اھل حدیث اور اھل تقلید - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, June 22, 2019

اھل حدیث اور اھل تقلید


اہل حدیث اور اہل تقلید کے منہج کا فرق

تحریر: الشیخ جناب مولانا عبدالرحمن ضیاء
اہلِ حدیث وسنت اوراہل تقلید کاراستہ ایک دوسرے سے مختلف ہے کیونکہ ان دونوں کے درمیان اس بات میں اختلاف ہے کہ کسی مقلَّدامام کی تقلید کرنے میں نجات اخروی حاصل ہو گی یا اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے رسول eکی سنت وحدیث پرعمل کرنے سے اخروی نجات ملے گی؟
چنانچہ ہر دور میں اہل حدیث وسنت کا عقیدہ یہی رہا ہے کہ اللہ کی رضا اور اخروی نجات کتاب وسنت کی پیروی کرنے میں ہی مضمر ہے ۔جبکہ اہل تقلیدِاعمیٰ کا ہر فرقہ اپنے اپنے مقلَّد امام کی تقلید پر زوردیتا رہا اور اسی کو حق سمجھتا رہا بلکہ اس کی تقلید کو واجب سمجھتا رہا ہے۔بالخصوص ان میں فرقہ حنفیہ سب سے زیادہ اپنے امام ابو حنیفہؒ کی آراء کی تقلید کی طرف دعوت دیتا رہا اور آج تک دے رہا ہے اور انہوںنے یہ سوچنا کبھی گوارہ ہی نہ کیا کہ آیا ان کے امام کی کئی ایک آراء احادیث نبویہ کے مخالف جارہی ہیں حتی کہ ان میں انتہاء درجے کے حنفی مقلد بھی ہوئے ہیں جنہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ حق اور انصاف اگرچہ یہ ہے(یعنی حدیث پرچلنے والوں کاقول راجح ہے اور حدیث نبوی کے مطابق ہے)لیکن ہم اپنے امام ابوحنیفہؒ کے مقلد ہیں اور ہم پران کی تقلید کرنا واجب ہے۔(حنفی تقریر ترمذی،ص:۳۶)
مالکی مقلدین میں بھی بعض بڑے برے کلمے منہ سے نکالتے رہے ہیں۔چنانچہ اصبغ بن خلیل نے کہا تھا:
[لَاَنْ یَّکُوْنَ فِی کُتُبِی لَحْمُ خِنْزِیْرٍ اَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ اَنْ یَّکُونَ فِیْھَا کِتَابُ ابْنِ اَبِی شَیْبَۃَ۔] (میزان الاعتدال،جلد:۱،ص:۲۶۹)
’’یعنی میری کتب میں خنزیر کا گوشت ہو یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ ان میں (حدیث کی کتاب) مصنف ابن ابی شیبہ ہو۔‘‘
دیکھئے حدیث کی کتاب سے کس قدر بغض کا اظہارکیا گیا ہے کیونکہ حدیث کی کتاب میں تقلیدی مذہب کے خلاف بہت سی احادیث نبویہ ہیں۔
تقلید شخصی سے ہماری مراد یہ ہے کہ قرآن وحدیث میں واضح نص(دلیل) موجود ہونے کے باوجود بھی کسی امام کی ایسی رائے پر اڑے رہنا جو کہ قرآنی یا حدیثی نص کے خلاف ہو۔کسی بھی امام کی رائے کی تقلید نہیں کی جائے گی جبکہ وہ حدیث نبوی کے خلاف ہو گی، ہر صورت میں حدیث نبوی ہی مقدّم ولائق اتباع ہو گی۔ائمہ کی سینکڑوں آراء ایسی ہیں جو کہ احادیث نبویہ کے منافی ہیں۔
اس کی وجہ عام طورپر یہ ہوتی ہے کہ ان اماموں سے کئی احادیث نبویہ مخفی رہ گئی تھیں، وہ ان کو پہنچی ہی نہیں تھیں، ان سے جب مسائل پوچھے جاتے تو وہ اجتہاد کرتے تھے۔کئی دفعہ ان کا اجتھاد ان احادیث کے خلاف نکل آتا تھا اور کبھی کبھی ان کا اجتہاد درست بھی نکل آتا تھا۔ اسی لیے اصول فقہ کی کتب میں لکھا ہوا ہے: [کُلُّ مُجْتَھِدٍ یُصِیبُ وَیُخْطِیُٔ] ہر مجتہد سے درستی اور غلطی کا امکان رہتا ہے۔اب مقلدین کا فرض تویہی بنتا تھا کہ وہ ان تمام مسائل میں احادیث نبویہ کی طرف رجوع کرتے اور اپنے اپنے اماموں کی ان آراء کو ترک کردیتے جیسا کہ ان میں سے بعض محققین نے ایسا کیا بھی ہے لیکن ہر مذہب میں متعصب قسم کے مقلدین بھی ہوتے ہیں جو کسی بھی صورت میں اپنے امام کی رائے کو ترک کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے چاہے جتنی بھی احادیث نبویہ انہیں سنا دی جائیں وہ یہی کہتے ہیں کہ:
[نَحْنُ مُقَلِّدُوْنَ یَجِبُ عَلَیْنَا تَقْلِیْدُ اِمَامِنَا۔]
’’بھئی ہم تو مقلد ہیں‘ ہم پر ہمارے امام کی تقلید واجب ہے ۔‘‘
چنانچہ ذیل میں ائمہ کی بعض وہ آراء ذکر کی جاتی ہیں جو کہ احادیث نبویہ کے ساتھ ٹکراتی ہیں تاکہ ان کے مقلدین کچھ تو غور کریں:
امام مالکؒ اور ابو حنیفہؒ کو رمضان کے بعد شوال کے چھ روزے رکھنے کی حدیث معلوم نہ تھی۔(مؤطا امام مالک،باب جامع الصیام،حدیث نمبر۴،حاشیہ ابن عابدین وفتاویٰ عالمگیری،البحر الرائق وغیرہ )حالانکہ یہ حدیث شریف صحیح مسلم وغیرہ میں مذکورہے۔لیکن اس کے باوجودکئی ایک مالکی وحنفی ان روزوں کے قائل وفاعل نہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ امام مالک ؒ کو یہ حدیث نہیں پہنچی جیساکہ علامہ ابن عبدالبرؒ نے کہا ہے۔(دیکھئے شرح نووی علی صحیح مسلم ، انجاز الحاجہ شرح ابن ماجہ ،ج:۵،ص:۶۲۸)۔
صاحبِ ھدایہ یعنی فقہ حنفی کی الھدایہ کتاب کے مصنف نے کہا ہے:
[لَیْسَ فِی صَلوٰۃِ الکُسُوْفِ خُطْبَۃٌ لِانَّہُ لَمْ یُنْقَلْ۔](ھدایہ اولین، باب صلوٰۃ الکسوف، ص:۱۶۷)
’’صلوٰۃ کسوف میں خطبہ نہیں کیونکہ یہ منقول نہیں ہے۔‘‘
اب ان کی یہ رائے قابلِ قبول نہیں ہو گی کیونکہ یہ رائے صریح احادیث کے خلاف ہے۔حدیث کی کتابوں مثلاً صحیح بخاری وغیرہ میں باب الخطبۃ فی الکسوف عام پایا جاتا ہے۔اب مالکیوں اور اکثرحنفیوں نے احادیث کی مخالفت کی ہے اور اس رائے کو قبول کیا ہے لیکن حنفیوں کے علامہ ظفر احمد عثمانی نے عام حنفیوں کی مخالفت کرتے ہوئے اعلاء السنن میں اسے مستحب لکھا ہے۔(اعلاء السنن:۸؍۱۶۹)
صلوٰۃ کسوف میں اونچی قراء ت کی جاتی ہے جیسا کہ عام کتب حدیث میں آیا ہے۔(دیکھئے صحیح بخاری عن اسماء بنت ابی بکرr)لیکن اسے اکثر احناف اور مالکی تسلیم نہیں کرتے۔مالکیوں میں سے قاضی ابو بکر ابن العربی اور احناف میں ابو یوسف، محمد شیبانی اور طحاوی نے ان (عام حنفیہ )کی مخالفت کی ہے لیکن ھدایہ کے مصنف برھان الدین نے حدیث کے خلاف اسی رائے کو ترجیح دی ہے۔
امام مالکؒ اکیلاجمعہ کے دن کا نفلی روزہ رکھنا اچھا سمجھتے تھے۔(دیکھئے مؤطا امام مالک ،باب جامع الصیام کے آخر میں ،باب ما جاء فی لیلۃ القدر سے ایک سطر قبل)
حالانکہ صحیح بخاری وغیرہ میں اکیلے جمعہ کے دن نفلی روزہ رکھنے کی ممانعت موجود ہے۔(صحیح بخاری:۱؍۲۶۶)
امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک زمین کی پیداوار پر ہر حالت میں عشر ہے خواہ تھوڑی ہو یا زیادہ۔(ھدایہ اولین، ص:۲۰۱)حالانکہ صحیح بخاری ومسلم وغیرہ میں اس کا نصاب پانچ وسق(پانچ وسق کا وزن:۱۶من ۳۵سیر یعنی۸۵۶کلو۶۲۹ گرام) ذکرکیا گیا ہے اور امام محمد بن حسن شیبانی اور ابویوسف کابھی حدیث کے مطابق قول ہے۔
