خاوند پر بیوی کے حقوق - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Sunday, June 23, 2019

خاوند پر بیوی کے حقوق


خاوند پر بیوی کے حقوق

تحریر: جناب مولانا لیاقت علی باجوہ
اکثر گھروں میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر میاں بیوی کی آپس میں لڑائی ہوتی رہتی ہے‘ اس کا اصل سبب دین سے دوری اورایک دوسرے کے حقوق سے لاعلمی ہے‘ بعض عورتیں بڑی سمجھ دار ہوتی ہیں‘ وہ لڑائی جھگڑے کی نوبت نہیں آنے دیتیں۔ مثلاً:
ایک بوڑھی خاتون کا انٹرویو جنہوں نے اپنے شوہر کے ساتھ پچاس سال کا عرصہ پرسکون طریقے سے ہنسی خوشی گزارا۔ خاتون سے پوچھا گیا کہ اس پچاس سالہ پرسکون زندگی کا راز کیا ہے؟ کیا وہ کھانا بنانے میں بہت ماہر تھیں؟ یا پھر ان کی خوبصورتی اس کا سبب ہے؟ یا ڈھیر سارے بچوں کا ہونا اس کی وجہ ہے یا پھر کوئی اور بات ہے؟
بوڑھی خاتون نے جواب دیا: پرسکون ازدواجی زندگی کا دار و مدار اللہ کی توفیق کے بعد عورت کے ہاتھ میں ہے، عورت چاہے تو اپنے گھر کو جنت بنا سکتی ہے اور وہ چاہے تو اس کے برعکس یعنی جہنم بھی بنا سکتی ہے۔
اس سلسلے میں مال کا نام مت لیجیے، بہت ساری مالدار عورتیں جن کی زندگی اجیرن بنی ہوئی ہے، شوہر ان سے بھاگا بھاگا رہتا ہے۔
خوشحال ازدواجی زندگی کا سبب اولاد بھی نہیں، بہت ساری عورتیں ہیں جن کے دسیوں بچے ہیں پھر بھی وہ شوہر کی محبت سے محروم ہیں بلکہ طلاق تک کی نوبت آ جاتی ہے۔
بہت ساری خواتین کھانا پکانے میں ماہر ہوتی ہیں،  دن بھر کھانا بناتی رہتی ہیں لیکن پھر بھی انہیں شوہر کی بدسلوکی کی شکایت رہتی ہے۔
انٹرویو لینے والی خاتون صحافی کو بہت حیرت ہوئی، اس نے پوچھا: پھر آخر اس خوشحال زندگی کا راز کیا ہے؟
بوڑھی خاتون نے جواب دیا: جب میرا شوہر انتہائی غصے میں ہوتا ہے تو میں خاموشی کا سہارا لے لیتی ہوں لیکن اس خاموشی میں بھی احترام شامل ہوتا ہے، میں افسوس کے ساتھ سر جھکا لیتی ہوں۔ ایسے موقع پر بعض خواتین خاموش تو ہو جاتی ہیں لیکن اس میں تمسخر کا عنصر شامل ہوتا ہے اس سے بچنا چاہیے، سمجھدار آدمی اسے فوراً بھانپ لیتا ہے۔
نامہ نگار خاتون نے پوچھا: ایسے موقعے پر آپ کمرے سے نکل کیوں نہیں جاتیں؟
بوڑھی خاتون نے جواب دیا: نہیں، ایسا کرنے سے شوہر کو یہ لگے گا کہ آپ اس سے بھاگ رہی ہیں، اسے سننا بھی نہیں چاہتی ہیں۔ ایسے موقعے پر خاموش رہنا چاہیے اور جب تک وہ پرسکون نہ ہو جائے اس کی کسی بات کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے۔
جب شوہر کسی حد تک پرسکون ہو جاتا ہے تو میں کہتی ہوں: پوری ہو گئی آپ کی بات؟ پھر میں کمرے سے چلی جاتی ہوں کیونکہ شوہر بول بول کر تھک چکا ہوتا ہے اور چیخنے چلانے کے بعد اب اسے تھوڑے آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں کمرے سے نکل جاتی ہوں اور اپنے معمول کے کاموں میں مصروف ہو جاتی ہوں۔
