حافظ عبدالکریم کے تنظیمی دورہ جات 10-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, June 22, 2019

حافظ عبدالکریم کے تنظیمی دورہ جات 10-2019


ناظم اعلیٰ سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریمd

کے تنظیمی دورہ جات (پہلی قسط)
۱۔ ضلع خانیوال:
آج مورخہ ۱۷ فروری ۲۰۱۹ء بروز اتوار بمقام مرکزی جامع مسجد اہل حدیث بلاک نمبر ۱۱ خانیوال مجلس شوریٰ ضلع خانیوال کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت ضلعی امیر جناب قاری سیف اللہ عابد نے فرمائی جبکہ اجلاس کے مہمانان گرامی قدر فضیلۃ الشیخ سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم d ناظم اعلیٰ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان‘ فخر اہل حدیث جناب حافظ عبدالستار حامد امیر پنجاب‘ مجاہد ملت جناب مولانا عبدالرشید حجازی ناظم اعلیٰ پنجاب تشریف فرما تھے۔ اجلاس کی کارروائی کا آغاز جناب حافظ سلمان سیف اللہ کی تلاوت سے ہوا۔
بعد از تلاوت ایجنڈہ کی شق نمبر ۲ کے تحت سابقہ کارروائی کی توثیق کروائی گئی اور شق نمبر ۳ کی روشنی میں جناب غضنفر محمود ناظم تحصیل خانیوال نے نہایت جامع انداز میں تحصیل بھر میں تنظیمی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی اور تحصیل وسٹی خانیوال میں موجودہ جماعتی مساجد کی تعداد بھی بتائی۔ اسی طرح تحصیل میانچنوں کی رپورٹ تحصیلی ناظم محترم حافظ محمد ارشد عاجز نے احسن انداز میں پیش فرمائی اور تحصیل جہانیاں کی رپورٹ حافظ رفیق الرحمن نے جبکہ تحصیل کبیر والا کی رپورٹ جناب سید توفیق الرحمن زیدی نے پیش کی۔ چاروں تحصیلوں کی رپورٹس کی روشنی میں اس بات کا اظہار کیا گیا کہ پوری ڈسٹرکٹ میں مرکزی جمعیت اہل حدیث منظم اور فعال ہے‘ پورا ضلع مرکزی جمعیت اہل حدیث کی مرکزی‘ صوبائی اور ضلعی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتا ہے۔
اجلاس سے محترم امیر ضلع نے چاروں تحصیلوں کے ذمہ تقریبا ۱۰۰ اہل حدیث رسالہ لگائے جس کا احباب نے وعدہ کیا۔ اسی طرح سید عبدالغفار شاہ ضلعی ناظم نے اپنے ضلع کی رپورٹ پیش کی‘ خاص طور پر مرکزی قیادت کی کاوشوں کا تذکرہ کرتے ہوئے پیغام ٹی وی‘ آل پاکستان اہل حدیث کانفرنس اور علامہ ابتسام الٰہی ظہیر گروپ کے الحاق پر زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ہم نے بھی علامہ ابتسام گروپ کے دوستوں کو اپنی کابینہ میں شامل کیا ہے۔  اسی طرح جماعت کے تعاون اور چوہدری عبدالغفور شاہد کی انتھک محنت سے جامعہ رحمانیہ بلاک نمبر ۱۷ میں مکمل ہو چکا ہے جس میں مارچ سے تعلیم کا آغاز ہو جائے گا۔ ان شاء اللہ!
