مسلم امہ کا عروج وزوال - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Friday, June 28, 2019

مسلم امہ کا عروج وزوال


مسلم اُمہ کا عروج وزوال

تحریر: جناب پروفیسر عبدالعظیم جانباز
مسلمان ایک ایسی قوم ہے جس کا نظریہ حیات دیگر تمام مذاہب عالم سے یکسر مختلف‘ اور جس کا نظریہ وطنیت بھی اپنی طرز کا جداگانہ مقام رکھتا ہے۔ اسلام نے ہر شعبہ زندگی کیلئے اس قدر جامع نظریات و نظام پیش کیے کہ ان میں کسی قسم کا سقم باقی نہ رہا اور یوں مسلمان ان نظام ہائے کار کو سچے دل سے اپنا کر سفر حیات پر گامزن ہوئے اور ترقی کی منازل طے کرتے چلے گئے۔ مسلمان قوم کے عروج و زوال کے سفر کا طائرانہ جائزہ لیتے ہیں۔
مسلمان قوم نے بطور ملت اپنے سفر کا آغاز ظہور اسلام کے فوراً بعد ہی کر دیا تھا۔ اسلام ایک ایسی قوت کا نام بن کر سامنے آیا کہ جس نے عزت و آبرو کے تاج کا حقدار صرف اور صرف متقی اور پرہیز گار لوگوں کو ٹھہرایا۔ جس نے رنگ و نسل، علاقائیت، وطنیت، اور دیگر لسانی و قومی عصبیتوں کا خاتمہ کر کے صرف اور صرف محبت اور اخوت کا درس دیا۔ لوگوں کو ایک اللہ‘ ایک رسول اور ایک کتاب کے نقطے پر مرتکز کر دیا۔ غریب و امیر، انصار ومہاجر، ہاشمی و قریشی، مکی و یثربی، فارسی و افریقی اور عربی وعجمی کا امتیاز ختم کر کے انہیں سچے مسلمان کے نام کا لبادہ اوڑھایا تا کہ ان کی پہچان بطور سچے مسلمان کے طور پر ہو نہ کہ ذاتی حیثیت سے یا رنگ و نسل اور زبان کے اعلیٰ وبرتر ہونے سے۔
اسلام نے مسلمانوں کو انداز جہانبانی سکھائے اور اللہ کے نام کو بلند کرنے کیلئے مسلمان نے بھی جان لڑا دی، جس کو اقبال نے اپنی نظم ’’شکوہ‘‘ میں یوں بیان کیا ہے:
دیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیسائوں میں
کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحرائوں میں
اسلام کی معجزہ نمائیوں کا دیگر مذاہب کے پیروکاروں نے بھی برملا اعتراف کیا ہے۔ اس حوالے سے پوپ جان گیمبرسن (1900-1807) نے ایک ادارتی صفحے میں یوں کہا:
’’دنیا کے بہترین مذاہب میں اسلام کا مقام قابل قدر اور نمایاں ہے، جس نے دنیا سے جہالت کی ظلمتوں کو رنگ و نور اور آگہی میں تبدیل کر کے رکھ دیا اور لوگوں کو ایسی منزل کی راہ دکھائی جو امن کا مسکن اور مسکن کے امن کی ضمانت تھی۔ ہم سب کو اسلامی تعلیمات کے زریں اصولوں کو اپنا کر اپنے جیون کو کامیاب بنانا چاہیے۔‘‘
اسی طرح پروفیسر کرشن دھریوال لکھنؤ سے نکلنے والے اخبار Indians میں لکھتا ہے کہ ’’میں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں سمجھتا اور اس کا برملا اعتراف کرتا ہوں کہ تمام مذاہب کے دساتیر اور قوانین کا بغور مطالعہ اور تقابلی جائزہ لینے کے بعد میں اس جگہ پر اس حقیقت کے سامنے سر جھکانے کو عار نہیں سمجھتا کہ تمام اخلاقی اصول و قوانین کے دھارے اسی ایک چشمے سے پھوٹتے ہیں۔‘‘