خاتون صحافی نے پوچھا: اس کے بعد آپ کیا کرتی ہیں؟ کیا آپ بول چال بند کرنے کا اسلوب اپناتی ہیں؟ ایک آدھ ہفتہ بات چیت نہیں کرتی ہیں؟
بوڑھی خاتون نے جواب دیا: نہیں! اس بری عادت سے ہمیشہ بچنا چاہیے، یہ دودھاری ہتھیار ہے، جب آپ ایک ہفتے تک شوہر سے بات چیت نہیں کریں گی ایسے وقت میں جب کہ اسے آپ کے ساتھ مصالحت کی ضرورت ہے تو وہ اس کیفیت کا عادی ہو جائے گا اور پھر یہ چیز بڑھتے بڑھتے خطرناک قسم کی نفرت کی شکل اختیار کر لے گی۔
صحافی نے پوچھا: پھر آپ کیا کرتی ہیں؟
بوڑھی خاتون بولیں: میں دو تین گھنٹے بعد شوہر کے پاس ایک گلاس جوس یا ایک کپ کافی لے کر جاتی ہوں اور محبت بھرے انداز میں کہتی ہوں: پی لیجیے۔ حقیقت میں شوہر کو اسی کی ضرورت ہوتی ہے۔ پھر میں اس سے نارمل انداز میں بات کرنے لگتی ہوں۔ وہ پوچھتا ہے کیا میں اس سے ناراض ہوں؟ میں کہتی ہوں: نہیں۔ اس کے بعد وہ اپنی سخت کلامی پر معذرت ظاہر کرتا ہے اور خوبصورت قسم کی باتیں کرنے لگتا ہے۔
انٹرویو لینے والی خاتون نے پوچھا: اور آپ اس کی یہ باتیں مان لیتی ہیں؟
بوڑھی خاتون بولیں: بالکل، میں کوئی اناڑی تھوڑی ہوں، مجھے اپنے آپ پر پورا بھروسہ ہوتا ہے۔ کیا آپ چاہتی ہیں کہ میرا شوہر جب غصے میں ہو تو میں اس کی ہر بات کا یقین کر لوں اور جب وہ پرسکون ہو تو اس کی کوئی بات نہ مانوں؟
خاتون صحافی نے پوچھا: اور آپ کی عزت نفس (self respect
بوڑھی خاتون بولیں: پہلی بات تو یہ کہ میری عزت نفس اسی وقت ہے جب میرا شوہر مجھ سے راضی ہو اور ہماری ازدواجی زندگی پرسکون ہو۔ دوسری بات یہ کہ شوہر بیوی کے درمیان عزت نفس نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی‘ جب مرد و عورت ایک دوسرے کے لباس ہیں تو پھر کیسی عزت نفس؟
دین اسلام نے خاوند پر بیوی کے کچھ حقوق رکھے ہیں، اسی طرح بیوی پربھی اپنے خاوند کے کچھ حقوق مقرر کیے ہیں اورکچھ حقوق توخاوند اوربیوی دونوں پر مشترکہ طور پر واجب ہیں۔
صرف بیوی کے خاص حقوق:
بیوی کے اپنے خاوند پر کچھ تومالی حقوق ہیں جن میں مہر ، نفقہ ، اوررہائش شامل ہے ۔
کچھ حقوق غیر مالی ہیں جن میں بیویوں کے درمیان تقسیم میں عدل انصاف کرنا ، اچھے اوراحسن انداز میں بود باش اورمعاشرت کرنا ، بیوی کوتکلیف نہ دینا۔
مالی حقوق:
ا        مہر:
مہر وہ مال ہے جو بیوی کااپنے خاوند پر حق ہے جوعقد یا پھر دخول کی وجہ سے ثابت ہوتا ہے ، اوریہ بیوی کا خاوند پر اللہ تعالی کی طرف سے واجب کردہ حق ہے ، اللہ تعالی کا فرمان ہے:
’’اورعورتوں کوان کے مہر راضی خوشی دے دو النساء۔‘‘