امام ابوحنیفہؒ کی رائے ہے کہ (صلاۃ استسقاء) بارش طلب کرنے کی نماز نہیں۔ (دیکھئے مؤطا امام مالک بروایۃ امام محمد شیبانی، ابواب الصلوٰۃ، باب(۹۶)الاستسقاء،ص:۱۰۵)
صاحبِ ھدایہ مرغینانی حنفی نے کہا ہے کہ صلوٰۃ استسقاء کی نماز منقول نہیں۔(ہدایہ اولین،ص:۱۷۶)
امام مالک، شافعی، احمد، ابویوسف اور محمد شیبانی بارش طلب کرنے  کی نماز کے قائل ہیں۔مولانا عبد الحی لکھنوی نے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے امام ابو حنیفہؒ کو اس کی احادیث نہ پہنچی ہوں۔ (عمدۃ الرعایۃ حاشیہ شرح وقایہ،جلد:۱،ص:۲۰۸)
امام مالک کے شاگرد ابن وھب کا بیان ہے کہ امام مالکؒ سے پاؤں کی انگلیوں میں خلال کرنے کا مسئلہ پوچھا گیا تو انہوں نے نفی میں جواب دیا، میں بھی مجلس میں موجود تھا تو میں خاموش رہا لیکن جب مجلس کم ہو گئی تو میں نے کہا کہ ہمارے ہاں مصر میں اس کے متعلق ایک حدیث پائی جاتی ہے۔امام صاحب نے پوچھا وہ کونسی حدیث ہے؟میں نے انہیں اپنی سند کے ساتھ مُستَورِد بن شدادtکی مرفوع حدیث سنائی کہ انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ eکو اپنی چھوٹی انگلی کے ساتھ پاؤں کی انگلیوں کے درمیان خلال کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
یہ حدیث سن کر امام مالکؒ نے کہا کہ حدیث حسن ہے اور میں نے اس سے پہلے یہ حدیث کبھی نہیں سنی تھی۔ابن وھب کہتے ہیں کہ اس کے بعد امام مالک سے جب یہ مسئلہ پوچھا جاتا تھا تو وہ (اس حدیث کے مطابق)انگلیوں کے درمیان خلال کرنے کاحکم دیتے تھے۔(مقدمۃ الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم رازی،ص: ۳۱،۳۲، سنن کبریٰ بیہقی،ج:۱،ص:۸۱)
ایک رکعت وتر کی احادیث صحاح ستہ میں عام پائی جاتی ہیں اور یہ ستائیس(۲۷)صحابہ کرام سے مروی ہیں، لیکن اکثر مقلدین احناف تین ہی کے قائل ہیں اور ایک کو صحیح نہیں سمجھتے اور اس مسئلہ میں امام ابو حنیفہؒ کی رائے پر چلتے ہیں۔جبکہ شیخ الحدیث انور شاہ کشمیری صاحب کئی سال تک ان حدیثوں کی توجیہہ سوچتے رہے تھے جیسا کہ معارف السنن از مولانا یوسف بنوری باب الوتر میں ہے۔
کتب حدیث میں کئی ایک احادیث اور اٰثار پائے جاتے ہیں جن سے واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ سبیلین(انسان کی بول وبراز والی جگہ) کے علاوہ بدن کے کسی حصہ سے خون نکل آئے تو اس سے وضو نہیں ٹوٹتا(صحیح بخاری:۱؍۲۹کتاب الوضوء باب من لم یر الوضوء اِلاَّ مِنَ المخرجین،صحیح ابن خزیمہ:۱؍۲۴، سنن کبریٰ بیہقی:۱؍۱۴۱،سنن ابی داؤد:۱؍۲۹)
فتح الباری میں ہے کہ سیدنا عمرtاور عبد اللہ بن عمرtکا بھی یہی مؤقف تھا کہ خون سے وضوء نہیں ٹوٹتااور انہوں نے لکھا ہے کہ اس باب ’’من لم یرالوضوء الا من المخرجین‘‘میں امام بخاریؒ نے حنفیہ کا ردّ کرنا چاہا ہے کیونکہ وہ بہنے والے خون سے وضوء ٹوٹنے کے قائل ہیں۔
تابعین میں سے طاؤس بن کیسان،ابو جعفر محمد باقر، اعمش،حسن بصری بلکہ مدینہ کے سات بڑے فقہاء نیز امام مالک اور شافعی کا بھی یہی مذہب ہے۔(فتح الباری، ج:۱، ص:۲۸۲) لیکن فقہ حنفی میں بعض اماموں کی رائے کے مطابق لکھا ہوا ہے کہ اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔(ہدایہ اولین :۱؍۲۳)
