درس قرآن وحدیث - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Sunday, June 23, 2019

درس قرآن وحدیث


درسِ قرآن
بدگمانی
ارشادِ باری ہے:
﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِيْرًا مِّنَ الظَّنِّ١ٞ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ﴾ (الحجرات)
’’اے ایمان والو! بہت زیادہ بدگمانیوں سے بچو، یقینا بعض بد گمانیاں گناہ ہیں۔‘‘
حقیقی مسلمان پرلازم ہے کہ وہ دوسروں کے بارے میں، خواہ کوئی بھی ہو ، احتیاط برتے اور نہایت احتیاط سے کام لے کیونکہ سب جانتے ہیں کہ بیدار مغزی اوراحتیاط‘ کمال کا پہلا درجہ ہے جبکہ مومن کے لیے ضروری ہے کہ وہ اللہ کے رستے پر ہمیشہ چوکنا ہو کر چلے اور جہاں تک ممکن ہو سکے اپنے افکار کو حسن ظن سے رنگ دے ا ور کبھی بھی بد گمانی کے گناہ میں نہ پڑے کیونکہ آنحضرت e نے ارشاد فرمایا ہے کہ: ’’ حسن ظن عبادت کی خوبی میں سے ہے ‘‘ گویا آپ e نے ہمارے سامنے یہ بیان فرمایا ہے کہ حسن ظن ایک عظیم اور اعلیٰ مرتبہ ہے۔ اسی طرح فرمایا: [إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ] ’’اپنے آپ کو بدگمانی سے بچاؤ کیونکہ بدگمانی بہت جھوٹی بات ہے۔‘‘
جو شخص حسن ظن سے محروم ہو اور اس پر بد ظنی کے جذبات کا غلبہ ہو تو وہ ہمیشہ دوسروں کو مشکوک نگاہوں سے دیکھےگا حتی کہ ان کی عبادات‘ جیسے نماز و روزہ وغیرہ  کا بھی مذاق اڑائے گا۔ مثلاً جب کسی آدمی کو نماز پڑھتے دیکھے گا تو اس کے ذہن میں فوری طورپر یہ سوال آسکتا ہے کہ ’’کیا یہ شخص پوری طرح نماز میں منہمک ہو چکا ہے، کیا اس کی نماز میں خشوع و خضوع ہے؟‘‘ لہٰذا جب وہ اس انداز سے سوچے تو اس کے سامنے نبی کریمe کا یہ جواب ہونا چاہیے کہ " تم نے اس کا دل کیوں نہ چیر لیا"۔
ہم کسی انسان کے دل کے اندر کی بات کو نہیں جان سکتے۔ دوسروں کی عبادات اور کاموں کے بارے میں منفی رائے سے بچنا ہی اصل میں بدظنی سے بچنا اور آیت مذکورہ کا درس ہے ، جبکہ درست باتوں ، جیسے نماز کے صحیح ہونے اور مومن کی صفات کو بیان کرنے میں ناصرف یہ کہ کوئی حرج نہیں بلکہ ایک داعی اور مبلغ کی ذمہ داری ہے۔ کیونکہ اس سے مقصود اوروں کو شعائر اسلام پر عمل کی ترغیب دلاناہے ۔ بدگمانی انسان کےکردار کو دوسروں کی نظروں میں مشکوک  اور اس کی شخصیت کو مجروح کرنے کا سبب بھی بنتی ہے، اسی لیے  اللہ تعالیٰ نے بالکل وضاحت اور صراحت کے ساتھ اس سے بچنے کا حکم فرمایا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِيْرًا مِّنَ الظَّنِّ١ٞ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا﴾ (الحجرات)
’’اے اہل ایمان! بہت بد گمانی کرنے سے پرہیز کرو کہ بعض گمان گناہ ہیں اور ایک دوسرے کے حال کا تجسس نہ کیا کرو ۔‘‘
 اس لیے جب دوسروں میں کوئی ایسی چیز موجود ہو جو حسن ظن کا سبب بن سکتی ہو تو حسن ظن ہی رکھنا چاہیے بلکہ حسن ظن پر بھروسہ کرتے ہوئے بدظنی سے دور ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ دل کے اندر بدگمانی کے جڑ پکڑنے کی وجہ سے اس گنا کا مرتکب صرف بدگمانی ہی پر اکتفاء نہیں کرتا بلکہ نوبت بہتان اور بغض وعداوت تک آن پہنچتی ہے جس کے اندر جھوٹ اور غلط بیانی بھی شامل ہوتی ہے –گویا یہ ایک گناہ اپنے اندر کئی ایک دوسرے گناہ پوشیدہ رکھے ہوئے ہے اور اس ایک گناہ سے بچ جانے کا مطلب بہت سے سنگین گناہوں سے اپنے آپ کو محفوظ کرلینا ہے۔

