خطبہ حرم - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, June 23, 2019

خطبہ حرم


رمضان کے بعد ہماری زندگی

امام الحرم المکی فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیصل جمیل الغزاویd
حمد و ثناء کے بعد!
اللہ تعالیٰ اپنی واضح کتاب میں ارشاد فرماتا ہے:
’’میں نے جنوں اور انسانوں کو اِس کے سوا کسی کام کے لیے پیدا نہیں کیا کہ وہ میری بندگی کریں۔‘‘ (ذاریات)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ جنوں اور انسانوں کو پیدا کرنے کا مقصد، بلکہ ساری مخلوقات کو بنانے کا مقصد یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔ اس آیت سے یہ واضح ہوتا ہےکہ جنوں اور انسانوں کو پیدا کرنے کا مقصد صرف اور صرف اللہ کی عبادت کرنا ہے۔
رسولوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے اسی پیغام کے ساتھ بھیجا۔ فرمایا:
’’ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیج دیا، اور اُس کے ذریعہ سے سب کو خبردار کر دیا کہ اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو۔‘‘ (نحل)
اے مسلمانو! یہ بات تو طے شدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عبادت ہی کے لیے پیدا فرمایا ہے اور یہ سب کو معلوم بھی ہے، لیکن عبادت ہے کیا؟ اسلام میں اس کا مفہوم کیا ہے؟ کیا یہ عام لوگوں کے گمان کے مطابق محض نماز، زکوٰۃ، روزہ اور حج ہی کا نام ہے کہ جس کا اخلاق، رویوں اور معاشرتی معاملات سے کوئی تعلق نہیں؟
شیخ الاسلام ابن تیمیہ﷫ بیان فرماتے ہیں:
’’عبادت ایک جامع لفظ ہے، اللہ کو راضی اور خوش کرنے والی ہر بات اور ہر کام عبادت کے مفہوم میں شامل ہے چاہے وہ ظاہری ہو یا چھپا ہوا۔‘‘ (فتاویٰ ابن تیمیہ)
چنانچہ نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج، سچی بات، امانت کی ادائیگی، والدین کے ساتھ حسن سلوک عبادت میں سب شامل ہیں۔ اسی طرح وعدوں کو پورا کرنا، بھلائی کا حکم دینا، برائی سے روکنا، منافقوں اور کافروں کے ساتھ جہاد کرنا، ہمسایوں، یتیموں، مسکینوں، ماتحتوں اور جانوروں سے اچھا برتاؤ کرنا، دعا، ذکر و تلاوت وغیرہ۔ سب عبادت میں شامل ہیں۔
اسی طرح اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرنا، اللہ سے ڈرنا، اس کی طرف رجوع کرنا، دین کو اللہ کے لیے خاص کرنا، اللہ کے احکام بجا لاتے ہوئے صبر سے کام لینا، اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا، اللہ کی تقدیر پر راضی ہونا، اللہ پر بھروسہ کرنا، اللہ کی رحمت کی امید رکھنا، اللہ کے عذاب سے ڈرنا وغیرہ سب عبادت میں شامل ہیں۔
اے مسلمانو! انسان کے وجود کا مقصد صرف اور صرف عبادت ہے۔ اس کے سوا انسان کے وجود کا کوئی دوسرا مقصد نہیں۔ یعنی انسان کو ساری زندگی عبادت ہی کرنی چاہیے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’کہو، میری نماز، میرے عبادت کے تمام طریقے،میرا جینا اور میرا مرنا، سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔ جس کا کوئی شریک نہیں، اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور سب سے پہلے سر اطاعت جھکانے والا میں ہوں۔‘‘ (انعام)
در حقیقت اسلام ہی زندگی ہے۔ چنانچہ اسلام کو بندے کی زندگی کے ہر لمحے میں شامل ہونا چاہیے۔ ایک وقت میں موجود اور دوسرے میں غیر موجود نہیں ہونا چاہیے۔