مہر کی مشروعیت میں اس عقد کے مقام کا اظہار اورعورت کی عزت و تکریم اوراس کے لیے اعزاز ہے ۔
مہر عقد نکاح میں شرط نہیں اورنہ ہی جمہور فقہاء کے ہاں یہ عقد کا رکن ہے ، بلکہ یہ تواس کے آثار میں سے ایک اثر ہے جواس پر مرتب ہوا ہے ، اگر کوئی عقد نکاح بغیر مہر ذکر کیے ہوجائے توباتفاق جمہور علماء کے وہ عقد صحیح ہوگا ۔
اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’اگر تم عورتوں کوبغیر ہاتھ لگائے اوربغیر مہر مقرر کیے طلاق دے دو توبھی تم پر کوئی گناہ نہیں۔‘‘ (البقرۃ: ۲۳۶)
ہاتھ لگانے یعنی دخول سے قبل اورمہر مقرر کرنے سے قبل طلاق کی اباحت عقد نکاح میں مہر کے ذکر نہ کرنے پر دلالت کرتی ہے۔
اگر عقدمیں مہر کا نام نہیں لیا گیا توخاوند پر مہر واجب ہوگا ، اوراگرعقد نکاح میں ذکر نہیں کیا جاتا توپھر خاوند پر مہر مثل واجب ہوگا ، یعنی اس جیسی دوسری عورتوں جتنا مہر دینا ہوگا ۔
ب      نان ونفقہ:
علماء اسلام کا اس پر اجماع ہے کہ بیویوں کا خاوند پر نان ونفقہ واجب ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اگرعورت اپنا آپ خاوند کے سپرد کردے توپھرنفقہ واجب ہوگا ، لیکن اگر بیوی اپنے خاوندکونفع حاصل کرنے سے منع کردیتی ہے یا پھر اس کی نافرمانی کرتی ہے تواسے نان ونفقہ کا حقدار نہیں سمجھا جائے گا۔
بیوی کے نفقہ کے وجوب کی حکمت:
عقد نکاح کی وجہ سے عورت خاوند کے لیے محبوس ہے اورخاوند کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر نکلنا منع ہے۔ اس لیے خاوند پرواجب ہے کہ وہ اس کے بدلے میں اس پرخرچہ کرے ، اوراس کا ذمہ ہے کہ وہ اس کوکفائت کرنے والا خرچہ دے ، اوراسی طرح یہ خرچہ عورت کا اپنے آپ کوخاوند کے سپرد کرنے اوراس سے نفع حاصل کرنے کے بدلے میں ہے ۔
نان ونفقہ کا مقصد:
بیوی کی ضروریات پوری کرنا مثلا کھانا ، پینا ، رہائش وغیرہ ، یہ سب کچھ خاوند کے ذمہ ہے اگرچہ بیوی کے پاس اپنا مال ہو اوروہ غنی بھی ہوتوپھر بھی خاوند کے ذمہ نان ونفقہ واجب ہے ۔
اس لیے کہ اللہ تبارک وتعالی کا فرمان ہے:
’’اورجن کے بچے ہیں ان کے ذمہ ان عورتوں کا روٹی کپڑا اوررہائش دستور کے مطابق ہے۔‘‘ (البقرۃ: ۲۳۳)
ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالی نے کچھ اس طرح فرمایا:
’’اورکشادگی والا اپنی کشادگی میں سے خرچ کرے اورجس پر رزق کی تنگی ہو اسے جو کچھ اللہ تعالی نے دیا ہے اس میں سے خرچ کرنا چاہیے۔‘‘ (الطلاق)
سنت نبویہ میں سے دلائل:
ہند بنت عتبہr جوکہ ابوسفیانt کی بیوی تھیں نے جب نبیe سے شکایت کی کہ ابوسفیان اس پر خرچہ نہیں کرتا تونبیe نے انہیں فرمایا تھا :
’’آپ اپنے اوراپنی اولاد کے لیے جوکافی ہو اچھے انداز سے لے لیا کرو۔‘‘
