توہین رسالت اور اظہار رائے کی آزادی - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, June 23, 2019

توہین رسالت اور اظہار رائے کی آزادی


توہین رسالت اور اظہار رائے کی آزادی

تحریر: جناب رانا محمد شفیق خاں پسروری
۲۰۰۵ء میں جب ڈنمارک‘ ناروے وغیرہ میں بعض بدباطنوں نے اپنے خبث باطن کا مظاہرہ کیا تو ہم نے روزنامہ پاکستان میں ایک تفصیلی مضمون لکھا‘ بعد ازاں یورپ کے دیگر اور خبیث متحرک ہوئے تو ہم مسلسل لکھتے چلے گئے‘ چند سال قبل ’’آزادئ اظہار رائے وتقریر‘‘ کے بہانے گستاخی کے سنگین جرم پر قلم برداشتہ ایک تحریر لکھی تھی کہگستاخانِ یورپ گاہے گاہے کائنات کی سب سے عظیم و افضل ہستی کی شانِ اقدس میں گستاخی کی جسارت کر کے دنیا میں سب سے زیادہ بسنے والے مسلمانوں کی دل آزاری کرتے ہیں اور پھر اس کو ’’آزادیٔ اظہار رائے‘‘ کے نام سے جاری رکھنے پر اصرار بھی کرتے ہیں حالانکہ رائے کی آزادی اور کسی کی دل آزاری میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔ دنیا کے کسی معاشرے میں رائے کے اظہار کی ایسی آزادی نہیں کہ جس کی چاہا عزت خاک میں ملا دی اور جس کے چاہا دل کے پرخچے اڑا دئیے۔ ہر معاشرے نے اپنے اپنے حالات کے مطابق اظہار رائے کی حدود مقرر کی ہیں۔ حقائق تک کو بیان کرنے کے لئے بھی حدود و قیود پائی جاتی ہیں۔ مثلاً یورپ و امریکہ میں بھی جہاں فحاشی و عریانی عروج پر ہے، بچوں میں جنسی ہیجان پیدا کرنے والی فحش نگاری، مذہبی ونسلی منافرت پھیلانے والی تحاریر و تقاریر پر پابندی ہے۔ آسٹریا، بیلجیئم، چیک ری پبلکن، فرانس، جرمنی، اسرائیل، ایتھوپیا، پولینڈ، رومانیہ، چیکوسلواکیہ، سوئٹزرلینڈ وغیرہ میں عالمی جنگوں کی تباہی کے انکار کو فوجداری جرم قرار دیا گیا ہے۔ یورپ کے اکثر ممالک میں ’’ہولوکاسٹ‘‘ کے انکار بلکہ اس کے بارے میں یہ تک کہنے کی اجازت نہیں کہ ’’اس میں ہلاک شدہ یہودیوں کی تعداد مبالغہ آمیز ہے۔‘‘
۱۹۸۴ء میں ایک سکول ٹیچر ’’جیمز کنگ‘‘ نے ہولوکاسٹ کے بارے میں چند الفاظ کہے تھے، اس کو نوکری سے برخاست کر کے سزا دی گئی۔ کینیڈا کے ’’ارنسٹ رنڈل‘‘ کو ہولوکاسٹ کے بارے میں تضحیکی انداز اپنانے پر ۱۵ ماہ قید کی سزا ہوئی۔ کینیڈا ہی کے ’’کن میک وے‘‘ کو انٹرنیٹ پر اس حوالے سے مضمون لکھنے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ آسٹریا کے ایک لکھاری ’’ڈیوڈ ڈارونگ‘‘ نے لکھ دیا کہ ۶۰ لاکھ یہودیوں کی ہلاکت کی بات مبالغہ آمیز ہے۔‘‘ اس کو ۱۷ سال بعد (فروری ۲۰۰۶ء میں) گرفتار کر کے تین سال کی سزا دی گئی۔ ایران کے صدر احمدی نژاد نے ’’ہولوکاسٹ‘‘ کے بارے میں تقریر کی تو پورے یورپ نے شدید احتجاج کیا تھا۔ یورپ کے بعض ممالک میں ’’ہولوکاسٹ‘‘ کے انکار پر ۲۰ سال تک کی سزا مقرر ہے۔ ایرانی صدر احمدی نژاد کی تقریر پر یہودی تنظیم کے صدر کا بیان شائع ہوا تھا کہ ’’ہولوکاسٹ‘‘ کے انکار کا مطلب ۶۰ لاکھ یہودیوں کو دوبارہ قتل کرنے کے مترادف ہے۔‘‘
