خطبہ حرم 10-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, June 22, 2019

خطبہ حرم 10-2019


جب وقت نزع آ جائے

امام الحرم المکی فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر صالح بن حمید d
17 جمادی الثانی 1440ھ بمطابق  22 فروری  2019ء
حمد و ثناء کے بعد!
لوگو! میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔ اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! اللہ سے ڈرتے رہو۔ سچائی کی راہ اپناؤ۔ کیونکہ انسان سچ بولتا رہتا ہے اور سچائی پر قائم رہنے کی کوشش میں رہتا ہے یہاں تک کہ اسے اللہ کے یہاں سچے لوگوں میں لکھ دیا جاتا ہے۔ جھوٹ سے بری چیز کوئی نہیں، کیونکہ انسان جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ پر قائم رہتا ہے، یہاں تک کہ اللہ کے یہاں اسے جھوٹے لوگوں میں لکھ دیا جاتا ہے۔
دل کی سلامتی تو ایسی نعمت ہے جسے جنت کی عظیم نعمتوں میں شمار کیا گیا ہے۔
{وَنَزَعْنَا مَا فِی صُدُورِہِم مِّنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَیٰ سُرُرٍ مُّتَقَابِلِینَ} (الحجر: ۴۷)
’’اُن کے دلوں میں جو تھوڑی بہت رنجش ہوگی اسے ہم نکال دیں گے، وہ آپس میں بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے تختوں پر بیٹھیں گے۔‘‘
یہ بھی ایک مصیبت ہے کہ انسان ایسی لڑائیوں اور جھگڑوں میں لگا رہے۔ اللہ تیری نگہبانی فرمائے! لوگوں کو معاف کرتے رہنا، ان کی غلطیوں سے درگزر کرتے رہنا، بھلا گمان رکھنا۔ جس کی کسی غلطی کا عذرنہ بھی مل سکے، اس کے متعلق بھی یہی کہہ دیا کرو کہ ہو سکتا ہے اس کی کوئی مجبوری ہو۔
{وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلَا السَّیِّئَۃُ  ادْفَعْ بِالَّتِی ہِیَ اَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِی بَیْنَکَ وَبَیْنَہُ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیمٌ وَمَا یُلَقَّاہَا إِلَّا الَّذِینَ صَبَرُوا وَمَا یُلَقَّاہَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِیمٍ} (فصلت: ۳۴-۳۵)
’’نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں تم بدی کو اُس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو‘ تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے۔ یہ صفت نصیب نہیں ہوتی مگر اُن لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں، اور یہ مقام حاصل نہیں ہوتا مگر اُن لوگوں کو جو بڑے نصیبے والے ہیں۔‘‘
اے مسلمانو! اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم ترین نعمت بھی ہے کہ وہ انسان کو زندہ دل عطا فرما دے، جس کی بدولت وہ بیدار ہو جائے، متنبہ ہو جائے اور اِس زندگی کے احوال، بدلتے حالات اور اس کے اتار چڑھاؤ کو خوب سمجھ لے۔ انسان کی زندگی ایسے مواقع سے بھری پڑی ہے جن سے عبرت پکڑی جا سکتی ہے اور سبق حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس میں ایسی تبدیلیاں آتی ہیں جن میں سے ہر ایک دوسری سے بڑی ہوتی ہے۔ جب بڑی مصیبت آتی ہے تو ہلکی مصیبت بھول جاتی ہیں۔ مگر ایک موقع ایسا بھی ہے جس کے متعلق انسان بہت کم غور وفکر کرتا ہے، اور اگر غور وفکر کرتا بھی ہے تو ویسے نہیں جیسے غور وفکر کرنے کا حق ہے۔ اس موقع کی تصویر کشی علامہ ابن الجوزی علیہ رحمۃ اللہ یوں کرتے ہیں:
