اسلام کا سیاسی نظام - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Friday, June 28, 2019

اسلام کا سیاسی نظام


اسلام کا سیاسی نظام

تحریر: جناب پروفیسر میر حماد الرحمٰن
کوئی معقول انسان اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ پاکستان کا قیام جمہوریت کے ذریعے اور نفاذِ اسلام کے لیے عمل میں آیا۔۔ بانیانِ پاکستان حضرت علامہ اقبال اور قائداعظم محمد علی جناح کے پیش نظر بھی ایسی ریاست تھی جو مکمل طور پر اسلامی اصولوں پر مبنی ہو۔ خدا کا شکر ہے کہ پاکستان قائم ہو گیا لیکن پون صدی سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اس ملک میں اسلام کا نفاذ نہ ہو سکا کہ ہمارے حکمرانوں نے کبھی قیام پاکستان کے مقاصد کی تکمیل پر توجہ نہیں دی۔ بدقسمتی سے اسلام کے علمبرداروں نے بھی کما حقہ ذمہ داری کا ثبوت نہیں دیا۔ چنانچہ آج سب سے زیادہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے عوام کو اسلام کے اصل سیاسی نظام سے روشناس کروائیں کہ ماضی میں ملوکیت کو اسلام کا سیاسی نظام کا نام دے کر جہاں لوگوں کو گمراہ کیا جاتا رہا ہے وہاں ساتھ ہی آمریت کے لیے دروازے کھولے جاتے رہے جس نے ملک کو ناقابلِ تلافی نقصانات پہنچائے۔ حالانکہ اسلام کا بے  مثال شورائی (جمہوری) نظام، آمریت‘ بادشاہت‘ فوجی حکمرانی اور ہر اس ظالمانہ نظام کو مسترد کرتا ہے جس کی بنیاد جمہوریت یا شورائیت نہ ہو۔
اسلام کے جمہوری نظام کے اصول کتاب و سنت میں محفوظ ہیں جس کی تفاصیل کتب تفسیر‘ حدیث نبویؐ اور مستند کتب سیرت و تاریخ میں ملتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا منشا یہ ہے کہ دنیا کے سامنے انسانی زندگی کے اہم ترین پہلو یعنی نظام سیاست و حکومت کے خدوخال بالکل واضح ہو جائیں اور اسلام کا جمہوری نظام عمل نبوت سے گزر کر ایک اسوہ حسنہ کی صورت میں سامنے آ جائے۔ دنیا کو معلوم ہو جائے کہ احترام آدمیت دراصل جمہور کی آزادانہ رائے کے اظہار اور اسے تسلیم کرنے اور گوارا کرنے میں ہی مضمر ہے۔ رسالت و ریاست کے اجتماع و یک جائی سے جمہوری نظریہ سیاست کی بنیاد پر مدینہ منورہ میں دنیا کی اولین اسلامی جمہوری (شورائی) ریاست قائم ہوئی ۔ اس ریاست کا حکمران باہر سے آیا مگر کسی فوجی فتح کے نتیجہ میں اس کا داخلہ نہ ہوا تھا بلکہ یہ داخلہ تو فاتحانہ ہی تھا۔ جو دلوں کو محبتوں اور عقیدتوں سے مسخر کر گیا تھا۔ اس ریاست میں بسنے والے مختلف مذاہب کے پیروکار بھی تھے اور مختلف اجناس و اقوام سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی۔ مگر سب نے باہم پر امن رہنے کے لیے مساویانہ حقوق شہریت کی بنیاد پر ایک دستور مرتب کیا تھا جسے تاریخ کا اولین تحریری دستور ہونے کا شرف حاصل ہے۔ یہ دستور ان ’’دو رکعت کے اماموں‘‘ کو دعوتِ فکر بھی دیتا ہے جو ’’قوموں کی امامت‘‘ سے نا آشنا ہیں اور یہ فتوے جاری کرتے ہیں کہ اسلام میں قرآن کریم کے علاوہ کوئی انتظامی دستور بنانا یا تحریر کرنا حرام اور کفر ہے اور یہ کفر یہ نظام ’’جمہوریت‘‘ کا خاصہ ہے۔ حالانکہ شورائی نظام (جمہوریت) مقصود خدائے بزرگ و برتر اور آئین فطرت بھی ہے کہ روز ازل میں اللہ تعالیٰ کے حضور ملائکہ کا جمہوری مشورہ کہ تقدس و تسبیح کے لیے جب ملائکہ کافی ہیں تو سافک الدماء انسان کو خلافتِ ارضی کے لیے پیدا کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ لیکن خدا کا یہ جواب کہ علام الغیوب کے علم میں جو کچھ ہے اسے ملائکہ نہیں جانتے۔ درحقیقت ہمارے لیے یہ پیغام تھا کہ مشورہ سب سے لیا جائے مگر علم میں بلند تر اور دانش میں نمایاں تر کی بات ہی درست اور صائب ہو گی۔