صحیح بخاری وغیرہ میں ہے کہ نبی کریمeعورت کا جنازہ پڑھانے کے لیے اس کے وسط میں کھڑے ہوئے اورابوداؤد، ترمذی وغیرہ میں مرد کے سرکے سامنے کھڑے ہونے کا ذکر ہے۔حدیث کی روشنی میں مرد اورعورت کے جنازے میں امام کے کھڑے ہونے کی جگہ میں فرق ہے جبکہ فقہ حنفی کی مشہورکتاب ھدایہ کے متن میں لکھا ہوا ہے:
’’یَقُوْمُ الَّذِیْ یُصَلِّی عَلَی الرَّجُلِ وَالْمَرْأۃِ بِحِذَائِ الصَّدْرِ‘‘
’’مرد اورعوت کا جنازہ پڑھانے والا امام میت کے سینے کے بالمقابل کھڑا ہو۔ ‘‘
امام مالکؒ اورامام ابوحنیفہؒ سجدہ شکر کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے۔(دیکھئے لمعات شرح مشکوٰۃ از عبد الحق دھلوی حنفی ،نیز حاشیہ حنفی مشکوٰۃ،کتاب الصلوٰۃ باب فی سجود الشکر)
حالانکہ کتبِ احادیث میں سجدہ شکر کی کثیر احادیث پائی جاتی ہیں۔ مشکوٰۃ میں تو سجدہ شکرکاایک مستقل باب ہی موجود ہے۔ (دیکھئے صحیح بخاری درسی:۲؍۶۳۶،سنن ابن ماجہ،حدیث نمبر۱۳۹۴)
امام شافعیؒ کومرد کے لیے مُعَصفَر(کُسم ’’یعنی ایک قسم کاسرخ پھول‘‘سے رنگا ہوا کپڑا)پہننے کی ممانعت کی صحیح حدیث معلوم نہ ہو سکی تھی ۔
امام نوویؒ نے صحیح مسلم کی شرح میں نقل کیا ہے کہ امام شافعیؒ نے کُسم سے رنگا ہوا کپڑا جائز قراردیا ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ میں نے یہ کپڑا پہننے کی اس لیے رخصت دی ہے کہ مجھے اس کی ممانعت میں کوئی حدیث نبوی نہیں ملی۔ہاں البتہ سیدنا علیtکی ایک حدیث ملی ہے جو کہ علیtکے ساتھ ہی خاص ہے۔امام بیہقی ؒنے کہا ہے کہ اس کی ممانعت میں کئی احادیث آئی ہیں جن میں اس بات کی دلیل ہے کہ یہ ممانعت علیtکے ساتھ خاص نہیں۔ پھر انہوں نے عبد اللہ بن عمروtوالی حدیث بیان کی ہے کہ انہوں نے معصفر(کُسم)سے رنگے ہوئے دو کپڑے پہنے ہوئے تھے، نبی کریمeنے وہ دیکھ لیے تو فرمایا کہ یہ کافروں کے لباس میں سے ہیں لہٰذا تو انہیں نہ پہن۔انہوں نے کہا میں انہیں دھو لوں؟توآپeنے فرمایا: بلکہ انہیں جلادے۔(صحیح مسلم درسی، ج:۲؍ ۱۹۳ کتاب اللباس باب النہی عن لبس الثوب المعصفر)
اس کی ممانعت کے متعلق احادیث ذکر کرنے کے بعد امام بیہقی ؒفرماتے ہیں: اگر یہ احادیث امام شافعیؒ کو پہنچ جاتیں تو ان شاء اللہ وہ ان کے ضرور قائل ہو جاتے کیونکہ انہوں نے خود فرمایا ہے کہ:
[اِذَا صَحَّ الحَدِیْثُ خِلاَفَ قَوْلِیْ فَاعْمَلُوْا بِالحَدِیْثِ وَدَعُوْا قَوْلِیْ۔] (شرح صحیح مسلم از امام نووی، ۲؍۱۹۳)
’’جب میرے کسی قول کے خلاف کوئی حدیث صحیح ثابت ہوجائے تو میرے قول کو ترک کردیا کرو اور حدیث پر عمل کرلیاکرو ‘‘۔
ظہر کی نماز کے وقت کے بارے میں امام ابو حنیفہؒ کی رائے یہ تھی کہ وہ دو مثل تک رہتا ہے یعنی جب ہر چیز کا سایہ اس کے دو مثل ہو جائے تو ظہر کا وقت ختم ہو کر عصرکاوقت شروع ہو جاتاہے اور ان کے مقلدین میں سے عام لوگوں نے بھی یہی رائے اختیار کی ہوئی ہے۔حالانکہ عام فقہاء محدثین، ابو یوسف اورمحمد شیبانی کا مؤقف حدیثِ نبوی کے مطابق یہ ہے کہ ظہر کا وقت ایک مثل تک رہتا ہے۔یعنی جب ہر شیٔ کا سایہ اس کے اپنے قد کے برابر ہو جائے تو ظہر کاوقت ختم ہو جاتا ہے اورعصر کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔ صحیح مسلم ، ج : ۱ ،ص: ۲۲۳ وغیرہ میں یہ حدیث موجود ہے۔
