔
4         ابو سلمہ حماد بن سلمہ بن دینارؒ (ت ۱۶۷ھ) بصرہ میں۔
دوسری صدی ہجری کے آخرمیں انہی کے نقش قدم پرچلتے ہوئے بعض ائمہ نے احادیث نبویہ کو انفرادی مقام دینا چاہا اورانہوں نے الگ الگ مسانید وجودمیں لائیں، ان برگزیدہ شخصیات میں سے چندشخصیات ایسی ہیں جنہوں نے اس سلسلے میں پہل کی‘ ان کے اسماء گرامی یہ ہیں:
|          عبیداللہ بن موسی الکوفی ،مسدد بن مسرہد البصری، اسدبن موسی الأموی، نعیم بن حمادالخزاعی نزیل مصر، امام احمد بن حنبلؒ نے اپنی مشہور زمانہ کتاب مسنداحمد بن حنبل ترتیب دی، ان کی یہ کتاب فن حدیث میں بہت جامع اور بہترین کتاب ہے‘ انہوں نے اسے ساڑھے سات لاکھ حدیثوں سے انتخاب کرکے لکھا۔
|          امام المحدثین ابوعبداللہ محمد بن اسماعیل بخاریؒ نے مذکورہ بالا تصانیف ومسانید کا بنظرغائر مطالعہ کیا تومجموعی اعتبار سے انہوں نے ان مجموعات کو مفید پایا، لیکن انہوں نے بعض احادیث کو صحیح، بعض کو حسن اوربیشتر احادیث کو ضعیف پایا، یہ دیکھ کر انہوں نے ایک جرأت مندانہ قدم اٹھایا اورصرف صحیح احادیث کو جمع کرنے کا عزم مصمم کیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے اپنے استاد امیرالمؤمنین فی الحدیث اسحاق بن راہویہ سے جوکچھ سنا تھا اس سے ان کے ارادے میں مزید پختگی پیداہوئی۔ علامہ ابن حجرالعسقلانیؒ فرماتے ہیں کہ ابراہیم بن معقل النسفیؒ نے کہا کہ میں نے امام محمد بن اسماعیل البخاریؒ سے سناہے کہ ہم لوگ اپنے استاد اسحاق بن راہویہ کے پاس بیٹھے تھے توایک مرتبہ انہوں نے ہماری طرف توجہ فرما کر کہا:
[لو جمعتم کتاباً مختصراً لصحیح سنۃ رسول اللہﷺ، قال فوقع ذلک فی قلبی فأخذت فی جمع الجامع الصحیح۔]
’’اگرتم لوگ رسول اکرمe کی صحیح سنتوں کو ایک مختصرکتاب میں جمع کرتے، امام بخاری نے فرمایا کہ یہ بات میرے دل میں اسی وقت اثرکرگئی اوراسی وقت سے میں نے الجامع الصحیح کو جمع کرنا شروع کردیا۔‘‘
|          علامہ ابن حجرالعسقلانیa، محمد بن سلیمان بن فارسa کا قول نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے امام بخاریa سے سناہے کہ ایک مرتبہ میں نے خواب دیکھا کہ میں کھڑا ہوں‘ میرے ہاتھ میں پنکھا ہے اورمیں رسول پاک e کی ذات مبارک سے مکھیوں کو اڑاتاہوں‘ میں نے کسی تعبیر جاننے والے سے خواب کی تعبیر کے متعلق استفسار کیا، جواب ملا کہ تم رسول اکرمe کی طرف منسوب جھوٹی احادیث کو مٹاؤ گے، پس اسی خواب نے مجھے الجامع الصحیح کی ترتیب وتدوین کے لئے ابھارا۔
امام محمد بن اسماعیل البخاریؒ نے صحیح احادیث کی چھانٹ کرنے کے بعدانتہائی احترام سے احادیث کی تدوین شروع کی، محمد بن یوسف فربری روایت کرتے ہیں کہ محمد بن اسماعیل بخاریa نے فرمایا
[ماکتبت فی کتاب الصحیح حدیثاً إلا اغتسلت قبل ذلک وصلیت رکعتین۔]
یعنی ’’صحیح بخاری میں کوئی بھی حدیث لکھنے سے قبل میں ضرور غسل کرتا تھا اور دو رکعتیں نماز ادا کرتا تھا۔‘‘