دلچسب بات یہ ہے کہ موت کے فوراً بعد انسان کو ہوش آجاتی ہے۔ جب انسان اللہ کے رحم کے مرہون منت ہو جاتا ہے تو وہ ہوش میں آتا ہے، ایسی ہوش میں آتا ہے، جس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا، اتنا بے چین ہوتا ہے جس کا وصف نہیں کیا جا سکتا۔ گزرے وقت کو پھر سے پانے کی تمنا کرتا ہے، تمنا کرتا ہے کہ اسے تھوڑی مہلت مل جائے، تاکہ وہ کوتاہیوں کا تدارک کر لے اور موت پر یقین رکھتے ہوئے پوری سچائی کے ساتھ توبہ کر لے۔
پھر ابن الجوزیa فرماتے ہیں:
عقلمند وہ ہے جو اس وقت کو یاد رکھتا ہے اور اس کی تیاری کرتا ہے۔
اللہ کے بندو! موت کو یاد رکھنے سے خواہشات کا زور کم ہو جاتا ہے، اس کا تصور کرنے سے انسان میں سنجیدگی آ جاتی ہے، وقت کی حفاظت ہوتی ہے اور اعمال نیک ہو جاتے ہیں۔ مکمل عافیت اور طویل زندگی کے دنوں میں موت کو یاد کرتے رہنا چاہیے تاکہ ذکر، شکر اور بہترین عبادت کے ذریعے موت کی تیاری ممکن ہو سکے۔
اللہ کے بندو! نزع کا لمحہ، وہ لمحہ ہوتا ہے، جس میں انسان موت اور زندگی کے درمیان ہوتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے، جب آ جاتا ہے تو انسان کو یقینی طور پر معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ اب مر جائے گا۔ اس لمحے میں کوئی جھوٹ نہیں ہوتا، نہ اس سے بھاگ نکلنے کا کوئی راستہ ہوتا ہے۔ انسان کے سامنے سے پردے ہٹا دیے جاتے ہیں اور وہ یقینی طور پر جان لیتا ہے کہ اس کی آخرت آ گئی ہے۔ دنیا کا پردہ اس کی آنکھوں کے آگے سے ہٹا دیا جاتا ہے، پھر اسے ایسی چیزیں نظر آنے لگتی ہیں، جو پہلے کبھی نہیں آئی ہوتیں۔
پیارے بھائیو! آئیے موت کے حوالے سے چند نکات پر غور کر لیتے ہیں یا ان احوال پر غور کر لیتے ہیں جو انسان کو تب پیش آتے ہیں جب اس پر موت کا وقت آ جاتا ہے اور وہ انتہائی مایوسی اور بے بسی کے عالم میں ہوتا ہے۔
اے مسلمانو! اس دنیا میں انسان صحت اور تندرستی کے وقت غفلت میں پڑ جاتا ہے۔ وہ مالدار بھی ہوتا ہے، صاحب منصب بھی ہوتا ہے اور معاشرے میں اعلیٰ مقام ومرتبہ رکھنے والا بھی ہوتا ہے۔ اس وقت ایسا ہوتا ہے کہ آنکھیں رشک کریں! اس کے ارد گرد بہت سے نوکر چاکر اور ماتحت لوگوں کا جمگھٹا لگا ہوتا ہے۔ بڑی بڑی امیدوں میں جیتا ہے اور لمبی لمبی منصوبہ بندیاں کرتا ہے۔ پھر جب اس کی موت کا وقت آ جاتا ہے، نزع کا لمحہ آ پہنچتا ہے، یا کوئی مایوس کن بیماری آ جاتی ہے یا کسی حادثے کا شکار ہو جاتا ہے، تو اس کا کیا حال ہوتا ہے، اس وقت اس کے احساسات کیا ہوتے ہیں، اس کے امیدیں کیا ہوتی ہیں، کس چیز پر نادم ہوتا ہے اور کن چیزوں کی امیدیں لگاتا ہے؟ ارد گرد سے سب ہٹ چکے ہوتے ہیں، مصلحت پرست لوگ دور جا چکے ہوتے ہیں۔ وہ ایسی حالت تک پہنچ چکا ہوتا ہے، جس میں اسے یقین ہو جاتا ہے کہ دل کی سلامتی اور نیک اعمال، بہترین عبادت، اچھا اخلاق، پاکیزہ دل، نیک سیرتی، ایثار اور لوگوں کا فائدہ کرنے کا جذبہ ہی قابل رشک ہے۔