فطرت کا دستور بھی گویا جمہوریت کا آئینہ دار ہے۔ ظہورِ اسلام سے پہلے دنیا موروثی بادشاہت اور ولی عہدی کے سوا اور کسی انداز و اسلوب حکمرانی یا نظام حکومت سے آشنا نہ تھی۔ خود رسول اللہe کا اپنا جانشین مقرر نہ کرنا بلکہ اسے اللہ کی حکمت اور اہل ایمان کی رائے کے سپرد فرما دینا‘ پھر خلفائے راشدین اربعۃ کا ولی عہد مقرر کرنے سے احتراز کرنا اسی بات کا بیّن ثبوت ہے کہ ولی عہد کا تقرر یا موروثی بادشاہت اسلام کا منشا و مقصد ہرگز نہیں۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ قیصریت و کسراویت نے ملت اسلامیہ کو ملوکیت کے شکنجے میں جکڑ دیا اور افرادِ امت کا کام صرف آنکھیں بند کر کے اطاعت و تسلیم رہ گیا۔ شوریٰ اور جمہور کی رائے قصہ ماضی بن کر تاریخ کے صفحات میں دفن ہو گئی۔اب عوام کی رائے سے خلیفۃ یا صدر کا انتخاب باطل و کفر قرار پایا جو ایک مسلسل وبال بن کر ہمارا بیڑہ غرق کر رہا ہے۔ آج ہم بے قرار اور بے سکون صرف اس لیے ہیں کہ عدل و انصاف ناپید ہو چکا ہے جو جمہوری نظام کی بنیادی اساس ہوا کرتاہے۔ جمہوریت کا دوسرا کام آدمیت کا احترام و مساوات ہے جو عدل کے بغیر ممکن نہیں۔
سرورِ کائنات محمد رسول اللہe نے اپنے صحابہ اکرام کے مشوروں کو ہر حال میں اہمیت دی۔ اکثریت کی رائے کا مکمل احترام فرمایا اور جمہور کے فیصلوں کو اللہ پر توکل اور ایمان کے ساتھ نافذ کر کے امت کی جمہوری تربیت کے لیے بے مثال قابل عمل نمونے قائم فرمائے کہ اللہ تعالیٰ نے بھی آپؐ کو یہی حکم دے رکھا تھا۔ ابن قتیبہ کا کہنا ہے کہ آنحضرتe خواتین سے بھی مشورہ لیا کرتے تھے۔ اسی طرح صحاح سۃ میں یہ حدیث بھی ہے کہ ہم نے رسول اللہe سے بڑھ کر مشاورت کا پابند کسی اور کو نہیں دیکھا۔
خلفائے راشدین کے انتخاب اور طرزِ حکمرانی میں جو جمہوری انداز اپنایا گیا تھا وہ بعد کے ادوار میں نہ صرف پس پُشت ڈال دیا گیا بلکہ بعد میں آنے والے مسلم مفکرین کی توجہ کا مستحق بھی نہ رہ سکا۔
اسلام میں شورائی (جمہوری)نظام کی اہمیت اور تقدس کا یہ عالم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب مقدس قرآن مجید کی ایک مکمل سورت کا نام ہی ’’سورۃ الشوریٰ‘‘ ہے۔ اس میں مسلمانوں کے شورائی (جمہوری) طرزِ حکمرانی کو عبادات اور اخلاق جیسے اوصافِ مومنانہ کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ کسی کی رائے سے اختلاف رکھنے والے کو مکمل طور پر برداشت کرنا‘ اس کی بات پر توجہ دینا‘ یعنی حزب اختلاف (اپوزیشن) کو مطمئن کرنا اور اکثریت کے فیصلے کا پورا پورا احترام کرنا اور از روئے قرآن و سنت اور آثارِ صحابہ واجب ہے۔ جبکہ سورۃ آلِ عمران کی 159نمبر آیت میں مشورہ لینے کے حکم کے ساتھ عزم اور توکل کے حکم میں بھی دراصل اشارہ اس بات کا ہے کہ اکثریت کی رائے سے جو فیصلہ طے ہو جائے اسے عزم بالجزم کے ساتھ نافذ کر دیا جائے اور نتائج کے سلسلے میں اللہ کی ذات پر توکل اور بھروسہ کیا جائے‘ یہی اسلامی جمہوریت کا امتیاز اور مطلوب و مقصود بھی ہے۔ اگر اسلام کا منشا قیام حکومت یا سیاسی نظام نہ ہوتا تو حضور اکرمe اور اُن کے خلفائے راشدین ایک منفرد حکومت قائم کر کے دنیا بھر کی فتوحات اور تسخیر کے لیے قافلہ در قافلہ نہ نکلتے اور بادشاہانِ وقت کے ساتھ خارجی روابط اور دعوتِ اسلام کے لیے سُفراء اور رسائل نہ ارسال کرتے اور نہ ہی امت کو بالخصوص اصولِ حکمرانی تلقین فرمائے جاتے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ اسلام جن سیاسی قدروں اور جس طرزِ حکمرانی کا علمبردار ہے وہ نہ صرف جمہوری اقدار اور جمہوری طرز کی حکمرانی ہے بلکہ وہ عصرِ حاضر کی صدارتی و پارلیمانی جمہوریت سے افضل اور انسانیت کے لیے زیادہ نفع بخش بھی ہے۔ اسلام کی جمہوری قدریں دراصل عادلانہ قدروں سے عبارت ہیں اور یہ عدل کو تقویٰ سے وابستہ کرتا ہے۔ عدل دراصل احترامِ آدمیت مساوات اور خدمت انسانیت کی زندہ و نمائندہ علامت ہے‘ اسی لیے اسلام جن جمہوری اقدار کو پروان چڑھانا چاہتا ہے ان میں عدل و انصاف کو اولیت حاصل ہے۔ چنانچہ اسلام کی (قرآن میں) اس ضمن میں کچھ خاصی اصطلاحات ہیں جنہیں ہم اسلامی اصطلاحاتِ جمہوریت کا نام دے سکتے ہیں۔ ان اصطلاحات میں ملأ  (کونسل) ایتمار (باہمی مشورہ)،خلیفہ (جائز نمائندہ) ، استفتاء (استصوابِ رائے یا ریفرنڈم)، مبایعت (عوامی تائید) شوریٰ (قومی اسمبلی) وغیرہ۔
ان قرآنی اصطلاحات میں دورِ حاضر کی جدید ترین جمہوریت کے واضح خدوخال دیکھے جا سکتے ہیں۔ جب سورۃ آل عمران میں رسولِ برحق کو یہ حکم دیا جا رہا ہے کہ وہ امور حکومت و مہمات طے کرتے وقت اپنے پیروکاروں کی جمہوری رائے اور مشوروں کو اہمیت دیں تو عام مسلمان حکمرانوں کے لیے جمہوری (شورائی) نظام عنداللہ کیا اہمیت رکھتا ہو گااور آمریت کی کہاں تک اسلام میں گنجائش نکلتی ہے۔ اندازہ لگانا نہایت آسان ہے۔
حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ نے مغرب کی شُتر بے مہار جمہوریت پر تنقید کی تھی کہ
جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
جبکہ اسلام کا عطا کردہ جمہوری نظام آج کے ان تمام جمہوری نظاموں سے ممتاز اور ارفع ہے کہ یہاں بندوں کو گننے کے ساتھ ساتھ انہیں تولنے کا استحقاق بھی دیا گیاہے۔
اسی طرح اسلام کی جمہوریت میں حاکمیت (یعنی قانون ساز) صرف اللہ کی ہے۔ ’’حکم تو سراسر اللہ تعالیٰ کا ہی ہے‘‘ کے قرآنی حکم رو سے عوام کوئی نیا دستور حیات مرتب نہیںکر سکتے البتہ آواز خلق خدا تسلیم کرتے ہوئے عوام اپنی مرضی سے جمہوریت کے ذریعے اپنے لیے ایک ایسا سرپرست چُن سکتی ہے جو احکامِ الٰہی کے نفاذ اور خلقِ خدا کے تحفظ کی ضمانت دے سکے۔ مملکتِ خداداد پاکستان کے بانی محمد علی جناحؒ کا اپنا نظریہ بھی یہی تھا۔ چنانچہ جب اُن سے یہ سوال کیا جاتا کہ پاکستان کا دستور کیا ہو گا تو وہ یہی جواب میں فرمایا کرتے کہ ہمارا دستور صرف اور صرف قرآن کریم ہو گا۔
