خبر واحد کا مقام - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Friday, June 28, 2019

خبر واحد کا مقام


خبر واحد کا مقام

تحریر: جناب مولانا عبدالرؤف رحمانی (جھنڈا نگری)
فاروق اعظمt نے خبر واحد کو قبول کیا ہے‘ اس  سے حصول علم اور اس کے موجب عمل ہونے سے متعلق چند اصولی تفصیلات عنوان بالا کی مناسبت سے پیش کی جا رہی ہیں۔
پہلی بات یہ ہے کہ جمہور امت اور عامہ سلف کا متفقہ مسئلہ ہے کہ سب صحابہ عدول ہیں۔ (شرح نخبہ و غایۃ التحقیق ص ۱۶۵) اس لئے صحابہ کی خبر واحد کو اس عام قاعدہ کے تحت نہیں رکھا جائے گا۔ بلکہ محدثین نے تو اسناد مصطلحہ کے تحت صحابہ کا شمار ہی نہیں کیا۔ علامہ عبدالحئی ظفر الامانی میں لکھتے ہیں کہ
[واما الصحابۃ فانہ وان کان من رجال الاسناد الا ان المحدثین لم یعدوہ منہ لان کلھم عدول علی الاطلاق۔] (ظفرالامانی ص ۱۴۱)
یعنی چونکہ سب صحابہ عدول ہیں اس لئے وصف عدالت کے سبب ان کو سلسلہ اسناد میں زیر بحث نہیں لایا جاتا۔ صحابہ کے بعد تابعین، تبع تابعین، محدثین اور دیگر ائمہ دین میں سے جو بھی رواۃ حدیث ہیں ان سب کو سند حدیث صحیح اور ضعیف جانچنے کے وقت زیر بحث لایا جاتا ہے ان میں سے جو راوی حدیث ثقہ اور عادل ہوتا ہے اس کی روایت کا اعتبار کیا جاتا ہے کیونکہ عادل و تام الضبط کی خبر واحد معتبر ہے۔
خبر واحد سے حصول علم: 
حافظ ابن حجرؒ لسان المیزان میں لکھتے ہیں کہ
[بل تقبل روایۃ الواحد لما جمع اوصاف القبول وحجۃ الجمہور قول اللہ: یا ایھا الذین اٰمنوا ان جائکم فاسق بنبا فتبینوا معناہ ان لا تبین فی خبر غیر الفاسق۔] (لسان المیزان جلد اول ص۱۹ و فتح المغیث ص ۱۳)
یعنی سندکے قابل قبول ہونے کے اوصاف جب راوی میں جمع ہوں تو اس کی خبر واحد کا اعتبار ہو گا اور اس بارے میں جمہور نے اپنی دلیل میں اللہ تعالیٰ کے اس قول کو پیش کیا ہے کہ جب کوئی فاسق تمہیں خبر سنائے تو بغیر تحقیق کے اس کو تسلیم نہ کرو۔ اس کا مطلب (مفہوم مخالف) یہ ہے کہ جب کوئی فاسق عادل اور صادق خبر بیان کرے تو اس کی خبر کو بلا چھان بین اور تبیین کے مان لو۔
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں کہ مجرد خبر واحد جس کے صدق پر کوئی دلیل موجود نہ ہو، علم یقینی کے لئے مفید نہیں ہوتی لیکن اگر ان اخبار احاد کے متعلق صدق کے قرائن موجود ہوں۔ مثلاً اس کی سند صحیح ہو اور مصنف نے صحت کا التزام کیا ہو اور امت نے اس التزام کو درست قرار دیا ہو اور رواۃ کی ثقاہت معلوم ہو۔ ان حالات میں ایسی اخبار احاد سے علم یقینی حاصل ہو گا اور اس پر عمل بھی واجب ہوگا۔ (ردالمنطقین ص ۳۸)
علامہ ابن حزمؒ لکھتے ہیں کہ جو روایت سلسلہ احاد (الواحد عن الواحد) سے مروی ہو کر بغیر انقطاع، اتصال کے ساتھ نبیe تک پہنچی ہو اور یہ سب آحاد عادل اور ثقہ ہوں تو [وجب العمل بہ ووجب العلم بصحتہ ایضاً] اس پر عمل کرنا واجب ہے نیز واجب ہے کہ اس کے علم کو صحیح سمجھا جائے۔ (الاحکام فی اصول الاحکام جلد اول ص ۱۰۸)