نجاشی نے سیدنا جعفرؓ بن ابی طالب سے اسلام کے متعلق پوچھا تو انہوں نے پہلے جاہلیت کا حال سنانا شروع کیا اور پھر یہ بتایا کہ آپe کے آنے کے بعد ان کی زندگی میں کیا تبدیلی آئی ہے۔ انہوں نے فرمایا:
’’پھر اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف ایک رسول بھیجے، جو ہم ہی میں سے تھے، جن کے نام ونسب، سچائی، دیانت اور پاکیزگی سے ہم واقف تھے۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ ہم صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور عبادت میں اس کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک نہ کریں۔ ہمارے آبا واجداد جن پتھروں اور بتوں کی عبادت کرتے تھے، انہیں چھوڑ دیں۔ انہوں نے ہمیں سچ بولنے، امانتیں ادا کرنے، رشتے داروں کے ساتھ بھلا سلوک کرنے، ہمسایوں کا حق جاننے، گناہوں اور قتل وغارت سے دور رہنے، برائی اور جھوٹ سے بچنے، یتیم کا مال کھانے اور پاک دامن عورتوں پر تہمتیں لگانے سے دور رہنے کی دعوت دی۔ انہوں نے ہمیں اللہ کی عبادت کرنے اور اس کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک نہ کرنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ انہوں نے ہمیں نماز، زکوٰۃ اور روزے کا حکم دیا۔‘‘ اور اس کے علاوہ بھی جعفر بن طیارؓ نے اسلام کے کئی احکام کا ذکر کیا۔ (مسند احمد)
ہمیں عبادت کا مفہوم اس حدیث کی روشنی میں درست کر لینا چاہیے۔ یہ مت سمجھیے کہ عبادت صرف چند کاموں اور فرضوں کی ادائیگی کا نام ہے۔ بلکہ جان لیجیے کہ عبادت اس پختہ یقین کا نام ہے کہ ہم جو کام بھی اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے کریں گے اور جس میں ہماری نیت خالص ہو گی تو ہمیں اس کا اجر ضرور ملے گا بلکہ ہمارا وہ عمل عبادت شمار ہو گا۔ چنانچہ کسی چھوٹے یا بڑے نیک کام کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ دوسروں کو خندہ پیشانی سے ملنا بھی نیکی ہے اور راستے سے تکلیف دہ چیزوں کو ہٹانا بھی صدقہ ہے۔
عبادت میں نیکی کے بہت سے کام شامل ہیں۔ جیسے، حیا، اچھے اخلاق، گھر والوں کے ساتھ اچھا سلوک، اللہ کے لیے بھائی چارہ، سچائی، دوسروں کو معاف کرنا اور ان سے درگزر کرنا، جھگڑا کرنے والوں میں صلح کرانا۔ اسی طرح عبادت میں معاملات، رویے اور معاشرتی تعلقات بھی شامل ہیں۔
اے مسلمانو! اگر ان لوگوں کے نظریے کی غلطی کو ثابت کرنا چاہیں کہ جو عبادت کو چند کاموں تک محدود کرتے ہیں تو دیکھ لیجیے کہ یہ چند عبادتیں انسان کی کل عمر سے اور دن اور رات سے کل کتنا وقت لیتی ہیں؟ نماز میں دن اور رات کا تھوڑا سا حصہ لگتا ہے، روزہ سال میں ایک ماہ رکھنا ہوتا ہے، زکوٰۃ چند لوگوں پر سال میں ایک مرتبہ فرض ہوتی ہے، حج صرف اسی پر واجب ہوتا ہے جو اس کی ہمت رکھتا اور وہ بھی عمر میں صرف ایک مرتبہ یعنی یہ بھی چند دنوں کی عبادت کا نام ہے۔
اب یہ دیکھیے کہ انسان کی عمر کا کل کتنا حصہ ان عبادتوں میں گزرتا ہے؟ بہت تھوڑا سا وقت کہ جو کل کے مقابلے میں ناقابل ذکر ہے۔ کیا محض ان چند گنی چنی ہی فرض عبادتوں کی ادائیگی سے انسان عبادت کا حق ادا کر سکتا ہے ؟جبکہ یہ بات طے شدہ ہے کہ صرف عبادت کے لیے پیدا کیے گئے انسان کی زندگی کے ہر لمحے میں عبادت ہونا لازمی ہے؟!
