پاک سعودی لا زوال دوستی 09-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, June 22, 2019

پاک سعودی لا زوال دوستی 09-2019


پاک سعودی لا زوال دوستی

تحریر: جناب رانا محمد شفیق خاں پسروری
کسی بھی غیر ملکی سربراہِ مملکت یا ذمہ دار کا پاکستان تشریف لانا خوشی کا باعث اور اہمیت کا حامل ہوتا ہے،مگر کسی سعودی حکمران یا صاحب عزت و احترام کی آمد، خوشیوں کو دوبالا و سہہ بالا کر دیتی ہے۔ اب کے بار شہزادہ محمد بن سلمان کی آمد کئی حوالوں سے جوش و خروش کا باعث بنی۔ ایک تو حجازِ مقدس(مکہ و مدینہ)سے عقیدت و محبت کہ مرکزِ ایمان و یقین اور ارض حُب و تقدس ہے، ہر ہر پاکستانی کا دِل کھنچ کھنچ جاتا ہے، جو اس ارضِ مقدس اور مبارک شہروں کی زیارت نہیں کر پاتے وہ ہر ہر لمحہ زیارت کو بلکتے اور سسکتے ہیں اور جو خوش نصیب زیارت کر چکے ہیں،وہ پھر سے زیارت کرنے کو تڑپتے ہی تڑپتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ سعودی عرب حقیقتاً و واقعتا پاکستان کا سب سے بڑا محسن ہے۔
ایسا محسن کہ جس نے قیام پاکستان کے بعد سب سے پہلے پاکستان کو تسلیم کرنے سے لے کر، آج تک ہر ہر مرحلے پر پاکستان کی حمایت و اعانت کی۔۔۔ کوئی کٹھن سے کٹھن موقع اور مشکل سے مشکل مقام ہی کیوں نہ ہو،سعودی عرب کندھے سے کندھا ملا کر ایک مخلص دوست اور بھائی کی طرح کھڑا نظر آیا۔ کوئی آسمانی آفت ہو یا زمینی مصیبت، زلزلے ہوں یا سیلاب، جنگی صعوبتیں ہوں یا دشمنوں کی چالیں، سعودی عرب نے اخلاص و ایثار ہی کا مظاہرہ کیا۔ پاکستان کے نازک ترین ادوار میں، ایک سعودی عرب ہی تو تھا جو مضبوط سہارا فراہم کئے ہوئے تھا۔ جب پاکستان نے چھ ایٹمی دھماکے کئے اور امریکہ سمیت دُنیا بھر کے ممالک پاکستان پر معاشی پابندیاں لگانے پر تُلے ہوئے تھے، سعودی عرب نے تسلی دی تھی اور کئی سال تک مفت تیل دینے پر نہ صرف آمادہ ہوا،بلکہ فراہم بھی کرتا رہا۔
۱۹۷۱ء میں جب پاکستان دو لخت ہوا تو سعودی عرب کا بوڑھا شاہ فیصل(شہید)تھا جو دھاڑیں مار مار کر رو دیا تھا اور جس نے روتے ہوئے کہا تھا: آج میرے بیٹے کو قتل کر دیا جاتا، مجھے اتنا غم نہ ہوتا، جتنا اسلام کے قلعے پاکستان کے دو ٹکڑے ہونے کا ہوا ہے۔۔۔ سابق شاہ عبداللہ مرحوم پاکستان تشریف لائے تو لاہور کے شالیمار باغ میں اپنے اعزاز میں دیئے گئے استقبالیہ میں خطاب کرتے ہوئے تاریخی الفاظ کہے تھے کہ ’’سعودی عرب اور پاکستان کی دوستی، سمندروں سے گہری، پہاڑوں سے زیادہ مضبوط اور آسمانوں کی طرح بلند ہے۔‘‘ ۔۔۔ صرف شاہ عبداللہ ہی نہیں ہر سعودی حکمران نے کھل کر اور واضح الفاظ میں ہمیشہ پاکستان کو اپنا دوسرا گھر ہی قرار دیا اور اس کی خوشی کو اپنی خوشی اور اس کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھا۔