سیدہ عائشہr بیان کرتی ہیں کہ ابوسفیان کی بیوی ھندبنت عتبہw‘ نبی کریمe کے پاس آئی اورکہنے لگی:
اللہ تعالی کے رسول! ابوسفیان بہت حریص اور بخیل آدمی ہے‘ مجھے وہ اتنا کچھ نہیں دیتا جوکہ مجھے اور میری اولاد کے لیے کافی ہو الا یہ کہ میں اس کا مال اس کے علم کے بغیر حاصل کرلوں، توکیا ایسا کرنا میرے لیے کوئی گناہ تونہیں؟‘‘
رسول اکرمe فرمانے لگے:
’’تواس کے مال سے اتنا اچھے انداز سے لے لیا کرجوتمہیں اورتمہاری اولاد کوکافی ہو۔‘‘ (بخاری: ۵۰۴۹‘ مسلم: ۱۷۱۴)
سیدنا جابرt بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرمe نے خطبۃ الوداع کے موقع پر فرمایا:
’’تم عورتوں کے بارہ میں اللہ تعالی سے ڈرو ، بلاشبہ تم نے انہیں اللہ تعالی کی امان سے حاصل کیا ہے ، اوران کی شرمگاہوں کواللہ تعالی کے کلمہ سے حلال کیا ہے ، ان پر تمہارا حق یہ ہے کہ جسے تم ناپسند کرتے ہووہ تمہارے گھر میں داخل نہ ہو، اگر وہ ایسا کریں توتم انہیں مار کی سزا دو جوزخمی نہ کرے اورشدید تکلیف دہ نہ ہو، اوران کا تم پر یہ حق ہے کہ تم انہیں اچھے اور احسن انداز سے نان و نفقہ اوررہائش دو۔‘‘ (مسلم: ۱۲۱۸)
ج       سکنی یعنی رہائش:
یہ بھی بیوی کے حقوق میں سے ہے کہ خاوند اس کے لیے اپنی وسعت اورطاقت کے مطابق رہائش تیار کرے ۔
اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے:
’’تم اپنی طاقت کے مطابق جہاں تم رہتے ہو وہاں انہیں بھی رہائش پذیر کرو۔‘‘ (الطلاق)
غیرمالی حقوق :
ا        بیویوں کے درمیان عدل وانصاف:
بیوی یا اپنے خاوند پر حق ہے کہ اگر اس کی اور بھی بیویاں ہوں تووہ ان کے درمیان رات گزارنے ، نان ونفقہ اورسکن وغیرہ میں عدل و انصاف کرے ۔
ب      حسن معاشرت :
خاوند پر واجب ہے کہ وہ اپنی بیوی سے اچھے اخلاق اورنرمی کا برتاؤ کرے ، اوراپنی وسعت کے مطابق اسے وہ اشیاء پیش کرے جواس کے لیے محبت والفت کا باعث ہوں۔
اس لیے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
’’اوران کے ساتھ حسن معاشرت اوراچھے انداز میں بود باش اختیار کرو۔‘‘
ایک دوسرے مقام پر کچھ اس طرح فرمایا :
’’اورعورتوں کے بھی ویسے ہی حقوق ہیں جیسے ان پر مردوں کے حقوق ہیں۔‘‘ (البقرۃ: ۲۲۸)
سنت نبویہ میں ہے کہ سیدنا ابوھریرہt بیان کرتے ہیں کہ نبیe نے فرمایا :
’’عورتوں کے بارہ میں میری نصیحت قبول کرو اوران سے حسن معاشرت کا مظاہرہ کرو۔‘‘ (بخاری: ۳۱۵۳‘ مسلم: ۱۴۶۸)
اب ہم ذیل میں چندایک نبیe کے اپنی بیویوں کیساتھ حسن معاشرت کے نمونے پیش کرتے ہیں، نبیe ہی ہمارے لیے قدوہ اوراسوہ اور آئیڈیل ہیں:
1          سیدہ زینب بنت ابی سلمہw کہتی ہیں کہ سیدہ ام سلمہr بیان کرتی ہیں کہ میں نبیe کے ساتھ چادرمیں تھی تومجھے ایام حیض شروع ہوگئے جس کی بنا پر میں اس چادر سے کھسک کر نکل گئی اورجا کر حیض والے کپڑے پہن لیے ، تورسول اکرمe کہنے لگے کیا حیض آگیا ہے ؟