اظہار رائے کی آزادی کی بات کرنے والے یورپ و امریکہ کی اپنی حالت یہ ہے کہ ’’وہاں بھی کوئی کھل کر ان کے دستور، اقتدار اعلیٰ یا پالیسیوں پر بات نہیں کر سکتا۔ صرف یورپ و امریکہ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں ہتک عزت اور توہین عدالت کے قوانین موجود ہیں۔ دنیا کے ہر ملک میں وہاں کے دستور یا اقتدار اعلیٰ سے بغاوت یا باغیانہ اظہار رائے کو سنگین جرم قرار دیا گیا ہے اور مجرموں کے لئے موت تک کی سزا موجود ہے۔ اسی طرح مقدس ہستیوں، مقدس مقامات اور مقدس اشیاء کی توہین پر سزا کا قانون بھی اکثر (بلکہ تمام) ممالک میں موجود ہے۔ انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق اکثر ممالک میں بلاس فیمی لاء Blas phemy Law ایک لفظ موجود ہے۔ خصوصاً آسمانی صحائف اور آسمانی ادیان سے تعلق رکھنے والی اقوام میں انبیاء و رسلؑ کی توہین قابل سزا جرم ہے۔ قدیم ایران میں تین قسم کے جرم تھے:
1 خدا کے خلاف،  2 بادشاہ کے خلاف،  3 انسانوں کے ایک دوسرے کے خلاف۔
ہندو مت میں ستیارتھ پرکاش (چمپوتی ۷۱-۷۱) صفحہ ۲۹۷ کے مطابق ’’ناستک (مذہب بیزار) کے لئے خشک لکڑی کی طرح جلا کرا س کی جڑ ختم کر دینے کا حکم ہے۔‘‘
چین جہاں آج کل کوئی دینی و مذہبی حکومت نہیں، وہاں بھی مہاتما بدھ کے مجسمے کی توہین، فوجداری جرم ہے۔ ۲۹ مارچ ۱۹۹۰ء کو چین کے صوبے سی چوان میں وانگ ہونگ نامی شخص کو جس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مہاتما بدھ کے مجسمے کا سر کاٹا تھا، سزائے موت سنائی گئی تھی۔ افغانستان میں طالبان نے بدھ کے مجسمے کو گرایا تو یورپ و امریکہ نے کتنا شور مچایا تھا؟
یہودیوں کے ہاں خدا، رسولؑ، یوم سبت اور ہیکل کی توہین جرم تھی اور ہے۔ سیدنا عیسیٰu پر سردار کاہن نے اسی طرح کا الزام لگا کر پھانسی کی سزا کا مطالبہ کیا تھا۔ تفصیل (کتاب مقدس احبار باب ۲۴ فقرء ۱۶ اور متی کی انجیل باب ۲۶ فقرہ ۲۵-۶۳) میں دیکھی جا سکتی ہے۔ ’’رسولوںؑ کے اعمال‘‘ کے مطابق مسیحی مبلغ مقنس اور سیدنا عیسیٰu کے حواری پولس پر یلغار انہی الزامات کے بہانے کی گئی تھی۔ رومن ایمپائر میں جب شہنشاہ جینن (قسطنین) عیسائی ہوا تو قانون میں انبیائؑ بنی اسرائیل کی جگہ سیدنا عیسیٰu کی توہین جرم قرار پایا۔ روس میں بھی یہ قانون جاری رہا۔ انقلاب کے بعد مقدس انبیائؑ کی جگہ سٹالن نے لے لی۔ لینن کے ساتھ ٹرائسسکی کا المناک انجام اس کی مثال ہے جو بھاگ کر امریکہ چلا گیا مگر وہاں بھی جان نہ بچ پائی۔ برطانیہ کا کامن لاء توہین مسیح، بائبل کی اہانت وغیرہ کو ’’بلاس فیمی لاء‘‘ کے زمرے میں قابل سزا جرم قرار دیتا ہے۔ انسائیکلوپیڈیا آف ریلیجیئن جلد ۲ صفحہ ۲۴۲، بائبل آف میتھیو (Mathew) یعنی متی کی انجیل (۲۸-۱۲) کے حوالے سے اور بائبل، کتاب استثناء باب ۱۷ کے مطابق ’’انبیاءؑ اور ان کے ساتھیوں کی توہین کرنے والے کی سزا موت ہے۔