شفاعت کا اسلامی عقیدہ 10-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, June 22, 2019

شفاعت کا اسلامی عقیدہ 10-2019


شفاعت کا اسلامی عقیدہ

تحریر: جناب ڈاکٹر سعید احمد
عامۃ الناس مسلمانوں میں شفاعت کا یہ عقیدہ عام ہے کہ اس دارالعمل۔دنیا۔ کے بعد دارالجزاء ۔آخرت۔ میں جب لوگوں کا حساب کتاب ہوگا اس دن رسول اکرمe اپنے گنہگار اورمعصیت کار امتیوں کو اوربزرگان دین، صلحائے امت اورپیرومرشد اپنے خطاکار پیروکاروں اور مریدوں کواللہ سے سفارش کرکے عذاب اورسزاسے بچالیں گے۔ بلکہ تصوف کی کتابوں میں تویہاں تک لکھا ہوا ملتا ہے کہ جب حساب کتاب کے موقع پر بزرگانِ دین اورمرشدوں اورپیروں کی بخشش کااعلان کردیاجائے گا اورفرشتوں کوحکم ہوگا کہ ان کو ان کے حسبِ مراتب جنتوں میں داخل کردیں تووہ اس وقت تک جنت میں اپنے گھروں میں جانے سے انکار کردیں گے جب تک کہ ان کے پیروکاروں اورمریدوں کے حق میں بھی وہی فیصلہ نہیں کردیاجائے گا اورجس طرح وہ اس دنیا میں ان کے ساتھ تھے اسی طرح ان کوجنت میں بھی ان کی معیت کا حق نہیں دے دیاجائے گا۔
شفاعت کا یہ تصور کتاب وسنت سے مأخوذ اسلامی عقیدہ نہ ہونے کے باوجود مسلمانوں میں عام ہے اوران کی گمراہی کا بہت بڑا سبب بناہوا ہے۔ اس مسئلے میں صحیح اسلامی عقیدہ جاننے سے پہلے ہمارے لئے چند نہایت اہم اوربنیادی باتوں کا جان لینا ضروری ہے۔
\          رسول اکرمe سے پہلے مبعوث ہونے والے انبیاء اوررسولوں کا عمومی طورپر اور نبیe کا خصوصی طورپر اپنی امت کے بعض خطاکاروں کے لئے اللہ تعالیٰ سے شفاعت اورسفارش کرنااللہ کی کتاب اوراس کے رسولe کی حدیثوں سے ثابت ہے اور یہ اسلامی عقیدہ کا ایک حصہ ہے، لیکن یہ شفاعت اللہ تعالیٰ پران کا حق نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے ان کی تکریم اوراس کے فضل وانعام سے عبارت ہے۔
\          کتاب وسنت میں اللہ کے نبیوں اوررسولوں کے علاوہ اس کے نیک اورصالح بندوں کو بھی اس تکریم اورانعام سے نوازے جانے کی خبردی گئی ہے۔
\          اللہ کے جن گنہگاراورخطا کاربندوں کو ان کے نبیوں، رسولوں اورنیک وصالح لوگوں کی شفاعت سے سرفراز کیاجائے گا ان کے لئے مؤحد ہوناشرط ہے، کسی بھی درجے میں کسی شرک کامرتکب اس حق کا مستحق نہیں ہوگا، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا اٹل فیصلہ ہے کہ مشرک کی بخشش نہیں۔
\          نبیوں اوررسولوں کے علاوہ ہرامت کے ان نیک اورصالح لوگوں کا تعین خوداللہ تعالیٰ کرے گا جن کو شفاعت کرنے کی اجازت دی جائے گی، ہرکوئی اپنے آپ کسی بھی شخص کے حق میں شفاعت کرنے کا مجازنہیں ہوگا، اسی طرح وہ اپنے علم اور معرفت کی روشنی میں کسی بھی انسان کی شفاعت کے لئے منہ کھولنے کاحق دار بھی نہ ہوگا بلکہ خود اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا تعین کرے گا جن کے حق میں اسے سفارش کی اجازت دی جائے گی۔
