منھج فہم قرآن 08-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, June 22, 2019

منھج فہم قرآن 08-2019


اہل سنت کا منہج فہم قرآن

تحریر: جناب مولانا مطیع الرحمن
اہل سنت والجماعت (اہل حدیث) قرآن کریم اس کے معانی ومفاہیم اور اس کے مدلولات ومرادات کو حدیث نبوی سے جدا کرکے نہیں سمجھتے‘ بلکہ قرآن کریم کو دیگر قرآنی آیات اور ساتھ ہی احادیث نبویہ صحیحہ ثابتہ کی روشنی میں سمجھتے ہیں‘ اہل سنت کا یہ عظیم قاعدہ اور اہم ترین ضابطہ ہے۔ ّ اس قاعدہ کے دلائل درج ذیل ہیں:
{یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ۱ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْئٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ۱ ذٰلِکَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا٭} (النساء: ۵۹)
’’اے ایمان والو! تم اللہ کی اطاعت کرو اور رسول اللہe کی اطاعت کرواور تم میں سے اختیار والوں کی اطاعت کروپھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے اللہ تعالیٰ کی طرف اور رسول کی طرف لوٹاؤ۔اگر تم اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہو‘ یہ باعتبار انجام بہت بہتر اور بہت اچھا ہے۔‘‘
{وَ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْہِمْ وَ لَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ٭} (النحل: ۴۴)
’’اور ہم نے تمہاری طرف ذکر کو اتارا تاکہ تم لوگوں کے لئے جو کچھ ان کی طرف اتارا گیا ہے اسے کھول کھول کر بیان کردیں شاید وہ لوگ غوروفکر سے کام لیں۔‘‘
{لَا تَجْعَلُوْا دُعَآئَ الرَّسُوْلِ بَیْنَکُمْ کَدُعَآئِ بَعْضِکُمْ بَعْضًا۱ قَدْ یَعْلَمُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُوْنَ مِنْکُمْ لِوَاذًا۱ فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِہٖٓ اَنْ تُصِیْبَہُمْ فِتْنَۃٌ اَوْ یُصِیْبَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ٭}
’’اور تم اللہ کے نبی کے بلانے کو ایسا بلاوا نہ بنا لو جیسا کہ آپس میں ایک دوسرے کو ہوتا ہے‘ تم میں سے انہیں اللہ خوب جانتا ہے جو نظر بچا کر چپکے سے سرک جاتے ہیں۔ وہ لوگ جو اس کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں ان پر زبردست فتنہ نہ آپڑے یا انہیں درد ناک عذاب نہ پہنچے۔‘‘ (النور: ۶۳)
نبی کریمe نے فرمایا:
[ألا إنی أوتیت القرآن ومثلہ معہ ألا یوشک رجل شعبان علی أریکتہ یقول: علیکم بہذا القرآن فما وجدتم فیہ من حلال فاحلوہ،وما وجدتم فیہ من حرام فحرموہ۔] (رواہ احمد وابوداؤد وغیرہما)
’’خبردار یقینا مجھے قرآن اور اسی کے ساتھ اسی کا مثل دیا گیا ہے۔ آگاہ رہو! کوئی آسودہ انسان اپنے تخت پر نہ کہہ بیٹھے کہ تم پر اس قرآن کواخذ کرنا لازم ہے۔ تم جو اس میں حلال پاؤ اسے حلال جانو اور جو اس میں حرام پاؤ اسے حرام سمجھو۔‘‘
سیدنا عرباض بن ساریہt سے مروی ہے:
[وعظنا رسول اللہﷺ موعظۃ بلیغۃ وجلت منہا القلوب وذرفت منہا العیون فقلت یا رسول اللہ کأنہا موعظۃ مودع فأوصنا فقال: أوصیکم بتقوی اللہ، والسمع والطاعۃ وان تأمر علیکم عبد حبشی، وإنہ من یعش منکم فسیری اختلافا کثیرا فعلیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین المہدیین عضوا علیہا بالنواجذ وإیاکم ومحدثات الأمور فإن کل بدعۃ ضلالۃ۔] (رواہ الترمذی وقال حدیث حسن صحیح)
