مولانا عبدالقادر روپڑی - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, June 23, 2019

مولانا عبدالقادر روپڑی


سلطان المناظرین ... مولانا عبدالقادر روپڑی

تحریر: جناب مولانا یوسف انور
نصف صدی قبل کا دور اس لحاظ سے بڑا خوش گوار اور پر امن تھا جبکہ ہماری جماعت کے کثیر علمائے حق‘ مسلک کی دعوت وتبلیغ کے میدان کے شاہسوار اور فن خطابت وکلام وبیان کی دنیا میں ان کا بڑا نام تھا۔ میں یہاں کس قدر اسمائے گرامی تحریر کروں بھولی بسری یادوں کا ایک ہجوم ہے جو دل ودماغ میں موجزن ہے۔ حافظ محمد اسماعیل روپڑی‘ حافظ عبدالقادر روپڑی‘ مولانا سید عبدالغنی شاہ‘ مولانا حافظ اسماعیل ذبیح‘ مولانا محمد حسین شیخوپوری‘ مولانا محمد عبداللہ ثانی‘ مولانا علی محمد صمصام‘ مولانا عبدالحق صدیقی‘ مولانا احمد الدین گکھڑوی‘ مولانا نور حسین گرجاکھی‘ مولانا رفیق پسروری‘ مولانا حافظ محمد ابراہیم کمیر پوری اور مولانا محمد عبداللہ گورداسپوری اس سلسلۂ مقررین میں ممتاز حیثیت کے حامل تھے۔ تھوڑے عرصے بعد علامہ احسان الٰہی ظہیر‘ مولانا حبیب الرحمن یزدانی‘ مولانا حافظ محمد عبداللہ شیخوپوری‘ مولانا محمد اعظم گوجرانوالہ اور مولانا عبدالعزیز راشد بھی کیا کم شہرت کے مالک تھے؟
مگر ان تمام مبلغین ذی وقار اور ذیشان واعظین میں سے ہمارے ممدوح مولانا حافظ عبدالقادر روپڑی ہیں۔ ان سطور کے راقم نے جو جذبہ وولولۂ صادقہ اور دعوتی شعبہ میں جوش وخروش کا مظاہرہ دیکھا وہ اپنی مثال آپ تھا۔ حضرت حافظ صاحب سلطان المناظرین اور شعلہ نوا مقرر وخطیب تو تھے ہی لیکن اس راہ دعوت وارشاد میں کٹھن سے کٹھن مراحل طے کرنا اور کسی مشکل کو خاطر میں نہ لانا ان کا خصوصی وصف تھا۔ مسلک کی اشاعت وتبلیغ میں راقم نے انہیں ہمیشہ متحرک اور فعال کردار ادا کرتے ہوئے دیکھا۔ جزاہ اللہ احسن الجزاء۔
تبلیغی مشن میں ان کی تمام تر تگ وتاز کی منزل علامہ اقبال کی زبان میں یہ تھی:
آسماں ہو گا سحر کے نور سے آئینہ پوش
اور ظلمت رات کی سیماب پا ہو جائے گی
شب گریزاں ہو گی آخر جلوۂ خورشید سے
یہ چمن معمور ہو گا نغمہ توحید سے
بلاشبہ حضرت حافظ صاحب توحید وسنت کے بیباک مبلغ‘ شرک وبدعات اور ضلالت وگمراہوں کے خلاف زندگی بھر سرگرم رہے۔ تقسیم ملک سے قبل اور بعدہٗ باطل مذاہب کے خلاف بھی اور تقلیدی جمود واختلافات فقہی کے خلاف بھی مناظروں اور بحث ومباحثہ کی صورت میں برسر پیکار رہے۔ ان کی انتھک مساعئ حسنہ اور تبلیغی داعیہ سے سرشاری کا ایک واقعہ یہاں قارئین کے لیے تحریر کر رہا ہوں تا کہ نئی نسل کے نوجوان علماء اس کو مشعل راہ بنا کر اپنے اسلاف کے انداز میں اشاعت وتبلیغ کی راہوں پر چل نکلیں۔ علامہ اقبال نے اسی لیے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا   ع
کبھی اے نوجوان مسلم تدبر بھی کیا تو نے
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا
تجھے اس قوم نے پالا تھا آغوش محبت میں
کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاجِ سرِ دارا
یہ کوئی ۵۴ء ۵۵ء کے عہد کی بات ہو گی جبکہ حافظ صاحب منٹگمری بازار مسجد مبارک (ادارہ علوم اثریہ) میں پانچ چھ سال خطیب رہے اور نماز تراویح بھی پڑھاتے رہے۔ فجر کی نماز کے بعد آپ گھنٹہ بھر درس قرآن مجید ارشاد فرمانے کے بعد لاہور روانہ ہو جاتے۔ اس عہد میں لاہور جانے کا راستہ براستہ جڑانوالہ شرقپور تھا۔ سڑک میں کئی قسم کے موڑ تھے۔ بیالیس سیٹ کی بس چلتی تھی جو چار ساڑھے چار گھنٹوں میں لاہور پہنچتی تھی۔ لاہور میں ’’تنظیم اہل حدیث‘‘ کی تیاری اور دیگر ضروری امور انجام دینے کے بعد عصر سے فارغ ہو کر واپسی فیصل آباد کے لیے ہوتی‘ کبھی افطاری راستے میں ہو جاتی اور کبھی بمشکل وقت افطاری فیصل آباد پہنچ جاتے۔ رات کو نماز تراویح پڑھاتے اور بعد ازاں پڑھی جانے والی سورتوں کا خلاصہ‘ شان نزول اور خاص خاص مقامات بیان فرماتے۔