شفاعت سے متعلق اوپر جن اہم اوربنیادی باتوں کاتذکرہ کیاگیا ہے، وہ قرآن پاک اور ارشادات رسولe میں پوری تفصیل سے بیان کردی گئی ہیں، چنانچہ آیۃ الکرسی میں ارشاد الٰہی ہے:
{مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗٓ اِلَّا بِاِذْنِہٖ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ}
’’کون ہے جواس کی جناب میں اس کی اجازت کے بغیرشفاعت کرسکے وہ توجانتا ہے جوکچھ لوگوں کے سامنے ہے اورجوکچھ ان کے پیچھے ہے۔‘‘
آیت کے آخری فقرے سے ضمناً یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ کسی شخص کے حق میں شفاعت اورسفارش کرنے والے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اس کے عقیدے اورعمل کے بارے میں مکمل علم رکھتا ہو، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ علم صرف اللہ تعالیٰ کوحاصل ہے اوراس کے بندوں میں سے کوئی بھی اس علم سے موصوف نہیں، حتی کہ اس کے برگزیدہ بندے اور آخری رسول محمدe کوبھی یہ علم حاصل نہیں تھا، جیساکہ حوض کوثر کی حدیث سے بصراحت معلوم ہوتاہے، سیدنا عبداللہ بن مسعودe سے روایت ہے کہ نبیe نے فرمایا:
’’میں حوض کوثر پرتمہارا پیش روہوں گا، تم میں سے کچھ لوگوں کواٹھایاجائے گا پھرمجھ سے دور کردیا جائے گا، تومیں عرض کروں گا: اے میرے رب! یہ تومیرے اصحاب ہیں ،جواب دیاجائے گا: تجھے نہیں معلوم کہ تیرے بعد انہوں نے کیاکیا نئی چیزیں دین میں داخل کردی تھیں۔‘‘ (بخاری ومسلم)
اس مضمون کی حامل بکثرت روایات حدیث کی مستند کتابوں میں منقول ہیں جن میں سے بعض میں یہ صراحت ہے کہ رسول اللہe وضوکے روشن نشانات سے اپنی امت کے افراد کوپہچان لیں گے اوران کو کوثر سے بھرے پیالے پیش کرنے کاارادہ ہی کریں گے کہ فرشتے آپ کے اوران کے درمیان حائل ہوجائیں گے اورآپ کو خبردیں گے کہ انہوں نے آپ کے بعد آپ کے دین کوبدل ڈالا‘ اس پر رسول اللہe فرمائیں گے: ’’جنہوں نے میرے دین کو بدل ڈالا ان کو دور ہٹاؤ۔‘‘
اسلام سے نسبت کا دعوی کرنے والوں کی ایک بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو غیر اللہ کی عبادت کرتی ہے اوراللہ تعالیٰ کو چھوڑکر یا اس کے ساتھ اولیاء اللہ اوربزرگان دین سے استعانت کرتی ہے اوراس خودفریبی میں مبتلا ہے کہ یہ اللہ کے ہاں بڑا اثرورسوخ رکھتے ہیں، یہ اللہ کے چہیتے اور مقرب بندے ہیں، قیامت کے دن یہ ان کو بحشوا لیں گے اورجنت میں داخل کرواکے ہی چھوڑیں گے، ایسے فریب خوردہ لوگوں کو قرآن پاک کی اُن آیات پرایک نظرڈال لینی چاہیے جن میں روزقیامت کی ہولناکیاں بیان کی گئی ہیں:
’’جودن بچوں کو بوڑھا بنادے گا۔‘‘ (المزمل)
’’جس دن کسی کو بات کرنے کی مجال نہ ہوگی۔‘‘ (ہود)
’’اورجس دن آدمی اپنے بھائی اوراپنی ماں اور اپنے باپ اوراپنی بیوی اوراپنی اولاد سے بھاگے گا۔‘‘ (عبس)
