لیموں (وٹامن سی کا خزانہ) - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Friday, June 28, 2019

لیموں (وٹامن سی کا خزانہ)


طب وصحت ... لیمون (وٹامن سی کا خزانہ)

تحریر: جناب حکیم راحت نسیم سوہدروی
لیموں ایک معروف و مقبول، خوش ذائقہ، ساری دنیا میں پایا جانے والا اور سستے داموں آسانی سے ہر جگہ ملنے والا پھل ہے۔ اس کی کاشت سارا سال ہوتی ہے۔ ظاہری طور پر یہ ایک چھوٹا سا پھل ہے مگر اپنے مخفی اجزاء حیاتین سے بھرپور ہے اور حیاتین ج (وٹامن سی) کا تو بھرپور خزانہ ہے۔ جدید تحقیقات طب اس بات کی مظہر ہیں کہ انسانی جسم کی بقا اور تحفظ کیلئے حیاتین کی بڑی اہمیت ہے اور حیاتین کی کمی انسانی جسم کو مختلف عوارض کا شکار کر دیتی ہے۔ حیاتین ج (وٹامن سی) کی کمی سے مسوڑھوں سے خون آنا، مسوڑھوں میں ورم، صفراوی بخار اور ہڈیوں کی کمزوری اور شکست و ریخت جیسے امراض ہو سکتے ہیں۔ اس لیے معالج حضرات مسوڑھوں میں خون آنے یا ورم کی صورت میں وٹامن سی کی گولیاں دیتے ہیں لیکن لیموں کے استعمال سے ان گولیوں سے بچا جا سکتا ہے۔ نیز وٹامن سی کی کمی سے ہونے والے عوارضات سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ یوں تو لیموں سارا سال ہوتا اور ملتا ہے مگر اس کا موسم پیداوار برسات ہے اور دوسرے پھلوں کی طرح یہ چھوٹا سا پھل بھی اپنے موسمی تقاضے خوب پورے کرتا ہے۔ پھل موسم کے مطابق کیفیت و عوارضات کے ازالے کے ساتھ ساتھ لذت و غذائیت فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح لیموں وبائی امراض مثلاً پیٹ درد، اسہال، خارش اور گرمی کے دانوں میں گوناگوں فوائد کا حامل ہے۔ موسم برسات میں لیموں کی سکنجبین بہت مفید ہوتی ہے۔ قے، دست اور متلی میں لیموں پر کالی مرچ اور نمک لگا کر چٹائیں، دونوں وقت کھانے کے ساتھ پیاز پر لیموں نچوڑ کر نمک کا اضافہ کر کے استعمال کریں۔
لیموں کا تعلق ترش فروٹ (ترش خاندان) سے ہے۔ اس خاندان میں لیموں کے علاوہ سنگترہ، مالٹا، کنو، میٹھا اور چکوترا وغیرہ ہیں مگر لیموں اس خاندان میں سب سے فائدہ مند اور غذائی اجزاء سے مالا مال ہے۔
قدرت نے لیموں کو کثیر غذائی اجزاء سے سرفراز کیا ہے اس میں پچاس فی صد پانی کے علاوہ لحمی اجزاء‘ چکنائی اور نشاستہ دار اجزاء ہوتے ہیں۔ حیاتین الف قلیل مقدار میں جب کہ حیاتین ج کثیر مقدار میں ہوتی ہے۔ ہر ایک چھٹانک لیموں میں ۳۲ غذائی حرارے موجود ہوتے ہیں۔ لیموں کے کیمیائی تجزیہ کے مطابق اس میں حیاتین ج ۳۰ ملی گرام، کیلشیم ۲۰ گرام، فاسفورس ۱۴ ملی گرام کے علاوہ سٹرک ایسڈ جس قدر لیموں میں ہوتا ہے کسی اور پھل میں نہیں ہوتا۔