|          ابوعلی غسانی کہتے ہیں کہ محمد بن اسماعیل بخاریؒ سے منقول ہے [أخرجت الصحیح من ستمائۃ الف حدیث] یعنی ’’میں نے الجامع الصحیح کو چھ لاکھ احادیث سے منتخب کیا۔‘‘ یعنی یوں سمجھئے کہ امام بخاریؒ نے چھ لاکھ احادیث کا نچوڑ امتِ مسلمہ کی رہنمائی کے لئے لکھ چھوڑا ہے۔
دوسری جگہ امام بخاریؒ فرماتے ہیں:
’’میں نے اس کتاب میں صرف صحیح احادیث کی تخریج کی ہے اورصحیح احادیث میں سے بھی بہت زیادہ چھوڑچکا ہوں۔‘‘
تمام صحیح احادیث کو ایک کتاب میں جمع کرنا ایک دشوار سی بات تھی کیونکہ اس طرح سے کتاب کا حجم اور بڑھ جاتا، اس قول سے معلوم ہوتاہے کہ صحیح بخاری میں درج شدہ احادیث کے علاوہ امام بخاریؒ کی شروط کے مطابق اوربھی صحیح احادیث موجود ہیں، جن کو امام صاحب طوالت کے خوف سے نہیں لائے‘ بعد میں ایسی ہی احادیث کا استدراک امام حاکم نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب المستدرک علی الصحیحین میں کیا ہے۔
محمد بن یوسف فربریؒ کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن ابوحاتم (کاتب البخاری) الوراق سے یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے محمد بن اسماعیل البخاریؒ کو خواب میں دیکھاکہ نبی پاک e کے پیچھے چل رہے ہیں اور نبی پاک e آگے تشریف لے جارہے ہیں جہاں نبی پاک e اپنا قدم مبارک رکھتے ہیں وہیں محمد بن اسماعیل بخاریa بھی اپنا قدم رکھتے ہیں۔ (ھدی الساری مقدمۃ فتح الباری)
صحیح بخاری کے عظیم مؤلف کا سلسلہ نسب یوں ہے:
’’ابوعبداللہ محمد بن اسماعیل بن ابراہیم بن مغیرہ بن بَردِ زبہ جعفی۔‘‘ (مقدمہ فتح الباری ص: ۵۰۱۔ تذکرۃ الحفاظ : ۴/۵۵۵)
آپ کے جد امجد بَردِ زبہ مسلمان نہیں ہوسکے تھے، یہ مجوسی المسلک تھے۔ امام بخاری اصلاً عربی نہیں بلکہ عجمی تھے‘ کتب سۃ کے تمام مصنفین عجمی ہیں سوائے امام مسلم کے۔
امام بخاریa کے پردادا مغیرہ سب سے پہلے حاکم بخارا یمان بن اخنس جعفی کے ہاتھ پر اسلام لائے پھران کے بیٹے ابراہیم مسلمان ہوئے۔
حافظ ابن حجرa ہدی الساری ص: ۵۰۱ میں فرماتے ہیں کہ مجھے ابراہیم کے حالات کا علم نہ ہوسکا، ان کے بیٹے کانام اسماعیل ہے جواپنے وقت کے عظیم محدث ہیں‘ آپ امام مالک اورحماد بن سلمہ کے شاگردوں میں سے تھے، اوربہت سے عراقیوں نے آپ سے سماع کیاہے، امام بخاریa کو یہ شرف حاصل ہے کہ آپ نجیب الطرفین ہیں‘ ان کے والد بھی محدث اوروالدہ بھی عابدہ زاہدہ اورشب بیدار تھیں۔ امام بخاریa ابھی صغر سنی میں تھے کہ والد کا انتقال ہوگیا اورانہوں نے یتیمی کی حالت میں والدہ کی گود میں پرورش پائی، امام بخاری جُعفی کی کنیت ابوعبداللہ اورلقب سید الفقہاء والمحدثین ہے۔ (ہدی الساری ص: ۵۰۷)
حافظ ابن حجرa نے تقریب التہذیب میں امام بخاریa کو ان القاب میں یادکیاہے:
[جبل الحفظ وإمام الدنیا، ثقۃ الحدیث۔]
’’ قوت حافظہ کے پہاڑ‘ دنیا بھرکے امام اورحدیث میں پختہ کار۔‘‘