{وَلَا تُخْزِنِی یَوْمَ یُبْعَثُونَ یَوْمَ لَا یَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ إِلَّا مَنْ اَتَی اللَّـہَ بِقَلْبٍ سَلِیمٍ} (الشعراء: ۸۷-۸۹)
’’مجھے اس دن رسوا نہ کر جبکہ سب لوگ زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے جبکہ نہ مال کوئی فائدہ دے گا نہ اولاد سوائے اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لیے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔‘‘
جب نزع کا وقت آ جاتا ہے، یا بے بسی کی صورت پیدا ہو جاتی ہے تو انسان غور کرنے لگتا ہے اور اس وقت سوچتا ہے کہ کیا دنیا کی زندگی ان ساری قربانیوں کی مستحق بھی تھی؟ کیا وہ اس لائق تھی کہ اس کے لیے دشمنیاں کی جائیں، ایک دوسرے کے ساتھ مقابلے کیے جائیں، اس کی وجہ سے فلاں کو آگے کیا جائے، فلاں کو پیچھے کیا جائے، فلاں کو نظر انداز کیا جائے، فلاں کو قریب کر لیا جائے، فلاں سے منہ موڑ لیا جائے اور فلاں کے معاملے سے غفلت برتی جائے۔ گھروالوں اور بچوں کے حقوق سے اور ان کی تربیت اور اصلاح سے غفلت کی جائے، بلکہ اپنے نفس کی تندرستی، آرام، سکون، عبادت اور احسان میں کوتاہی کی جائے۔
اس حال میں انسان کی تمام امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں اور آرزؤوں کا طوفان تھم جاتا ہے۔
{لَّقَدْ کُنتَ فِی غَفْلَۃٍ مِّنْ ہَـٰذَا فَکَشَفْنَا عَنکَ غِطَاء َکَ فَبَصَرُکَ الْیَوْمَ حَدِیدٌ} (ق: ۲۲)
’’اِس چیز کی طرف سے تو غفلت میں تھا، ہم نے وہ پردہ ہٹا دیا جو تیرے آگے پڑا ہوا تھا اور آج تیری نگاہ خوب تیز ہے۔‘‘
جو نزع کے عالم میں ہوتا ہے اور جو بے بسی کے حال تک پہنچ جاتا ہے، اسے خوب معلوم ہو جاتا ہے کہ اس سے پہلے گزرنے والے لوگ بھی دنیا پر اتنے ہی حریص تھے جتنا یہ ہے، وہ بھی ویسے ہی تگ ودو کرتے تھے جیسے یہ کرتا ہے، وہ بھی ویسے ہی کام کرتے تھے جیسے یہ کرتا ہے، وہ بھی ویسے ہی محنت کرتے تھے، جیسے یہ کرتا ہے۔ موت نے ان کی روحوں کو اچک لیا، مقررہ وقت نے ان کے کام ادھورے چھڑوا دیے اور انہیں اپنے پیاروں سے جدا کر دیا۔
انہوں نے بہت مال جمع کیا، مگر ان کی یہ جمع پونجی وراثت میں تقسیم ہو گئی، عمارتیں بنائیں، مگر ان کی عمارتیں آثار قدیمہ بن گئیں۔ وہ آخرت سے غافل رہے، حالانکہ وہ ان کی طرف بڑھ رہی تھی، دنیا کی طرف بڑھتے رہے، حالانکہ وہ جا رہی تھی۔
جب نزع کا لمحہ آ جاتا ہے تو مختلف قسم کے مناظر سامنے آتے ہیں اور مختلف قسم کے حالات نظر آتے ہیں۔
{وَحِیلَ بَیْنَہُمْ وَبَیْنَ مَا یَشْتَہُونَ} (سبأ: ۵۴)
’’اُس وقت جس چیز کی یہ تمنا کر رہے ہوں گے اس سے محروم کر دیے جائیں گے۔‘‘
