مسلک اھل حدیث 10-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, June 22, 2019

مسلک اھل حدیث 10-2019


مسلک اہل حدیث

تحریر: جناب رانا محمد شفیق خاں پسروری
اَہْلُ الْحَدِیْثِ عِصَابَۃُ الْحَقِّ
فَازُوْا بِدَعْوَۃِ سَیِّدِ الْخَلْقِ
’’اہل حدیث حق کی جماعت ہے جو سید الخلق کی دعوت سے کامیاب ہے۔‘‘
ما اہل حدیثیم دغا را نشناسیم
صد شکر کہ در مذہب ما حیلہ وفن نیست
’’ہم اہل حدیث ہیں‘ جھوٹ ودغا کو نہیں جانتے۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہمارے مذہب میں حیلہ وفن نہیں۔‘‘
اہل دل‘ اہل نظر‘ اہل خبر‘ اہل حدیث
کشور وحدانیت کے تاجور اہل حدیث
خضر منزل‘ رہروان جادہ صدق وصفا
حاملین سنت خیر البشر اہل حدیث
گمراہی کے ہر دور میں‘ ظلمت کے ہر عہد میں
ہیں باطل کے خلاف سینہ سپر اہل حدیث
عنوان دو لفظوں سے مرکب ہے۔ ایک لفظ ’’مسلک‘‘ اور دوسرا مرکب لفظ ’’اہل حدیث‘‘ ہے۔
’’مسلک‘‘ کا لغوی معنی ہوتا ہے ’’راہ‘‘ اور اصطلاحی معنی طریقہ‘ نظریہ‘ اصول وقواعد وغیرہ۔ جب کہ ’’اہل حدیث‘‘ کے لغوی معنی ’’حدیث والے‘‘ اور اصطلاحی معانی وہ افراد جن کے لیل ونہار‘ شب وروز محض قرآن وسنت کے تعلق میں بسر ہوں اور جن کا کوئی بھی قول وفعل اور عمل‘ طور طریقہ اور رسم ورواج قرآن وحدیث سے الگ نہ ہو اور جو ان دو عظیم الشان سرچشموں کے علاوہ کہیں نگاہ التفات نہ ڈالیں۔
گویا مسلک اہل حدیث کا معنی ہوا کہ وہ دستور حیات جو صرف قرآن وحدیث سے عبارت ہو‘ جس پر رسول اللہe کی مہر ثابت ہو اور جس پر خیر القرون کا کردار گواہ ہو۔
اس وقت بہت سے مذاہب اسلام کے نام پر روئے عالم پر نظر آ رہے ہیں اور ہر ایک کا زعم ودعویٰ یہی ہے کہ وہ ہی صحیح اور برحق ہے مگر درحقیقت وہ کسی نہ کسی طور اسلام میں ترمیم واضافہ اور کمی بیشی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ تقریباً ہر مذہب میں شخصیت پرستی ہے یا خاص افراد کی تعلیمات وافکار پر دارومدار ہے جب کہ مسلک اہل حدیث اشخاص وافراد کی عزت وتوقیر کو ملحوظ تو رکھتا ہے مگر انہیں دین میں حجت نہیں سمجھتا بلکہ اپنا ہر معاملہ‘ زندگی کا ہر مسئلہ صرف اور صرف قرآن وحدیث سے حل کرنا سکھاتا ہے اور ’’امرین صحیحین‘‘ (کتاب وسنت) کے علاوہ کسی کو بھی قابل حجت نہیں مانتا اور لائق تعمیل نہیں جانتا۔
مسلک اہل حدیث بزرگان دین کی عزت سکھاتا ہے مگر اس میں مبالغہ نہیں‘ آئمہ کو عظیم سمجھتا ہے مگر ان میں مقابلہ نہیں‘ فقہاء ومجتہدین کی جد وجہد ذہنی اور اجتہاد کو خراج تحسین پیش کرتا ہے مگر ان پر دارومدار کی تلقین نہیں‘ کسی کے تدبر وتفکر پر کامل یقین نہیں رکھواتا البتہ انہیں آیات واحادیث سے تزئین ضرور بخشتا ہے کہ انسان اشرف المخلوقات ہونے کے باوجود بتقاضائے بشریت خطا ونسیان سے مبرا نہیں اور مسلک اہل حدیث عصمت رسول e کی وجہ سے عیوب ونقائص سے مصفّٰی ہے۔
واقعتا مسلک اہل حدیث … اہل حق کا مسلک‘ اہل دل کا مسلک‘ اہل نظر کا مسلک‘ اہل خبر کا مسلک‘ اہل ادراک کا مسلک‘ اثبات واحقاق کا مسلک‘ کشور وحدانیت کے تاجوروں کا مسلک‘ قاطعین شرک کے ناموروں کا مسلک‘ مسلک اہل حدیث … راہروان صدق وصفا کا جادہ ومنزل‘ امن وسکینت کا نام‘ شجاعت وشہادت کا مقام‘ راہ حق میں سر کٹانا‘ آگے بڑھتے جانا‘ لڑتے مرتے سربکف‘ ہر سمت‘ ہر طرف‘ باطل کے مقابل‘ ادائے حق کی خاطر صدائے کلمۃ اللہ بلند کرنا۔