ابتدائی علم انہوں نے اپنے علاقہ سے ہی حاصل کیا، آپ کے مشہور اساتذہ میں یحییٰ بن معین، امام احمد بن حنبل، مکی بن ابراہیم البلخی، محمد بن یوسف بیکندی، علی بن المدینی، ابوبکرالحمیدی وغیرہ ہیں۔
عبداللہ بن محمد مسندی امام بخاری کے استاد بھی ہیں اورشاگرد بھی کیونکہ آپ کا مشہور مقولہ ہے کہ کوئی انسان اس وقت تک محدث کامل نہیں بن سکتا جب تک وہ اپنے سے بڑے اورچھوٹے سے علم حاصل نہ کرلے۔
علی بن مدینی‘ امام بخاری کے عظیم شیخ ہیں جن کے بارے میں امام بخاری فرماتے ہیں:
[ما استصغرت بعمری عند احد إلا عند علی بن المدینی۔]
میں نے کبھی اپنے آپ کو کسی کے سامنے چھوٹا نہیں سمجھا لیکن جب علی بن مدینی کے سامنے بیٹھتا ہوں تومیں اپنے آپ کو بچہ ہی سمجھتا ہوں، جب علی بن مدینی کو یہ بات پہنچی توانہوں نے کہا کہ بخاری کی بات چھوڑیئے اس جیسا تودنیا جہاں میں کوئی موجود نہیں اوریہ دعا دی:
[ جعلک اللہ زینۃ ھذہ الأمۃ]
کہ ’’اللہ تجھے اس دنیا کی زینت بنائے‘‘ اوریہ دعا بارگاہ الٰہی میں قبول ہوئی۔ (ہدی الساری ص: ۵۰۸)
صحیح بخاری! محمد بن اسماعیل البخاری نے اپنی عظیم تالیف صحیح بخاری کو ۱۷-۲۱۶ھ میں لکھنا شروع کیا اوراس کا اختتام ۱۶ سال کے عرصہ میں ہوا، تالیف کے بعدامام بخاریa نے اس عظیم کتاب کو اپنے ان کبار شیوخ پرپیش کیا، امام احمد بن حنبل ، علی بن مدینی اوریحییٰ بن معین۔
امام احمد کا انتقال ۲۴۱ھ میں ہوا جبکہ علی بن مدینی اوریحییٰ بن معین کاانتقال ۲۳۴ھ میں ہوا، یہ اس امرکی دلیل ہے کہ ۲۳۴ھ سے پہلے صحیح بخاری مکمل ہوچکی تھی، آپ نے اپنے ان شیوخ پر جب صحیح بخاری کوپیش کیا تو فاستحسنوہ ان تمام محدثین نے اس عظیم کتاب کو بنظر استحسان دیکھا۔
کوئی چیز قابل اعتراض نہ تھی ما سوائے چار احادیث کے لیکن عقیلی فرماتے ہیں کہ ان چاراحادیث میں بھی امام بخاری کا موقف مضبوط تھا۔ یہی کتاب عرفِ عام میںبخاری شریف کے نام سے مشہور ہے۔ (ہدی الساری ص: ۹،تقریب التہذیب ابن حجر)
کتاب کا مکمل نام:
[الجامع الصحیح المسند من حدیث رسول اللہﷺ وسننہ وأیامہ]
یہ نام ابن حجرa نے الہدی الساری ص: ۱۰ میں ذکرکیاہے، اردو زبان میں اس کا ترجمہ یوں سمجھئے کہ ’’صورت اورسیرت کے اعتبارسے عکس نبویe کانام صحیح بخاری ہے۔‘‘ یہ ایسی عظیم کتاب ہے کہ اس کتاب کے بعددنیا میں اس جیسی کوئی کتاب تالیف نہ کرسکا اور نہ قیامت تک ایسی کتاب کی تالیف ہوگی کیونکہ اس کی صحت پرامت کا اجماع ہوچکاہے کہ کتاب اللہ کے بعدصحیح ترین کتاب صحیح بخاری ہے۔
مضت الدھور وماأتین بمثلہٖ
ولقد أتی فعجزن عن نظرائہ
زمانے گزرچکے ہیں لیکن آج تک صحیح بخاری جیسی تالیف معرضِ وجودمیں نہیں آسکی، صحیح بخاری کی اسناد ایسی ہیں کہ ان پربحث کی ضرورت نہیں۔ امام شوکانی بعض ائمہ سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ
[فکل رواتہ قد جازوا القنطرۃ وارتفعوا قیل وقال وصاروا أکبر من أن یتکلم فیھم بکلام أو بطعن طاعن أو توھین موھن۔]
