سعودی عرب کی اسلام وپاکستان کیلئے خدمات 09-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, June 22, 2019

سعودی عرب کی اسلام وپاکستان کیلئے خدمات 09-2019


سعودی عرب کی اسلام وپاکستان کیلئے خدمات

تحریر: جناب الشیخ مولانا علی محمد ابوتراب
سعودی عرب اسلامی دنیا کا ایک انتہائی اہم ملک ہے، اس کی خوشحالی وترقی نہ صرف سعودی عوام بلکہ عالم اسلام کے لیے باعث مسرت واطمینان ہے۔ سعودی عرب عالم اسلام کا مرکز ہے۔ اس کے قیام سے اب تک یہاں قرآن وسنت کی حکمرانی ہے۔ دنیا بھرخصوصا اسلامی دنیا میں سعودی عرب کا کردار انتہائی مثبت رہاہے ۔الشیخ محمد بن عبدالوہابؒ‘ الشیخ امام محمدبن سعودؒ کی اسلام کی ترویج کے حوالے سے انتہائی بہترین خدمات ہیں، انہی خدمات کے نتیجے میں اللہ تعالی نے جزیرۃ العرب کو شرکیہ نظریات وعقائد اور بدعات سے پاک کردیاہے۔ اللہ تعالی نے آل سعود کو خدمت حرمین شریفین کا شرف بخشا ہے اور انہوں نے خدمت کا جو حق ادا کیا ہے اس کی نظیر نہیں ملتی۔ یوں تو آل سعود کی بہت سی خدمات قابل ذکرہیں لیکن شاہ فہد بن عبدالعزیزؒ نے قرآن کریم پرنٹنگ کمپلیکس کی بنیاد مدینہ منورہ میں رکھ کر دنیا بھر کے انسانوں کے لیے اسلام سے آگاہی کے دروازے کھول دیے ہیں۔ اسی کمپلیکس سے دنیا کی ۷۰ زبانوں میں قرآن کریم کے ترجمے کرکے دنیابھرمیں مفت تقسیم کئے۔ اس کے ساتھ ساتھ احادیث نبویہ کی نشرواشاعت کے لیے بھی ان کی خدمات لائق تحسین ہیں ۔ اس سلسلے میں باقاعدہ ایک شعبہ قائم ہے جو احادیث نبویہ کی تحقیق وتخریج کے امور کوانتہائی توجہ کے ساتھ انجام دیتا ہے۔ اپنے عوام کو تعلیم جیسی بنیادی اوراہم سہولت فراہم کرنے کے لیے سعودی حکومت نے تعلیم کے نظام کوجدید خطوط پر استوار کیا ہے۔ یوں تو سعودی عرب میں بیشترچھوٹے بڑے تعلیمی ادارے قائم ہیں، جہاں سے مقامی وغیر ملکی طلبہ حصول علم کے لئے استفادہ کرتے ہیں۔ لیکن ان کے علاوہ  یونیورسٹیاں قائم ہیں جہا ں لاکھوں مقامی اورغیرملکی طلبہ کو بھی اسکالرشپ پرتعلیم فراہم کی جاتی ہے۔ جب کہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں ۸۰ فیصد غیرملکی طالب علموں کیلئے کوٹہ مختص ہے ۔سعودی عرب میں ابتدائی جماعتوں سے لے کر PHD تک کے دینی وعصری تعلیمی نصاب کا حسین امتزاج ہے جس میں عقیدہ توحید اورسنت رسولe کا بنیادی طورپرخیال رکھا جاتا ہے۔ اسی طرح سعودی عرب میں عالمی سطح کے سینئرترین علماء پرمشتمل ایک کمیٹی قائم ہے جوکسی بھی شعبہ سے متعلق دورحاضرکے مسائل کے حل کے لئے متعلقہ شعبہ کے ماہرین کے ساتھ ملکرایسے حل تلاش کرتے ہیں جن سے اسلام اوردنیائے جدید میں خلیج قائم نہیں ہوتی۔ سعودی عرب کے عوام ہوں یاحکمران سب کے سب دین اسلام کا بہت احترام کرتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ اللہ رب العزت کی رحمت سے وہاں دنیا بھر کے مقابلے میں جرائم کی شرح انتہائی کم ہے۔ حرمین شریفین کی خدمت کے حوالے سے آل سعود کاکردار انتہائی قابل قدرہے۔ جس طرح آل سعود نے ان مقدس مقامات کی خدمت میں مستعدی اورانکساری کامظاہرہ کیا ہے تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ سعودی عرب میں تیزی سے تکمیل کو پہنچنے والے ترقیاتی منصوبوں کودیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ بڑے سے بڑے منصوبوں کو بھی خصوصی توجہ کیساتھ جس قدرجلد ممکن ہوا پایۂ تکمیل تک پہنچایا گیا اور ان منصوبوں پرلاگت کے حوالے سے کسی طور پر بھی سمجھوتہ نہیں کیا گیا۔ اس وقت بیت اللہ کی توسیع کے منصوبے پرکام جاری ہے جس پر ۴۰ ارب ریال کی خطیر رقم کی لاگت کا تخمینہ لگایا گیاہے۔ اس منصوبے کی تکمیل کے بعدبیت اللہ کی وسعت موجودہ گنجائش سے دگنا ہو جائے گی۔ سعودی عرب وہ ملک ہے جس میں شرعی نظام کا نفاذ ہے، نماز کے وقت تمام کاروبار اور مارکیٹیں بند ہوجاتی ہیں اور سعودی عرب میں پچیس لاکھ مساجد اور بے شمار مدارس ہیں، سعودی عرب کا نظام ہجری تاریخ کے ساتھ وابستہ ہے، اقامت صلاۃ کے لئے بہترین انتظامات موجود ہیں۔

No comments:

Post a Comment

View My Stats