احناف کے علامہ ظہیرالدین شوق نیموی حنفی نے اٰثار السنن میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ :
[إنِّی لَمْ اَجِدْ حَدِیْثًا صَرِیْحًا صَحِیْحًا أوْ ضَعِیْفًا یَدُلُّ عَلٰی أنَّ وَقْتَ الظُّہْرِ إلٰی أنْ یَصِیْرَ الظِلُّ مِثْلَیْہِ۔] (اٰثار السنن،ص:۵۳)
’’بے شک میں نے کوئی بھی صحیح صریح یا ضعیف حدیث ایسی نہیں پائی جس میں اس بات کی دلیل ہو کہ ظہر کی نماز کاوقت کسی بھی چیز کے سائے کے دو مثل ہونے تک رہتا ہے‘‘۔
قاضی ثناء اللہ پانی پتی حنفی نے بھی اپنی تفسیر مظہری میں کہا ہے:
[أمَّا آخِرُ وَقْتِ الظُّہْرِ فَلَمْ یُوْجَدْ فِیْ حَدِیْثٍ صَحِیْحٍ وَلاَ ضَعِیْفٍ أَنَّہُ یَبْقٰی بَعْدَ مَصِیْرِ ظِلِّ کُلِّ شَیٍٔ مِثْلَیْہٖ۔] (دیکھئے ابکار المِنَن فی تنقید اٰثار السنن،ص:۷۷)
ظہر کا آخر وقت ہرشیٔ کے سائے کے دو مثل ہونے تک باقی رہنے پر نہ کوئی صحیح حدیث پائی گی ہے اورنہ ہی ضعیف۔ انہوں نے اس کے بعد کہا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ سے اس کے بارے میں دو قول ہیں،یعنی ایک قول ان کا حدیث اور جمہور کے قول کے مطابق بھی ہے۔(ابکار المنن فی تنقید اٰثار السنن ،ص:۷۷)
میں کہتا ہوں کہ دور حاضر کے مقلدین نے صحیح حدیث کو بھی نہ چھوڑا، جمہور فقہاء کی بھی کوئی پروا نہیں کی اور نہ ہی اپنے امام کے حدیث کے مطابق قول کو اختیار کیا۔
امام مالک، شافعی، احمد اور اسحاق کی رائے یہ تھی کہ کنواری بالغہ کانکاح اس کاباپ اس کی اجازت کے بغیر کردے تو فسخ نہیں ہو سکتا خواہ وہ راضی ہو یا ناراض،جیسا کہ امام ترمذیؒ نے ان کا قول نقل کیا ہے۔(ابواب النکاح باب ماجاء فی استیمارالبکر والثیّب ، جامع ترمذی:۲۱۰)
حالانکہ ان کی یہ رائے بخاری وغیرہ کی صحیح حدیث کے خلاف ہے۔
امام شافعیؒ سخت گرمی کے موسم میں بھی ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کرنے کے استحباب کے قائل نہ تھے جبکہ حدیث میں اس کا واضح ذکرہے۔(جامع ترمذی،ابواب الصلوٰۃ باب ما جاء فی تأخیر الظہر فی شدّۃ الحر)اور امام ترمذی نے حدیث کی پیروی کو اولیٰ واشبہ کہا ہے ۔
امام مالکؒ،شافعیؒ اور ابوحنیفہؒ وغیرہم اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضوء کرنا ضروری نہیں سمجھتے تھے بلکہ پہلے کئے ہو ئے وضوء کو کافی سمجھتے تھے۔ حالانکہ اس کے بارے میںعام حدیث کی کتابوں میں حدیث پائی جاتی ہے کہ اونٹ کاگوشت کھانے کے بعد وضوء کرکے نماز پڑھی جائے یعنی اگر پہلے وضوء کیا ہو پھراونٹ کا گوشت کھالیا تو نماز کے لیے دو بارہ وضوء کرنے کی ضرورت ہے اور آپeنے اس کاحکم دیا ہے۔(صحیح مسلم کتاب الحیض باب الوضوء من لحوم الإبل ،نیز دیکھئے سنن کبریٰ بیہقی:۱؍۱۵۹)
امام احمد، اسحاق اورعام فقہائے حدیث اسی طرف گئے ہیں کہ اس کے بعد وضوء کرنا ہو گا پھر نماز پڑھنا ہوگی۔