سنا سنا کے دم عشق کے فسانے کو
اس کی راہ پر چلانا زمانے کو
مسلک اہل حدیث‘ چند افراد کے ذہن کی اختراع‘ چند رسوم کے تحفظ اور چند وجوہ کی پیداوار کا نام نہیں بلکہ آقائے ذی وقار وذیشانe پر اتاری گئی شریعت مطہرہ‘ منزل من اللہ دین مبین‘ اسلام متین اور رسول اللہe کے طریقہ مقدسہ کا نام ہے۔
آج بھی مسلک اہل حدیث‘ کسی رد وبدل‘ ترمیم واضافہ اور کمی بیشی کے بغیر قرون اولیٰ ہی کی صورت میں جاری وساری ہے۔ بقول صادقe قیامت تک ہر فتنہ اوہام وشکوک سے محفوظ اور ’’ذمۃ اللہ ورحمتہ‘‘ کے سبب سے محظوظ رہے گا۔
اسی کے سینے پر [لَا تَزَالُ طَآئِفَۃٌ مِّنْ اُمَّتِیْ مَنْصُوْرِیْنَ عَلَی الْحَقِّ] کا تمغہ‘ اسی کے نصیب میں [مَآ اَنَا عَلَیْہِ وَاَصْحَابِیْ] کا ثمرہ‘ اسی کے لیے [اِمَامُہُمُ النَّبِیُّﷺ] کا شرف‘ اسی کے حاملین کے لیے [اَنْتُمْ اَصْحَابُ الْحَدِیْثِ اِنْطَلِقُوٓا اِلَی الْجَنَّۃِ] کا فخر‘ کہ یہ احکام ربانی کی تعمیل‘ فرامین نبویe کی تجمیل‘ طریق صحابہ کی روش‘ تابعین کی کشش‘ تبع تابعین کی راہ‘ محدثین کی جاہ‘ آئمہ کا گزر‘ فقہاء کا فخر‘ اسلام کی ترجمانی‘ حق کی فراوانی‘ توحید کی صدا‘ شرک وبدعت کے خلاف جہاد‘ قرآن وحدیث پر اعتماد ہے۔
تبلیغ وجہاد اس کا طرۂ امتیاز‘ تحقیق وتدقیق وجہ اعجاز‘ خلوص ودیانت اک اعزاز‘ ہمت وغیرت کو اس سے نیاز‘ یہ امن وآشتی کا سبق‘ اصلاح قلوب‘ تطہیر ارواح اور طہارت اذہان کا درس ہے۔
مسلک اہل حدیث نام ہے [اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ] کی آواز کا‘ [تَرَکْتُ فِیْکُمْ اَمْرَیْنِ] کی صدائے دلنواز کا‘ {وَمَآ اٰتَاکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ} کی پکار کا‘ [لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوَاتِ الشَّیْطٰنِ] کے فرمان کا‘ {فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِہٖ} کے نشان کا‘ {مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا} میں اسلام متین کا‘ {اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ] میں دین کا‘ یعنی کامل قرآن کا‘ فرمان آقائے ذیشان کا۔
مسلک اہل حدیث نام ہے … سنت رسول e کی عصمت کا‘ طریق صحابہ کرام کی عظمت کا‘ کردار تابعینؒ کی شوکت کا‘ تبع تابعینؒ کے چلن کی سطوت کا‘ آئمہ کرام کے تفقہ کی رفعت کا‘ محدثین کی عدالت کی حشمت کا‘ مفسرین اولی کی اعلیت کا‘ فقہاء حق کی ارفعیت کا۔
ابوحنیفہؒ اور شافعیؒ کے اقوال کا‘ ابن حنبلؒ ومالکؒ کے احوال کا‘ ابن تیمیہؒ وابن قیمؒ وغیرہم کے کمال کا‘ خاندان ولی اللہ کے جاہ وجلال کا‘ حق کے شیدائیوں کا‘ صرف سچ کے داعیوں کا۔
مسلک اہل حدیث نام ہے … روایت کا‘ درایت کا‘ ثقاہت کا‘ فقاہت کا‘ ودیعت کا‘ بداعت کا‘ ذہانت کا‘ امانت کا‘ دیانت کا‘ شہادت کا‘ اقبالیت کا یعنی آدمیت کا‘ کامل انسانیت کا۔
مسلک اہل حدیث… اذہان کو اعراف وعرفان‘ ارواح کو سرور ووجدان‘ قلوب کو ایمان وایقان اور زیست کو عروج اور شان کی دولت بخشتا ہے۔