اسلام کے جمہوری نظام کے حوالے سے اسلام کی اولین قومی اسمبلی ’’دارِ ارقم‘‘ کے متعلق تاریخی مآخذ اور مصادر کے گہرے مطالعے کی اشد ضرورت ہے۔ قریش مکہ کے پارلیمنٹ ہائوس ’’دارالندوہ‘‘ کے مقابلے میں امتِ مسلمہ اسلام اسمبلی ہال ’’دارارقم‘‘ ہی میں دین و دنیا کی متوازن زندگی کی عملی تربیت کے ساتھ ساتھ مستقبل کی منصوبہ بندی ہوتی تھی جس کے نتیجے میں امت مسلمہ نے اپنے پائوں پر کھڑے ہو کر دنیا میں ہمہ گیر عالمی انقلاب کی قیادت و علمبرداری کا فریضہ سرانجام دیا۔
اسی مسلم اسمبلی میں طویل مشاورت کے بعد پہلی ہجرت کا فیصلہ ہوا۔ ہجرتِ مدینہ کو بھی اسی ’’دارارقم‘‘ میں اسلامی مجلس مشاورت میں زیر بحث لایا گیا۔ تبلیغ اسلام کے پروگرام بھی بنتے تھے۔ سوال و جواب کی نشستیں بھی ہوا کرتی تھیں۔ یہی دارِارقم مسلمانوں کا پہلا اسمبلی ہال تھا۔ جہاں ہر قسم کے امور و معاملاتِ زندگی باہم مشوروں سے نمٹائے جاتے تھے۔ ہجرتِ مدینہ کے بعد مدینہ منورہ میں مسجدِ نبویؐ اور صفہ کی درسگاہ نے ’’دارِارقم‘‘ کی جگہ لے لی تھی۔ چنانچہ مدینہ منورہ کی قومی اسمبلی نے جب ’’میثاق مدینہ‘‘ جیسا تحریری دستور پاس کیا تو سب نے اُس پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا۔ باوجودیکہ جنگ احد میں آنحضرتؐ کے خواب اور اسی کی تعبیر کے برعکس اکثریت (جمہور) کی رائے اور فیصلہ قابلِ قبول و قابل عمل قرار پایا جو نتائج کے اعتبار سے بہتر ثابت نہ ہوا مگر پھر بھی غزوہ احد کے بعد نازل ہونے والی آیات میں رسول اعظمؐ کو امور مہمات و حکومت میں اپنے ساتھیوں کو مشورہ میں شریک کرنے کا حکم ربانی صادر ہوتا ہے کہ ’’انہیں (حکومت کے) معاملات میں شریک مشورہ کیجیے۔ ہر فرد کو آزادی کے ساتھ اظہار رائے کی اجازت تھی، بعض اوقات صحابہ کرام] کو یہ گستاخی کی طرف بڑھتی ہوئی معلوم ہوتی اور حضورؐ کے سامنے معذرت کی نوبت آتی مگر انسانیت کا بول بالا کرنے والا رسول رحمت اور شورائی نظام (جمہوریت) کا علمبردار حکمران انہیں تسلی دیتا کہ یہ تمہارا پیدائشی حق تھا۔ گویا اسلام کا نظامِ سیاست وہ منفرد جمہوری نظام تھا جس نے آزادی پسند، خوددار، نڈر اور انصاف پسند افراد اور معاشرے کو جنم دیا۔ امام ترمذی (ابواب الجہاد 223/2) اور امام سیوطیؒ (الدر المنشور 90/2) نے سیدنا ابوہریرہt کا یہ قول نقل کیاہے کہ ’’میں نے رسول اللہe سے بڑھ کر اپنے ساتھیوں سے مشورہ لینے والا اور کوئی شخص نہیں دیکھا‘‘ گویا محمد عربیe سے بڑھ کر جمہوری (شورائی) نظام پر عمل کرنے والا اور کوئی نہ تھا نہ ہو گا۔ حالانکہ آپ نبی مرسل تھے اور مامور من اللہ تھے مگر امت کو جمہوری روایات میں راسخ کرنا تھا۔ ابن قتیبہ (عیون الاخبار 27/1) نے نقل کیا ہے کہ سرور کائنات ہر چھوٹے بڑے مرد و عورت سے مشورہ لیتے تھے اور قبول بھی کرتے تھے۔ مدینہ منورہ کی نوزائیدہ اسلامی جمہوری ریاست کے سربراہ سرکارِ دو عالمe جس مسئلے کے لیے سب سے پہلی مجلس شوریٰ (قومی اسمبلی) کا اجلاس طلب فرما رہے ہیں وہ اہل ایمان کو وقت پر مسجد میں با جماعت نماز کے لیے یک جا کرنے کا بلاوا ہے۔ تمام کتب حدیث و سیرت اس بات پر مکمل طور پر متفق ہیں کہ نماز کی دعوت کے لیے کوئی حکم ربانی نازل نہیں ہوا اور یہ بھی کہ یہ معاملہ نبویؐ مجلس شوریٰ میں طے ہوا تھا۔ عہد نبویؐ میں عرب و عجم میں موروثی بادشاہتیں قائم تھیں۔ ظہور اسلام کا وقت انسانیت کے دکھ درد کی انتہا کا وقت تھا، محمدe کے عہد کے انسان کے سامنے حکمرانی کے جو نمونے موجود تھے ان میں سے کوئی بھی نہ تو انسان کے لیے عزت و آرام کی زندگی کا ضامن تھا اور نہ ہی یہ کسی کے علم میں تھا کہ حقیقی شورائی (جمہوری) نظام ہی عزت اور احترام کی زندگی کا ضامن ہو سکتا ہے۔ چنانچہ ایسے وقت میں اسلام نے جو انوکھا جمہوری (شورائی) نظام پیش کیا اس کا طرہ امتیاز اور حقیقی روح یہ تھی کہ
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ بندہ نواز
جمہوریت اگر ایسی حکومت کا نام ہے جو عوام کی ہو، عوام میں سے اور عوام ہی کے لیے ہو تو پھر اس روئے زمین پر صرف خلافت نبویؐ  کامل اور اصل جمہوریت تھی، ایسی جمہوریت نہ کبھی دنیا میں کہیں قائم ہوئی اور نہ ہو سکے گی۔ البتہ اس بے مثال جمہوریت کی تقلید میں تمام انسانیت کی فلاح ہے۔ خلفائے راشدین کے تقرر اور انتخاب کے ضمن میں جو تین مختلف طریقے اختیار کیے گئے ان تینوں طریقوں میں جو باتیں مشترک نظر آتی ہیں وہ مشاورت ہے اور پھر عوام الناس کی تائید بذریعہ بیعت یا ووٹ جو آج کے جمہوری نظام کا حصہ ہے۔ یعنی اقتدار کی حقیقی غایت جمہور امت کی حمایت ہے۔ عوام الناس کی غالب اکثریت کا مینڈیت ہی اسلام کے شورائی جمہوری نظام کا اصل اصول ہے۔ گویا اسلام کی جمہوریت عوام کی وہ حکومت ہے جو عوام کے ذریعہ عوام کے لیے قائم ہوتی ہے اور عوام کی دسترس میں رہتی ہے۔ اس کی بہترین مثال فاروق اعظمؓ کی بے مثال عوامی فلاحی حکومت ہے۔ آپؓ حج اور دیگر مواقع پر کھلی کچہریاں لگاتے جہاں عمال حکومت اور خود خلیفۃ المسلمین کو بھی عوام کے سامنے جوابدہ ہونا پڑتا تھا۔ حقیقی جمہوریت کی حقیقی روح سے مستفید ہونے کے لیے عالم اسلام اور خصوصاً اہلِ پاکستان کو ابھی بہت کچھ کرنا ہے۔ اسلام کے جمہوری نظام کے لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پھلنے پھولنے کے بڑے روشن امکانات ہیں کیونکہ پاکستان دراصل دو بنیادی عناصر کا مرہونِ منت ہے اور یہ دو عناصر ہیں اسلام اور جمہوریت۔ اندرونی اور بیرونی عناصر کی مفاد پرستی اور سازش نے پاکستان کے دونوں ستونوں کو یہاں کبھی پنپنے نہیں دیا۔ جمہوریت جاگیرداری، سرمایہ داری اور فوجی نوکر شاہی کے ہاتھوں کھلونا بنی رہی۔ اسلام ’’دو رکعت کے اماموں‘‘ کے ہاتھوں فرقہ پرستی کے نرغے میں رہا۔ آج ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ اسلامی جمہوریت کا نفاذ پاکستان کا قومی ہدف قرار پائے اور اس کے لیے ہمیں اس یقین کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے کہ اسلامی جمہوریت میں بندوں کے گننے کے ساتھ ساتھ بولنے کی بھی بھر پور گنجائش ہے اور تولنے کا پیمانہ صرف اور صرف ’’تقویٰ‘‘ ہے۔ لیکن اس کے لیے بہت کام کرنے کی ضرورت ہے کہ
ابھی تو حسنِ ازل کا سنورنا باقی ہے
ابھی تو عشق کا جاں سے گزرنا باقی ہے
ابھی تو مہر ترقی ابھرنا باقی ہے
ابھی تو کام بہت ہے جو کرنا باقی ہے


No comments:

Post a Comment