‘‘ چنانچہ مختلف اوقات میں مختلف لوگوں کو جان سے مارا جاتا رہا ہے۔ مثلاً ۱۵۵۳ء میں برطانیہ (الزبتھ دور) میں پانچ افراد کو، ۱۵۵۳ء میں ہنگری میں ڈیوڈ نامی پادری کو، ۱۶۰۰ میں روم کے بروٹونامی شخص کو سیدنا عیسیٰu کی توہین کے جرم میں سزائے موت دی گئی۔ برطانیہ میں ۱۸۲۱ء سے ۱۸۳۴ء تک ۷۳ افراد کو مار دیا گیا۔ یہ سزا امریکہ میں بھی دی جاتی رہی۔ ۱۹۶۸ء کے بعد امریکہ میں کوئی مقدمہ دائر نہیں ہوا کہ مذہبی اور عدالتی امور الگ الگ کر دئیے گئے تھے۔ پھر بھی چند سال قبل ڈیوڈ نامی شخص کو اس کے ۳۰۰ ساتھیوں سمیت اس لئے جلا دیا گیا کہ اس نے دعویٰ کیا تھا: ’’سیدنا عیسیٰu کی روح اس میں حلول کر گئی ہے۔‘‘
برطانیہ کے ڈینس لی مون نے (جو کہ گے نیوز کا ایڈیٹر تھا) ایک مزاحیہ نظم لکھی، پھر معافی بھی مانگی اور وضاحت کی کہ محض تفریح طبع کی خاطر ایسا کیا۔ پھر بھی جیوری نے اس کو سزا سنا دی۔ وہ اپیل لے کر ہاؤس آف لارڈز میں گیا مگر سزا بحال رہی۔
۲۷ جنوری ۲۰۰۳ء مین ٹیلی گراف میں اسرائیلی وزیراعظم کا کارٹون شائع ہوا کہ وہ فلسطینی بچوں کی کھوپڑیاں کھا رہا ہے۔ یہودیوں کے احتجاج پر معذرت کی گئی۔ اٹلی کے وزیراعظم نے سیدنا عیسیu کی مشابہہ حکومت کی بات کی، پھر اس پر معذرت کی۔ محمد علی (کلے) نے ویت نام جنگ کے متعلق امریکی پالیسی پر بیان دیا، اس کا عالمی چیمپئن کا ٹائٹل چھین لیا گیا۔ الجزیرہ ٹی وی نے ۶ امریکی فوجیوں کی لاشیں دکھائیں، احتجاج کیا گیا بلکہ اس کے آفس پر بمباری کر کے تباہ کر دیا گیا اور عملے کے لوگوں کو شہید کر دیا گیا۔ اسرائیل کے لبنان پر حملے کے بعد کونڈا لیزا رائس نے ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کی بات کی، اس پر ایک فلسطینی اخبار نے کارٹون بنا کر کونڈا کا مذاق اڑایا تو امریکی محکمہ خارجہ نے شدید احتجاج کیا، مثالیں بے شمار ہیں۔
۱۵ اپریل ۲۰۰۸ء کو فرانس کی پارلیمنٹ نے خواتین کو وزن کم کرنے پر ابھارنے والے اشتہارات شائع کرنے کو جرم قرار دیا اور اس کی خلاف ورزی پر ۲ سال قید اور ۳۰ ہزار یورو جرمانے کی سزا قرار دی اور اگر کوئی خاتون مر گئی تو اشتہاری کمپنی یا میگزین و اخبار کے ایڈیٹر کو ۳ سال قید اور ۴۵ ہزار یورو کی سزا کا اعلان کیا۔ فرانس کے وزیرصحت نے اس موقع پر کہا کہ ’’نوجوان لڑکیوں کو وزن گھٹانے کے لئے کم خوراکی پر مائل کرنا، اظہار رائے کی آزادی نہیں بلکہ ایسے پیغامات، موت کے پیغامات ہیں۔‘‘
ہر ملک میں اظہار رائے کے لئے حدود متعین ہیں، اس لئے گستاخان یورپ کی خباثتوں اور مسلمانوں کی دل آزاری کے اقدامات پر اس بہانے کو استعمال کرنا ایک طرح کی واضح دہشت گردی ہے۔ خود ڈنمارک کے اسی اخبار (سلنڈر پوسٹن) کہ جس نے خاکے اڑانے کی جسارت و سازش کی تھی، ۲۰۰۴ء میں اس کے کارٹونسٹ ’’کرسٹوفر زیلر‘‘ نے حضرت عیسیٰu کے خاکے بنانے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ ’’اس سے عیسائیوں کے جذبات مجروح ہوں گے‘‘ یعنی یورپ و امریکہ کے گستاخ جان بوجھ کر مسلمانوں کو آزار پہنچاتے ہیں۔
