DarsHQ13-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, June 15, 2019

DarsHQ13-2019


درسِ قرآن
نیکیوں کی حفاظت
ارشادِ باری ہے:
﴿اَمْ يَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ﴾(النسآء)
’’یہ لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ نے اپنے فضل سے انہیں عطا کیا ہے۔‘‘
خلق یا اخلاق انسان کی اندرونی حالت کا نام ہے جس کی وجہ سے انسان کے اعضاء سے اعمال کا صدور ہوتا ہے اگر اس اندرونی کیفیت کو ضبط میں رکھا جائے اور اسے بے جا خواہشات اور لا محدود تمناؤں کی بھینٹ نہ چڑھنے دیا جائے تو پھر انسانی  اعضاء سے اچھے اور اعمال فاضلہ کا صدور ہوتا ہے لیکن اگر یہی حالت بدل جائے توانسانی جسم اخلاق رذیلہ کا عادی ہو جاتا ہے۔
مذکورہ آیت میں اخلاق رذیلہ میں سے ایک عمل بد کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ انسان دوسروں کی نعمتوں پر فرحت اور شادمانی اور اسے اپنے لیے اللہ سے مانگنے کی بجائے اس بات پر کڑھتا ہے کہ یہ نعمت میرے پاس کیوں نہیں؟ اور پھر اسی کوشش میں اپنی صلاحیتیں گنوانا شروع کردیتا ہے کہ کیسے منعم علیہ سے اس نعمت کو دور کیا جائےانسان کی اس سوچ اور کیفیت کو حسد کہا جاتا ہے اور اس کیفیت سے بچنے کی قرآن و سنت میں تاکید کی گئی ہے –نبی کریم e نے فرمایا:
[لَا تَبَاغَضُوْا وَلَا تَحَاسَدُوْا وَلَا تَدَابَرُوْا وَکُونُوْا عِبَادَ اللّٰهِ إِخْوَانًا.]
’’ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اور نہ ہی حسد کرو اور ایک دوسرے سے پیٹھ بھی نہ پھیرو –اللہ کے بندو!بھائی بھائی بن جاؤ۔‘‘
حسد کی بیماری انسان کی نیکیوں اور اعمال صالح کو ضائع کرنے کا باعث بنتی ہے جیساکہ آپe کے فرمان سے واضح ہے :
[إِيَّاكُمْ وَالْحَسَدَ فَإِنَّ الْحَسَدَ يَأْكُلُ الْحَسَنَاتِ كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطَبَ.] (سنن ابي داؤود)
’’اپنا دامن حسد سے بچائے رکھنا کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح ختم کردیتا ہے جیسے آگ لکڑی کو ختم کردیتی ہے۔‘‘
جبکہ اس کے برعکس خلق حسن کا مالک اپنے بھائی کی خوشی پر نا صرف خوش ہوتا ہے بلکہ اس کی خوشی کے لیے اپنی خوشی اور ضرورت کی قربانی کا جذبہ بھی رکھتا ہے اسے ایثار کہاجاتا ہے اور اس عادت کی تحسین فرماتے ہوئے اللہ نے فرمایا:
﴿وَ يُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ کَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ١۫ؕ وَ مَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓىِٕکَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ۰۰۹﴾ (الحشر)
’’بلکہ خود پر انہیں (مسلمان بھائی کو)ترجیح دیتے ہیں چاہے (اس چیز کی)سخت حاجت ہی کیوں نہ ہو(بات یہ ہے کہ)جو شخص نفس کی تنگی سے بچالیا گیا وہی بامراد ہے۔‘‘
رمضان میں کی گئی نیکیوں کی حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان اس عادت بد(حسد) سے بچتے ہوئے اپنے اندر قربانی اور ایثار کا جذبہ پید ا کریں۔

درسِ حدیث
اللہ کی نافرمانی کی سزا
فرمان نبویﷺ ہے:
[عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "إِذَا رَأَيْتَ اللّٰهَ يُعْطِي الْعَبْدَ مِنَ الدُّنْيَا عَلَى مَعَاصِيهِ مَا يُحِبُّ، فَإِنَّمَا هُوَ اسْتِدْرَاجٌ". ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ: ﴿فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ۰۰۴۴﴾] (رواه أحمد)
سيدنا عقبہ بن عامرt سے روایت ہے‘ وہ نبی کریمe سے بیان کرتے ہیں کہ آپe نے فرمایا: ’’جب آپ دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کسی بندے کو اس کی نافرمانیوں کے باوجود اس کی پسندیدہ چیزیں مسلسل دئیے جا رہا ہے تو (سمجھ لیں) کہ وہ مہلت ہے۔‘‘ پھر آپ eنے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ ’’جب وہ اس بات کو بھول گئے جس کی انہیں نصیحت کی گئی تھی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دئیے حتیٰ کہ جب وہ شادمانی میں تھے اس بنا پر جو انہیں دیا گیا‘ ہم نے انہیں یکدم پکڑ لیا پھر اس وقت وہ بالکل ناامید تھے۔‘‘
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مختلف طریقے سے آزمائش کرتا ہے‘ کسی کو مال و دولت میں فراخی دے کر اور کسی کو تنگی دے کر، یہ اس کا نظام ہے جسے وہ خود ہی جانتا ہے، کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک نیک انسان کسی نہ کسی پریشانی میں گھرا رہتا ہے اور ایک بدقماش‘ خدا کا باغی، ناز و نعمت میں زندگی بسر کرتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نافرمانوں سے خوش ہے اور اپنے نیک بندوں سے ناراض ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان کہ وہ لوگوں کے کفر کرنے پر راضی نہیں ہوتا۔ نافرمانوں کو دنیاوی نعمتیں دینے کا مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں تدریجاً جہنم کی طرف لے جا رہا ہے۔ نافرمانوں کو مہلت دینے کا مطلب ان کو اصلاح کے مواقع فراہم کرنا ہے، کبھی کوئی مشکل آئی اور پھر آسائش دے دی۔ اگر تو وہ سمجھ لے اور اپنی اصلاح کر لے تو وہ عذاب سے بچ جائے گا لیکن اگر اس نے خوشحالی کو اللہ کی نافرمانی میں گزارا تو اللہ تعالیٰ انہیں اچانک پکڑ لے گا پھر توبہ کی مہلت بھی نہیں ملے گی۔ اللہ ان لوگوں کی نافرمانی پر خوش نہیں ہوتا۔ جیسا کہ رسول اللہe نے ارشاد فرمایا: ’’اگر اللہ تعالیٰ کو دنیا مچھر کے برابر بھی پسند ہوتی تو کافروں کو ایک گھونٹ پانی بھی نہ دیتا۔‘‘ جو نعمتیں نافرمان بندوں کو مل رہی ہیں وہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نیکی کا بدلہ انہیں دنیا میں ہی دئیے جا رہا ہے ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔
قرآن پاک کی آیت اس کی مزید وضاحت کر رہی ہے کہ کفار کو دی جانے والی نعمتیں ان کے لئے آہستہ آہستہ جہنم کا راستہ ہموار کر رہی ہیں اس لئے کہ وہ بھول چکے ہیں کہ ایک دن حساب کا بھی آنے والا ہے۔

No comments:

Post a Comment