مسلک اہل حدیث {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} کے مصداق {مَآ اٰتَاکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ} کے استحقاق کا‘ نام ہے۔… رسول اللہ e کے اقوال کا‘ آپ کے احوال کا‘ ذیشان افعال کا‘ معلی اطوار کا‘ مصفّٰی اطراز کا‘ عظیم الشان گفتار کا‘ عظیم المرتبت کردار کا‘ رفیع المنزلت مقام کا‘ آپ کی شان وشوکت کے دوام کا‘ اعلیٰ عصمت ورفعت کا‘ ختم نبوت کا‘ دین کے اکمال کا‘ نعمت حقہ کے اتمام بجمال کا‘ صرف آپ ہی کی ذات بالا صفات کی ہر ہر بات کا‘ یعنی … سادگی وبے باکی کا‘ ایثار وحق گوئی کا‘ رحم وعزم کا‘ علم وحلم کا‘ احسان وکرم کا‘ نظر وفکر کا‘ عاجزی وشکر کا‘ یقین ومحبت کا‘ وفا والفت کا‘ خشیت وللہیت اور غیرت وحمیت کا‘ غرضیکہ آپ کی رسالت کے ہوتے ہوئے اور کسی کا سکہ نہ چلنے کا‘ کسی اور کا دم نہ بھرنے کا۔
حیات اصحاب کا‘ زیست بہ آب وتاب کا‘ ہرحال میں قربانی کا‘ خون میں لت پت ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ کی ترجمانی کا‘ عدم ریا کا‘ حصول رضا کا‘ تحصیل اجر میں بے قراری کا‘ خوش گفتاری واعلیٰ کرداری کا‘ نرم دم گفتگو کا‘ گرم دم جستجو کا‘ رزم وبزم میں پاک دل وپاکبازی کا‘ اللہ کے لیے ہر شئے سے بے نیازی کا۔
{یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقَاتِہٖ} کی تعمیل اور {مَنْ یَّشْتَرِیْ نَفْسَہُ ابْتِغَآئَ مَرَضَاتِ اللّٰہ} کی تاثیر میں مسلک اہل حدیث نام ہے عباد اللہ کے چلن کا‘ قرآن وسنت سے ملن کا‘ امرین صحیحین سے رغبت کا‘ توحید وسنت کے پرچار کا‘ قال اللہ وقال الرسول کے اختیار کا‘ تحریر وتقریر میں انتہائی احتیاط کا‘ راہ خدا میں تکالیف اٹھانے کا‘ ادائیگی فرائض میں سر کٹانے کا۔
مسلک اہل حدیث نام ہے… اسلامی طریقت کی اعلائی کا‘ منزل من اللہ شریعت کی بالائی کا‘ اشرف المخلوقات کی اشرفیت کا‘ احسن تقویم کی ارفعیت کا… جادہ عظیم کا‘ صراط مستقیم کا۔
مسلک اہل حدیث {وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰی اِنْ ہُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی} کی شہادت سے کسی انسان کی کاوش نہیں کہ انسانی جذبات وخواہشات کا اس میں کچھ دخل ہو‘ بلکہ {نَزَّلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا} کی تصدیق سے اللہ تبارک وتعالیٰ کا عطاء کردہ ہے‘ تبھی تفکرات وتدبرات‘ تخیلات وتصورات‘ ذہنیات وکیفیات کی تصحیح وتزئین کرتا ہے اور انہیں اصلاح وہدایت بخش کر معزز ومشرف بناتا ہے۔
مسلک اہل حدیث میں لالچ نہیں سخاوت ہے‘ مادیت نہیں‘ روحانیت ہے‘ طلب ثروت نہیں‘ آرزوئے مغفرت ہے‘ شاہی نہیں خدمت ہے۔ غرور‘ تکبر نہیں محبت ہے‘ بدعت نہیں سنت ہے‘ شرک نہیں توحید ہے‘ تجسیم الٰہی نہیں تمجید ہے‘ اوتار نہیں کلمہ تہلیل وتحمید ہے‘ ریا نہیں طلب رضا ہے‘ تصنع نہیں استغنا ہے‘ تکلف نہیں اخلاص ووفا ہے اور ہر فعل با حضور وباخدا ہے۔
ربط وتعلق‘ تحقق وتعمق‘ تزئین وتحسین‘ تقرر وتحرر‘ تصور وتخیل‘ تدبر وتفکر‘ مساواۃ ومواخاۃ‘ نصرت واخوت‘ شرف واحترام‘ عزت واکرام‘ فخر واحتشام… حقیقی کامیابی دونوں جہاں کی کامرانی‘ ایمان اور مسلمانی‘ غرضیکہ ہر خوبی میں ہر عظمت کی نشانی ’’مسلک اہل حدیث‘‘ میں ہے۔