خرصِ تمر کے متعلق امام ابو حنیفہؒ کی رائے حدیث نبوی کے منافی ہے۔خرصِ تمر (یعنی زکوٰۃ دینے کے لیے کھجوروں کا درختوں پرتخمینہ واندازہ کرنا کہ وہ کتنی مقدار میں ہوں گی یعنی ان میں مٹھاس پیدا ہو جائے تو سارے پھل پر ایک نظر دوڑانا پھر اس کا اندازہ لگانا کہ جب یہ سارا پھل خشک ہو جائے تو کتنارہ جائے گا پھر اندازہ لگائی ہوئی مقدار سے ایک تہائی یا ایک چوتھائی چھوڑ کر باقی سے زکوٰۃ وصول کرنا)میں وارد حدیث،حدیث کی کتابوں مثلاً ترمذی ، ابوداؤد،ابن ماجہ،سنن کبری، بیہقی ۴/۱۲۱ وغیرہ میں عام پائی جاتی ہے لیکن امام ابوحنیفہ ؒ، شعبی ،سفیان ثوری وغیرہ نے کہا ہے کہ خَرص جائز نہیں۔ (دیکھئے کتاب الحجۃ علی اہل المدینہ:۱؍۵۱۰نیل الاوطار: ۳؍۱۰۲ سبل السلام :۲؍۸۱۸حدیث نمبر۵۷۸۔ عمدۃ القاری ۶۸۱۹۔ انجاز الحاجۃ شرح سنن ابن ماجہ جلد ۶،ص۱۴۸)
اب یہ ان کی اپنی رائے ہے کہ حدیث کے مقابلہ میں ان کی رائے کی تقلید نہیں کی جائے گی۔
نماز میں قد م سے قدم ملانے کے مسئلہ میں احناف کے بعض شارحین نے حدیث نبوی کے خلاف رائے قائم کی ہے۔حدیث میں تسویۃ الصفوف (صفیں برابر کرنے) کاحکم ہے تراصّ(ایک دوسرے سے جڑ کر کھڑا ہونا) وسدِّ خلل(یعنی صف میں جو خالی جگہ رہ جائے اسے پُرکرنے) کا بھی حکم ہے۔ نعمان بن بشیر اور انس wکی بیان کردہ روایت میں قد م کے ساتھ قدم ملاکر کھڑے ہونے کابھی ذکر ہے۔انس tکا یہ بھی قول ہے کہ میں نے اپنے ایک ساتھی یعنی (صحابی)کو دیکھا کہ وہ اپنا کندھا اپنے ساتھی کے کندھے کے ساتھ اوراپنا قدم اپنے ساتھی کے قدم کے ساتھ ملا یا کرتا تھا، اگر (اس دور) میں تو کسی کے کندھے اور قدم کے ساتھ اپنا کندھا اور قدم ملانے لگے تو تو اسے سرکش خچر کی طرح بدکتا ہوا دیکھے گا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ حدیث ، ۳۵۴۴ تحقیق محمد عوامہ۱۳۰ باب ماقالوا فی اقامۃ الصف ،فتح الباری ، عمدۃ القاری شرح باب الزاق المنکب بالمنکب و القدم بالقدم من کتاب الأذان)
تقریباً متقدمین ائمہ مثلاً مالک،شافعی ،احمد اور ابوحنیفہ وغیرہم کااس کی مشروعیت پر اتفاق ہی ہے۔ امام ابو حنیفہؒ کا قول کتاب الاثار از امام محمد باب تسویۃ الصفوف میں موجود ہے ،لیکن متأخرین احناف مثلاً انور شاہ کشمیری،شیخ زکریا سہارنپوری اور صاحب تفہیم البخاری  وغیرہ نے اس میں وارد صریح حدیث کے خلاف اپنی رائے دی ہے۔(دیکھئے فیض الباری:۲؍۲۳۶، تفہیم البخاری ، ج:ا،ص:۳۷۰از ظہور الہی اعظمی دیوبندی)
نہایت افسوس کی بات ہے کہ جناب اعظمی صاحب نے بخاری کی روایت کو رد کرنے کے لیے ایک غیر محقق مولانا امین اکاڑوی کا قول پیش کیا ہے۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون) حالانکہ اوکاڑوی احادیث نبویہ کی کھل کر تردید کرتا اور مذاق اڑایا کرتا تھا اور علم حدیث کی ہوابھی اسے نہیں لگی تھی ۔
اب تقریباً تمام احناف اسی کی رائے پرچلتے ہیں اور نماز میں پاؤں کے ساتھ پاؤں کوئی بھی نہیں ملاتا،بلکہ ملانے والوں کو برا جانتے ہیں۔
امام الائمہ ابن خزیمہؒ نے کہا ہے کہ نماز کی تیسری رکعت کے شروع میں رفع الیدین کرنا اگرچہ امام شافعی نے ذکر نہیں کیا لیکن پھر بھی سنت ہے کیونکہ اس میں وارد حدیث کی سند صحیح ہے اورامام شافعی نے خود کہا ہے کہ سنت کے قائل ہو جایا کرو اورمیرے قول کو چھوڑ دیا کرو۔(فتح الباری:۲؍۱۸۲،تحت کتاب الاذان باب۸۶ رفع الیدین اذا قام من الرکعتین،حدیث نمبر۷۳۹)