مذہبی عقیدتیں نازک اور حساس ہوتی ہیں، ان کا تعلق دماغ سے زیادہ دل کے ساتھ ہوتا ہے۔
صبح ازل یہ مجھ سے کہا جبریل نے
جو عقل کا غلام ہو وہ دل نہ کر قبول
دل کے ہاتھوں مجبور عقیدت مند کبھی اپنی مقتدا اور مقدس ہستیوں پر حرف زنی و حرف گیری قبول نہیں کر سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ سورہ انعام میں ہے ’’معبودان باطلہ کو بھی گالی نہ دو کہ کہیںان کے ماننے والے سچے اللہ کو بے علمی میں گالی نہ دے دیں۔‘‘
دنیا میں جہاں بھی مذہب اپنے زندہ شعور کے ساتھ موجود ہے، وہاں اس مذہب کے بانیان و مقتدا کی توہین پر کڑی سے کڑی سزائیں رکھی گئی ہیں۔ البتہ اگر کسی جگہ عیاشی ہی کو بطور مذہب اپنا لیا جائے تو سوچ کے دھارے بدل جائیں گے اور وہاں کے مردہ ضمیر ’’آزادیٔ رائے‘‘ کے نام پر سب کچھ سہہ جاتے اور قبول کر لیتے ہیں۔ قرآن پاک ہمیں بتاتا ہے کہ ’’نمرود کے دور میں حضرت ابراہیمu نے اپنے باپ آذر سے بتوں کے بارے میں جب کہا: ’’اے میرے باپ! ان کی عبادت کیوں کرتے ہو جو نہ سنتے ہیں، نہ دیکھتے ہیں اور نہ ہی آپ کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں؟ تو اس نے کہا تھا: ’’اگر تو باز نہ آیا تو تجھے پتھروں سے مار ڈالوں گا۔‘‘ (مریم)
پھر جب سیدنا ابراہیمu نے ان بتوں کو توڑ ڈالا تو بت پرستوں نے مشورہ کیا کہ کیا سزا دی جائے تو وہ لوگ پکار اٹھے: ’’کہنے لگے اسے جلا دو۔‘‘ (انبیاء)
گویا اگر مذہبی عقیدتیں باقی ہوں تو جھوٹے مذہب بھی اپنی مقتدا ہستیوں کی توہین پر سنگسار کرنے اور جلانے پر تلے نظر آتے ہیں۔ تیسری صدی عیسوی میں ایران میں بہرام اول کے دور میں مانی کو مذہبی عقائد کی توہین کرنے کے جرم میں قتل کر دیا گیا۔ اس کی کھال اتار کر اور اس میں بھس بھر کر جندلی شاہ پور کے دروازے پر لٹکا دیا گیا بلکہ مانی کے بارہ ہزار پیروکار بھی قتل کر دئیے گئے۔ سقراط کو زہر کا پیالہ پینے پر کیوں مجبور کیا گیا تھا؟ انہی مذہبی عقائد کی خلاف ورزی پر‘ عیسائی ادوار میں گلیلیو کو سزائے موت کا حکم کیوں ہوا؟ جادوگرنیوں کے نام پر ہزاروں عورتوں کو کیوں جلایا گیا؟ محض اسی باعث ہندوؤں کے ہاں ’’ویدوں کی نندنا یعنی بے قدری کرنے والا ناستک ہے‘‘ اور ’’جو ناستک ویدوں کے علم کا مخالف ہو، اس بدذات کو جڑ بنیاد کے ساتھ ناس (تباہ) کر دیا جائے۔‘‘ بائبل کتاب ’’خروج‘‘ میں ہے ’’تم سب کو ماننا وہ تمہارے لئے مقدس ہے جو کوئی اس کی بے حرمتی کرے گا وہ ضرور مار ڈالا جائے گا۔‘‘ (اعمال باب ۲۱، فقرہ ۲۷-۳۶) بائبل کی کتاب ’’استثناء‘‘ میں ہے، ’’اگر کوئی گستاخی سے پیش آئے اور کاہن کی بات اور قاضی کا کہا نہ مانے، وہ شخص مار ڈالا جائے۔‘‘