’’بخاری کے تمام راوی پرکھ کے تمام پُل پارکرچکے ہیں اب ان میں طعن وتشنیع کی کوئی گنجائش نہیں۔‘‘
شاہ ولی اللہa حجۃ اللہ البالغۃ ص: ۱۳۴ میں فرماتے ہیں:
’’جوشخص بخاری اورمسلم کے راویوں میں کیڑے نکالتا ہے وہ شخص بدعتی اورمسلمانوں کے طریقہ سے خارج ہے۔ مشہورمؤلف ومؤرخ امام ابن خلدون ص: ۱۰۴۲ میں فرماتے ہیں کہ
[شرح صحیح البخاری دین علی ھذہ الأمۃ۔]
’’صحیح بخاری کی شرح امت کے ذمہ قرض ہے۔‘‘
ابوالخیر نے اپنی کتاب ’’التبرالمسبوق فی ذیل السلوک‘‘ میں لکھا ہے کہ ابن خلدون فتح الباری کی تالیف سے پہلے وفات پاگئے تھے، فتح الباری کی تالیف کے بعدآج اگر وہ دنیا میں زندہ ہوتے تو توفتح الباری کو دیکھ کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجاتیں اوروہ خوش ہوجاتے، کیونکہ اس کتاب کے ذریعے اُمت نے اس کی شرح کا حق اداکردیاہے۔
حافظ عبداللہ غازی پوری فرماتے ہیں کہ عین ممکن ہے کہ ابن خلدون کا مقصد یہ ہوکہ [یزیدک وجھہ حسنا اذا ما زادتہ نظراً۔] بخاری ایسی کتاب ہے جتنی دفعہ آپ اس کا مطالعہ کریں گے نئے نئے نکات سامنے آئیں گے۔
وہ استاد جس کی زندگی صحیح بخاری کی تدریس کرتے ہوئے گزرگئی جب وہ صحیح بخاری کو پڑھتا ہے توہرسال نئی نئی چیزیں اس کے سامنے آتی ہیں۔ اس عظیم کتاب میں ۹۷کتابیں اورچار ہزارسے زائد ابواب ہیں جبکہ مختلف ابواب سے ثابت ہونے والے مسائل تین ہزار سے زیادہ ہیں۔
جس ماحول میں امام صاحب پیداہوئے تھے اس میں طرح طرح کے فتنے موجودتھے، اہل رائے کے اقوال پورے ماحول میں منتشر تھے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ قاضی ابویوسف کوقرب سلطانی حاصل تھا‘ چنانچہ جتنے بھی قاضی مقررہوتے تھے وہ فقہ حنفی کے پیروکار ہوتے تھے‘ کسی مذہب کی اشاعت کا یہ سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اسی بناپر ابن حجرa نے کہا ہے:
[مذہبان فی مبدء أمرھا انتشر بالدولۃ والسلطان الحنفیۃ فی المشرق والمالکیۃ فی المغرب۔]
’’دومذاہب ایسے ہیں جو ابتداء میں حکومت اور اختیارات کے ذریعے پھیلے‘ مشرق میں حنفی مذہب اورمغرب میں مالکی مذہب۔‘‘
اسی زمانہ میں منکرین تقدیر، منکرین صفات الٰہی اورمنکرین عذاب قبر، معتزلہ، مجسمہ، رافضہ، امامیہ اورخوارج اپنے اپنے غلط نظریات کی اشاعت میں کمربستہ تھے، اسی ماحول میں امام بخاریa نے ۱۶ سال کے عرصہ میں اپنی یہ تالیف مکمل فرمائی اورجملہ فتنوں کا توڑکتاب وسنت کی روشنی میں پیش کیا۔ کمال کی بات یہ ہے کہ مخالف کانام لے کرصحیح بخاری میں اس کی تردید نہیں کی اورایساکمال بہت کم لوگوں کو حاصل ہوتاہے۔
مثال کے طورپر کتاب الایمان میں ستر دلائل کے ساتھ آپ نے مخالفین کی تردید فرمائی ہے:
[باب المعاصی من أمر الجاھلیۃ لا یکفر صاحبھا بارتکابھا إلا الشرک لقول النبیﷺ لأبی ذر إنک امرء فیک جاھلیۃ وقول اللہ تعالیٰ: {إن اللہ لایغفرأن یشرک بہ ویغفرمادون ذلک لمن یشاء}]