{إِنَّ ہَـٰؤُلَائِ یُحِبُّونَ الْعَاجِلَۃَ وَیَذَرُونَ وَرَائَہُمْ یَوْمًا ثَقِیلًا} (الدہر: ۲۷))
’’یہ لوگ تو جلدی حاصل ہونے والی چیز (دنیا) سے محبت رکھتے ہیں اور آگے جو بھاری دن آنے والا ہے اسے نظر انداز کر دیتے ہیں۔‘‘
جب انسان کو یہ یاد آتا ہے اور جب وہ اپنا محاسبہ کرتا ہے تو وہ کہتا ہے، اگرچہ اس وقت کچھ کہنے کا فائدہ نہیں ہوتا۔ کہتا ہے: اگر میں تھوڑی دیر کے لیے دنیا اور آخرت کے حال پر غور کر لیتا تو مجھے معلوم ہو جاتا کہ نیکی، اچھے اعمال اور لوگوں کے لیے بھلائی پسندیدہ اور سلامتی کا راستہ ہے، محفوظ ترین شاہراہ ہے۔ معاشرتی مقام کا شور کہاں گیا؟! مددگاروں کا شور شرابا کہاں گیا؟! رابطے اور تعلقات کس کام آئے؟! اس وقت اسے خوب معلوم ہو چکا ہوتا ہے کہ بلند درجے اور ترقی کے زینے صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ جان لیتا ہے بلند مقام اللہ تعالیٰ کے قریب ہونے میں، بہترین انداز میں اس کی عبادت کرنے میں اور اس کے لیے اخلاص اپنانے میں ہے، نا کہ دنیا والوں کے مرتبوں، ان کے عہدوں، ان کی عزتوں اور ان کے مال میں۔
اس حال میں امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں اور آرزؤوں کا طوفان تھم جاتا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ
{رَبِّ ارْجِعُونِ لَعَلِّی اَعْمَلُ صَالِحًا فِیمَا تَرَکْتُ} (المؤمنون: ۹۹-۱۰۰)
’’اے میرے رب! مجھے اُسی دنیا میں واپس بھیج دیجیے جسے میں چھوڑ آیا ہوں۔‘‘
اور کوئی کہتا ہے:
{رَبِّ لَوْلَا اَخَّرْتَنِی إِلَیٰ اَجَلٍ قَرِیبٍ فَاَصَّدَّقَ وَاَکُن مِّنَ الصَّالِحِینَ} (المنافقون: ۱۰)
’’اے میرے رب! کیوں نہ تو نے مجھے تھوڑی سی مہلت اور دے دی کہ میں صدقہ دیتا اور صالح لوگوں میں شامل ہو جاتا۔‘‘
اور کوئی کہتا ہے:
{یَا حَسْرَتَیٰ عَلَیٰ مَا فَرَّطتُ فِی جَنبِ اللَّـہِ}
’’افسوس! میری اُس کوتاہی پر جو میں اللہ کے حق میں کرتا رہا۔‘‘ (الزمر: ۵۶)
مگر سب کو یہی جواب ملے گا:
{اَوَلَمْ نُعَمِّرْکُم مَّا یَتَذَکَّرُ فِیہِ مَن تَذَکَّرَ وَجَائَکُمُ النَّذِیرُ فَذُوقُوا فَمَا لِلظَّالِمِینَ مِن نَّصِیرٍ} (فاطر: ۳۷)
’’کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی تھی جس میں کوئی سبق لینا چاہتا تو سبق حاصل کر سکتا تھا؟ اور تمہارے پاس متنبہ کرنے والا بھی آ چکا تھا۔‘‘
جو یہ کہے گا:
{وَمَا اَضَلَّنَا إِلَّا الْمُجْرِمُونَ فَمَا لَنَا مِن شَافِعِینَ وَلَا صَدِیقٍ حَمِیمٍ فَلَوْ اَنَّ لَنَا کَرَّۃً فَنَکُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ إِنَّ فِی ذَٰلِکَ لَآیَۃً}
’’وہ مجرم لوگ ہی تھے جنہوں نے ہم کو اس گمراہی میں ڈالا اب نہ ہمارا کوئی سفارشی ہے اور نہ کوئی جگری دوست‘ کاش! ہمیں ایک دفعہ پھر پلٹنے کا موقع مل جائے تو ہم مومن بن جائیں یقینا اس میں ایک بڑی نشانی ہے۔‘‘ (الشعراء: ۹۹-۱۰۳)
اس کے لیے بڑی ہلاکت ہے اور اس شخص کی سعادت کے کیا کہنے، جس پر فرشتے نازل ہوں گے اور کہیں گے:
{اَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّۃِ الَّتِی کُنتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ اَوْلِیَاؤُکُمْ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَۃِ  وَلَکُمْ فِیہَا مَا تَشْتَہِی اَنفُسُکُمْ وَلَکُمْ فِیہَا مَا تَدَّعُونَ نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِیمٍ} (فصلت: ۳۰-۳۲)
’’نہ ڈرو، نہ غم کرو، اور خوش ہو جاؤ اُس جنت کی بشارت سے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے ہم اِس دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے ساتھی ہیں اور آخرت میں بھی، وہاں جو کچھ تم چاہو گے تمہیں ملے گا اور ہر چیز جس کی تم تمنا کرو گے وہ تمہاری ہوگی‘ یہ ہے سامان ضیافت اُس ہستی کی طرف سے جو غفور اور رحیم ہے۔‘‘
ان لوگوں کی کامیابی کے بھی کیا کہنے جنہیں:
{لَا یَحْزُنُہُمُ الْفَزَعُ الْاَکْبَرُ وَتَتَلَقَّاہُمُ الْمَلَائِکَۃُ ہَـٰذَا یَوْمُکُمُ الَّذِی کُنتُمْ تُوعَدُونَ} 
’’وہ انتہائی گھبراہٹ کا وقت اُن کو ذرا پریشان نہ کرے گا، اور ملائکہ بڑھ کر اُن کو ہاتھوں ہاتھ لیں گے کہ یہ تمہارا وہی دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔‘‘ (الانبیاء: ۱۰۳)
پیارے بھائیو! یہ ہیں سلف صالحین کے احوال اور حالت نزع میں ان سے روایت کردہ واقعات۔
یہ ہیں سیدنا سلمان فارسی t ان کے بارے میں امام احمد، امام حاکم اور امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے کہ جب وہ بیمار ہوئے تو سیدنا سعد بن ابی وقاصt کوفہ سے ان کے پاس عیادت کے لیے آئے۔ جب وہ ان کے پاس پہنچے تو وہ نزع کی حالت میں تھے اور رو رہے تھے۔ انہوں نے سلام کیا اور بیٹھ گئے۔ پھر پوچھا: کیوں رو رہے ہو؟ کیا رسول اللہ e کی صحبت یاد نہیں؟ کیا نیک اور روح پرور منظر یاد نہیں ہیں؟ سلمان فارسی t نے فرمایا: میں ان دونوں چیزوں کی وجہ سے نہیں رو رہا۔ میں دنیا کی محبت میں یا اللہ کی ملاقات کو ناپسند کرتے ہوئے نہیں رو رہا۔ سیدنا سعد t نے فرمایا: تو پھر دنیا میں ۸۰ سال گزار لینے کے بعد کس وجہ سے رو رہے ہو؟ کہتے: مجھے اس وجہ سے رونا آ رہا ہے کہ میرے خلیل نے مجھے وصیت کی تھی کہ دنیا میں اتنا ہی سامان اکٹھا کروں جتنا کوئی مسافر سوار اکٹھا کرتا ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ میں نے اس سے زیادہ سامان اکٹھا کر لیا ہے۔
یہ ہیں سیدنا سلمان t جو ڈرتے تھے کہ انہوں نے زیادہ مال ومتاع اکٹھا کر لیا ہے۔ تو بھلا وہ کیا کہے گا، جس نے یقینی طور پر بہت زیادہ مال ومتاع اکٹھا کر رکھا ہے؟ پھر وہ کیا کہے گا، جس نے دوسروں کے مال سے بھی ہاتھ پیچھے نہیں رکھا، بلکہ انہیں بھی لوٹ لیا؟ اللہ کی حدوں کا خیال بھی نہیں کیا، بلکہ ان سے بھی آگے بڑھ گیا؟ لوگوں کی عزتوں اور ان کے گوشت کا بھی خیال نہیں کیا، بلکہ انہیں بھی ہضم کر گیا۔ لوگوں کے عقائد اور اخلاق کو محفوظ نہیں رکھا، بلکہ ان پر حملہ کر کے انہیں بھی بگاڑ دیا؟!