اس دن اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی متنفس زبان تک نہ کھول سکے گا، سب کواپنی پڑی ہوگی ۔
اوپر جوکچھ عرض کیاگیا ہے اس کا مقصد شفاعت کا عمومی طورپر اوررسول اللہe کی شفاعت کا خصوصی طورپر انکارنہیں،کیونکہ یہ شفاعت عقیدہ میں داخل ہے اورہمارے اسلاف نہ صرف رسول اکرمe بلکہ دیگرانبیاء ، ملائکہ اورمومنین کی شفاعت پرمتفق رہے ہیں، ہم جوکچھ عرض کرنا چاہتے ہیں، وہ صرف یہ ہے کہ شفاعت کسی کا ذاتی استحقاق نہیں، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کی تکریم ہے اورقیامت کے دن کوئی بھی اللہ کے اذن کے بغیر کسی کے لئے شفاعت نہیں کرسکتا، اس حکم سے رسول اکرمe بھی مستثنیٰ نہیں ہیں، اس مسئلے میں نبیe کوجوامتیازی خصوصیت حاصل ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام انبیاء اوررسولوں میں صرف نبیe کواس شفاعت سے سرفراز فرمائے گا جو آپ اللہ تعالیٰ سے لوگوں کاجلد ازجلد حساب کتاب کرکے ان کو حشرکی ہولناکیوں سے نجات دینے کے لئے کریں گے،قرآن پاک میں اس شفاعت کومقام محمود سے تعبیرکیاگیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے:
’’اور رات کے ایک حصہ میں تہجد پڑھو جوتمہارے لئے نفل ہے‘ قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں قابل تعریف مقام پر کھڑا کرے۔‘‘ (الاسراء)
یہی وہ مقام محمود ہے جس کے لئے ہم اذان کے بعدکی جانے والی دعائے ماثورہ میں اللہ تعالیٰ سے آپ کے لئے درخواست کرتے ہیں، جیساکہ سیدنا جابربن عبداللہw سے روایت ہے کہ
رسول اللہe نے فرمایا ہے: جوشخص اذان سننے کے وقت کہے: [اللھم ربّ ھذہ الدعوۃ التأمۃ والصلاۃ القائمۃ، آت محمد اً الوسیلۃ والفضیلۃ وابعثہ مقاماً محموداً الذی وعدتہ] ’’اے اللہ! جواس مکمل دعا اوراس قائم ہونے والی نماز کا رب ہے تومحمدe کو وسیلہ اورفضیلت عطافرما اورجس مقام محمود کا تونے ان سے وعدہ کیاہے اس پرسرفراز فرما۔‘‘ توقیامت کے دن اس کے لئے میری شفاعت واجب ہوجائے گی۔ (بخاری )
واضح رہے کہ مذکورہ بالاحدیث میں جس وسیلہ کاذکرآیا ہے اس سے مراد جنت کاایک خاص درجہ ہے، جیساکہ سیدنا عبداللہ بن عمروبن عاصw سے مروی حدیث میں اس کی صراحت ہے،کہتے ہیں کہ انہوں نے نبیe کوفرماتے ہوئے سنا کہ
’’جب تم مؤذن کوسنوتوتم بھی وہی کہوجووہ کہتا ہے،پھرمیرے اوپردرود پڑھو، کیونکہ جوکوئی میرے اوپرایک بار درود پڑھے گا اللہ اس کے بدلے اس پر ۱۰ رحمتیں نازل فرمائے گا، پھرتم میرے لئے اللہ سے وسیلہ مانگو، جوجنت میں ایک درجہ ہے اور وہ اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک بندے کے لئے مناسب ہے اورمجھے یہی امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی ہوں، اورجس نے میرے لئے وسیلہ مانگا اس کے لئے میری شفاعت واجب ہوجائے گی۔‘‘ (مسلم )