اس قاعدہ کے مطابق صحیح بخاری کی تمام متفرد اور غریب روایتوں کو جن کی سندوں کے کسی درجہ میں بھی راوی منفرد ہو گیا ہو۔ ائمہ و حفاظ حدیث نے صحیح قرار دیا ہے۔ (مقدمہ ابن الصلاح ص ۱۳۸ و ظفر الامانی ص ۱۴۲)
علامہ ابن قیمؒ فرماتے ہیں کہ جو لوگ خبر واحد سے علم یقینی کی نفی کرتے ہیں وہ معتزلہ اور بدعتی فرقوں سے متاثر ہیں لیکن ائمہ سلف سے ان کے خیال کی تائید میں کوئی شہادت موجود نہیں ہے۔ کیونکہ ائمہ سنت امام مالکؒ، امام شافعیؒ، امام احمد بن حنبلؒ، امام ابوحنیفہؒ اور ان کے تلامذہ اور امام دائود ظاہریؒ اور علامہ ابن حزمؒ وغیرہ نے فرمایا ہے کہ خبر واحد سے علم یقینی حاصل ہوتا ہے۔ (صواعق مرسلہ جلد دوم ص ۳۶۲)
علامہ ابن حزمؒ لکھتے ہیں کہ
[وقد ثبت عن ابی حنیفۃ ومالک والشافعی واحمد و داؤد الظاھری وجوب القبول بخبر الواحد۔] (الاحکام جلد اول ص ۱۱۸)
یعنی امام مالکؒ، امام شافعیؒ، امام احمد، امام ابوحنیفہؒ اور داؤد ظاہری سب کے سب خبر واحد کے قابل قبول ہونے پر متفق ہیں۔
قرائن کے باوجود اگر خبر واحد علم یقینی کے لئے مفید نہ ہو تو موجب عمل بھی نہ ہوگی۔ حالانکہ موجب عمل ہونے کو فقہاء بھی تسلیم کرتے ہیں‘ اس لئے خبر واحد سے علم یقینی کا حاصل ہونا ضروری ہے۔ صاحب تلویح لکھتے ہیں: [ولا عمل الاعن علم۔] (تلویح مع التوضیح ص ۳۰۴)
صاحب غایۃ التحقیق لکھتے ہیں:
[ذھب اکثر اصحاب الحدیث منھم احمد بن حنبل وداؤد الظاھری الی ان الاخبار التی حکم اھل الصنعۃ بصحتھا یوجب علم الیقین لان خبر الواحد لولم یفد العلم لما جاز اتباعہ لقولہ تعالیٰ ولا تقف ما لیس لک بہ علم وقد انعقد الاجماع علی وجوب الاتباع فیستلزم افادۃ العلم لامحالۃ۔] (غایۃ التحقیق ص ۱۵۵)
یعنی اکثر محدثین (جن میں امام احمد بن حنبلؒ اور امام دائود ظاہری وغیرہ شامل ہیں) نے ہر خبر واحد کو جو صحیح طریق سے مروی ہو مفید علم یقینی سمجھا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر خبر واحد علم یقینی کو مستلزم نہ ہوتی تو اس کا اتباع اور اس کے مطابق عمل واجب نہ ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایسی چیزوں کی اتباع سے منع فرمایا ہے جو مفید علم و یقین نہ ہوں۔ مگر چونکہ امت کا اجماع ہے کہ خبر واحد کے مطابق عمل واجب ہے، پس ماننا پڑے گا کہ خبر واحد سے علم یقینی حاصل ہوتا ہے۔ بہرحال قرائن صدق کی موجودگی میں خبر واحد علم یقینی کیلئے مفید ہے، بنابریں کتاب اللہ کی بعض عام آیات کی خبر واحد سے تخصیص کی گئی ہے چنانچہ آیت {یوصیکم اللہ فی اولادکم… الخ} سے اولاد کی وراثت عموماً معلوم ہوتی ہے۔ مگر خبر واحد [لامیراث لقاتل] (قاتل میراث کا حقدار نہیں ہے) سے اس عموم کی تخصیص ہو جاتی ہے۔ وغیر ذالک من الامثلۃ