درسِ حدیث
نوافل کی فضیلت
فرمان نبویﷺ ہے:
[عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ لِبِلاَلٍ: "عِنْدَ صَلاَةِ الفَجْرِ يَا بِلاَلُ حَدِّثْنِي بِأَرْجٰى عَمَلٍ عَمِلْتَهُ فِي الإِسْلاَمِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ دَفَّ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيَّ فِي الجَنَّةِ". قَالَ: مَا عَمِلْتُ عَمَلًا أَرْجٰى عِنْدِي: أَنِّي لَمْ أَتَطَهَّرْ طَهُورًا، فِي سَاعَةِ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ، إِلَّا صَلَّيْتُ بِذٰلِكَ الطُّهُورِ مَا كُتِبَ لِيْ أَنْ أُصَلِّيَ.] (متفق عليه)
سیدنا ابوہریرہt سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ e نے نماز فجر کے وقت سیدنا بلالt سے فرمایا: ’’تم اپنے اس عمل کے بارے میں بتاؤ جو اسلام میں تمہارا بہت زیادہ پر امید عمل ہے اس لیے کہ میں نے جنت میں اپنے آگے تمہارے جوتوں کی آہٹ سنی ہے۔‘‘ سیدنا بلالt نے عرض کیا: میں نے کبھی ایسا عمل نہیں کیا جو میرے نزدیک اس عمل سے زیادہ پر امید ہو کہ میں نے دن اور رات میں جس وقت بھی وضو کیا تو اس کے ساتھ جس قدر میرے مقدر میں تھا نفل ادا کیے۔ (بخاری ومسلم)
نفل سے مراد وہ عبادت ہے جو کسی انسان پر فرض نہ ہو اور وہ اسے اپنی خوشی سے ادا کرے وہ عبادت مالی ہو یا بدنی‘ اسے ادا کرنے میں لگا رہے‘ اس طرح وہ اللہ کے حکم ﴿فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهٗ﴾ یعنی ’’جو شخص اپنی خوشی سے‘ زیادہ بھلائی کرے تو یہ اس کے لیے بہتر ہے۔‘‘ پر عمل کرتا ہے۔ یعنی وہ نماز‘ ذکر اذکار‘ صدقہ وخیرات اس پر فرض نہیں لیکن وہ اپنی مرضی سے کر رہا ہے وہ اس کے درجات کی بلندی کا سبب بنتے ہیں۔ نفلی عبادت فرائض میں ہونے والی کوتاہیوں کو پورا کر دیتی ہے۔ سیدنا تمیم داریt سے روایت ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا:
’’قیامت کے دن انسان سے سب سے پہلے فرائض کا حساب لیا جائے گا اگر فرائض کی ادائیگی مکمل ہوئی تو پورا ثواب مل جائے گا اور اگر اس نے فرائض پورے نہ کیے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا۔ دیکھو اگر تمہیں میرے بندے کی نفلی نماز یا عبادت ملے تو اس سے اس کے فرائض کو مکمل کر لو اسی طرح تمام نیک اعمال میں اگر نفلی عبادت موجود ہے تو اس سے فرائض کی کمی کو پورا کر لیں۔ ‘‘
نفل نماز کے ذریعے فرائض کی کمی بھی پوری ہوتی ہے اور درجات بھی بلند ہوتے ہیں اور گناہ مٹا دیئے جاتے ہیں۔ نفل ادا کرنے سے ایک درجہ بلند ہوتا ہے‘ ایک گناہ معاف کر دیا جاتا ہے۔ کثرت سے نوافل کی ادائیگی‘ جنت میں جانے کا سبب بنتی ہے۔ نفلی نماز گھر میں برکت لاتی ہے۔ لہٰذا فرضی نماز مسجد میں ادا کیے جائیں اور سنتیں اور نوافل گھر میں ادا کیے جائیں۔ آپe کا ارشاد کہ اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ یعنی گھروں میں نفل نماز پڑھا کرو اس لیے کہ قبرستان میں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہے۔ نفلی نماز سے اللہ کا شکر ادا ہوتا ہے گھر میں نوافل ادا کرنے سے برکت کے ساتھ ساتھ اولاد کی تربیت بھی ہوتی ہے اور ان میں نماز ادا کرنے کا شوق بھی پیدا ہوتا ہے۔ نفلی عبادت کے متعلق مزید تفصیلات آئندہ درس میں بیان کی جائیں گی۔ ان شاء اللہ!

No comments:

Post a Comment