مسلمانوں کے عروج کے اسباب میں اسلام کے غیر متبدل اور دائمی اصولوں کا ہی ہاتھ ہے جنہوں نے اسلام کو ایک شاندار اور مکمل ضابطہ حیات و اخلاق کے طور پر متعارف کروایا۔ مسلمانوں کے زوال کی سب سے بڑی وجہ یہی تھی کہ مسلمان اپنے عروج کے تمدن سے منحرف ہو گئے تھے اور جب تک مسلمانوں نے وحدت و اخوت کی رسی کو تھامے رکھا، ان میں اتحاد کی قوت بہت مؤثر اور فاتح کے طور پر پرورش پاتی رہی، اور ان میں اتحاد کی اس قوت کا ہی اثر تھا کہ مٹھی بھر مسلمان دشمنوں کے جم غفیر پر غالب آتے رہے۔ تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھئے، تاریخ کبھی جھوٹ نہیں بولتی، اور تاریخ کے اس بے صدا گنبد میں اقبال کا شکوہ یوں صدائیں لگاتا ہوا ملتا ہے کہ
تو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا درِخیبر کس نے؟
شہر قیصر کا جو تھا اس کو کیا سرکس نے؟
توڑے مخلوق خداوندوں کے پیکر کس نے؟
کاٹ کر رکھ دئیے کفار کے لشکر کس نے؟
اور پھر عروجِ مسلم کی ایک جھلک دکھائی دیتی ہے، جب مسلمان بے سرو سامانی کے عالم میں اپنے سے قریباً تین گنا تعداد میں موجود جدید ترین اسلحے سے لیس دشمنوں کے مقابل ڈٹ جاتے ہیں اور یہ تین سو تیرہ مسلمان اتحاد و ایمان اور فتح کے یقین کا خود پہن کر جان لڑا کر جنگ جیت لیتے ہیں۔ ایک صفحہ اور پلٹیے، جنگ قادسیہ میں مسلمانوں کی تعداد صرف بیس ہزار اور دشمنوں کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار، زمین دم سادھے تماشا دیکھ رہی تھی اور آسمان انگشت بدنداں تھا کہ ایک چیونٹی ہاتھی کو مسلنے چلی ہے۔ مگر شاید وہ نہیں جانتا تھا کہ چیونٹی بھی بعض اوقات ہاتھی کی موت بن جایا کرتی ہے۔ پھر یہی ہوا کہ صرف بیس ہزار مسلمان ایک وحدت کا روپ دھار کر ایک لاکھ بیس ہزار دشمنوں پر فتح یاب ہوئے۔ پھر دیکھئے جنگ یرموک کا حیرت انگیز واقعہ جب تیس ہزار مسلمان قریباً پانچ لاکھ رومیوں کے سامنے سروں پر کفن باندھ کر نکل کھڑے ہوئے اور انہیں عبرت ناک شکست دی۔ تاریخ نے وقت کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔ فتح مسلم قوم کے ماتھے کا جھومر بنا دی گئی۔ پھر ہم دیکھتے ہیں مجاہدِ اسلام طارق بن زیاد اور اس کے گیارہ سے بارہ ہزار سربکف مجاہدوں کے جذبہ ایمان کو جو اندلس کے ساحل پر ڈیڑھ لاکھ دشمنوں کی لاشیں جلا کر غالب آ جاتے ہیں۔ اسی طرح جنگ موتہ میں تین ہزار مسلمانوں نے تین لاکھ فوجیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ 1072ء میں سلجوقی کے چند ہزار سپاہیوں نے قیصر امانوس دیو جان کے دیوقامت اور لاکھوں کی تعداد میں فوجیوں کے ساتھ جنگ کی، اقبال نے انہیں جنگوں کی منظر کشی یوں کی ہے:
ٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھے
پاؤں شیروں کے بھی میدان سے اکھڑ جاتے تھے
تجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھے
تیغ کیا چیز ہے ہم تو توپ سے لڑ جاتے تھے