ملحوظہ:  محدثین کرام نے اکثر و بیشتر ایک ایک حدیث کو مختلف اساتذہ اور شیوخ سے حاصل کیا، اس طرح وہ ایک ایک روایت کو دسیوں اساتذہ کی درسگاہوں میں سنتے تھے لیکن روایت بیان کرتے وقت سند میں دو ایک مشہور و ممتاز اساتذہ ہی کا تذکرہ کرتے تھے اور غیر معروف اساتذہ کا نام نہیں لیتے تھے۔ بنابریں وہ روایت تعدد طرق کے اعتبار سے تو مشہور حدیث کے زمرہ میں داخل ہونے کے قابل ہے لیکن چونکہ راوی نے ایک ہی مشہور شیخ کے بیان کرنے پر اکتفا کیا ہے۔ اس لئے اصطلاحاً وہ حدیث اخبار آحاد میں داخل ہو جاتی ہے۔ مگر فی الواقعہ دسیوں شیوخ سے استفادہ کیا گیا تھا۔ اس اعتبار سے ان اخبار احاد میں حدیث مشہور (اصطلاحی) کے معنی بھی مستفاد ہیں‘ اس لئے قرائن صدق کے بعد ایسی روایتوں میں علم یقینی کا حصول قابل لحاظ ہے۔
وجوب عمل:  
خطیب بغدادیؒ کفایہ میں لکھتے ہیں: [فان خبر الواحد مقبول والعمل بہٖ واجب] یعنی خبر واحد کا اعتبار ہو گا اور عمل اس کے مقتضی پر واجب ہے۔
چنانچہ حدود، کفارات، ہلال رمضان، ہلال شوال، احکام طلاق و احکام عتاق وغیرہ مسائل بیع و شراء میں خبر واحد ہی سے فیصلہ ہوتا ہے اور ان مواقع میں خبر واحد کا اعتبار کیا گیا ہے۔ (کفایہ ص ۴۳۲)
اس سے پہلے بھی خطیب فرما چکے ہیں کہ تمام تابعین‘ تبع تابعین اور فقہاء دین اس دور سے لے کر ہمارے اس زمانہ تک خبر واحد سے وجوب عمل پر متفق ہیں۔ (کفایہ ص ۳۱) آخری الفاظ یہ ہیں: [ان من دین جمیعھم وجوبہ] یعنی سب کا مسلک وجوب عمل ہے۔
امام نوویؒ لکھتے ہیں:
[لم یزل الخلفاء الراشدین وسائر الصحابۃ فمن بعدھم من السلف والخلف علی امتثال خبر الواحد وقضائھم بہ ورجوعھم الیہ فی القضاء والفتیاء وقد جاء الشرع بوجوب العمل بخبر الواحد فوجب المصیر الیہ۔] (مقدمہ نووی علی شرح مسلم ص ۲۲)
یعنی صحابہ کرام و خلفاء راشدین نے ہمیشہ خبر واحد کے مطابق عمل کیا ہے اور خبر واحد کی طرف رجوع اور اس کے تحت فیصلہ جات کئے ہیں۔ بلاشبہ خبر واحد سے وجوب عمل خود شریعت کا ایک مسئلہ ہے۔ امام نوویؒ اور خطیب بغدادیؒ کے نزدیک خبر واحد موجب علم تو نہیں لیکن وجوب عمل کے لئے باعث ہے۔ اسی طرح خبر واحد سے وجوب عمل کے سلسلہ میں فقہاء نے بھی تصریحات کی ہیں۔ چنانچہ شارح حامی لکھتے ہیں:
یعنی خبر واحد سے عمل کا وجوب پیدا ہوتا ہے اور صحابہ کرام نے خبر واحد کے مطابق بیشمار واقعات و حالات میں عمل کیا اور استدلال کیا ہے۔ (غایۃ التحقیق شرح حامی ۱۵۶)
چند امثلہ: 
امام بخاریؒ باب اجازۃ خبر الواحد میں لکھتے ہیں کہ ’’آنحضرتe نے حضرت معاذ بن جبلؓ کو تن تنہا یمن بھیجا اور حضرت دحیہ کلبیؓ تن تنہا نامۂ نبوی لے کر گئے۔ اسی طرح عبداللہ بن حذافہ تن تنہا نامہ نبوی لے کر رئیس بحرین کے پاس گئے (صحیح بخاری کتاب الاحکام باب اجازۃ خبر الواحد) حضرت دحیہ کلبیؓ یہ نامہ نبوی رئیس بصرہ کے پاس لے گئے تھے۔ (تہذیب الاسماء للنووی جلد اول ص ۱۸۵)