اجلاس سے محترم قاری محمد فاروق عدیل نے اہل حدیث یوتھ فورس اور جناب محمد افضل زکریا نے پیغام ٹی وی کے حوالہ سے رپورٹس پیش کیں جبکہ مفتی عبدالغفار فردوسی نے صرف دو اشعار میں سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف گفتگو کی۔ آخر میں مہمانان گرامی نے اظہار خیال فرمایا۔
محترم جناب ناظم اعلیٰ صاحب نے احباب کا شکریہ ادا فرمایا اور جماعت کے ساتھ وابستہ رہنے اور ضلع میں تنظیم کو فعال کرنے پر ضلعی قیادت واحباب کی تعریف کی اور مزید محنت اور جد وجہد کی ترغیب فرمائی۔ محترم جناب امیر پنجاب نے فرمایا کہ ضلع خانیوال میں دھڑے بندیوں اور اختلاف پیدا نہ ہونے کی اصل وجہ ضلعی قیادت کا باہمی رابطہ ہے اور یہ بہت اچھی بات ہے۔ محترم جناب ناظم اعلیٰ پنجاب نے فرمایا کہ کارکنوں کی خوبی یہ ہے کہ وہ اپنے مرکز سے وابستہ ہوتا ہے اور ہاؤس میں اختلاف کرنا کوئی بری بات نہیں لیکن باہر نہ اختلاف کرتا ہے اور نہ ہی کسی کی زبان سے مرکز کے خلاف تنقید اور اختلاف کو برداشت کرتا ہے۔
ایسا مزاج ہو گا تو نہ جماعت میں اختلاف پیدا ہو گا اور نہ ہی نظم جماعت میں کسی کو نقب زنی کی جرأت ہو گی۔ آخر میں ایک مرتبہ پھر مرکزی‘ صوبائی قائدین اسی طرح تحصیلی امرا وناظمین اور مجلس شوریٰ کے علاوہ اہل حدیث یوتھ فورس کے کارکنان کا شکریہ ادا کیا گیا جو کہ کثیر تعداد میں اجلاس میں شریک ہوئے‘ اجلاس کو ہر طریقہ سے کامیاب بنایا اور پھر محترم جناب ناظم اعلیٰ صاحب کی دعاء پر اجلاس اختتام پزیر ہوا۔
بعد از اجلاس شرکائے اجلاس کے لیے شاندار ریفریشمنٹ کا اہتمام تھا اور جماعت کے زیر اہتمام عظیم الشان ادارہ جامعہ رحمانیہ اہل حدیث بلاک نمبر ۱۷ کا افتتاح کیا گیا۔ شرکائے اجلاس کے اسمائے گرامی:
مولانا محمد فاروق عدیل‘ حافظ محمد ارشد عاجز‘ محمد افضل زکریا‘ قاری محمد یونس مدنی‘ قاری نوید احمد آسی‘ میاں اعجاز احمد‘ حافظ محمد سفیان‘ منظور احمد‘ قاری عبدالعزیز راشدی‘ عطاء اللہ عابد‘ مولانا منظور دانش‘ حافظ محمد غضنفر محمود‘ حافظ محمد راشد نذیر‘ قاری محمد اسماعیل انصاری‘ محمد اشتیاق‘ محمد یٰسین شاہد‘ محمد زبیر بھٹی‘ محمد اکبر محمدی‘ قاری محمد اسلم زاہد‘ محمد عبداللہ مجاہد‘ ماسٹر مظہر معین‘ ذکاء اللہ عابد‘ قاری حسنین حیدر‘ محمد افضل‘ محمد خدا بخش‘ محمد اسلم راشد‘ محمد ابراہیم‘ محمد ارشد خلیق‘ محمد عمران‘ قاری سیف الرحمن‘ محمد ندیم‘ حافظ عمران فردوسی‘ قاری احسان الٰہی‘ قاری رفیق الرحمن‘ عبدالسلام‘ محمد ندیم‘ محمد امین‘ قاری کامران ساجد‘ محمد ظفر اللہ‘ قاری عرفان شاکر‘ علی امیر‘ علی عمران‘ محمد عبداللہ‘ عبدالخالق‘ عبدالغفار‘ آصف حسین‘ عبیداللہ انور‘ عطاء الرحمن‘ قاری عنایت اللہ‘ قاری عبدالحمید‘ سید آصف مشہدی‘ ظہیر احمد سعیدی‘ محمد یحییٰ شاد‘ عبدالرزاق‘ عبدالغفار عابد‘ فیصل احمد دین‘ محمد سعید مدثر‘ حافظ احسان اللہ‘ قاری فیصل نذیر‘ قاری عبداللہ سلفی‘ ڈاکٹر محمد صدیق‘ محمد بلال عبدالکلیم‘ قاری زبیر احمد ضیغم‘ رشید احسن فیضی‘ محمد اقبال‘ ڈاکٹر محمد اقبال حنیف‘ قاری امیر حمزہ عزیزی‘ حافظ ابتسام الٰہی ظہیر‘ علامہ محمد طاہر‘ قاری محمدطالب‘ سید توفیق الرحمن‘ حاجی عبدالستار‘ عبدالرحمن سلفی‘ ایاز احمد ناصر‘ محمد خالد مجاہد‘ محمد داؤد انجم‘ عبدالرحمن خلیق‘ چوہدری عبدالغفور شاہ‘ عبدالغفار فردوس ودیگر احباب۔
۲۔ ضلع پاکپتن:
سنیٹرڈاکٹر حافظ عبدالکر یم ناظم اعلیٰ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے دورہ ضلع پاکپتن کے موقع پر اجلاس عارفوالہ کی جامع مسجد رحمانیہ اہلحدیث میں بلایا گیا۔ اجلاس کا  آغاز قرآن مجید کی تلاوت سے کیا گیا جس کی سعادت محمدزاہدشریف (جنرل سیکرٹری اساتذہ ضلع پاکپتن) نے حاصل کی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض قاری محمد یعقوب طاہر ناظم ضلع پاکپتن نے انجام دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث کے قائدین پاکپتن کی قیادت اور جماعت پرخصوصی شفقت فرماتے ہیں اور جب بھی  پاکپتن کی جماعت پرکوئی مشکل گھڑی آئی تو اللہ کے فضل وکرم سے قائدین محترم سنیٹر پروفیسر ساجد میرd اورسنیٹر حافظ ڈاکٹر عبدالکریمd نے بھر پورتعاون کیا ہم ان کے بے حد مشکورہیں۔ سپاسنامہ امیرضلع قاری محمد یحییٰ صابرکی موجودگی میں قائم مقام امیر ماسٹر علی اصغر نے پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاکپتن آمد پرقائدین کے مشکورہیںاورانہیں دل کی اتھاہ گہرائیوں سے خوش آمدید کہتے ہیں۔ ہم قائدین کی قیادت پراعتمادکااظہارکرتے ہوئے یقین دلاتے ہیں کہ ہم جماعت اور اسلام کے لئے  ہر قربانی دینے کے لئے تیارہیں اورجماعتی کام کو پہلے کی نسبت زیادہ محنت سے کریں گے۔ مولانا عبدالرشیدحجازی ناظم پنجاب نے کہا کہ جماعت کے تمام ساتھی اتفاق واتحاد سے مل کرکام کریں۔ مجھے اس بات کی بے حد خوشی ہے کہ جب بھی ہم پاکپتن آئے جماعتی ساتھیوں نے محبت کااظہار کیا‘ میں امید کرتا ہوں کہ جماعتی کارکردگی اورمساجد کے حوالے سے ایک ماہ کے اندر ضلع اور تحصیلوں کی رپورٹ بھجوادی جائے گی۔ اسکے علاوہ مولانا  عبدالستار حامد امیر پنجاب نے کہاہم اللہ کا شکراداکرتے ہیں کہ ہمیں اہلحدیث بنایا۔ ایسامسلک جواللہ نے اپنی طرف سے عنائت فرمایا۔ ہمیں جماعتی اختلافات بھلا کر کام کرنا چاہئے اورجماعتی کام کو آگے بڑھائیں۔ آخر میں سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم ناظم اعلیٰ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہمارامذہب امن کی دعوت دیتا ہے‘ ہم حرمین شریفین سے محبت کرتے ہیں‘ پاکستان اورسعودیہ اسوقت مغربی طاقتوں کے ٹارگٹ پرہیں آجکل انڈیا ہمیں دھمکیاں دے رہا ہے اور مغربی ممالک انڈیا کی زبان بول رہے ہیں۔ پاکستان کوایک دنیاوی ملک نہیں بلکہ اسلامی ملک ہونے کی وجہ سے مٹانے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن دشمن یادرکھیں پاکستان کی فوج دنیا کی بہترین اسلامی فوج ہے۔ ہم نے کبھی منفی سرگرمی میں حصہ نہیں لیا۔ یہ وقت اختلافات کا نہیں اتحاد کا ہے۔ تمام مذہبی جماعتیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں‘ اختلاف سے کتاب وسنت کی دعوت کمزورہوگی ہم اورآپ ایک ہی منہج لے کر نکلے ہیں‘ جھنڈا وہی اٹھایا ہے لاالہ الااللہ۔ ہمارے اسلاف اور علامہ احسان الٰہی ظہیرشہید رحمہ اللہ  نے اسلام کے لئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔ علماء اہلحدیث کی خدمات کوکبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث نے ہمیشہ اسلام کی سربلندی کے لئے اور ملکی استحکام کے لئے کام کیا، قائدین کی آمد پر مولانا ساجدالرحمن مہتمم جامعہ اشاعت الاسلام 149/EB اور میاں نعیم ابراہیم ایم پی اے کے بھائی میاں عامرابراہیم کی قیادت میں والہانہ استقبال کیا گیا۔ قائدین کوقافلے کی شکل میں پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے ہوئے طلبہ کارکنان نعروں کی گونج میں لائے۔ ناظم تحصیل قاری بلال شہزادنے عارفوالہ اور ناظم تحصیل سیدعمرفاروق شاہ نے پاکپتن کی رپورٹ پیش کی۔ اسکے علاوہ مولانا  یٰسین یزدانی نائب ناظم پنجاب‘ قاری بلال عزیزی سینئرنائب ناظم ضلع پاکپتن‘ حافظ عبدالعزیز ناظم تبلیغ قاری افراہیم ناظم تبلیغ تحصیل عارفوالہ عبداللہ شعبان شکیل علوی ناظم مالیات قاری عبدالرازق مشتاق مولانا عباس عاجز سینئر نائب ناظم تحصیل  قاری محمدمرتضٰے ظہیر نائب ناظم تبلیغ تحصیل  پاکپتن قاری راشدرفیق صدر قاری ساجدالرحمن جنرل سیکرٹری طاہربھٹہ سابق صدراے وائی ایف قاری ابوسفیان حمزہ حافظ عبدالجبار سمیت دیگر علماء کرام وکاکنان نے شرکت کی اورآخر میں مہمانوں کوعشائیہ دیاگیا۔