اٹھارویں صدی تک برطانیہ وغیرہ میں توہین مسیح کی سزا موت ہی رہی ہے۔ چند مثالیں جو ہمارے سامنے آئی ہیں ۱۵۵۳ء (الزبتھ دور) میں ۷ افراد کو موت کی سزا دی گئی۔ ۱۵۵۹ء میں ہنگری میں ڈیوڈ نامی پادری کو سزائے موت ملی۔ ۱۶۰۰ میں روم میں بروٹو نام کے شخص کو مار ڈالا گیا۔ ۱۸۳۳ء تک تھوڑے عرصے میں برطانیہ میں ۷۲ افراد اس جرم کی سزا میں مارے گئے۔ اب اگرچہ برطانیہ میں کامن لاء Common Law ہے پھر بھی اس کی رو سے جو توہین مسیح یا کتاب مقدس کی سچائی کا انکار کرے وہ بلاس فیمی Blas phemy کا مرتکب ہو گا اور اس کی سزا تخت و تاج برطانیہ یا حکومت کے خلاف بغاوت کے جرم کے مطابق عمر قید تک ہو سکتی ہے۔
لندن کے اخبار The Times کے مطابق برطانوی عدالت نے 27 اگست 1988ء کو Gay News کے ایڈیٹر ’’ڈینز لیمور‘‘ (جس نے ۱۹۸۷ء کو ایک نظم میں سیدنا عیسیٰu کے بارے میں تضحیکی الفاظ لکھے تھے) کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے کہا: ’’خلوص اور احترام کا ماحول ہی بلاس فیمی کے منافی نہیں، دیکھنا پڑتا ہے کہ اس طرح کے الفاظ و اقدامات سے عیسائی مذہب کے ماننے والوں کے جذبات مشتعل ہوتے ہیں؟ اس بارے میں واضح قانون موجود ہے، ہر وہ پبلی کیشن، بلاس فیمی متصور ہو گی جو خدا، یسوع مسیح یا بائبل کے بارے میں دشنام طرازی، توہین آمیز اور مضحکہ خیز مواد پر مشتمل ہو۔ قانون آپ کو یہ اجازت دے سکتا ہے کہ عیسائی ملک پر حملہ کریں، تختہ الٹ دیں یا عیسائی مذہب کا انکار کر دیں لیکن مذہب کے بارے میں ’’نازیبا‘‘ اور ’’غیر معتدل‘‘ الفاظ و اقدام کی اجازت ہر گز نہیں۔‘‘
گستاخانہ کلمات اور بے ادبی کی سزا اور حوصلہ شکنی کے لئے دنیا کے کئی ممالک میں قوانین موجود ہیں، مثلاً
1   آسٹریا (آرٹیکل ۱۸۸-۱۸۹ کریمنل کوڈ)
2   فن لینڈ (سیکشن ۱۰ چیپٹر ۱۷ پینل کوڈ)
3   جرمنی (آرٹیکل ۱۱۶ کریمنل کوڈ)
4   ہالینڈ (آرٹیکل ۱۴۷ کریمنل کوڈ)
5   سپین (آرٹیکل ۵۲۵ کریمنل کوڈ)
6   آئرلینڈ (آئرلینڈ کے دستور کے آرٹیکل i-40, 6, 1 کے مطابق کفریہ مواد کی اشاعت ایک جرم ہے۔ منافرت ایکٹ ۱۹۸۹ء کے امتناع میں ایک گروہ یا جماعت کے لئے مذہب کے خلاف نفرت بھڑکانا بھی شامل ہے۔
7   کینیڈا (سیکشن ۲۹۶ کینیڈین کریمنل کوڈ) کہ عیسائی مذہب کی تنقیص و تضحیک ایک جرم ہے۔
8   نیوزی لینڈ (سیکشن ۱۲۳ نیوزی لینڈ کرائمز ایکٹ ۱۹۶۱) مثال کے طور پر عیسائی دنیا میں گرجوں کی تقدیس کو قانون کا درجہ حاصل ہے، بعض یورپی ممالک کے دساتیر میں ان کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ ڈنمارک کے دستور کی سیکشن ۴ (سٹیٹ چرچ) کی مثال موجود ہے جس میں کہا گیا ہے: اوینجیلیکل لوتھرن (پروٹسٹنٹ) چرچ ڈنمارک کا ریاستی قائم کردہ چرچ ہو گا اور اس کی مدد و اعانت ریاست کے ذمہ ہوگی۔‘‘
آزادی تقریر و تحریر ایک بنیادی حق تو ہے مگر مطلق حق نہیں۔ اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے ڈنمارک اور ناروے کے گستاخوں کی طرف سے خاکوں کی اشاعت پر کہا تھا: ’’میں بھی آزادی تقریرو تحریر کا احترام کرتا ہوں مگر یہ آزادی مطلق نہیں ہوتی۔‘‘ سابق برطانوی وزیر خارجہ جیک اسٹرا نے کہا تھا: ’’آزادیٔ رائے کا ہم سب احترام کرتے ہیں لیکن بے عزتی اور اشتعال انگیزی کی کوئی چھوٹ نہیں دی جا سکتی، میرے خیال میں ان خاکوں کی اشاعت زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے بیان جاری ہوا تھا: ’’یہ خاکے واقعی توہین آمیز اور مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا موجب ہیں۔‘‘ ان تمام کے باوجود گستاخان یورپ و امریکہ مسلمانوں کے دل خون کر رہے ہیں اور مسلسل دل آزاری کرتے چلے جا رہے ہیں، کیوں؟
انسائیکلوپیڈیا آف برٹانیکا کے مطابق ’’اپنے خیالات، معلومات اور آراء کا گورنمنٹ کی پابندیوں سے آزاد ہو کر اظہار کرنا، آزادیٔ اظہار رائے کہلائے گا۔‘‘ کینیڈین سپریم کورٹ نے آزادی رائے کے بارے میں اہم مقاصد بیان کئے کہ 1 جمہوریت کے فروغ کے لئے، 2 ریاستی یا گروہی زیادتیوں کی روک تھام کے لئے، 3حقیقت کی تلاش کے لئے، ہر فرد آواز اٹھا سکتا ہے۔
انسائیکلوپیڈیا آف برٹانیکا، آزادیٔ رائے کی تعریف کے ساتھ ساتھ ہر اس گفتگو یا رائے پر پابندی کی بات کرتا ہے جو واضح حقیقی خطرے کی موجب ہو، یعنی 1 کسی پر بہتان لگایا گیا ہو، 2فحاشی کی موجب ہو، 3کسی پر دباؤ ڈال کر مجبور کرنے کی کوشش کی گئی ہو۔‘‘ اس طرح اقوام متحدہ کے ’’اعلامیہ برائے سیاسی و سماجی حقوق‘‘ جو جنرل اسمبلی نے ۱۹۶۶ء میں منظور کیا تھا کا آرٹیکل ۲۰ تشدد کے فروغ، نسلی تعصب، مذہبی منافرت اور کسی بھی قسم کے امتیازی روئیے پر مبنی تقریر و تحریر پر پابندی کی بات کرتا ہے۔
اظہار رائے کی بے مہار اور کھلی آزادی، نسلی، گروہی، لسانی و علاقائی عصبیتوں کے فروغ اور باہمی فساد و جدال کا باعث بن سکتی ہے۔ اس کے ذریعے کسی کے عقائد اور مذہب کی تضحیک کے ذریعے قتل و غارت گری کی راہ بھی کھل سکتی ہے۔ اسی لئے تقریباً ہر جمہوری ملک میں اسے قانونی طور پر روکا گیا ہے اور قابل تعزیر جرم گردانا گیا ہے۔ خود ڈنمارک (جہاں سب سے پہلے خاکوں کی بدطینتی سامنے آئی تھی) کا قانون بھی خاموش نہیں۔ وہاں بھی ناموس مذہب کا قانون ’’بلاس فیمی لا‘‘ عرصے سے موجود ہے اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ ۱۴۰ کے مطابق ’’جو لوگ کسی مذہبی برادری کی عبادات اور مسلمہ عقائد کا کھلا مذاق اڑائیں یا ان کی توہین کریں، ان کو جرمانے اور قید کی سزا دی جائے گی۔
یورپ و امریکہ کو اپنی تہذیب و تمدن پر بہت ناز ہے۔ ایک طرف تو وہ پرندوں اور جانوروں کے تحفظ اور آرام کا خیال کرتے نظر آتے ہیں لیکن جب اسلام اور مسلمانوں کا معاملہ آ جائے تو ان کے بعض شہریوں کی سوئی ہوئی حیوانیت کیوں جاگ اٹھتی ہے؟ پیارے رسولe کی شانِ اقدس میں گستاخی کے ذریعے صرف مسلمانوں کے کلیجے کو ہاتھ ڈالنا، مضطرب کرنا اور زندگی تلخ تر بنانا ہی ان کا مقصد کیوں بن جاتا ہے؟

No comments:

Post a Comment

Pages