اس سے معلوم ہوا کہ خبر واحد موجب عمل ہے اور شرعاً اس کا اعتبار کیا جاتا ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو آنحضرتe کا صحابہ کرام کو تن تنہا روانہ فرمانا اور ان کا انفرادی طور پر تبلیغ و ہدایت کے لئے جانا دونوں ہی فعل عبث ہوتا۔ حافظ ابن حجر ؒلکھتے ہیں کہ حدیث ابن عمرؓ متعلقہ تحویل قبلہ میں خبر واحد کا اعتبار کیا گیا۔ حدیث انسؓ میں شخص واحد کی خبر کا اعتبار کیا گیا اور شراب کے سارے مٹکے توڑ دئیے گئے۔
حدیث عمرt سے صاف ظاہر ہے کہ سیدنا عمرt کو انصاری کی خبر کا اور انصاری کو حضرت عمرؓ کی خبر کا اعتبار و یقین تھا حالانکہ یہ خبر آحاد ہوتی تھیں۔ حدیث حضرت علی میں ہے کہ پورا لشکر امیر عسکر عبداللہ بن حذافہ کی خبروں کا پابند تھا، یہ خبر واحد ہی تھی۔ (مقدمہ فتح الباری ص ۳۹۷)
سیدنا عبداللہ بن عمرw نے سعد بن ابی وقاص سے مسح علی الخفین کا مسئلہ سنا تو آپ نے والد محترم سیدنا عمرt سے اس کا تذکرہ کر کے مزید اطمینان کرنا چاہا تو سیدنا عمرt نے فرمایا:
[اذا حدثک شیئا سعد عن النبیﷺ فلا تسأل عند غیرہ۔] (صحیح بخاری: ۲/۳۳)
اس میں سیدنا سعد کی خبر واحد کے قبول کرنے پر ان کو متوجہ کیا۔ اس سلسلہ میں صاحب کتاب التحقیق نے مزید سترہ اٹھارہ صحابہ کرام کے ناموں کا شمار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ تن تنہا تبلیغ رسالت و تعلیم احکام کیلئے بھیجے گئے اور ان صحابہ نے واحد واحد ہو کر تبلیغ شریعت کی خدمت انجام دی ہے۔ (غایۃ التحقیق ص ۱۵۶ و جامع الاصول للجزری ص ۷۰)
افادہ:  اس بحث سے معلوم ہوا کہ خبر واحد موجب عمل ہے اور قرائن صدق کے بعد علم یقین کا فائدہ دیتی ہے اور ظنیت جو من حیث العدد ہوتی ہے وہ اوصاف رجال پر نظر کرنے سے ختم ہو جاتی ہے۔ امام نوویؒ اور خطیب بغدادیؒ کے نزدیک خبر واحد سے علم ظنی حاصل ہوتا ہے لیکن غور کیجئے یہ نزاع لفظی ہے۔ جن ائمہ نے اسے مفید علم و یقین سمجھا ہے انہوں نے قرائن صدق کے انضمام کے بعد سمجھا ہے اور جنہوں نے انکار کیا ہے انہوں نے مجرد خبر واحد پر مدار رکھا ہے۔ لیکن اگر محض احتمال عقلی سے خبر واحد کو ساقط الاعتبار قرار دیا جائے تو نہ کسی کا نسب نامہ ثابت ہو گا اور نہ ابوّت و نبوت کا رشتہ قائم رہ سکے گا۔ اور نہ رؤیت ہلال وغیرہ کی شہادت کا اعتبار ہو سکے گا۔
حافظ سخاویؒ لکھتے ہیں کہ انسان کی فطرت ایک عادل و صادق اور ضابط شخص کی خبر رؤیت اور شہادت کو قبول کرتی ہے۔ اور مجرد احتمالات عقلیہ کو وسوسۂ محض قرار دیتی ہے۔ (فتح المغیث ص ۱۱۲)
الحاصل: سیدنا عمرt نے خبر واحد کا اعتبار فرمایا ہے اور روایت کی اجازت دی ہے۔ اسے مفید علم اور موجب عمل سمجھا ہے لیکن دو ایک مزید راویوں سے اس کی تصدیق حاصل کرنے کے واقعات جہاں کہیں بھی ہیں وہ اس پر مبنی ہیں کہ فاروق اعظمt چاہتے تھے کہ بات زیادہ سے زیادہ مضبوط اور مؤید ہو جائے اور کسی قسم کا احتمال ضعف باقی نہ رہے۔
سنن نبویہ سے احتجاج و مواخذہ: 
سیدنا عمرt نے فرمایا:
[سیاتیکم قوم یجادلونکم بشبھات القرآن فخذوھم بالسنن فان اصحاب السنن اعلم بکتاب اللہ عزوجل۔] (جامع بیان العلم وفضلہ: ۱۷۷)
یعنی عنقریب تمہارے پاس ایک جماعت آئے گی جو قرآنی شبہات و متشابہات کو لے کر تم سے جھگڑا کرے گی، تو تم ان کا مواخذہ اور ان پر علمی گرفت اور ان کے مقابلہ میں صحیح استدلال سنن نبویہ اور احادیث شریفہ کے ذریعہ کرنا اس لئے کہ سنن نبویہ اور احادیث شریفہ کا علم رکھنے والے ہی کتاب اللہ کے مفہوم و مطلب کو زیادہ جاننے اور سمجھنے والے ہیں۔
آج منکرین حدیث ایسے ہی شبہات اور معارضات کو دہراتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ کتاب اللہ مکمل ہے اور اس میں ہر چیز مفصل موجود ہے، پس ہم کو کسی اور چیز یعنی حدیث سے تفصیل یا توضیح حاصل کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ حالانکہ دوسری آیات میں حکم موجود ہے کہ آپe آیات قرآنی کی توضیح کر دیا کریں۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْھِمْ}
پس اس طرح یہ لوگ دراصل قرآن کو قرآن سے ٹکراتے ہیں۔ اب قرآن کریم کی بعض آیات کے پیش نظر شبہات پیدا کرنا اور بعض دوسری آیات سے صرف نظر کرنا دراصل جدال فی القرآن ہے، حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ لکھتے ہیں:
[یحرم الجدال فی القرآن وھو ان یرد الحکم النصوص بشبھۃ یجدھا فی نفسہ قالﷺ انما ھلک من کان قبلکم بھذا ضربوا کتاب اللہ بعضہ ببعض۔] (حجۃ اللہ البالغہ ص ۱۷۲ ج ۱)
یعنی قرآنی آیات میں جھگڑا اور مخاصمت حرام ہے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ کسی منصوص حکم مثلاً توضیحات رسول کو قبول کرنے کا حکم ما اتاکم الرسول فخذوہ یا اطاعت رسول کا حکم کسی شبہ سے رد کر دے مثلاً یوں کہیے کہ جب قرآن خود مفصل ہے تو توضیحات رسول اور اطاعت رسول کی کیا ضرورت؟ نبی اکرمe نے فرمایا کہ پہلی قومیں کتاب اللہ کی بعض آیات کو دوسری آیات سے ٹکرانے کے سبب ہلاک کر دی گئیں۔
جو لوگ قرآن میں شکوک و شبہات پیدا کرتے ہیں اور بعض آیات کو بعض سے ٹکراتے ہیں۔ ایسے شبہات ووساوس سے جدال کرنے والوں کے متعلق سیدنا عمرt کا فرمان یہ ہے کہ ان کی گرفت سنن نبویہ سے کرو جن میں قرآنی اجمالات کی تفصیل اور توضیح موجود ہے اور ان سنن نبویہ کی روشنی میں ایسی آیات قرآنیہ کا صحیح محل تلاش کرو تا کہ تعارض و جدال رفع ہو اور تطبیق و توفیق پیدا ہو۔ حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ نے ان تدافع القرآن کرنے والوں کے متعلق کیا خوب لکھا ہے۔ جو فاروق اعظم کے فرمان کی مکمل تشریح ہے۔ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ اپنے اپنے مطلب کے موافق آیتوں سے استدلال کرتے ہیں۔ ایسے موقعہ پر ظہور اور وضوح معاملہ کے لئے احادیث وسنن رسولe کی طرف رجوع کیا جائے۔ شاہ صاحب کے الفاظ یہ ہیں:
[ویحرم التدارؤ بالقرآن وھو ان یستدل واحد باٰیۃ فیردہ آخر باٰیۃ اخریٰ طلباً لاثبات مذھبہ وھدم وضع صاحبہ ولا یکون جامع الھمۃ علی ظھور الصواب والتدارؤ بالسنۃ۔] (حجۃ اللہ البالغہ: ۱/۷۲)