۳۔ راجووال‘ ضلع اوکاڑہ:
۲۴ فروری اتوار کو جامعہ کمالیہ میں مرکزی جمعیت اہلحدیث کے زیر اہتمام ضلعی اجلاس منعقد ہوا جس میں ضلع بھر سے عاملہ و شوریٰ کے اراکین نے بھر پور شرکت کی۔ مرکزی قائدین میں سے سنیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم صاحب ناظم اعلیٰ‘ پروفیسر عبدالستار حامد صاحب امیر پنجاب‘ مولانا عبدالرشید حجازی صاحب ناظم اعلیٰ پنجاب نے شرکت کی۔ قائدین کی آمد تک اراکین میں سے‘ ڈاکٹر حافظ عبدالرحمن صاحب سرپرست جامعہ‘ مولانا محمد ادریس اثری صاحب‘ حافظ عبدالسمیع امیر ضلع اوکاڑہ‘ میاں غلام مصطفی صاحب ناظم ضلع اوکاڑہ و دیگر احباب نے تنظیمی وجماعتی حوالے سے گفتگو فرمائی۔ عصر کی نماز کے بعد پروفیسر عبیدالرحمن محسن صاحب کی تلاوت سے باقاعدہ اجلاس کی کاروائی شروع ہوئی اور قائدین کی موجودگی میں امیر ضلع اوکاڑہ نے اپنی کارکردگی پیش کی بعدازاں پروفیسر عبیدالرحمن محسن صاحب نے دارالحدیث راجووال میں قائدین کی آمد پر شکریہ ادا کیا اور جماعتی وابستگی کے حوالے سے قائدین کی قیادت پر مکمل اعتماد کی یقین دہانی کراتے ہوئے قرار داد پیش کی۔ بعدازاں حجازی صاحب ناظم اعلیٰ پنجاب نے تنظیمی جماعتی اہمیت پر بڑی فکر انگیز گفتگو فرمائی۔ امیر پنجاب نے اراکین کو سورہ حجرات کی روشنی میں اخلاقی و عملی کردار پر بڑی پر سوز نصیحتیں فرمائیں۔ بعدازاں ناظم اعلیٰ نے اراکین کا شکریہ ادا کیا اور مرکز سے وابستہ رہنے اور قائدین کی قیادت پر مکمل اعتماد کے حوالے سے مختصر مگر جامع گفتگو فرمائی۔ زنتظام کے حوالے سے یہ اجلاس کامیاب رہا جس میں مدیر تعلیم حافظ عدنان صاحب اور مولانا رفیق زاہد صاحب دیگر اساتذہ کا بڑا کردار ہے۔ اللہ تعالیٰ سب کی کاوشیں قبول فرمائے اور جماعت کو دن دگنی رات چگنی ترقی و عزت عطا فرمائے۔ آخر میں جماعتی وابستگی کے حوالے سے مولانا یوسف رحمہ اللہ کی زندگی کا ایک پہلو احباب جماعت کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ویسے تو ساری زندگی مولانا مرحوم کی تنظیمی لحاظ سے مرکزی جمعیت سے وابستہ تھی اور اُن کا بڑا کردار ہے لیکن یہ ایک پہلو بڑا قابل رشک ہے۔ بڑی دیر کی بات ہے کہ ایک دفعہ منڈی کامونکی میں ملکی تحریک کے حوالے سے جلسہ تھا جس میں سید عطا اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ مدعو تھے۔ مولانا صاحب یہاں راجووال سے سید عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب کو ملنے اور سننے گئے۔ خطابات کے بعد سید عطاء اللہ شاہ کو مولانا صاحب دبانے لگے اور ساتھ راجووال آنے کی دعوت دی۔ شاہ صاحب فرمانے لگے کہ پہلے میری جماعتِ احرار کا فارم فِل کر کے شرکت کی یقین دھانی کروائیں پھر میں آئوں گا۔ مولانا صاحب فرمانے لگے: شاہ صاحب! آپ کی عزت و احترام بجا ہے اور ملکی خدمات قابل تعریف ہیں لیکن میں مرکزی جمعیت اہلحدیث سے وابستہ ہوں اور تازندگی تنظیمی لحاظ سے اسی جماعت کو جماعت حقہ سمجھتا ہوں‘ آپ کی جماعت میں شمولیت سے میں قاصر ہوں‘ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ایسی استقامت نصیب فرمائے۔ آمین! 

No comments:

Post a Comment