قدیم اطباء نے اس کی چند صفات معلوم کر کے اس کی سکنجبین بنا ڈالی جو ایک خوش ذائقہ، فرحت بخش اور لذیذ مشروب کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ مگر لیموں ایک خوش ذائقہ، صحت بخش پھل کے ساتھ ساتھ مفید دوائی غذا بھی ہے اور مرض یرقان جس کے علاج میں ایلوپیتھی سسٹم آف میڈیسن ناکام ہے کا شفا بخش علاج بھی ہے۔ لیموں کا چھوٹا سا سنہری پھل نہ صرف شفائی اثرات سے مالا مال ہے بلکہ صحت و توانائی میں بھی اپنا جواب نہیں رکھتا۔ امراض کے خلاف سب سے موثر ہتھیار، قوت مدافعت ہے۔ لیموں کا استعمال اس قوت کو مضبوط بناتا ہے اور خون کے سرخ ذرات پیدا کرنے میں بھی اہم کردار کا حامل ہے۔ آج کل نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں چہرے پر پھوڑے پھنسیاں پیدا ہونے کی شکایت ہے۔ یہ کیل دانے چہرے کے حسن کو متاثر اور شکل کو بدصورت بنا دیتے ہیں جس سے نوجوانوں میں نفسیاتی ناگواری کا احساس ہوتا ہے۔ ان کیل دانوں اور خارش کا سبب عموماً فساد خون ہے۔ نوجوان نسل ان سے نجات کے لیے اور جلد کے نکھار کے لیے کریموں کا بھرپور استعمال کرتی ہے مگر وہ نہیں جانتے کہ قدرت نے رنگت نکھارنے، رنگ کاٹنے کے لیے اس چھوٹے سنہری پھل میں کس قدر شفا رکھی ہے۔ لیموں کا استعمال جلد نکھارتا ہے، خون کے فساد ختم کر کے خون صاف کرتا، پھوڑے، پھنسیاں ختم کرتا اور داغ دھبوں کو صاف کرتا ہے۔ مصفی خون ہونے کے علاوہ لیموں قاتل جراثیم بھی ہے۔ اس کا استعمال تیزابی مادوں کو ختم کرتا ہے، صفراوی امراض کو تو لیموں تیر بہدف علاج ہے اور اسی وجہ سے ملیریا بخار میں مفید ہے۔ لیموں کا عرق گلاب میں ملا کر چہرے پر لگانے سے داغ دھبے صاف ہو جاتے ہیں، لیموں کی مالش چہرے کی جلد میں نکھار کرتی ہے۔ موسم برسات میں جب ذرا پیٹ بھر کر کھانا کھانے سے جی متلاتا ہے اور اسہال لگ جاتے ہیں تو ایسے میں لیموں کے رس کو پانی ملا کر پینا مفید تدبیر ہے۔ حاملہ عورتوں کو جی متلانے میں لیموں چوسنے کو دیا جاتا ہے۔
لیموں کے طبی استعمالات    
چہرے کے داغ دھبوں کے لیے لیموں کے دو ٹکڑوں پر صابن اچھی طرح مل کر انہیں چہرے پر ملیں اور نیم گرم پانی سے منہ دھوئیں، حساس جلد والے احتیاط سے کام لیں۔ ان کے لیے بہتر ہے کہ لیموں کا رس برابر گلیسرین اور عرق گلاب ملا کر استعمال کریں۔
جگر اور تلی کے امراض:  لیموں کے ٹکڑے کر کے ان پر نمک چھڑک کر ہلکا سا گرم کر کے دن میں چار پانچ بار چوسنا مفید ہے۔
دمہ:   لیموں کا رس دن میں تین چار بار استعمال کرنا فائدہ مند ہے۔
ہیضہ:  لیموں کے رس میں مویز منقی تر کر کے رکھیں اور پھر گھنٹہ بعد ایک مویز منقی کھا لیں اور لیموں کا رس تھوڑا سا پی لیں۔