میں نے جواب دیا جی ہاں! تونبیe نے مجھے بلایا اوراپنے ساتھ چادر میں داخل کرلیا۔
وہ کہتی ہے کہ سیدہ ام سلمہr نے مجھے حدیث بیان کی کہ نبیe روزہ کی حالت میں ان کا بوسہ لیا کرتے تھے، نبیe اور میں ایک ہی برتن سے اکٹھے غسل جنابت بھی کیا کرتے تھے۔ (بخاری: ۳۱۶‘ مسلم: ۲۹۶)
2          سیدنا عروہ بن زبیرt بیان کرتے ہیں کہ عائشہr نے فرمایا
’’اللہ کی قسم! میں نے رسول اکرمe کو اپنے حجرہ کے دروازہ پر کھڑے دیکھا اورحبشی لوگ اپنے نیزوں سے مسجدنبویe میں کھیلا کرتے تھے، اورنبیe اپنی چادر سے مجھے چھپایا کرتے تھے تا کہ میں ان کے کھیل کودیکھ سکوں، پھر وہ میری وجہ سے وہاں ہی کھڑے رہتے حتی کہ میں خود ہی وہاں سے چلی جاتی، تونوجوان لڑکی جوکہ کھیلنے پر حریص ہوتی ہے اس کی قدر کیا کرو۔ (بخاری: ۴۴۳‘ مسلم: ۸۹۲)
3          ام المومنین سیدہ عائشہr بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرمe بیٹھ کرنماز پڑھتے اور قرأت بھی بیٹھ کرکرتے تھے جب تیس یا چالیس آیات کی قرأت باقی رہتی توکھڑے ہوکر پڑھتے پھر رکوع کرنے کے بعد سجدہ کرتے پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے اورنماز سے فارغ ہوکر مجھے دیکھتے اگرمیں سوئی ہوئی نہ ہوتی تو مجھ سے باتیں کرتے، اوراگرمیں سوچکی ہوتی توآپ بھی لیٹ جاتے۔ (بخاری: ۱۰۶۸)
ج       بیوی کوتکلیف سے دوچارنہ کرنا :
یہ اسلامی اصول بھی ہے، کہ جب کسی اجنبی اوردوسرے تیسرے شخص کونقصان اورتکلیف دینا حرام ہے توپھر بیوی کوتکلیف اورنقصان دینا تو بالاولی حرام ہوگا ۔
سیدنا عبادہ بن صامتt بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرمe نے یہ فیصلہ فرمایا کہ
’’نہ تواپنے آپ کونقصان دو اورنہ ہی کسی دوسرے کو نقصان دو۔‘‘ (سنن ابن ماجہ: ۲۳۴۰)
اس مسئلہ میں شارع نے جس چیز پر تنبیہ کی ہے ان میں ایسی مار کی سزا دینا جوشدید اورسخت قسم کی نہ ہو۔
سیدنا جابرt بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرمe نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا تھا :
’’تم عورتوں کے بارہ میں اللہ تعالی سے ڈرو، بلاشبہ تم نے انہیں اللہ تعالی کی امان سے حاصل کیا ہے، اوران کی شرمگاہوں کواللہ تعالی کے کلمہ سے حلال کیا ہے، ان پر تمہارا حق یہ ہے کہ جسے تم ناپسند کرتے ہووہ تمہارے گھر میں داخل نہ ہو، اگر وہ ایسا کریں توتم انہیں مار کی سزا دو جوزخمی نہ کرے اورشدید تکلیف دہ نہ ہو، اوران کا تم پر یہ حق ہے کہ تم انہیں اچھے اور احسن انداز سے نان و نفقہ اوررہائش دو۔‘‘ (مسلم: ۱۲۱۸)

No comments:

Post a Comment