یہ ہے محاسبۂ نفس کہ انسان یہ سوچے کہ کیا وہ اپنی حدود سے باہر نکلا ہے؟ کیا اس نے کوتاہی کی ہے؟ کیا اس نے کوئی تبدیلی کی ہے؟ کیا اس نے کسی چیز کی حالت بگاڑی ہے؟
یہ ہیں سیدنا عمرو بن عاصt کہ انہیں موت کے وقت شدید خوف محسوس ہوا تو ان کے بیٹے عبد اللہt نے ان سے کہا: اتنا ڈر کیوں؟ حالانکہ رسول اللہ e آپ کو قریب رکھتے تھے، آپ سے کام کراتے تھے۔ انہوں نے کہا: بیٹا! ایسا تو تھا۔ لیکن میں تمہیں بتاتا ہوں، اللہ کی قسم! مجھے معلوم نہیں کہ آپ e ایسا اس لیے کرتے تھے کہ میں انہیں محبوب تھا یا وہ یہ کام میرا دل جیتنے اور مجھے دین پر قائم رکھنے کے لیے کرتے تھے۔ مگر، میں دو لوگوں کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ جب رسول اللہ e دنیا سے رخصت ہوئے تو وہ ان سے محبت کرتے تھے۔ سمیہr کا بیٹا اور ام عبدr کا بیٹا! جب نزع کے حملے شدید ہوئے تو انہوں نے اپنے ہاتھ وہاں رکھے جہاں گلے کے طوق پہنائے جاتے ہیں اور کہنے لگے: اے اللہ! تو نے ہمیں حکم دیا، مگر ہم نے نافرمانی کی۔ تو نے ہمیں منع کیا، مگر باز نہ آئے۔ اب تیری مغفرت ہی ہمیں بچا سکتی ہے۔ یہ وہ الفاظ تھے جو انہوں نے اس وقت منہ سے نکالے، جب انہیں موت کے شدید جھٹکے لگ رہے تھے۔ یہاں تک کہ ان کی روح نکل گئی اور وہ دنیا سے رخت ہو گئے۔
اے اللہ! تو نے ہمیں حکم دیا، مگر ہم نے نافرمانی کی۔ تو نے ہمیں منع کیا، مگر باز نہ آئے۔ اب تیری مغفرت ہی ہمیں بچا سکتی ہے۔
اے اللہ! ہر معاملے میں ہماری عاقبت بہتر بنا، ہمیں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے محفوظ فرما۔ اے اللہ! ہمیں اپنے ساتھ ملاقات پر خوش ہونے والا بنا۔ اپنی معافی اور دین سے لطف اندوز ہونے والا بنا۔ اپنے گروہ اور اولیا میں شامل فرما۔
اے اللہ! عالم نزع کے جھٹکے ہمارے لیے آسان فرما! ہمیں اس حال میں دنیا سے رخصت فرما کہ تو ہم سے راضی ہو۔
اللہ کے نیک بندوں کے واقعات تو ختم نہیں ہوتے اور ہر ایک دوسرے سے زیادہ حیران کن ہے۔
اللہ کے بندو! اے زندہ لوگو! اے تندرستو! تم ان چیزوں پر قادر ہو، جس پر قبروں والے قادر نہیں ہیں۔ تو صحت، تندرستی اور فراغت کو غنیمت جانو۔ اس سے پہلے کہ روح نکلنے کا وقت آ جائے یا یوم جزا آ جائے۔ ہر وہ دن جو انسان جی لیتا ہے، بلکہ ہر گھڑی جو انسان گزار لیتا ہے، وہ ایک شاندار موقع ہوتا ہے۔ جو بقیہ زندگی میں اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے گزشتہ اور آئندہ گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ جو اپنی تندرستی اور فراغت کو فرماں برداری میں لگا دیتا ہے، وہی قابل رشک ہوتا ہے۔ جو انہیں نافرمانی میں استعمال کرتا ہے، وہی گھاٹے میں ہے۔
فراغت کے بعد مصروفیت آ جاتی ہے۔ تندرستی کے بعد بیماری آ جاتی ہے۔
{کَلَّا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَ وَقِیلَ مَنْ  رَاقٍ وَظَنَّ اَنَّہُ الْفِرَاقُ وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ إِلَیٰ رَبِّکَ یَوْمَئِذٍ الْمَسَاقُ} (القیامۃ: ۲۶-۳۰)