قرآن پاک اورحدیث میں نبیe کے جس مقام محمود کا ذکرآیا ہے اس پرآپ خود سرفراز نہیں ہوجائیں گے اورنہ وہ شفاعت خود کرنے لگیں گے، بلکہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس پرسرفراز فرمائے گا اوراس کی اجازت سے آپ وہ شفاعت کریں گے۔ چنانچہ متعدد احادیث میں اس مقام محمود یاشفاعت کی جوتفصیلات بیان ہوئی ہیں ان کا خلاصہ درج ذیل ہے:
’’قیامت کے دن تمام خلقت ایک ایک کرکے ہرنبی سے شفاعت کی درخواست کرے گی، مگرسب پراللہ تعالیٰ کا اس قدرخوف طاری ہوگا کہ وہ اللہ سے کچھ عرض کرنے سے معذرت کردیں گے، آخرمیں لوگ رسول اللہe کی خدمت میں حاضرہوں گے، اورآپ سے درخواست کریں گے کہ آپ اللہ تعالیٰ سے دعافرمائیں کہ وہ ان کا حساب کتاب کرکے ان کو اس ہولناک مصیبت سے نجات دے، رحمۃ للعالمین فداہ ابی وامیe تیارہوجائیں گے، آپ اللہ تعالیٰ سے اذنِ باریابی طلب فرمائیں گے اورجب آپ کواذن مل جائے گا توآپ اپنے رب کو دیکھتے ہی سجدے میں گرجائیں گے اورجب تک آپ کا رب چاہے گا آپ سجدے میں پڑے رہیں گے، پھراللہ تعالیٰ آپ سے فرمائے گا، محمد! سراٹھاؤ اورجوکہنا ہے کہو، تمہاری بات سنی جائے گی، تم شفاعت کروتمہاری شفاعت قبول کی جائے گی، اورتم مانگوتم کو عطاکیاجائے گا۔ نبی اکرمe فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ میرے دل میں اپنی حمدوثنا کے ایسے کلمات ڈال دے گا جومجھے اس وقت معلوم نہیں ہیں ،اورمیں انہی الہامی کلمات کے ذریعہ اپنے رب کی حمدوثنا بیان کروں گا۔‘‘ (بخاری ،مسلم)
اس نہایت واضح حدیث سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ رسول اللہe اللہ تعالیٰ کے اذن کے بعدہی شفاعت کے لئے کہیں گے۔
اوپر جوکچھ عرض کیاگیا ہے اس کا تعلق شفاعت کبری یامقام محمود سے ہے، رہی گنہگار مومنین کی بخشش کے لئے نبی اکرمe کی شفاعت، تویہ بدرجہ اولیٰ اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر نہیں ہوسکتی، کیونکہ براہ راست اوربلااجازت شفاعت اورسفارش اللہ تعالیٰ کے فیصلوں میں مداخلت سے عبارت ہے، اورایسا اعتقاد شرک ہے، جومشرکین رکھتے تھے۔ ان کا دعویٰ تھاکہ وہ اللہ کے ساتھ جن معبودوں کی عبادت کرتے ہیں وہ قیامت کے دن ان کے لئے شفاعت کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب عزیز میں ان کے اس اعتقاد کوباطل قراردیاہے، اوریہ بتایا ہے کہ اس کے ہاں کسی بھی شخص کوشفاعت کاحق اور اختیار حاصل نہیں چاہے وہ نبی ہو یاولی۔
آخرت سے متعلق ایک اورنہایت اہم بات ذہن میں تازہ رکھنی چاہیے اوروہ یہ کہ اس عالم الاسباب اوردارالجزاء میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو امتحان اور آزمائش کے طورپر جو اختیارات دے رکھے ہیں وہ سب آخرت میں لے لئے جائیں گے۔ قرآن پاک میں حشرکا نقشہ کھینچتے ہوئے فرمایاگیا ہے:
’’جس دن سب لوگ ظاہر ہوجائیں گے اوراللہ پران کی کوئی بات چھپی ہوئی نہ ہوگی، آج بادشاہی اوراقتدار کس کاہے؟ ایک اللہ کے لئے جوسب پرغالب ہے‘ آج ہرمتنفس کواس کی کمائی کا بدلہ دیاجائے گا، آج ظلم کاکوئی وجود نہیں ہوگا ،بیشک اللہ حساب لینے میں بہت تیز ہے۔‘‘ (المؤمن)
سورۃ الزمرمیں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’لوگوں نے اللہ کی ویسی قدرنہ کی جیسی قدراس کا حق تھی، قیامت کے دن پوری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اورآسمان اس کے دست راست میں لپٹے ہوئے ہوں گے، پاک اوربالا ترہے وہ اس شرک سے جولوگ کرتے ہیں۔‘‘
سیدنا ابوہریرہt سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہe کوفرماتے ہوئے سناہے کہ اللہ زمین کواپنی مٹھی میں لے لے گا اورآسمانوں کواپنے داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا، پھرفرمائے گا کہ میں بادشاہ ہوں‘ کہاں ہیں زمین کے بادشاہ؟ (بخاری ،مسلم)
سورۃ الزمر کی مذکورہ بالا آیت مبارکہ کی تفسیر میں سیدنا عبداللہ بن عمرw سے جوحدیث مروی ہے اس میں وہ فرماتے ہیں:
رسول اللہe نے منبرپریہ آیت تلاوت فرمائی، اورفرمایا: ’’اللہ فرمائے گا! میں ہوں جبار،میں ہوں متکبر،میں ہوں بادشاہ، میں ہوں بلند وبالا، وہ یہ اپنی ذات کی بڑائی بیان کرتے ہوئے فرمائے گا اوررسول اللہe مسلسل یہ دہراتے رہے یہاں تک کہ منبرآپ کو لے کر لرزنے لگا اورہمیں یہ گمان ہونے لگا کہ وہ آپ کو لے کرگرپڑے گا۔‘‘ (مسندامام احمد )
قرآن پاک کی مذکورہ بالا آیات مبارکہ اور احادیث شریفہ کی روشنی میں قیامت کے دن کی ہولناکی کو چشم تصورسے دیکھئے اورپھر ان لوگوں کے دعوؤں پر غور کیجئے جویہ کہہ کرلوگوں کوگمراہ کررہے ہیں کہ بزرگان دین عموماً اورنبی اکرمe خصوصاً تمام گنہگاروں اورمعصیت کاروں کو ایک ایک کرکے بخشوالیں گے۔
دراصل قرآن اورحدیث میں شفاعت کا جوتصور دیاگیا ہے وہ یہ ہے کہ جہاں یہ شفاعت اللہ تعالیٰ کے اذن سے ہوگی وہیں اس گنہگار کے حق میں ہوگی جومؤحد ہوگا اورجس کا عقیدہ شرک کی ہرطرح کی آلائش اورآمیزش سے پاک ہوگا۔ جیساکہ سیدنا ابوہریرہt کی حدیث میں صراحت ہے، انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! لوگوں میں آپ کی شفاعت سے کون بہرہ مندہوگا؟ فرمایا: میری شفاعت سے وہ بہرہ مند ہوگا جس نے اس طرح لاإلٰہ إلا اللہ کہا ہوگا کہ اس کا دل اس عقیدے میں شرک سے پاک ہوگا۔(بخاری)
جب یہ بات معلوم ہوگئی کہ قیامت کے دن کوئی بھی اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیرشفاعت نہیں کرسکے گا بلکہ جس کواللہ اجازت دے گا اورجس کے حق میں اجازت دے گا وہی کرسکے گا اورصرف اسی کے حق میں کرے گا جس کے لئے اجازت دی جائے گی،ایسی صورت میں اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی جائے کہ اے اللہ! توقیامت کے دن اپنے محبوب رسولe اوربندے کی شفاعت کا مجھے مستحق بنائیو!۔

No comments:

Post a Comment