یعنی قرآنی آیات میں تدافع و تعارض پیدا کرنا حرام ہے۔ مثلاً ایک شخص نے ایک آیت سے استدلال کیا اور دوسرے نے دوسری آیت سے معارضہ کر کے اس کے استدلال کو رد کر دیا تا کہ اس کا مذہب ثابت ہو اور مخالفت کا مسلک مطرود و مندفع ہو۔ اور اس کج بحثی میں ظہور صواب اور توضیح معاملہ کے لئے سنت مطہرہ سے سند جامع اور قول فیصل کی مساعدت نہ حاصل کی جائے تو اس قسم کا جدال قرآنی حرام ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ آیات قرآنی میں جب بظاہر دو طرح کا مضمون نکلتا ہے مثلاً ایک آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجمل اور توضیح طلب ہے اور دوسری سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قرآن مفصل اور مکمل ہے تو ایسی صورت میں قطع بحث اور اتمام حجت کے لئے سنن نبویہ سے استدلال کر کے صحیح محل پیدا کرنا چاہیے۔
منکرین حدیث صرف قرآن کو حجت اور معمول بہ ماننے کے سلسلہ میں آیت {مافرطنا فی الکتب من شی اور تفصیلا لکل شیء} سے استدلال کرتے ہیں اور اہل حق تمام کے تمام متفقہ طور پر قرآن کریم کے ساتھ سنن نبویہ و احادیث شریفہ کے بھی قائل ہیں وہ دوسری آیات پیش کرتے ہیں مثلاً: {وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیھم اور وما اتاکم الرسول فخذوہ وما نھاکم عنہ فانتھوا} ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کے بعض مطالب محتاج توضیح ہیں اور ان کی پیش کردہ آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مکمل ہے۔ نہ تشریح کی ضرورت اور نہ کسی اور اضافہ کی حاجت۔ لیکن منکرین حدیث کے اس دعویٰ پر احادیث سے کوئی دلیل نہیں پیش کی جا سکتی برخلاف فریق اول کے ان کے دعویٰ کی تائید میں بہت سی حدیثیں موجود ہیں۔ ازاں جملہ ایک حدیث کا مضمون یہ ہے کہ قرآن میں جس چیز کو حلال بتایا گیا ہے اس کو حلال سمجھو اور جس کو حرام بتایا گیا ہے اس کو حرام سمجھو۔ اور رسول کا حرام کرنا ایسا ہی ہے جیسا کہ اللہ نے حرام کیا، حدیث کے الفاظ یہ ہیں:۔
[الا یوشک رجل شبعان صلی اریکتہٖ یقول علیکم بھذا القرآن فما وجدتم فیہ من حلال فاحلوہ وما وجدتم فیہ من حرام فحرموہ وان ماحرم رسول اللہ کما حرم اللہ۔] (حجۃ اللہ البالغہ جلد اول ص ۱۲۰)
تحریم رسول مثل تحریم خداوندی ہونے پر یہ آیت کریمہ بھی شاہد ہے۔
{ولا یحرمون ما حرم اللہ ورسولہٗ}
مذکورہ بالا حدیث میں رسول اللہe نے فرمایا کہ ’’خبردار کچھ کھاتے پیتے آسودہ حال لوگ اس قسم کے پائے جائیں گے جو اپنے تخت پر بیٹھے ہوئے اس بات کی تحریک کریں گے کہ تم لوگ صرف قرآن کو راہنما بنائو اور جو اس کتاب میں حلال ہے اسے حلال اور جو اس میں حرام ہے اسے حرام سمجھو! حالانکہ رسولِ خدا نے جو کچھ حرام قرار دیا ہے وہ اسی طرح حرام ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا حرام کردہ۔