اے مسلمانو! مسلمان عبادت کا مفہوم درست کر لیتا ہے، تب اسے معلوم پڑتا ہے کہ وہ کام کہ جنہیں عبادت نہیں سمجھا جاتا یا جو احکام شریعت میں نہیں آئے وہ بھی عبادت بن سکتے ہیں‘ اگر انہیں کرتے وقت نیت درست کر لی جائے اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی مد نظر رکھ لی جائے۔
حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ e نے فرمایا:
’’بندوں کے ہر جوڑ پر ہر روز صدقہ واجب ہے۔ لہٰذا دو لوگوں میں عدل کے ساتھ صلح کرا دینا بھی صدقہ ہے، سواری پر بیٹھنے میں کسی کی مدد کر دینا یا اس کا سامان ساتھ رکھوا دینا بھی صدقہ ہے۔ اچھی بات کرنا بھی صدقہ ہے، نماز کی طرف بڑھنے والا ہر قدم بھی ایک صدقہ ہے اور راستے سے اذیت دینے والی چیزیں ہٹا دینا بھی صدقہ ہے۔‘‘ (بخاری)
اس سے بڑھ کر رزق کی تلاش کرنا، اپنے لیے اور اپنے گھر والوں کے لیے لقمۂ حلال کمانا بھی عظیم عبادت ہے جس کا بہت بڑا اجر ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ رزق کمانے کی نیت بھی شریعت کی پیروی ہو اور رزق کمانے کا مقصد بھی نیک ہو۔
سیدنا کعب بن عجرہt روایت کرتے ہیں کہ ایک بڑا توانا اور طاقتور شخص رسول اللہ e کے قریب سے گزرا تو صحابہ کرام نے کہا:
اے اللہ کے رسول! کاش کہ یہ شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرتا۔ اس پر آپ e نے فرمایا: ’’اگر یہ اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے لیے روٹی کمانے نکلا ہے تو بھی یہ اللہ کی راہ میں ہے، اگر یہ اپنے بوڑھے والدین کی ضروریات پوری کرنے کے لیے نکلا ہے تو بھی یہ اللہ کی راہ میں ہے، اگر یہ اپنے لیے نکلا ہے تاکہ وہ اپنا رزق خود کمائے اور پاک دامن رہ سکے تو بھی یہ اللہ کی راہ میں ہے اور اگر یہ ریا کاری اور تکبر کے لیے نکلا ہے تو پھر یہ شیطان کی راہ میں نکلا ہے۔‘‘ (طبرانی)
صرف یہی نہیں! بلکہ اگر نیت درست کر لی جائے تو روز مرّہ کے جائز کام بھی عبادت بن سکتے ہیں اور ان سے بھی انسان کو اجر مل سکتا ہے۔
سیدنا ابو ذر روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ e نے فرمایا: ’’بیوی کے ساتھ ازدواجی تعلق قائم کرنا بھی نیکی ہے۔‘‘ صحابہ کرام نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! بیویوں کے ساتھ تو ہم اپنی خواہش پوری کرتے ہیں۔ کیا ہمیں اس کا بھی اجر ملے گا؟ آپ e نے فرمایا: ’’اگر یہی خواہش حرام طریقے سے پوری کی جائے تو کیا اس کا گناہ نہ ہو گا؟ چنانچہ اسی طرح اگر حلال طریقے سے خواہش پوری کی جائے تو اس کا اجر بھی ضرور ملے گا۔‘‘ (مسلم)
اس حدیث سے پتا چلتا ہے کہ روز مرہ زندگی کی جائز چیزیں بھی نیت کی وجہ سے نیکیاں اور عبادتیں بن جاتی ہیں۔ ایک دوسری حدیث میں بھی اسی چیز کا بیان آیا ہے۔
رسول اللہ e نے سیدنا سعد بن ابی وقاصt کی عیادت کے موقع پر فرمایا: ’’تم جو چیز بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہو تمہیں اس کا اجر ضرور ملے گا، حتیٰ کہ اس کا بھی کہ جو نوالہ جو تم اپنی بیوی کو کھلاتے ہو۔‘‘ (بخاری)
امام نووی﷫ بیان فرماتے ہیں:
’’اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے روز مرہ زندگی کے کام جب نیک نیتی سے کیے جائیں تو وہ نیکی بن جاتے ہیں اور ان کا اجر ملتا ہے۔‘‘ (شرح النووی علیٰ مسلم)