یہ شدید گرمی اور جون کا موسم تھا۔ بعض موقعوں پر نماز تراویح کی تیسری چوتھی رکعت میں آکر شامل ہوتے اور ابتدائی رکعتیں حافظ محمد ابراہیم کمیرپوری پڑھاتے جو ان دنوں فیصل آباد قیام پذیر تھے‘ وہ انصاری برادری کا ہفتہ وار بڑے سائز کا رسالہ ’’صنعتی پاکستان‘‘ کی ادارت فرمایا کرتے تھے۔
خطبۂ جمعہ کے لیے جھنگ روانہ ہو جاتے۔ مسجد مبارک کی تعمیر نو سے قبل کے ہال برآمدہ بھر کر باہر بازار میں سات آٹھ صفیں نمازیوں کی ہوتی تھیں۔ چھت پر خواتین کی بڑی تعداد الگ ہوتی۔
حضرت حافظ عبدالقادرa کو دن کے وقت بہت کم قرآن مجید کھولتے دیکھا‘ لاہور فیصل آباد کے سفر میں پورا مہینہ گذارتے‘ سفری کوفت یا تھکان ہم نے کبھی نہ دیکھی بلکہ ہمیشہ تازہ دم اور اپنے مشن خدمت دین میں سرگرداں رہتے۔ حافظ محمد اسماعیل اس زمانے میں سرگودھا بلاک۱۹ میں خطیب تھے اور نماز تراویح بھی پڑھاتے تھے۔ وہ ستائیسویں کو سرگودھا میں قرآن مجید ختم کر کے انتیسویں رات فیصل آباد مسجد مبارک میں خطاب فرماتے۔
فیصل آباد کے اس دورانیے کے بعد تین چار سال حافظ عبدالقادر صاحب مسجد الفردوس گلبرگ سی میں خطیب رہے اور مندرجہ بالا روٹین کے مطابق یہاں بھی پورا رمضان المبارک گذارتے۔ گویا لاہور فیصل آباد انہوں نے جڑواں شہر بنائے رکھے۔
ذرا اندازہ کیجیے کہ یہ سفری ماحول‘ نماز تراویح کی ادائیگی اور صبح وشام تقریروں کا نظام‘ بس ایک لگن تھی جس کے نتائج میں بہت سے نامی گرامی افراد ہی نہیں بلکہ خاندانوں کے خاندان نے مسلک اہل حدیث اختیار کیا اور اللہ تعالیٰ کے فضل واحسان سے روز مرہ جماعتی افرادی قوت بڑھتی گئی۔
مسلک حقہ کی دھاک بیٹھ گئی اور ان اکابرین کی عظیم جد وجہد کی فیوض وبرکات سے ایک زمانہ مستفید ہوا۔ حضرت حافظ عبدالقادر طویل قد وقامت‘ خوبصورت چہرہ مہرہ اور مضبوط جسم وجان کے مالک تھے۔ عام مجالس اور میل ملاپ میں مجسمۂ اخلاق اور متواضع وسادگی کا اعلیٰ پیکر تھے۔ اللہم اغفر لہ وارحمہ!
علماء کی ایک محفل میں حافظ صاحب کا ذکر خیر ہوا تو یہ چند سطور نوک قلم پر آگئیں:
حضرت العلام حافظ محمد عبداللہ روپڑی‘ شیخ القرآن مولانا محمد حسین شیخوپوری اور خطبائے عظام حافظ محمد اسماعیل روپڑی وحافظ عبدالقادر روپڑی علیہم الرحمہ کی یاد گار اور صدقۂ جاریہ لاہور کے کاروباری مرکز اور وسط میں برانڈرتھ روڈ پر نزد چوک دالگراں میں واقع جامع مسجد قدس اہل حدیث کی عظیم الشان عمارت ہے جس پر برطانوی نو مسلم یوسف اسلام کا یہ جملہ صادق آتا ہے کہ ’’عظیم الشان مساجد جیسا حسن اور جلال دوسرے مذاہب کی عبادت گاہوں میں نظر نہیں آتا۔‘‘
روپڑی بزرگوں کے اخلاف الرشید مولانا حافظ عبدالغفار روپڑیd میں مجھے مولانا حافظ محمد اسماعیلa روپڑی کی مہک نظر آتی ہے اور ان کے بھائی مولانا حافظ عبدالوہاب روپڑیd میں مولانا حافظ عبدالقادر a کی جھلک دیکھنے میں آتی ہے۔ ان دونوں بھائیوں کے کلام وبیان کے حسن وتاثیر میں اپنے نامور اسلاف کی رنگ آمیزی شامل ہے۔
گذشتہ سال ادارہ کے سالانہ اجلاس میں ان سطور کے راقم کو بطور مہمان خصوصی شرکت کی دعوت دی گئی۔ دونوں حضرات نے بے حد محبت وپذیرائی کا اظہار فرمایا اور میری دستار بندی کر کے مجھے اعزاز واکرام سے نوازا گیا جس کے لیے میں ہمیشہ ان کا احسان مند اور شکر گذار رہوں گا۔
میں نے دیکھا کہ اسٹیج پر جماعت کی تمام تنظیموں جمعیت‘ جماعت اور غرباء سے متعلق علماء موجود ہیں۔ اس گھرانے کا یہی امتیاز ہے جہاں مسلک کو وقعت واہمیت دی جاتی ہے۔
آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ جامعہ اہل حدیث کی اس تاریخی درسگاہ کی شاندار روایات کو قائم رکھے اور اس کے امین دونوں بھائیوں کو ملکی وملی اور دینی خدمت کی مزید توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین!

No comments:

Post a Comment

View My Stats