نا اھل حکمرانوں کی نشانیاں - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Friday, June 28, 2019

نا اھل حکمرانوں کی نشانیاں


نا اہل حکمران اور قیامت کی نشانیاں

تحریر: جناب مولانا عبیداللہ لطیف
قیامت کے دن پر ایمان لانا ہر مسلمان کے لیے لازمی جزو ہے کیونکہ قیامت کے دن کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے پاک کتاب قرآن مجید میں کئی مقامات پر کیا ہے۔ قیامت کی ہولناکیاں کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ رب العزت نے فرمایا کہ ’’اس دن لوگ ایسے ہوں گے جیسے بکھرے ہوئے پتنگے اور پہاڑ ایسے ہوں گے جیسے دھنکی ہوئی رنگین اون۔‘‘
نبی رحمت u سے لوگوں نے سوال کیا کہ قیامت کب آئے گی تو اس کے جواب میں اللہ رب العزت نے سورۃ الاعراف کی آیات نازل فرمائیں جن کا ترجمہ کچھ اس طرح ہے کہ ’’وہ آسمان و زمین پر بڑا بھاری حادثہ ہو گا اور اس کا علم میرے رب کے پاس ہی ہے‘ اس کے وقت پر اس کو سوا اللہ کے کوئی ظاہر نہ کرے گا۔ وہ تم پر محض اچانک آ جائے گی‘ وہ آپ سے اس طرح پوچھتے ہیں کہ آپ اس کی تحقیقات کر چکے ہیں آپ فرما دیجئے کہ اس کا علم خاص اللہ ہی کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (الاعراف: ۱۸۷)
قیامت کی دس بڑی بڑی نشانیاں ہیں جن کا تذکرہ نبی رحمتu نے اپنی زبان مبارکہ سے اس طرح کیا ہے کہ صحیح مسلم کی روایت کے مطابق حذیفہؓ بن اسید الغفاری فرماتے ہیں ہم باہم گفتگو کر رہے تھے کہ نبی پاکu ہمارے پاس آئے اور پوچھا: کیا گفتگو ہو رہی ہے؟ انہوں نے کہا: ہم قیامت کا ذکر کر رہے ہیں‘ آپe نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تم دس نشانیاں نہ دیکھ لو۔ پھر آپe نے ذکر کیا دھویں کا، دجال کا، جانور کا، مغرب سے طلوع آفتاب کا، عیسیٰ بن مریمؑ کے نزول کا، یاجوج ماجوج کے خروج کا، مشرق مغرب اور جزیرۃ العرب کے تین خسوف (یعنی زمین میں دھنس جانے) کا، اور آخر میں اس آگ کا جو یمن سے نکل کر لوگوں کو ہانک کر محشر کے میدان میں لے جائیگی۔ جہاں پر ان بڑی دس علامات کا تذکرہ نبی رحمتu نے اپنی زبان مبارکہ سے فرمایا ہے وہیں پر بے شمار چھوٹی علامات کا تذکرہ بھی فرمایا ہے‘ ان میں سے اکثر وبیشتر پوری ہو چکی ہیں جن میں سے چند ایک درج ذیل ہے:
لوگ ایک دوسرے کو بغیر کسی مقصد کے قتل کریں گے‘ نبی رحمتu نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! لوگوں پر وہ وقت آ کر رہے گا جب نہ قاتل کو پتہ ہو گا کہ وہ کیوں قتل کر رہا ہے اور نہ مقتول کو پتہ ہو گا کہ وہ کیوں قتل ہو رہا ہے (حوالہ صحیح مسلم بروایت ابوہریرہt)
کیااس وقت حالات ایسے ہی نہیں ہیں کہ یہ بم دھماکے اور قتل و غارت گری کا جو بازار گرم ہے یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی پوری نہیں ہو رہی۔
جامع ترمذی میں سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا: جب مال غنیمت گردش کرنے لگے گا، جب امانت کو مال غنیمت سمجھا جائے گا اور زکوٰۃ کو تاوان، جب آدمی اپنی بیوی کا کہا مانے گا اور ماں کی نافرمانی کرے گا۔ جب اپنے دوست سے حسن سلوک کرے گا اور باپ سے بدسلوکی، جب مسجد میں شور بلند ہوگا، جب قوم کا لیڈر ذلیل ترین آدمی ہو گا اور بدکار قبیلے کا سردار بن جائے گا، انسان کی عزت اس کے شر کے ڈر سے کی جائے گی، جب شراب پی جائے گی، ریشم پہنا جائے گا، جب گانے والیوں اور آلات موسیقی کو اپنایا جائے گا، جب اس امت کے آخری لوگ پہلوں پر لعنت بھیجیں گے تو اس وقت سرخ آندھی یا زمین میں دھنسنے کا یا شکلوں کے مسخ ہونے کا انتظار کرنا۔ علامات کا پے در پے اس طرح ظہور ہو گا جیسے کہ موتیوں کی پرانی لڑی کا دھاگہ ٹوٹ چکا ہو اور موتی پے در پے گر رہے ہوں۔
ایک اور مقام پر نبی رحمتu نے فرمایا: چھ باتوں سے پہلے نیک عمل کر لو 1 احمقوں کی حکومت، 2 پولیس کی کثرت، 3 حکومت کی خریداری، 4 خون کی ارزانی، 5 قطع تعلقی، 6 قرآن کو گیت سمجھ کر کسی کو امامت کے لئے آگے کھڑا کرنا تا کہ وہ ان کو گانا سنائے خواہ وہ احکام شریعت سمجھنے میں سب سے کم تر ہو۔ (بحوالہ طبرانی بروایت عابس الغفاری، شیخ البانی نے اسے الصحیحہ نمبر ۹۷۹ کے تحت درج کیا ہے)
اگر موجود حالات کا جائزہ لیا جائے تو یہ ساری علامتیں من و عن پوری ہوتی نظر آتی ہیں عریانی‘ و فحاشی کا بازار گرم ہو چکا حالانکہ امام الانبیائؑ کا فرمان عالیشان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ جگہوں میں سب سے زیادہ پسندیدہ جگہ مسجد اور سب سے زیادہ ناپسند بازار ہے۔ اگر اعلیٰ سطح پر جائزہ لیا جائے تو اس وقت ساری امت مسلمہ سودی معیشت میں جکڑی ہوئی‘ اللہ تعالیٰ اور اس کے نبی کے خلاف اعلان جنگ کیے ہوئے ہے نااہل اور احمق لوگ اس وقت حکمران بن چکے ہیں۔ جنہیں ملکی عزت ووقار کا پاس ہونے کی بجائے صرف اپنی کرسی کی فکر ہے۔
ملکی وسائل وافر مقدار میں ہونے کے باوجود عوام پر عرصۂ حیات تنگ کر دیا گیا ہے۔ امیر لوگ دن بدن امیر ہو رہے ہیں جبکہ غریب لوگ غربت کی چکی میں پستے چلے جا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ پاکستانی قوم کی حالت زار پر رحم فرمائے اور انہیں اچھے اور خیر خواہ حکمران نصیب کرے۔ آمین!


No comments:

Post a Comment