سیدنا عرباض بن ساریہt سے روایت ہے: رسولe نے ہمیں ایک بلیغ وعظ فرمایا کہ جس سے دل دہل گئے اور آنکھیں اشک بار ہو گئیں، میں نے کہا: اللہ کے رسول! گویا کہ یہ کسی رخصت کرنے والے کی نصیحت ہے؟ آپ ہمیں وصیت کیجیے۔ آپe نے فرمایا کہ ’’میں تمہیں تقویٰ الٰہی اور سمع و طاعت کی وصیت کرتا ہوں۔ اگرچہ تمہارے اوپر کوئی حبشی غلام ہی امیر بن بیٹھے۔‘‘
یقینا تم میں سے جو شخص زندہ رہے گا وہ بہت سارا اختلاف دیکھے گا۔چنانچہ تم پر میری سنت اور خلفاء راشدین ہدایت یافتہ کی سنت کی اتباع لازم ہے۔ اسے تم مضبوطی سے پکڑ لو اور مبتدعانہ امور سے اجتناب کو لازم پکڑو۔درحقیقت ہر بدعت گمرہی ہے۔
صحیح بخاری میں سیدنا حذیفہt سے روایت ہے کہ آپe نے فرمایا:
[یا معشر القراء! استقیموا فقد سبقتم سبقا بعیداً، فإن أخذتم یمینا وشمالا لقد ضللتم ضلالا بعدا۔]
’’اے قراء کی جماعت! تم راہ استقامت اختیار کرو‘ تم بہت سبقت لے جا چکے ہو اگر تم دائیں بائیں یعنی (راہ مستقیم سے ادھر ادھر) کی راہ اپناؤ گے تو بڑی گمراہی میں واقع ہو جاؤ گے۔‘‘
سماحۃ الشیخ ابن بازa نے فرمایا:
’’اس میں سنت کی حجیت کا بیان ہے‘ اس کی حجیت کو اختیار کرنا ایسے ہی واجب ہے جیسا کہ قرآن کریم کو اخذ کرنا واجب ہے۔‘‘
قرآن کے بعد سنت کا مقام ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن کے بیان وتوضیح کو رسول اللہ کے ذمہ کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
{وَ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْہِمْ وَ لَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ٭} (النحل: ۴۴)
’’اور ہم نے تم پر ذکر اتارا تاکہ لوگوں کے لئے اس ذکر کو بیان کر دو جو ان پر اتارا گیا اور تاکہ وہ لوگ تفکر سے کام لیں۔‘‘
چنانچہ اس آیت کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ سنت قرآن کو بیان کرتی ہے اور اس کو واضح کرتی ہے اس کی تفسیر کرتی ہے اور اس کے معنی مراد پر دلالت کرتی ہے۔
لہٰذا قرآن کریم کے ساتھ ساتھ سنت سے احتجاج واستدلال واجب ہے، اسکی مثال ملاحظہ کیجئے: قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے صلاۃ، اس کی اقامت، اسکی محافظت اور اس پر مداومت کا حکم دیا ہے‘ اسے ضائع کرنے والوں اور خواہشات نفس کی پیروی کرنے والوں کو وعید سنائی ہے۔
لیکن قرآن کریم میں صلاۃ کا مکمل ومفصل بیان نہیں ہے۔ نماز کتنی کتنی رکعت ہے؟ اس میں کیا کہا جائے گا؟ قیام،رکوع اور سجود میں کیا کہا جائے گا؟ صلاۃ کی پوری تفصیل کیا ہے؟ یہ ساری باتیں قرآن میں نہیں بلکہ یہ سب تفصیل سنت میں موجود ہے۔ آپe نے فرمایا:
[صلوا کما رایتمونی أصلی۔]
’’تم لوگ نماز اسی طریقہ سے پڑھو جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے ہو ئے دیکھا ہے۔‘‘
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں زکاۃ کا مجمل حکم دیا ہے‘ نہ اس کی مقدار کا ذکر ہے اور نہ ان اموال کا تذکرہ ہے جن میں زکاۃ واجب ہے، صرف اجمالی تذکرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
{وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَ ارْکَعُوْا مَعَ الرّٰکِعِیْنَ٭} (البقرۃ)
’’اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔‘‘
رسول اللہe نے ہی اس کی تفصیل اپنی سنتوں میں بیان کی ہے اور اسکی تحدید فرمائی اور اسے واضح کیا ہے۔ آپ نے بیان فرمایا کہ زکاۃ کب واجب ہوتی ہے؟ کن اموال میں زکاۃ واجب ہوتی ہے؟ کتنی مقدار میں زکاۃ نکالی جائے گی؟
ایسے ہی روزہ، حج اور تمام عبادات ان کی تفصیل رسول اللہe نے اپنی حدیثوں میں بیان کی ہے۔
یہی اہل سنت واہل حدیث کا مذہب ہے کہ وہ احادیث وسنن سے اسی طرح استدلال کرتے ہیں جیسے قرآن کریم سے حجت ودلیل پکڑتے ہیں۔
ان کے یہاں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہe پھر اجماع اس کے بعد اصل صحت پر مبنی قیاس اور دیگر اصول دلائل کا درجہ رکھتے ہیں۔
لیکن کچھ گمراہ طوائف وگروہ ہیں جو سنت کو دلیل نہیں تسلیم کرتے‘ جیسے خوارج اور ان کے منہج پر چلنے والے گروہ جن کا نقطۂ نظراور قول یہ ہے کہ سنت کا انکار کیا جائے اور صرف قرآن کریم پر اکتفاء کیا جائے۔ یہ لوگ اس وقت قرآنی فرقہ یا اہل قرآن کے نام موسوم ومعروف ہیں۔ ان کا خیال وگمان ہے کہ وہ صرف قرآن کریم پر اعتماد کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ انکا یہ خیال باطل اور ان کا یہ گمان جھوٹا ہے۔
در حقیقت وہ قرآن پر اعتماد ہر گزنہیں رکھتے اس لیے کہ قرآن تو اتباع سنت ، اطاعت رسول، تأسی بالرسول اور أخذبالکتاب والسنۃ اور متنازع فیہ امور کو اللہ اور اسکے رسول کیطرف لوٹانے کا حکم دیتا ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
{وَ مَآ اٰتٰیکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ۱ وَ مَا نَہٰیکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا۱ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ۱ اِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ٭}
’’اور رسول جو تمہیں دیں اسے لے لواور جس سے تم کو روکیں تم رک جاؤ اور اللہ سے ڈرو یقینا اللہ تعالیٰ سخت سزا والا ہے۔‘‘ (الحشر)
اس آیت کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ اہل قرآن‘ قرآن کریم پر عمل پیرا نہیں ہیں، نہ اس کے حکم کو مانتے ہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہe کے اوامرونواہی پر عمل کا حکم دیا ہے نیزفرمان رب تعالیٰ ہے:
{ہُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْہِمْ وَ یُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَ الْحِکْمَۃَ۱ وَ اِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ٭} (الجمعۃ)
’’وہی ہے جس نے امیو ں یعنی ان پڑھوں میں انہیں میں سے ایک رسول مبعوث کیا جو ان پر اسکی آیتوں کی تلاوت کرتا ہے اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے‘ اگرچہ وہ ازیں قبل کھلی گمراہی میں تھے۔‘‘
الکتاب سے مراد قرآن ہے اور حکمت سے مراد سنت ہے یا حکمت میں سنت نبوی بھی داخل ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
{مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ۱ وَ مَنْ تَوَلّٰی فَمَآ اَرْسَلْنٰکَ عَلَیْہِمْ حَفِیْظًا٭} (النساء)