یہ نیک طینتی کا اعلان‘ پاک طبیعتی کا اعلام‘ قرآن وحدیث کا اثبات والتزام تجلیوں کا مقام اور تمام تر خوبیوں کا قوام ہے۔ اس میں سیاست کے نشیب وفراز اور شرعی ترنگ بھی ہے اور جہاد وشہادت کی امنگ بھی‘ نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی‘ محض آدمیت وانسانیت کی بھلائی‘ انسانی زندگی کی تعمیر میں مرضات اللہ کا حصول اور حصول میں تکالیف ومصائب آلائم وشدائد سب قبول۔
قد آور شخصیات کو محور بنانے کی بجائے وحی الٰہی (قرآن وحدیث) کو اپنا مرکز حیات ونصب العین جاننا ہی مسلک اہل حدیث ہے جیسے:
1         حج تمتع کے مسئلہ پر سیدنا عبداللہ بن عمرw کا [اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ خَلِیْفَۃُ الْمُسْلِمِیْنَ اَحَدٌ مِّنَ الرَّاشِدِیْنَ وَالْمَہْدِیِّیْنَ] مراد رسول فاروق اعظم سیدنا عمرt جیسے فرزند اسلام اور صحابی رسولe کی پاک طینتی اور صاف طبیعتی سے نکلی وہ بات جو بتقاضائے بشریت سنت رسولe کے خلاف ہو گئی تھی‘ چھوڑ دینا اور [إِنَّمَا الشَّرِیْعَۃُ نَزَلَتْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّلَا نَزَلَتْ عَلٰٓی اَبِیْ] کا اعلان فرمانا اور پھر حضرت عمرt کا اس بات پر جاہ وجلال‘ رعب ودبدبہ‘ شوکت وطنطنہ‘ ہیبت وحشمت کے باوجود سرجھکا لینا اپنی غلطی کا اعتراف کرنا اور سجدہ شکر بجا لانا۔
2         {فَلَا وَرَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ} کے سبب نزول میں سیدنا عمرt کا رسول اللہ e کے مقابل ان کا فیصلہ لینے والے منافق کی گردن تن سے جدا کر کے [ہٰذَا قَضَآئُ لِمَنْ لاَّ یَرْضٰی بِقَضَآئِ رَسُوْلِ اللّٰہِ] کا نعرہ بلند کرنا وغیرہ ان گنت تاریخ اسلام کی امثلہ دراصل مسلک اہل حدیث کا اظہار اور مسلک اہل حدیث کا اعلان ہیں کہ
’’آپ کے ہوتے ہوئے نہ کسی کی ذات چل سکتی ہے نہ کسی کی بات چل سکتی ہے۔ موسیٰu کی نبوت کا نہ چلنا آپe کی عصمت کی دلیل ہے اور عیسیٰ روح اللہ u کی آمد عظمت کی دلیل ہے‘ کتب اولین کی نہ تصدیق نہ تکذیب بلکہ قرآن مجید کا اظہار تصحیح وتصویب ہے اور جو بھی کتاب وسنت کو چھوڑ دے وہ انسان کہلانے کا روا دار اور زندہ رہنے کا حق دار نہیں۔ اسے چاہیے کہ اللہ کی زمین چھوڑ کر کہیں اور جا بسے۔‘‘
آج کے دور میں خصوصیت سے مسلک اہل حدیث یہ ہے کہ
’’نفاذ اسلام کے شوق میں بے قرار رہا جائے اور کبھی چین سے نہ بیٹھا جائے۔ باطل کے خلاف ہمت کی کوہ تازی سے قدم جمائے جائیں یعنی قرآن وحدیث کی اشاعت‘ دعوت وتبلیغ‘ علوم وعقائد کی تجدید واصلاح‘ اہل ملت کا ہر حال اور ہر شکل میں اتحاد‘ خیر القرون کے علم وعمل کی از سر نو تجدید‘ دین خالص‘ سنت خالصہ ومحسنہ کا اعتصام اور تمام تفرقوں اور بدعتی راہوں کے خلاف قولاً فعلاً اور عملاً دعوت الی اللہ کی صدا اس قوت ونفوذ کے ساتھ بلند کرنا کہ وقت کا کوئی شور وغوغا اس پر غالب نہ آ سکے۔‘‘
اگر آج بھی مسلک اہل حدیث اپنی تمام تر ضوء افشانیوں‘ ضیاء پاشیوں اور رعنائیوں کے ساتھ اس دھرتی پر نافذ ہو جائے تو عجب نہیں کہ آب نشاط انگیز سے وقت کی خمار آلودگیوں کا علاج مل جائے۔

No comments:

Post a Comment

View My Stats