امام بیہقی  ؒاپنی مشہور کتاب معرفۃ السنن والآثار میں فرماتے ہیں کہ امام شافعی نے عورتوں کا عیدین کی نماز پڑھنے کے لیے عید گاہ کی طرف نکلنے کے متعلق حدیث روایت کرنے کے بعد کہا ہے: اگر یہ حدیث ثابت ہو تو میں اس کاقائل ہو جاؤں گا۔
امام بیہقی ؒ فرماتے ہیں کہ بلا شبہ یہ حدیث ثابت ہو چکی ہے یعنی ام عطیہrکی حدیث جو کہ صحیح بخاری وصحیح مسلم میں موجود ہے۔اب شافعیوں کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ اس کے قائل ہوجائیں(فتح الباری:۲؍۵۹۷تحت کتاب العیدین ،باب ۲۱، اعتزال الحُیّض المصلّٰی،حدیث،۹۸۱)
صحیح بخاری وغیرہ میں احرام باندھنے سے قبل شرط لگانے کے متعلق حضرت ضباعہ rکی واضح حدیث موجود ہے اور اس پر امام بخاریؒ نے کتاب المحصر میں باب ۲ الاحصار فی الحج قائم کیا ہے۔حضرت عثمان، علی، عمّار، عبد اللہ بن مسعود،عائشہ اورام سلمہy وغیرہ بھی اس کو درست سمجھتے ہیں، ان کا قول حدیث کے مطابق ہے۔ جبکہ عبد اللہ بن عمرؓ کاقول اس حدیث کے مطابق نہیں تھا۔امام بیہقی فرماتے ہیں:
[لَو بَلَغَ اِبْنَ عُمَرَ حَدِیْثُ ضُبَاعَۃَ فِی الاِشْتِرَاطِ لَقَالَ بِہِ۔]
’’اگر حج میں شرط لگانے کے متعلق ضباعہ کی حدیث سیدنا عبد اللہ بن عمرw کو پہنچ جاتی تو وہ ضروراس کے قائل ہو جاتے‘‘(حنفیہ اور مالکیہ کا قول بھی ضباعہ کی اس حدیث کے خلاف ہے)
اور امام شافعی کے متعلق امام بیہقی نے کہا ہے کہ امام شافعی فرماتے ہیں اگر یہ حدیث ثابت ہوتی تومیں اس کو ترک کرکے کبھی بھی دوسری رائے اختیار نہ کرتا کیونکہ میرے نزدیک رسول اللہeسے ثابت ہونے والی حدیث کی مخالفت کرنا حلال نہیں۔ امام بیہقی ؒ فرماتے ہیں :
[قَدْ ثَبَتَ ھٰذَا الحَدِیْثُ مِنْ اَوْجُہٍ عَنِ النَبِیﷺ۔]
’’بلا شبہ یہ حدیث کئی سندوں کے ساتھ نبیeسے ثابت ہو چکی ہے‘‘
حافظ ابن حجر عسقلانی  ؒیہ ساری بحث نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
یہ بھی ان جگہوں میں سے ایک ہے جن میں امام شافعی نے اپنا قائل ہونا حدیث کی صحت کے ساتھ معلق ومشروط کیاہے اور فرماتے ہیں کہ میں نے اس سلسلہ میں ایک مستقل کتاب تصنیف کی ہے جس میں وہ تمام احادیث جمع کی ہیں جن کے متعلق امام شافعی نے کہا تھا کہ یہ احادیث صحیح وثابت ہوں تو میں ان کاقائل ہوجاؤں گا۔میںنے ان کی تحقیق بھی کی ہے۔ (دیکھئے فتح الباری: ۴؍۱۰۔ ۱۱قدیمی کتب خانہ مقابل آرام باغ کراچی،تحت کتاب المحصر باب ۲الاحصار شرح حدیث :۱۸۱۰)
یہ اکیس مثالیں بطور نمونہ ذکرکی گئی ہیں ورنہ مروجہ فقہ کی کتابوں میں سینکڑوں ایسی آراء موجود ہیں جو صریح احادیث نبویہ کے خلاف ہیں اگر ان کو جمع کیا جائے تو ایک ضخیم کتاب تیار ہوسکتی ہے۔علامہ عز الدین بن عبدالسلام ؒ نے اس سلسلہ میں ایک کتاب تصنیف فرمائی تھی۔پھر افسوس کی بات یہ ہے کہ مقلدین حضرات فقہ کے آرائی مسائل پر عمل کرنے کے لیے عام لوگوں کو مجبور کرتے رہتے ہیںاور تقلید امام کو واجب سمجھتے ہیں۔