بہرحال ان لوگوں کی تائید میں جو قرآن کے ساتھ حدیث کو بھی حجت کہتے ہیں۔ متعدد احادیث موجود ہیں، ان لوگوں کی حضرت عمرt کے اس قول سے بھی تائید ہوتی ہے کہ
[سیاتی قوم یجادلونکم بشبھات القرآن فخذوھم بالسنن۔]
چونکہ آنحضورe نے فرمایا ہے کہ
[لکل آیۃ منھا ظھر وبطن۔] (حجۃ اللہ البالغہ: ۱/۱۷۲)
یعنی ہر ایک آیت میں ایک ظاہر پہلو ہے اور دوسرا باطن ہے۔ پس منکرین حدیث کی پیش کردہ آیات کریمہ کا بھی ایک ظاہر ہے اور ایک باطن۔ ان میں ایما، اشارہ، اقتضاء اور استنباط کے اسرار و رموز مخفی و مندرج ہیں لیکن منکرین حدیث آیت کے ظاہر کو لیتے ہیں۔ بلکہ کماحقہ آیات کے ظواہر سے بھی واقف نہیں۔ تو اس کے بطون سمجھنے کی استعداد کہاں؟ بے شک قرآن کریم مکمل اور اعلیٰ ترین کتاب ہے لیکن ایک مکمل کتاب کو سمجھنے کے لئے ایک مکمل اور جامع دماغ کی بھی ضرورت ہے۔ وہ مکمل دماغ خداوند کریم نے حامل قرآن محمد رسول اللہeکو بخشا تھا۔ پس آپ نے قرآنی آیات کے ظواہر کے جو معانی و مطالب اور توضیحات بیان فرمائیں۔ اس مکمل متن قرآنی کے لئے آپe کی بیان کردہ شرح کی بھی ہمیں قدم قدم پر حاجت ہے۔ تا کہ منکرین حدیث کی طرح نفس صلوٰۃ میں جو اہم ترین عبادت ہے‘ طرح طرح کے اختلافات نہ واقع ہوں بلکہ توضیح نبوی سے متن قرآن کی صحیح اور واجبی تشریح حاصل ہو۔ اور اس کے اصلی خدوخال سامنے آ جائیں پس اس تقریر میں اخذ بالسنن سے نہ قرآن کے مکمل ہونے کا انکار ہوا نہ توضیحات نبویہ سے کچھ تعارض۔ اور نہ دونوں سے استغناء، نہ قرآنی آیات میں تدافع۔ آج انکار حدیث کے وبال میں مثلاً نفس نماز کی صورت و قالب میں اختلاف ہے، چنانچہ اسی اختلاف کو دیکھ کر تو کوئی منکرِ حدیث نمازوں کے دو رکعتی ہونے کا قائل ہے، کوئی سہ رکعتی اور کوئی ایک رکعتی بتاتا ہے۔ پرویز نے سرے سے سب کو خرافات ٹھہرا کر نماز کا نام‘ خدا کا پروپیگنڈا قرار دے دیا۔ ان ظالموں سے کوئی پوچھے کہ پھر خانہ کعبہ، مسجد نبوی، بیت المقدس اور دیگر مساجد اسلام کی کیا ضرورت تھی؟ پروپیگنڈہ تو ہر جگہ ہو سکتا ہے۔ یہ لوگ دراصل قرآن کریم کو اپنے قیاسات اور آراء کے تابع کر چکے ہیں۔ ان کا ٹھکانہ اس غلط تفسیر قرآن پر جہنم ہے۔ حکیم الامت حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ نے حدیث نبوی نقل فرمائی ہے۔
[من قال فی القراٰن برایہٖ فلیتبوأ مقعدہ من النار۔] (حجۃ اللہ ص ۱۷۲)
یعنی قرآن میں جس نے اپنی رائے سے کچھ توضیح وتشریح کی تو اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ افسوس کہ نماز جیسی عبادت لفظ ’’صلوٰۃ‘‘ کی تشریح میں سنن نبویہ کو یہ لوگ تو قبول نہیں کرتے اور اپنی آراء و قیاسات سے غلط مطالب نکال کر خود بھی گمراہ ہوئے اور خلقِ خدا کو بھی گمراہ کرنے کا وبال اپنے سر لے رہے ہیں۔
[الذین ضل سعیھم فی الحیاۃ الدنیا وھم یحسبون انہم یحسنون صنعا]


No comments:

Post a Comment