’’جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے روگردانی کی سو ہم نے آپ کو ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔‘‘
نیز اللہ کا فرمان ہے:
{وَ مَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ}
’’ہم نے ہر ہر رسول کو صرف اسی لئے بھیجا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کی فرمانبرداری کی جائے۔‘‘ (النساء)
نیز ارشاد ربانی ہے:
{وَ اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ احْذَرُوْا۱ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَا عَلٰی رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ٭}
’’اور اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور آگاہ وچوکنارہو۔ اگر تم روگردانی کرو گے پس تم جان لو کہ ہمارے رسول پر صرف کھلم کھلا بلاغ ہے۔‘‘ (المائدۃ)
اطاعت رسول کی آیات خود قرآن کریم میں بہت زیادہ ہیں۔ اگر صرف قرآن پر اعتماد واکتفاء والی بات مان لی جائے تو پھر قرآن کی ان آیات کا مطلب کیا ہوگا؟ اس اطاعت رسولe کے امروحکم کا معنی ومطلب عبث اور بے کار ہوگا۔
ظاہر سی بات ہے یہ آیات اتباع سنت پر بوضاحت دلالت کرنے کے ساتھ ہی حجیت سنت پر بھی دلالت کرتی ہیں۔ نبیe کا فرمان ہے:
[ألا انی أوتیت القرآن ومثلہ ومعہ]
’’مجھے قرآن اور اس کے ساتھ اسی کا مثل بھی عطا کیا گیا ہے مثل سے احادیث نبویہ اور سنن ثابتہ مراد ہیں۔‘‘
اہل حدیث واہل سنت کا مذہب سنت سے استدلال کرنا اور اس پر عمل کرنا ہے۔ اور وہ لوگ جو قرآن پر اکتفاء کا دعوی کرتے ہیں اور سنت کو بیکار قراردیتے ہیں اور اس کا انکار کرتے ہیں وہ گمراہ ہیں بلکہ اپنے اس فعل کی بنا پر بسا اوقات کفار قرار پاتے ہیں۔
ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو سنت کے درمیان تفریق سے کام لیتے ہیں اور خود احادیث ثابتہ میں بھی فرق کرتے ہیں۔جیسے معتزلہ اور انکا منہج اپنانے والے جو بعض سنت صحیحہ سے احتجاج واستدلال کے قائل ہیں،ان کا مذہب وقول یہ ہے کہ متواتر کو حجت مانا جائے گا اور اخبار آحاد سے عقائدی امور میں حجت نہیں پکڑی جائے گی، اور ان سے استدلال نہیں کیا جائے گا۔
چنانچہ یہ لوگ عقیدہ میں سنت صحیحہ سے استدلال نہیں کرتے جبکہ وہ ان کے زعم کے مطابق اخبار آحاد ہوں۔وہ منطقی قواعد پر اعتماد کرتے ہیں نیز ان عقلی اصول وقواعد پر اعتماد کرتے ہیں جن کو انہوں نے أصل بنا رکھا ہے۔
جب رسول اللہe سے ثابت صحیح حدیث ان کے وضع کردہ اصولوں کے خلاف ہوتی ہے تووہ اپنے عقلی اصول وقواعد پر اعتماد کرتے ہیں اور حدیث کو رد کردیتے ہیں۔یا تو تاویل باطل سے کام لیتے ہیں یا اسے جھٹلاتے ہیں اور رواۃ حدیث کو متہم ٹھہراتے ہیں۔
ان کا شمار بھی درحقیقت منکرین سنت میں سے ہے۔اگر چہ یہ تمام احادیث وسنن کے منکر نہیں۔ لیکن احادیث کے بڑے حصے کے ضرور منکرہیں اور یہ ان کاباطل، گمراہ اور منحرف مذہب ونظر یہ ہے‘ اس لیے ان لوگوں نے پوری سنت نبوی کو معطل قراردیا یا ان میں کچھ کو معطل ٹھہرایا۔
جب کل سنت یا بعض سنت کو معطل قراردیا جائے تو دین کے بہت سے شرائع معطل قرارپاتے ہیں پھر آخر اطاعت رسول کا کیا معنیٰ رہ جاتا ہے۔ یہ مذہب اہل حق کے منہج کے یکسر خلاف ہے‘ کیوں کہ وہ صحیح أحادیث وسنن سے خواہ وہ متواتر ہوں یا آحاد عقائد اور دیگر تمام احکام ومسائل میں استدلال واحتجاج کرتے ہیں۔
ان کا عمل آیت قرآنی:
{وَ مَآ اٰتٰیکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ۱ وَ مَا نَہٰیکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا٭}
پر ہے ان کا مذہب درج ذیل آیات کی بنا پر ہے۔ ارشاد ربانی ہے:
{قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ۱ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْہِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَیْکُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ۱ وَ اِنْ تُطِیْعُوْہُ تَہْتَدُوْا۱ وَ مَا عَلَی الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ٭} (النور)
’’تم کہہ دو کہ تم لوگ اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو‘ سو اگر تم روگردانی کرو گے پس ان پر وہی ہے جس کی ذمہ داری ان پر ڈالی گئی، اور تم لوگوں پر وہ ہے جس کو تم پر لازم کیا گیا ہے اور اگر تم ان کی اطاعت کرو گے تو ہدایت یاب ہوگے‘ رسول پر تو صرف کھلا ہو بلاغ ہے۔‘‘
اس معنی کی آیات قرآن کریم میں کئی ایک ہیں۔
احادیث وسنن سے احتجاج واستدلال اہل حدیث وجماعت کے اصولوں میں سے ایک اہم اصل ہے، تمام احادیث یا بعض کا رفض وانکار، اہل بدعت، اصحاب زیغ و ضلال اور حق سے انحراف والوں کا اصول ونظریہ ہے۔
اس وقت بھی عقلانی فرقے اور عقلیت پرست جماعتیں پائی جاتی ہیں‘ یہ معتزلہ کے اصول ونظریات کے حامل لوگ ہیں۔جو اس گمراہ اور منحرف منہج کو اپنانے والے ہیں۔
جب رسول اللہe کی کوئی حدیث ان کے عقل وفکر اور عقلی و منطقی قاعدوں کے مخالف ہوتی ہے تو وہ اسکا رفض وانکار کرتے ہیں۔ وہ یوں کہتے ہیں کہ ہم کسی حدیث جس کو فلاں اور فلاں نے روایت کی ہے کی بنا پر اپنی عقل کو بیکار اور ملغی نہیں ٹھہرا سکتے۔ یہاں تک کہ ان لوگوں نے صحیح بخاری وغیرہ کی حدیثوں میں شک وشبہ پیدا کرنے کی کوشش کی اور یوں کہا کہ مثلا ہم اس حدیث کو تسلیم نہیں کر سکتے اگر چہ اس کوامام بخاری نے روایت کیا ہے یا خواہ کسی نے روایت کیا ہے‘ اس لیے کہ یہ حدیث ان کی عقلوں کے خلاف ہے لہٰذا وہ اسکو قبول نہیں کر سکتے۔
ان لوگوں نے اس بات کو اپنی مؤلفات ومصنفات میں صراحتاً بیان کیا ہے:
’’یہی عقلانی یعنی عقل پرست جماعت کہلاتی ہے۔ کیوں کہ وہ رسول اللہe سے ثابت صحیح حدیث پرعقل اور منطق پر مبنی اصول کو مقدم رکھتے ہیں۔‘‘
سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سی عقل ہے جسکو یہ لوگ سنت پر فائق اور مقدم رکھتے ہیں؟ آخر وہ انسانوں کی قاصروکوتاہ عقل ہی ہے‘ کاش! یہ لوگ جانتے۔
جہاں تک حدیث وسنت رسولe کا تعلق ہے وہ معصوم ہے اور ان عقل ومنطق کا راگ الاپنے والوں کی عقلیں قاصروکوتاہ ہیں اور متہم بھی ہو سکتی ہیں۔ لیکن گمراہیاں گمراہوں کو ہلاکت وبربادی میں ڈال دیتی ہیں۔ یہ عقلانی گروہ اب بھی موجود ہے اور اب بھی ان کی فکرباقی ہے‘ اس کی اپنی تصنیفات ہیں‘ اسکی گمراہی اور اس کے گمراہ منہج سے اجتناب ضروری ہے۔
{اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُہَا}
وہ قرآن میں تدبر سے کام کیوں نہیں لیتے یا دلوں پہ ان کے تالے پڑے ہیں۔

No comments:

Post a Comment