’’ہرگز نہیں، جب جان حلق تک پہنچ جائے گی اور کہا جائے گا کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا اور آدمی سمجھ لے گا کہ یہ دنیا سے جدائی کا وقت ہے اور پنڈلی سے پنڈلی جڑ جائے گی وہ دن ہوگا تیرے رب کی طرف روانگی کا۔‘‘
دوسرا خطبہ
حمد وصلوٰۃ کے بعد:
اے مسلمانو! وعظ ونصیحت سے فائدہ اٹھانے میں یہ بھی شامل ہے کہ آپ یہ بھی جان لو کہ اعمال کا دار ومدار ان کے خاتمے پر ہوتا ہے۔ خوش بخت وہ ہے جو دوسروں سے عبرت پکڑ لے۔ ہر وہ مزا، جس کے بعد موت آنی، اس کی حیثیت راکھ سے زیادہ نہیں:
{اَفَرَاَیْتَ إِن مَّتَّعْنَاہُمْ سِنِینَ ثُمَّ جَآئَہُم مَّا کَانُوا یُوعَدُونَ مَآ اَغْنَیٰ عَنْہُم مَّا کَانُوا یُمَتَّعُونَ} (الشعراء: ۲۰۵-۲۰۷)
’’تم نے کچھ غور کیا، اگر ہم انہیں برسوں تک عیش کرنے کی مُہلت بھی دے دیں اور پھر وہی چیز ان پر آ جائے جس سے انہیں ڈرایا جا رہا ہے تو وہ سامانِ زیست جو ان کو ملا ہوا ہے اِن کے کس کام آئے گا؟‘‘
اسی طرح وعظ ونصیحت سے فائدہ حاصل کرنے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ انسان یہ جان لے کہ دن ایک خزانہ ہیں، جو دن گزر جاتا ہے، وہ کبھی لوٹ کر نہیں آتا۔ رجوع نہ ہو تو یاد دھانی کا کوئی فائدہ نہیں۔ عمل نہ ہو تو بات سننے کا کوئی فائدہ نہیں۔
غور کرو! امام حافظ ابن القیمa کے اس اشارے پر غور کیجیے۔ فرماتے ہیں: جو اپنی زندگی اللہ تعالیٰ کے ساتھ، اس کے ذکر، اس سے محبت اور اس کی فرماں برداری میں مصروف رہتا ہے، وہ دیکھے کہ اسے موت کے وقت انہی چیزوں کی ضرورت تھی۔ جبکہ جو اپنی زندگی میں ان کے علاہ کسی دوسری چیز میں مصروف رہتا ہے اور غیر اللہ کے ساتھ تعلق مضبوط کر لیتا ہے تو اس کے لیے موت کے وقت اللہ تعالیٰ کے ساتھ دل لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔ فرماں برداری پر سچے اور صبر کرنے والے فرماں بردار ہی ثابت قدم رہتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے دل نزع کے وقت نہیں پھرتے اور شیطان ان کا کوئی نقصان نہیں کر پاتے۔
یاد رکھو کہ سلف صالحین نے یہی نصیحت کی ہے کہ جب موت کا وقت آئے تو اللہ کے متعلق اچھا گمان رکھنا چاہیے۔ اللہ کے متعلق یہ ایسی ہی سوچ رکھی جائے جو اس کے لائق ہو اور جو اس کے حسین ناموں اور شاندار صفات کے مطابق ہو۔ اس کی رحمت، فضل، معافی، احسان، درگزر اور وسیع رحمت کی توقع کی جائے۔ یہ تب ہی ہو سکتا ہے جب میت کے ارد گرد اکٹھے ہونے والے اس کی نیکیوں، بھلے کاموں اور اچھائیوں کے متعلق باتیں کریں گے۔ افسوس ہے اس پر، کہ جس کی کوئی ایسی نیکیاں یا بھلائیاں ہوں ہی نہ جن کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہو۔ اللہ کے متعلق بھلا گمان رکھنا، توکل کا بلند ترین مرحلہ ہے۔ اللہ پر صحیح انداز میں بھروسہ کر بھی وہی سکتا ہے جو اس کے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہو۔
اے اللہ! ہمارے ملکوں میں امن نصیب فرما! اے اللہ! ہمارے ملکوں میں امن نصیب فرما! ہمارے اماموں اور حکمرانوں کی اصلاح فرما! ہماری حکمرانی ان لوگوں کے ہاتھوں میں تھما جو تجھ سے ڈرنے والے، پرہیز گار اور تیری خوشنودی کے طالب ہوں۔

No comments:

Post a Comment