حالانکہ کسی ایک معیّن امام کی تقلید کا پابند رہ کر تمام احادیث نبویہ کے مطابق نہ ہی عقیدہ بنایا جاسکتاہے اور نہ ہی عمل کیا جاسکتا ہے۔اس لیے کہ أئمہ اربعہ (ابو حنیفہ،مالک،شافعی،احمد)میں سے ہر ایک امام سے کئی احادیث مخفی رہ گئی تھیںیا ان کی صحت ان پر مخفی رہ گئی تھی۔ لہٰذاہر شخص بالخصوص مدارس کے طلبہ جوکتبِ حدیث پڑھتے ہیں ان کے لیے تو بہت ضروری ہے کہ وہ حق کی تلاش میں رہیں اور کسی بھی امام کی جورائے کسی قرآنی یا حدیثی نص کے خلاف ہو اسے اپنا مذہب ہر گزنہ بنائیں بلکہ نصّ کو ہی اپنا مذہب بنائیں‘ اسی میں نجات ہے۔
اگر ان مقلدین کا کوئی فرد احادیث نبویہ پر عمل کرنے کے لیے تیارہوتاہے اور کہتا ہے کہ میں ان آراء پرعمل نہیں کروں گا یا میں ان کو صحیح نہیں سمجھتا، احادیث نبویہ ہی قابلِ عمل ہیں، انہی پر عمل کرنے میں نجات ہوگی اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسی کاحکم دیا ہے:
[وَمَا اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَھَاکُمُ عَنْہُ فَانْتَھُوْا۔]
تویہ متعصّب مقلدین اس شخص سے بے حد دشمنی رکھتے ہیں۔اگر ان کا کوئی بچہ بالغ ہونے کے بعد یہ کہہ دے کہ میں حدیث نبوی پر ہی عمل کروں گا،مروجہ فقہ کے آرائی مسائل پر میں عمل نہیں کروں گابالخصوص وہ ایک متواتر سنت یعنی رکوع کے وقت رفع الیدین ہی شروع کردے تومقلدین کے ہاتھوں اسے اپنی جان کا خطرہ ہوتاہے اور اس پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں،اسے گھر سے باہر نکالنے کی ،اس سے قطع تعلقی بلکہ جائیداد سے عاق قرار دینے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ اس کی کئی ایک مثالیں موجود ہیں۔
الغرض اہل حدیث وسنت اوراہل تقلید کے درمیان یہ معرکہ آرائی ہمارے اس دور تک جاری وساری رہی ۔ دونوں طرف سے بہت سی کتابیں اوررسالے لکھے جاچکے ہیں، لکھے جارہے ہیں اور آئندہ بھی لکھے جاتے رہیں گے۔ اہلِ حدیث وسنت عمل بالحدیث النبوی یعنی رسول اللہeکی سنت پرعمل کرنے کی دعوت پر زوردیتے رہے ہیں۔جبکہ اہلِ تقلید احادیث نبویہ کو پسِ پشت ڈال کر اپنے اپنے اماموں کی آراء وقیاسات کی طرف دعوت پر اپنا سارا زور صَرف کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ حالانکہ ان کی کتابوں میں ہی ان کے اماموں کے اقوال موجود ہیں کہ حدیث نبوی کے مقابلہ میں ہمارا قول ترک کردو۔ صحابہ کرام بھی حدیث نبوی کے مل جانے کے وقت آراء کو ترک کردیا کرتے تھے۔
مجموعی لحاظ سے تابعین کے اندر بھی یہی طریقہ تھا اور محدثینِ کرام جنہوں نے حدیث کی کتابیں لکھی ہیں وہ سب اسی طریقہ پر تھے حتی کہ مقلدین احناف کے ایک بہت بڑے امام ابو جعفر طحاویؒ نے اپنی کتبِ حدیث میں کئی ایک مقامات پر امام ابو حنیفہؒ کی مخالفت کی ہے۔
اسی طرح امام ابو حنیفہؒ کے شاگردوں مثلاً امام محمد اور ابو یوسف نے بے شمار مسائل میں اپنے شیخ ابوحنیفہؒ کی مخالفت کی ہے۔ھدایہ کامطالعہ کرنے والے پر یہ چیز مخفی نہیں رہتی۔
اگر تقلید جائز ہوتی تو جو امام أبوحنیفہؒ سے پہلے فقہاء ہوئے ہیں وہ تقلید کئے جانے کے زیادہ لائق تھے جیسا کہ حسن بصری اور ابراہیم نخعی ہیں‘‘(المبسوط للسرخسی، ج:۱۲ ، ص:۲۸)
اصل بات یہی ہے کہ قرآن اورحدیث کو ہر شخص کی بات سے مقدم رکھاجائے اور یہی اہل حدیث وسنت کی دعوت رہی ہے اور آئندہ بھی رہے گی۔ان شاء اللہ۔

No comments:

Post a Comment