یعنی ’’باب اس کا کہ گناہ جاہلیت کی چیز ہیں لیکن ان کا مرتکب کافرنہیں کہاجاسکتا جب تک شرک نہ کرے، نبی کریمe کا ایک صحابی کو فرمانا کہ تم ایسے آدمی ہوکہ تم میں اب تک جاہلیت کی بات باقی ہے اور اللہ تعالیٰ کا فرمانا کہ اللہ سب گناہ معاف کرے گا لیکن شرک نہیں معاف کرے گا۔‘‘
ان دونوں باتوں سے معلوم ہواکہ گناہوں کے ارتکاب سے آدمی کا فر نہیں ہوسکتا۔
اس باب سے امام بخاری رحمہ اللہ کا مقصود ان لوگوں کی تردید کرنا ہے جو مرتکب کبیرہ کوکافر قراردیتے ہیں، اوروہ ہیں خوارج جبکہ انجام کار کے اعتبارسے معتزلہ بھی ان کے ساتھ شریک ہیں۔
دوسراباب:
[الکفر دون الکفر] اسی طرح [الظلم دون الظلم] اس باب سے مقصود یہ ہے کہ اطاعت کے ذریعے ایمان میں اضافہ اورمعاصی کے ذریعہ اس میں کمی ہوتی ہے، یہاں ان لوگوں کی تردید مقصود ہے جوکہتے ہیں کہ ایمان کے ساتھ معصیت نقصان دہ نہیں اوروہ ہیں فرقہ مرجئہ۔ اسی طرح باب ہے:
{وإن طائفتان من المؤمنین اقتتلوا فاصلحوا بینھما} فسماھم المؤمنین
یعنی ’’اگر دو جماعتیں ایمان والوں کی لڑپڑیں توان میں صلح کرادو۔‘‘ … تواللہ تعالیٰ نے باوجود لڑنے کے مومن کہا۔
اس سے معلوم ہواکہ گناہ سے آدمی کافرنہیں ہوتا، اس باب سے ان لوگوں کی تردید مقصود ہے جومرتکب کبیرہ کی تکفیر کے قائل ہیں۔ ان تمام باتوں کا ماحصل یہ ہے کہ صحیح بخاری ایک عظیم خزانہ ہے جس میں تقریباً پچپن علوم کو سمودیاگیا ہے۔ اس سے امام بخاریa کی ذہانت وفطانت کااظہار ہوتا ہے اوراسی بناپر ان کی اس عظیم تالیف کو امت میں عظیم ترین مقام ومرتبہ حاصل ہے۔
بخاری کامروجہ نسخہ امام فربری کی روایت سے ہے، محمد بن یوسف بن مطر بن صالح بن بشرالفربری نسبت ہے مقام فربرکی طرف جوکہ بخار ا میں دریائے جیحون کے کنارے واقع ہے۔
امام فربریa کا سن ولادت ۲۳۱ھ اوروفات ۳۳۰ھ ہے۔ انہوں نے امام بخاری سے صحیح بخاری دوبار پڑھی تھی۔ ایک دفعہ ۲۴۸ھ میں فربر میں اوردوبارہ بخارا میں ۲۵۲ھ میں اوراس کے چارسال بعدامام صاحب کا انتقال ہوگیا۔
امام فربریؒ نے کہا کہ اس وقت بخاری کے شاگردوں میں سے روئے زمین پرمیرے سواکوئی نہیں تھا، لیکن انکایہ کہنا درست نہیں۔
حافظ ابن حجرa ہدی الساری مقدمہ فتح الباری ص: ۵۱۶ میں فرمایا کہ ابوطلحہ منصور کا انتقال فربری کے ۹سال بعد ہوا ہے۔
امام المحدثین کے تلامذہ کاسلسلہ غیرمحدود ہے، دنیائے اسلام کاکوئی حصہ ایسانہیں جہاں آپ کے تلامذہ کا اثرسلسلہ بہ سلسلہ نہ پہنچا ہو۔ امام فربری کہتے ہیں کہ امام المحدثین سے بلاواسطہ نوے ہزار محدثین نے صرف صحیح بخاری سنی (مقدمہ فتح الباری ص: ۵۱۶) اور ان کے اساتذہ کی تعداد ایک ہزار اسی ہے۔ حافظ ابن حجرa عسقلانی نے خود امام صاحب کا قول نقل کیا ہے:
[کتبت عن الف وثمانین نفساً]
یعنی ’’میں نے ایک ہزار اسی شیوخ سے روایتیں لکھی ہیں۔‘‘
اور صرف انہی شیوخ سے حدیثیں لکھی ہیں جو ایمان کے گھٹنے بڑھنے کے قائل تھے اوراعمال کوجزء ایمان کہتے تھے۔(مقدمۃ فتح الباری ص: ۵۰۳) 

No comments:

Post a Comment