پاکستان نے ایٹمی دھماکے کئے تو اس صلاحیت کو سعودی عرب کے عوام اور خواص نے اپنی طاقت جانتے ہوئے والہانہ نعرہ ہائے تحسین بلند کئے اور ایک دوسرے کو مبارکبادیں دی تھیں۔پاکستان کی تاریخ کا ہولناک ترین زلزلہ آیا، جس نے پورے ملک بالخصوص کشمیر و سرحد (خیبرپختونخوا) میں تباہیوں اور تباہ کاریوں کی اَن مٹ، خوف ناک تاریخ لکھ دی، اس تباہ کن مصیبت میں جو سب سے بڑھ کر اور سب سے پہلے مدد کو آیا، وہ سعودی عرب ہی تھا،جس نے اپنے خزانوں کے منہ کھول دیئے تھے اور جس کے بعض افراد نے تنہا، کئی کئی ممالک سے زیادہ رقوم فراہم کی تھیں۔پاکستان سے تعاون اور مشکل حالات میں امداد کی اَن گنت مثالیں ہیں جو پاک سعودیہ دوستی اور محبت کو لازوال بناتی ہیں۔ ایک طرف سعودی عرب کا مثالی اخلاص و ایثار ہے تو دوسری طرف علاقائی و بین الاقوامی مشاجرات و سیاست کا شاخسانہ کہ پاکستان کے بعض حلقوں اور طبقات میں، سعودی عرب کے بارے میں ناگفتہ و ناروا فضا پیدا کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں،حالانکہ ملک و ملت کے وسیع تناظر میں ہمیں ہر حال میں اپنے مخلص دوست اور محسن ملک کی تحسین ہی کرنی چاہیے۔
اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ پاکستان کی غالب ترین اکثریت حجازِ مقدس کی سرزمین سعودی عرب سے محبت کرتی اور اس کے حکمرانوں کو عزت و تکریم سے نوازتی رہی ہے،مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے بعض عناصر(بہت کم ہونے کے باوجود)شکوک وشبہات اُبھار رہے ہیں۔ان کا پروپیگنڈا، بعض اوقات عوامی ذہنوں کو متاثر بھی کرتا ہے۔ خصوصاً جب سادہ لوح لوگ پریشان ہوتے ہیں یا سعودی عرب میں کام کرنے والوں کی زبانی، نچلی سطح کے بعض عرب افراد کے رویوں کی کہانیاں سنتے ہیں۔ضرورت ہے کہ وہ افراد،جن کی سعودی زعماء تک پہنچ ہے یا جن سے سعودی زعماء ملتے ملاتے ہیں،وہ اپنا کردار بخوبی نبھائیں، متاثرہ پاکستانیوں کے تحفظات دور کرنے کا سامان کریں اور دونوں برادر ممالک کے باہمی تعلقات کے خلاف پروپیگنڈے کا منطقی توڑ کرنے کے لئے اپنا کردار نبھائیں۔ ایک بات سعودی زعماء پر واضح ہونی چاہئے کہ پاکستان کے رہنے والے،ان سے جو قلبی محبت و عقیدت رکھتے ہیں، وہ بے غرض اور بے لوث بنیادوں پر ہے۔ اس میں کسی ایسے شخص کا قطعاً کوئی ہاتھ نہیں جو محبت کے مظاہر دکھا کر اپنا اُلو سیدھا کرنا اور ذاتی مفاد حاصل کرنا چاہتا ہے (آئے روز، ایسے بعض عجوبوں کے قصے سننے میں آتے رہتے ہیں)۔۔۔شہزادہ محمد بن سلمان کی اپنی شخصیت کئی حوالوں سے منفرد اور متعجب کر دینے والی ہے، وہ ایک پُرعزم جوان قائد کی حیثیت سے اُبھرے ہیں اور جس انداز سے انہوں نے پاکستان کے لئے بہترین معاشی پیکیج دینے کا عندیہ دیا ہے، اس سے اُن کے لئے ہر محب وطن پاکستانی جھوم جھوم اُٹھا اور واقعتا دیدہ و دِل فرشِ راہ، انہیں اھلاً و سھلاً کے نعروں سے خوش آمدید کہا اور والہانہ استقبال کیا۔

No comments:

Post a Comment

Pages