اہل عرب دنیا پر اس طرح چھاتے جا رہے تھے جیسے سورج کی روشنی اندھیرے میں گوشوں کو منور کرتی چلی جاتی ہے۔ باطل قوتوں پر لرزہ طاری تھا۔ ایرانی اور بازنطینی جیسی بڑی طاقتوں کو بھی دم مارنے کی جرأت نہ تھی اور مسلمان تھے کہ فتوحات کو پکے ہوئے پھلوں کی طرح توڑ توڑ کر لطف اٹھا رہے تھے، اسپین تا شمالی افریقہ، ریگستان عرب تامیدان ہندوستان تک، افغانستان کی سربکف چٹانوں سے لے کر سمرقند بخارا کے مرغزاروں تک، بحیرہ روم سے مشرقی یورپ تک اور کوہ ہمالیہ کو روندتے ہوئے حصارِ دیوار چین تک مسلم فتوحات کے جھنڈے گاڑے جا چکے تھے۔ یہ سلسلہ ہسپانیہ سے لے کر وسطی ایشیا کی سرحدوں تک اور دریائے سندھ کی طغیانیوں کے ساتھ ساتھ جاری رہا۔ معروف دانشور کہتا ہے کہ ’’عربوں نے شام اور مصر کو فتح کر لیا، ایران ان کے حملوں کی تاب نہ لا سکا، بازنطینی اور بربر افریقہ سے محروم ہو گئے، مغرب میں فرانس اور مشرق میں قسطنطنیہ مسلمانوں کے نام سے کانپ رہا تھا۔ یہاں تک کہ آٹھویں صدی کے آغاز میں یہ سوال اٹھنے لگا کہ دنیا میں کوئی ایسی طاقت ہے جو ان عربوں کا مقابلہ کر سکے؟؟‘‘
کیٹس اینبرگ جرمن کا مشہور دانشور اس حوالے سے لکھتا ہے:
’’اہل عرب کی فتوحات کے محرکات میں ان کے اتحاد کی قوت، اور مقصد میں لگن کی سچائی تھی جس کی بدولت وہ کبھی پہاڑوں کو زیر پا کر لیتے تو کبھی میدانوں میں خیمے نصب کر لیتے۔ یوں لگ رہا تھا کہ تمام دنیا ان کے سامنے سرنگوں ہونے والی ہے۔‘‘
مسلمانوں نے نہ صرف خدا کی زمین پر اپنی فتوحات کی داستانیں رقم کیں، بلکہ اپنے حسن اخلاق اور پاکیزہ کردار کی صفات کی بدولت تبلیغِ اسلام کا سلسلہ بھی جاری رکھا جس کی وجہ سے ان کی فتوحات کی عمر مزید لمبی ہوتی چلی گئی اور غلام و آقا میں امتیازات ختم ہو گئے، امیر اور غریب مساوات کا دامن پکڑ کر برابری کی خیرات بانٹنے لگے، جس کا اظہار اقبال نے یوں فرمایا:
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
مسلمانوں کے عروج کی سب سے بڑی اور اہم وجہ صرف اور صرف اتحاد کی قوت تھی، جس نے انہیں علیحدہ علیحدہ شناختوں سے ماورا کر کے صرف اور صرف مسلمان ہونے کی شناخت عطا کی۔ فرقہ بندی کا کہیں کچھ نشان نہ ملتا تھا۔ مسلمان متحد ہو کر ہر دشمن کی قوت پر غلبہ پاتے چلے جاتے تھے۔ مگر یہ سلسلہ، مسلسل نہ چل سکا، کیونکہ قانون قدرت ہے کہ عروج کو زوال کا ذائقہ چکھنا ہوتا ہے اور ہر زوال کو دوبارہ عروج کی طرف جانا ہوتا ہے۔ ہم ذرا تاریخ کے مزید اوراق پلٹتے ہیں تو ہمیں عصبیت پسند ہشام بن عبدالمالک کا دور حکومت دکھائی دیتا ہے جو قبیلوں کے فخر پر اتراتا ہوا اموی سلطنت کو زوال پذیری کی طرف لے جاتا ہے اور عباسیوں کے خلاف نبرد آزما ہوتا ہے۔ بلکہ یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ مسلمانوں کے زوال کی بنیاد اسی لمحے رکھ دی گئی جب ایک مسلمان کی تلوار اس کے اپنے ہی مسلمان بھائی کی تلوار سے ٹکرائی تھی۔ ہسپانیہ اور بغداد میں مسلمانوں کی علیحدہ حکومتوں کی مرکزیت قائم ہوئی۔ قاہرہ، ہسپانیہ اور بغداد ایک دوسرے کے حریف بنے۔ اتحاد چکنا چور ہوا۔ مخالف قوتوں نے متحد ہونا شروع کیا اور جدا جدا مسلمانوں پر اپنے حملوں کا آغاز کیا اور یوں صلیبی جنگوں کی بنا پڑی۔ مستعصم کے وزیر ابن علقمی کا کردار، سلطنت عثمانیہ کے خلاف ایران کے شاہ اسمٰعیل صفوی کا کردار بھی تاریخ میں مسلمانوں کیلئے زوال کا سبب بنا اور پھر مسلمانوں میں ہی میر جعفر اور میر صادق جیسے غداروں کا جنم ہوا جس پر لب کشائی کرنا اپنی ہی بدنامی کا ڈھنڈورا پیٹنے کے مترادف ہے۔ اس کی وجہ اقبال نے ’’جواب شکوہ‘‘ میں یوں بیان کی ہے:
ہاتھ بے زور ہیں، الحاد سے دل خوگر ہیں
امتی باعثِ رسوائی پیغمبر ہیں
بت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیں
تھا ابراہیمؑ پدر اور پسر آزر ہیں
عصر حاضر میں اگر مسلمان قوم کی حالت کا طائرانہ جائزہ لیا جائے تو دل خون کے آنسو روتا ہے کہ کیا یہ وہی قوم ہے؟ جس نے اپنے پائوں میں قیصر و کسریٰ کی شان و شوکت کو روند ڈالا تھا۔ کیا یہی وہ مسلمان قوم ہے؟ جس نے دنیا کو بحرِ ظلمات سے نکال کر نور آگہی بخشا تھا۔ بخدا یہ وہ قوم نہیں۔ وہ قوم اتحاد اور اتفاق کا گوہر تھی اور یہ نفاق کا بدبودار پتھر، وہ قوم اپنے بھائیوں پر جان وار نے والی اور یہ قوم روپے پیسے کیلئے وعدے اور وفاداری ہارنے والی، وہ قوم قربانیوں کی مظہر، یہ قوم ہوس کا نشتر، وہ قوم روح ایثار کی علمبردار، یہ قوم مفادات اور ہوس کی بے سری جھنکار، وہ قدم اٹھائے تو خود صحرائوں کے دل دہل جائیں، اور یہ قوم قدم اٹھائے تو خود لرز لرز جائے، وہ قوم کہ ہر فرد انفرادی مجبوریوں سے آزاد، یہ قوم کہ قومی فرائض سے بے زار، وہ قوم کہ نبیe کی حرمت پر مر مٹ جانے والی اور یہ قوم کہ اقوال نبیe سے نگاہیں چرانے والی، تو پھر کیسے ممکن ہے کہ عصر حاضر میں مسلمان انہی فتوحات کے خواب دیکھیں جو ان کے آباء کی کنیزیں بن کر رہیں۔ اقبال نے بھی تو یہی بتایا ہے کہ 
خود کشی شیوہ ہے تمہارا، وہ غیور وہ خوددار
تم اخوت سے گریزاں وہ اخوت پہ نثار
تم ہو گفتار سراپا، وہ سراپا کردار
تم ترستے ہو کلی کو، وہ گلستان بکنار
اس قوم کی زوال پذیری کی بنیادی وجوہات میں نفاق اور تفرقہ بازی شامل ہے، جنہوں نے مسلمانوں کو مفاد پرستی کی راہوں پر نہ صرف گامزن کیا بلکہ نفرت و تشدد کی طرف مائل بھی کیا۔ لالچ و ہوس، مفاد پرستی، مادیت پرستی نے مسلمانوں کو اس بگولے کی طرح اپنے شکنجے میں کس لیا کہ مسلمانوں کو اس سے باہر کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ اس کے علاوہ دین سے دوری بھی مسلمانوں کے تمام مسائل کی وجہ بنی۔ جب مسلمانوں نے اپنے نبیe کے دین کو طاقِ نسیاں میں رکھا تو پھر رب نے بھی اس قوم کو فراموش کر دیا۔ اسے مکافاتِ عمل کے حوالے کر دیا۔ اس کے علاوہ بدعملی و بے عملی، تساہل پسندی اور عیش کوشی نے مسلمانوں کے عروج کو دیمک کی طرح چاٹ لیا۔ ان میں جہدِمسلسل، تگ و دو کی لگن اور لگن کی کوشش کے تخیلات بھاپ کی طرح اڑ گئے۔ مسلمانوں کو کبھی افغانستان میں امریکی اور اس کے اتحادیوں کی بمباری سے ہزیمت اٹھانا پڑ رہی ہے تو کبھی بوسنیا میں متشدد عیسائیوں کے ہاتھوں قتل ہونا پڑ رہا ہے۔ کبھی انڈونیشیا میں عیسائیوں کے ہاتھوں اجڑنا پڑ رہا ہے۔ تو کبھی اسرائیلی یہودیوں کے جو رو ستم سہنا پڑتے ہیں اور پھر عراق کی اسلامی شناخت گم کرنا پڑ رہی ہے۔ یہ ذلالت و رذالت ہمارا مقدر صرف اس لیے بنی کہ ہم بے عملی اور بدعملی کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ منافرت اور فرقہ بندیوں میں الجھ گئے۔ ہم کافروں کو کافر کہنے کی بجائے نظریاتی اختلافات کی بنا پر اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو کافر کہتے پھر رہے ہیں اور جواباً وہ بھی مسلمانوں کو کافری کا عندیہ دے رہے ہیں۔ مسلمان، کافر نہیں ہو سکتا اور کافر مسلمان نہیں ہو سکتا۔ مسلمان کا فری کر سکتا ہے مگر کافر مسلمانی نہیں کر سکتا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان ممالک ایک ایسا مؤثر پلیٹ فارم بنائیں جس پر تمام ممالک متفق ہوں اور اس کے ممبران صرف اور صرف مسلمان ممالک ہوں۔ مسلمانوں کے اقتصادی مسائل حل کرنے کیلئے مجموعی طور پر ٹھوس اقدامات کیے جائیں اور کسی ایک مسلمان ملک پر غیر ملکی جارحیت کی صورت میں باقی تمام مسلمان صرف مذمت کر کے اپنے نام نہاد فرائض نہ پورے کریں بلکہ باقاعدہ اپنے مسلمان بھائیوں کے شانہ بشانہ ہو کر جارح ملک کے دانت کھٹے کریں اور مسلمان ملک کی عملی مدد کریں۔ اسی چیز کا مظاہرہ ہمیں ۱۹۷۳ء میں عرب ممالک کے اتحاد سے نظر آتا ہے جب عرب ممالک نے یورپی ممالک کو تیل کی سپلائی میں قدرے کمی کی، جس کے نتیجے میں اہل یورپ کی معیشت ڈانواں ڈول ہونے لگی اور کافر ممالک اس کے دور رس نتائج کو سوچ کر لرز اٹھے۔ امریکہ میں پٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کا استعمال یک لخت کم کر دیا گیا۔ ملکہ برطانیہ شاہی کار کو ترک کر کے عام چھوٹی کار میں سفر کرنے لگیں۔ حتیٰ کہ بھارتی وزیراعظم نے کار کی بجائے بگھی کا استعمال شروع کر دیا۔ اور ہالینڈ جیسے ملک نے اپنے عوام کو کاروں کے استعمال کو کم کرنے کا سرکاری اعلان کیا جس کے نتیجے میں کئی لاکھ لوگوں نے سائیکل کی سواری شروع کر دی، اور یوں مغربی ممالک کی اقتصادی حالت یک لخت زوال پذیری کی طرف چلنے لگی۔ مگر پھر امریکہ اور روس نے سازش کے ذریعے عربوں کو گروہوں میں بانٹ دیا اور یوں وہ اپنے مذموم ارادوں میں پھر کامیاب ہو گئے۔
الغرض مسلم امہ کو سب سے زیادہ نقصان صرف اور صرف فرقہ بندیوں اور ذاتی مفادات کی ہوس کاری نے پہنچایا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عصر حاضر میں مسلمان، ایمان و یقین کے ساتھ شریعتِ محمدیؐ کے پرچم تلے جمع ہو کر خود کو صرف نبیe کے پیروکار سمجھتے ہوئے دنیا کی باطل قوتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔ اور اپنے اندر ایسا عشق اور خودی پیدا کریں جو مسلمان قوموں کی فتح اور فخر و غرور کا باعث بن جاتے ہیں اور پھر مسلمان قوم کبھی زوال پذیری کی ذلت نہیں اٹھائے گی جیسا کہ اقبال نے بھی اس راز کو یوں منکشف کیا ہے:
خوار جہاں میں کبھی ہو نہیں سکتی وہ قوم
عشق ہو جس کا جسور، فقر ہو جس کا غیور
آج بھی وقت ہے کہ مسلمان ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر نعرۂ اسلام بلند کریں تو صحرائوں کے دل دہل جائیں گے اور سمندر راستہ پیدا کر دیں گے، کیونکہ ایسا تاریخ نے ثابت کیا ہے اور سب کے سامنے کیا ہے۔


No comments:

Post a Comment