رسول اللہ e کے اس فرمان سے کہ ’’حتیٰ کہ وہ نوالہ جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتے ہو‘‘، یہ مفہوم اور بھی واضح ہو جاتا ہے، کیونکہ بیوی انسان کی دنیوی زندگی کی لذت ہے اور اس کی جائز ساتھی ہے۔ جب اس کا شوہر اس کے منہ میں نوالہ ڈالتا ہے تو اس کا مقصد کھیل کود یا موج مستی یا حلال چیز کا فائدہ اٹھانا ہوتا ہے۔ یہ کام عام طور پر عبادت اور تصور آخرت سے کہیں دور ہوتا ہے، چنانچہ آپ e نے فرمایا کہ اگر اس نوالے کا مقصد بھی نیک ہو گا تو اللہ تعالیٰ اس نوالے کا اجر بھی عطا فرمائے گا۔
اور اگر یہ بھی نیکی ہے تو دوسری چیزیں تو اس سے بھی پہلے نیکی ہیں۔ جو بھی جائز کام کیا جائے اور اس کی نیت نیک ہو تو وہ عبادت بن جاتا ہے اور اس کا اجر ملتا ہے۔ جیسے نیکی کرنے کے لیے طاقت حاصل کرنے کی نیت سے کھانا، عبادت کے لیے توانا ہو نے کی نیت سے سونا، گناہ سے بچنے کی نیت سے، گناہ سے دور رہنے کے لیے اور نیک اولاد حاصل کرنے کے لیے بیوی اور لونڈی سے تعلق رکھنا۔
میرے بھائیو! عبادت کا مفہوم سمجھنے میں ہم قرآن وسنت سے مدد لیتے ہیں اور عبادت کی عملی شکل صحابہ کرام ہیں جنہیں اللہ کے رسول e نے تربیت دی تھی اور جو قرآن کریم کی آیت کو خوب اچھی طرح سمجھ چکے تھے کہ
’’میں نے جنوں اور انسانوں کو اِس کے سوا کسی کام کے لیے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں۔‘‘ (ذاریات)
وہ خوب جان چکے تھے کہ عبادت ہی انسان کے وجود کا مقصد ہے۔ اگر عبادت کو اس طرح سمجھا جائے تو انسان کی روزمرہ زندگی کے کام عبادت بن جاتے ہیں۔ کلمہ طیبہ، نماز، زکوٰۃ، روزہ اور حج عبادت کی اساس اور دین اسلام کی بنیاد ہیں، لیکن عبادت صرف انہی تک محدود نہیں، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ یہ سب عبادت کے لیے توانا کرنے والے پاور سٹیشن ہیں، جو باقی تمام زندگی میں انسان کو عبادت کرنے کے لیے طاقت بہم پہنچاتے ہیں۔
عبادت کا یہ مفہوم جب صحابہ کرام کو سمجھ آیا تو انہیں نوکری کی ذمہ داریوں کا بھی ویسے ہی احساس ہو گیا جیسے نماز کی ذمہ داری کا، جیسے شادی کی ضرورت کا، جیسے حصول رزق کا،جیسے علم حاصل کرنے اور جیسے زمین کو آباد کرنے کا۔
ہمیں عبادت کو یوں ہی سمجھنا چاہیے۔ فائدہ مند علم حاصل کرتے وقت، رزق کماتے وقت، زمین کو آباد کرتے وقت، کھاتے اور پیتے وقت، سوتے اور جاگتے وقت، آرام کرتے وقت، بچوں کے ساتھ کھیلتے وقت، بازار میں اپنی ضروریات خریدتے وقت، گھروالوں اور اولاد پر خرچ کرتے وقت، رشتے داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے وقت، ہمسایوں اور دوستوں کے ساتھ گھلتے ملتے وقت، دوسروں کے کام آتے وقت اور زندگی کے مختلف کاموں میں مصروفیت کے وقت ہمیں یہ احساس ہونا چاہیے کہ ہم عبادت کر رہے ہیں۔
ہمارے ذہنوں سے یہ کبھی اوجھل نہیں ہوتا کہ ہم اللہ کی عبادت انجام دے رہے ہیں۔ عبادت کا احساس نماز پڑھنے اور دیگر اعمال سر انجام دیتے وقت یکساں اور برابر رہنا چاہیے۔
سیدنا معاذ بن جبلt فرماتے ہیں: ’’میں سوتا بھی عبادت کی نیت سے ہوں اور اٹھنے میں بھی عبادت کی نیت کرتا ہوں۔‘‘ (بخاری)
یعنی سیدنا معاذ بن جبلt سوتے وقت عبادت کی نیت کر لیتے تھے اور تہجد کی نماز کے لیے بھی عبادت کی نیت کر لیتے تھے، کیونکہ وہ عبادت کے لیے توانا ہونے کے لیے سوتے تھے۔
حافظ ابن حجر ﷫ بیان فرماتے ہیں:
’’معاذ بن جبلt کے قول کا مطلب یہ ہے کہ وہ آرام میں بھی ثواب کے طلبگار رہتے تھے اور تھکاوٹ میں بھی ثواب ہی کے طلبگار رہتے تھے۔ اگر آرام کرنے کا مقصد یہ ہو کہ عبادت کے لیے چستی حاصل ہو تو آرام کرنے کا بھی اجر ملتا ہے۔‘‘ (فتح الباری)
میرے بھائیو! بہت سے لوگ اس طرز فکر سے متاثر ہو چکے ہیں، جو دین کو زندگی کے عام کاموں سے جدا کرنا چاہتی ہے۔ ایسے لوگوں نے عبادت کو زندگی کے بہت سے شعبوں سے بے دخل کر دیا ہے۔ جیسے معاشرتی معاملات، معاشی معاملات اور غور وفکر کا انداز اور اسلوب وغیرہ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ عبادت تو صرف مسجد ہی میں ہوتی ہے اور زندگی کے باقی معاملات میں دین کا کوئی عمل دخل نہیں۔
بعض لوگوں نے تو یہ سمجھ رکھا ہے کہ اگر وہ عبادت کے بنیادی شعائر قائم کر لیں گے تو ان کا فرض مکمل طور پر ادا ہو جائے، اس کے بعد کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ انہیں کسی اور عبادت کی ترغیب دلائے۔ جب کوئی انہیں نصیحت کرنے لگتا ہے تو وہ کہتے ہیں: بھائی تم ہم سے کیا چاہتے ہو؟ ہم نے نمازیں بھی پڑھ لیں، زکوٰۃ بھی دے دی، روزے بھی رکھ لیے، حج بھی کر لیا۔ اس کے علاوہ اب تم ہم سے اور کیا چاہتے ہو؟دراصل یہ عبادت کے مفہوم کو جاننے میں واضح غلطی ہے۔
دوسرا خطبہ
حمد وثناء کے بعد:
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’اور اُس آخری گھڑی تک اپنے رب کی بندگی کرتے رہو جس کا آنا یقینی ہے۔‘‘ (حجر)
یعنی اپنے رب کی عبادت کرتے رہو یہاں تک کہ موت آ جائے جس کا آنا یقینی ہے۔
امام قرطبیa اس آیت کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں: اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ساری زندگی عبادت کرتے رہو جیسا کہ اللہ کے نیک بندے نے کہا تھا:
’’نماز اور زکوٰۃ کی پابندی کا حکم دیا جب تک میں زندہ رہوں۔‘‘ (مریم)‘‘ (تفسیر قرطبی)
اللہ کے بندو! ہمیں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق موت تک عبادت پر قائم رہنا چاہیے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’پس اے محمدؐ، تم، اور تمہارے وہ ساتھی جو (کفر و بغاوت سے ایمان و طاعت کی طرف) پلٹ آئے ہیں، ٹھیک ٹھیک راہ راست پر ثابت قدم رہو جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے اور بندگی کی حد سے تجاوز نہ کرو۔‘‘ (ہود)
امام زہری ﷫ بیان فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطابt نے یہ آیت تلاوت کی:
’’جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے۔‘‘ (فصلت)
پھر فرمایا:
’’یعنی اللہ کے راستے پر ڈٹ گئے اور اللہ کی اطاعت پر جم گئے۔ لومڑی کی طرح ادھر اُدھر نہیں ہوتے رہے۔‘‘ (جامع البیان)
سیدنا سفیان ثقفی نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام کے متعلق ایسی بات بتائیے جس کے بعد کسی دوسرے سے پوچھنا نہ پڑے۔ آپ e نے فرمایا: ’’کہو میں اللہ پر ایمان لایا اور پھر ڈٹ جاؤ!‘‘ (مسلم)
اللہ کے دین پر قائم ہونے والوں کی کرامت کے تو کیا کہنے! فرمانِ الٰہی ہے:
’’ جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے، یقیناً اُن پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ "نہ ڈرو، نہ غم کرو، اور خوش ہو جاؤ اُس جنت کی بشارت سے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔‘‘ (فصلت)
چنانچہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے دین پر چلتے رہیں اور اللہ کے ساتھ سچائی والا معاملہ کریں۔ ہر وقت اور ہر معاملے میں شریعت اسلامیہ پر قائم رہیں۔ عبادت کو کسی جگہ، وقت یا افراد سے نہ جوڑیں بلکہ اللہ کے دین پر ہر حال میں ثابت قدم رہیں۔
یہ ہیں ابو بکر صدیقt جن سے صحابہ کرام نے استقامت کے حوالے سے ایک عظیم سبق سیکھا۔ رسول اللہe کی وفات کے بعد وہ لوگوں میں کھڑے ہو کر کہنے لگے:
’’سنو! جو محمد کی عبادت کرتا تھا تو وہ جان لے کہ محمد تو فوت ہو گئے ہیں اور جو اللہ کی عبادت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ زندہ ہے اس پر کبھی موت نہ آئے گی۔‘‘
اللہ کا فرمان ہے:
’’(اے نبیؐ) تمہیں بھی مرنا ہے اور اِن لوگوں کو بھی مرنا ہے۔‘‘
اسی طرح فرمایا:
’’محمدؐ اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں، اُن سے پہلے اور رسول بھی گزر چکے ہیں، پھر کیا اگر وہ فوت ہو جائیں یا قتل کر دیے جائیں تو تم لوگ الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟ یاد رکھو! جو الٹا پھرے گا وہ اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا، البتہ جو اللہ کے شکر گزار بندے بن کر رہیں گے انہیں وہ اس کی جزا دے گا۔‘‘ (آل عمران)
عظیم لوگ یوں ہی اصولوں کے غلام ہوتے ہیں۔
عُرْوَۃ ﷫ بیان کرتے ہیں:
’’ہمیں معلوم ہوا کہ لوگ نبی e کی جدائی پر روئے اور کہنے لگے: کاش! ہم نبی e سے پہلے ہی مر جاتے۔ ہمیں ڈر لگتا ہے کہ ان کے بعد دین کے معاملے میں فتنے میں نہ پڑ جائیں‘‘ اس وقت معین بن عدی نے فرمایا: ’’نہیں‘ اللہ کی قسم! میں تو یہ تمنا نہیں کرتا کہ میں آپ e سے پہلے مرتا۔ بلکہ میں یہ چاہتا ہوں کہ میں آپ e کے فوت ہونے کے بعد بھی سچائی کا اعتراف کروں جیسے ان کی زندگی میں میں نے ان کی سچائی کا اقرار کیا تھا۔ ‘‘ (امالی ابن بشران: 40)
اللہ کے بندو! رمضان کے بعد گناہوں کی طرف لوٹ کر رمضان کی نیکیاں برباد نہ کیجیے! فرمانِ الٰہی ہے:
’’تمہاری حالت اُس عورت کی سی نہ ہو جائے جس نے آپ ہی محنت سے سوت کاتا اور پھر آپ ہی اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔‘‘ (نحل)
اس آیت میں جس بے عقل عورت کا ذکر ہے وہ صبح اون کاتنے کا کام کرتی اور جب شام کو کام مکمل ہونے لگتا تو وہ اسے خراب کر دیتی اور پھر سے کاتنے لگتی اور مکمل ہونے سے پہلے ہی خراب کر دیتی۔ اللہ تعالیٰ اس عورت جیسا کام کرنے سے منع فرمایا ہے۔ یعنی نیک اعمال کے بعد گناہوں کا ارتکاب کر کے ان کا اجر ضائع کرنے سے منع فرمایا ہے۔
نبی e کشادگی کے بعد تنگی اور کمی سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے۔ یعنی وہ ایمان کے بعد کفر سے اور نیکی کے بعد گناہ سے پناہ مانگا کرتے تھے۔
اللہ کے بندو! اپنے اعمال کی حفاظت کرو، انہیں ضائع کرنے سے بچو! ہمیشہ عبادت کرنے کی کوشش کرو، نفس کو پاکیزہ کرتے رہو۔ نیکی کے بعد نیکی کرو اور پھر نیک اعمال کرتے رہو۔
اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! کفر اور کافروں کو رسوا فرما! دین کے دشمنوں کو ہلاک فرما! دین کی نصرت کرنے والوں کی نصرت فرما اور دین کو رسوا کرنے والوں کو رسوا فرما! اے اللہ! اپنے دین، اپنی کتاب، سنت رسول e کی اور اپنے نیک بندوں کی نصرت اور مدد فرما۔ آمین!

No comments:

Post a Comment

View My Stats