خارش:   لیموں کے استعمال کے ساتھ اس کے رس کی بدن پر مالش کریں، پھر اس رس کو جلد پر خشک ہونے دیں۔
لمبے کالے اور چمکیلے بال:  لیموں کے عرق میں خشک آملے کا سفوف بنا کر ملا کر بالوں کی جڑوں میں لگانا فائدہ مند ہے۔
موٹاپا:   موٹاپے کو ختم کرنے کے لیے آج کل سلمنگ سنٹروں کا زور ہے۔ اشتہاری لوگ موٹاپے کے نام پر بڑے بڑے اشتہارات کے ذریعے لوگوں کو خوب لوٹ رہے ہیں مگر کم لوگ جانتے ہیں کہ لیموں موٹاپے کے لیے شافی تدبیر ہے۔ مصر میں نوجوان لڑکیاں عموماً چھرئے اور نازک اندام بدن کی ہوتی ہیں جس کی وجہ ان کا لیموں کا استعمال کرنا ہے۔ موٹاپا دور کرنے اور اسمارٹ رہنے کے لیے صبح نہار منہ و سہ پہر آدھا آدھا لیموں کا رس نیم گرم پانی ایک گلاس پانی میں استعمال کرنا مفید ہے۔ البتہ لیموں کو استعمال سے قبل آگ پر ہلکا سا سینک لیا جائے، لیموں کے چھلکوں کو چہرے کے داغوں پر رگڑنا مفید ہے۔
نزلہ گرنا:  یہ ایک ہٹیلا مرض ہے اور مشکل سے جاتا ہے۔ ماحولیاتی و فضائی آلودگی نے اس مرض میں بہت اضافہ کر دیا ہے۔ لوگ اس کو لا علاج خیال کرتے ہیں، ایسے حضرات صبح ایک لیموں، ایک گلاس پانی میں نچوڑ کر پی لیا کریں، فائدہ ہوگا۔
تیزابیت:  سینے میں جلن، کمردرد، پیشاب میں جلن اور یورک ایسڈ کا بڑھ جانا اس کی علامات ہیں، ایسے میں صبح و شام لیموں کا استعمال مفید ہے۔
گنج:  گنج کے لیے حسب ضرورت تھوڑے سے پانی کے ساتھ پیس کر اس کا لیپ روزانہ گنج کے مقام پر لگائیں‘ ایک ماہ تک استعمال کرنے سے فائدہ ہوگا۔
منہ خشک ہونا:  لیموں کو تھوڑا سا چیر کر تھوڑی دیر بعد چوسنے سے پیاس بار بار لگنے اور منہ خشک ہونے کی صورت میں فائدہ ہوتا ہے۔
لیموں کا استعمال:  لیموں کا عام استعمال کرنا یعنی کھانے کے ساتھ پیاز پر نچوڑ کر کھانا، خون کی کمی، بھوک میں اضافہ، دل گھبرانا، تیز دھڑکن، فساد خون کے امراض، کیل دانے، داغ دھبے، پھوڑے، پھنسیوں، مسوڑھوں کی سوجن، خون آنا، بدہضمی، جی متلانا میں فائدہ ہوتا ہے۔
لیموں کے مضر اثرات:  ہر چیز میں اعتدال ہی مناسب راہ عمل ہے، اس طرح لیموں کا استعمال بھی اعتدال میں رہ کر کرنا چاہیے۔ لیموں کا تیز محلول دانتوں کے لیے مضر ہے، لیموں کے زیادہ استعمال سے پٹھوں میں درد ہو سکتا ہے۔
سکنجبین لیموں:  لیموں کی سکنجبین بنا کر موسم برسات میں استعمال کی جاتی ہے جو موسمی تیزابیت، معدہ کی اصلاح اور صفرا کے لیے مفید ہے۔ یرقان میں اس کی دوائی استعمال ہوتی ہے اور اس موسم میں ہونے والے ملیریا بخار میں مفید ہے۔ موسم برسات میں مشروبات سے ہاتھ کھینچ لیا جاتا ہے، موسم میں نمی ہوتی ہے ایسے میں سکنجبین بہت مفید ہے، اس سکنجبین میں اپنی ضرورت کے مطابق چینی ملائی جا سکتی ہے۔


2 comments: