اداریہ - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Sunday, June 23, 2019

اداریہ


اداریہ ... حکومت کی مایوس کن پالیسیاں اور بجٹ!

پاکستان تحریک انصاف کے دعوؤں اور نعروں سے خوش فہمی کا شکار عوام نے خوابوں کے بہت سے محل تعمیر کیے تھے۔ شاید انہیں یہ یقین ہو گیا تھا کہ اسد عمر جو تحریک انصاف کے ارسطو سمجھے جاتے تھے وہ الٰہ دین کا چراغ حاصل کر چکے ہیں‘ بالکل ایسے ہی جیسے اب ایف بی آر بیرون ملک چھپائے گئے ۱۲ ارب ڈالرز اثاثوں کا سراغ لگا چکی ہے۔
تحریک انصاف کی حکومت انصاف اور ترقی سے اب بھی کوسوں دور ہے۔ ملکی معیشت ڈانواں ڈول ہے۔ ایسی معیشت جب آئی ایم ایف کے نرغے میں آئے گی تو اس کے سنورنے اور ترقی کرنے کے تمام تر امکانات مخدوش ہو جائیں گے کیونکہ پھر حالت یہ ہو گی کہ ہم قرضے تو کیا ادا کریں گے بلکہ قرضوں پر جو سود لگے گا وہ بھی ادا کرنا مشکل اور ناممکن ہو جائے گا۔ گذشتہ حکومت کے دور میں ڈالر کسی حد تک کنٹرول میں تھا‘ روپے کی قدر مستحکم تھی لیکن اب تو ڈالر کی ژالہ باری شدید ہوتی جا رہی ہے۔ آئے روز جب آنکھ کھلتی ہے تو ڈالر کا نیا ریٹ عوام کے گھریلو بجٹ پر مزید بوجھ ڈال کر اسے سکیڑ دیتا ہے۔
اس وقت بجٹ آچکا ہے اور اپنی کرشمہ سازیاں دکھا رہا ہے۔ سوئی سے لے کر گاڑیوں تک ہر چیز کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہو چکا ہے۔ چینی جو گذشتہ سال ۵۰ روپے تھی اب ۷۰ روپے ہے۔ اسی طرح گھی اور دیگر اشیاء بجٹ کے بعد مہنگی ہو گئی ہیں۔ رکشہ سے لے کر بڑی ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کا اثر اشیائے خوردنی پر بھی پڑ رہا ہے۔ پھل اور سامان تعیش تو دور اب تو دالیں بھی غریب عوام کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ ہم گذشتہ ’’چور حکومت‘‘ کے شکر گذار ہیں کہ انہوں نے بجلی پوری کر کے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کیا‘ اگر یہ بوجھ موجودہ حکومت کے کندھوں پر پڑ جاتا تو پھر تو معیشت کا پہیہ بالکل ہی جام ہو جاتا۔
قومی اقتصادی سروے میں حکومت نے یہ اعتراف کیا ہے کہ وہ معاشی ترقی‘ زراعت‘ صنعت‘ مینوفیکچرنگ اور خدمات سمیت کوئی بھی اقتصادی ہدف پورا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ اقتصادی ترقی کی شرح نمو جو گذشتہ برس کے اختتام پر ۷۹.۵ فیصد تھی اور سابق حکومت جس کا ہدف ۳.۶ فیصد تھا موجودہ حکومت کی ناکام‘ غلط اور مایوس کن پالیسیوں کے سبب ۳.۳ فیصد رہ گئی ہے۔ سب سے زیادہ تنزلی صنعتی شعبہ میں ہوئی۔ گذشتہ برس کے اقتصادی سروے کے مطابق صنعتی ترقی ۸۔۵ فیصد نوٹ کی گئی تھی اور بجٹ میں صنعتی ترقی کا ہدف ۶.۷ فیصد رکھا گیا تھا مگر تبدیلی سرکار کے ریورس گیئر کے سبب صنعتی ترقی کی شرح گرتے گرتے ۴.۱ پر آکر تھمی ہے۔ اسی طرح مینوفیکچرنگ میں بھی سمال انڈسٹریز کا براحال ہو گیا اور اس کی شرح جو گذشتہ سال ۱.۸ تھی وہ ۳.۰ پر آگئی ہے۔ تعمیراتی شعبے میں شرح نمو کا ہدف ۱۰ فیصد ریکارڈ کیا گیا لیکن مالی سال کے اختتام پر ۶.۷ فیصد پر پہنچ گیا۔
موجودہ حکومت نے نئے پاکستان کے ایجنڈے میں تعلیم کو سرفہرست رکھا تھا۔ بجا طور پر تعلیم کو سرفہرست ہونا بھی چاہیے کہ تعلیم سے قوموں کی اخلاقیات‘ ان کی تہذیب وترقی اور معیار زندگی بلند ہوتا ہے۔ تعلیم ہمیں اچھا انسان بناتی ہے۔ تعلیم سے روزگار کے نئے نئے راستے کھلتے ہیں۔ اس وقت ہماری حالت یہ ہے کہ ہم تعلیم کے میدان میں بہت پیچھے ہیں۔ ہماری کوئی بھی یونیورسٹی اس سطح کی نہیں کہ اسے دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں شمار کیا جائے۔
سائنس وٹیکنالوجی میں ترقی کے لیے کوئی ایجنڈا نہیں اس کے برعکس ہم بھارت کو دیکھیں کہ وہاں تعلیم کا معیار بلند ہے‘ اس وقت بھارت سوفٹویئر میں بہت آگے ہے۔ اس کے انجینئرز اور ماہرین پوری دنیا میں اس صنعت کو فروغ دے رہے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہاں طلبہ کو تعلیمی میدان میں ہر طرح کی سہولیات دی جاتی ہیں۔ جبکہ ہماری موجودہ حکومت جو کہ اپنے ’’کنٹینر‘‘ دور میں ملکی ترقی کے دیگر پراجیکٹس پر اعتراض کرتے ہوئے انہیں جہالت گردانتی تھی اور تمام تر ترقی کے رازوں کی امیں صرف تعلیم کو جانتی تھی انہوں نے بجٹ میں سب سے پہلے تعلیم پر ہتھوڑا مارا ہے‘ تعلیمی بجٹ کو بھی کم کر دیا اور بہت سی سہولیات وسکالرشپس جو طلبہ کو مہیا تھیں کو بند کر دیا ہے۔ غریب طلبہ جو بڑے اور مہنگے تعلیمی اداروں میں بھاری فیسیں دے کر تعلیم حاصل نہیں کر پاتے تھے مگر اپنی محنت سے اچھے نمبر حاصل کر کے سکالر شپ کے ذریعے ملک کی اچھی تعلیم گاہوں اور بیرون ممالک جا کر تعلیم پاتے تھے‘ موجودہ حکومت نے ان کے روشن مستقبل کو بھی تاریک بنا دیا ہے۔
بجٹ میں سیمنٹ اور اسٹیل پر ایکسائز ڈیوٹی اور ٹیکس میں اضافہ کیا گیا‘ اس سے تعمیراتی صنعت کی لاگت بڑھے گی اور غریب جس کے لیے چادر وچار دیواری کا حصول پہلے ہی بہت کٹھن ہے اب ناممکن ہو جائے گا۔
موجودہ حکومت نے جو پچاس لاکھ گھر بنانے کا دعویٰ کیا تھا اس کے لیے رقم مختص کرنا تو درکنار بجٹ کے کسی کونے کھدرے میں اس کا نام ونشان تک نہیں ملتا‘ اسی طرح چھوٹے پیمانے پر صنعتوں کو مستحکم کرنے کے لیے بھی کوئی بات نہیں کی گئی۔ اگر بجٹ میں کچھ ہے تو وہ ٹیکسوں کی بھر مار ہے۔ ابھی تو یہ ایک بجٹ ہے آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا؟ ابھی کئی اور منی بجٹ بھی آنے ہیں جو رہی سہی کسر پوری کر کے بجٹ کو غربت کش کی بجائے غریب کش بنا دیں گے۔
حکمرانوں کو چاہیے کہ اگر وہ پانچ سال پورے کرنا چاہتے ہیں تو عوام کو ریلیف دیں‘ پچاس لاکھ گھر نہ سہی اس سے نصف ہی بنا دیں۔ ایک کروڑ نوکریاں نہ سہی ۵۰ لاکھ جوانوں کو ہی روزگار دے دیں۔ تعلیم پر ہتھوڑا چلانے کی بجائے تعلیم کا بجٹ بڑھایا جائے۔ تعلیمی معیار کو بہتر کیا جائے۔ ملک میں معاشی استحکام لایا جائے تا کہ نوجوان غلط ذرائع سے مال اکٹھا کرنے کی بجائے رزق حلال پر قناعت کریں۔ قانون کا بول بالا کیا جائے۔ اس وقت بعض افراد کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اس سے پوری دنیا میں پاکستان میں انصاف کی عملداری پر داغ لگاہے۔ قانون وانصاف کے راستے میں دیواریں نہ کھڑی کی جائیں‘ انتقامی کارروائیوں سے بچا جائے۔

No comments:

Post a Comment