DarsQH22-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Tuesday, June 11, 2019

DarsQH22-2019


درسِ قرآن
روزہ اور نیک نیتی
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِيَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ﴾ (محمد)
’’انہیں اس کے سوا کو ئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ تعالی ہی کی عبادت کریں ، اسی کے لیے دین کو خالص کریں۔‘‘
اللہ کے لیے عبادات کی بجا آوری اصل مقصود زندگی ہے ۔ انہی عبادات واطاعات کی بدولت انسان مختلف انداز سے قرب الٰہی کے مدارج طے کرتاہے ۔ ان میں بعض اطاعات ایسی بھی ہیں جن میں انسان بیک وقت اپنی تربیت بھی کررہا ہوتا ہے اور اور تقرب رب بھی اسے حاصل ہو رہا ہوتا ہے ، جبکہ ان میں ریاکاری ،نمود و نمائش اور لوگوں کی خوش نودی اور رضا کا عنصر بھی نہیں ہوتا،کیونکہ نیک نیتی کے ساتھ کسی بھی حکم کی بجاآوری  اسلام کا بنیادی مطالبہ ہے ۔جبکہ نیت میں اخلاص کی کمی اور دکھلاوے کا عنصر انسان کی ساری محنت کو اکارت کر دینے کا باعث ہے، اسی لیے کہا گیا ہے کہ ’’اعمال کی قبولیت کا انحصار نیتوں پر ہے۔‘‘
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو ایسے نیک اعمال اور بلند کردار کی ترغیب دی ہے جو اخلاص اور تقویٰ پر مبنی ہو یعنی رات کی تاریکی اور تنہائی میں بھی عمل وکردار کا وہی نہج رہے جو دن کے اجالے اور لوگوں کی عام نگاہوں میں ہوا کرتا ہے۔ جب کسی کام کا محرک محض نیک جذبہ اور اللہ کی رضا ہو تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس کی بنیاد میں اخلاص کا پانی شامل ہے جو بہت جلد ایک معمولی تحریک کو تناور درخت کی شکل میں تبدیل کر دیتا ہے۔ ہر انسان کو اپنے اعمال کا محاسبہ کرنا چاہیے کہ اخلاص کی کتنی قوت ان میں شامل ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ نام و نمود اور ریاکاری کی جڑیں آہستہ آہستہ ہماری زندگیوں میں مضبوط ہو جائیں اور ان کی نحوست نماز، روزہ اور دوسری عبادتوں کو بے جان اور کھوکھلابنا دے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے نیک اعمال کی بجا آوری میں حصول رضائے الٰہی کوہی اپنا اولین مقصدبناتے ہوئے انجام دیں، کسی بھی امر کی بجا آوری کے وقت ہمارےتصور میں بھی ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ ہم اس کی فوٹو گرافی کرکے سوشل میڈیا کی زینت بنائیں گے، کیونکہ شیطان نے اس وقت جوعمل ہمارے لیے سب سے مزین کرکے پیش کر رکھا ہے  ، جس سے ہر چھوٹا بڑا متاثر نظر آتا ہے ، وہ یہی صدقہ و خیرات یا کسی کے ساتھ بھلائی کرتے وقت  تصویر بنا کر حتی کہ بعض اوقات نماز کے دوران مطالبہ کرکے تصویر بناکر سوشل میڈیا پر  اپ لوڈ کی جاتی ہے تاکہ لوگوں کی تعریف پر مبنی تأثرات ملیں، لیکن یاد رکھیے کہ سب سے معتبر نیکی وہ ہے جس کا اللہ کے علاوہ کوئی گواہ نہ ہو۔

درسِ حدیث
شوال المکرم کے چھ روزے
فرمان نبویﷺ ہے:
[عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ: "مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ، کَانَ کَصِيَامِ الدَّهْرِ".] (مسلم)
سیدنا ابو ایوب انصاریt سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہe نے ارشاد فرمایا: ’’جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کے بعد شوال کے چھ نفلی روزے رکھ لئے تو یہ سارے زمانے کے روزے رکھنے کی مانند ہے۔‘‘ (مسلم)
رمضان کے روزے فرض ہیں اور شوال کے چھ روزے نفلی عبادت ہے۔ ان دونوں عبادات کا مقصد انسان کو تقویٰ کے زیور سے آراستہ کر کے انسانیت کے بلند مقام پر فائز کرنا ہے۔ دنیاوی فوائد کے ساتھ ساتھ ان کا ثواب بھی ہے۔ رمضان المبارک کے روزے رکھنے والے کو نبی کریمe نے خوشخبری سنائی کہ اس کے سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور اسے قیامت کے روز حوضِ کوثر سے پانی پلایا جائے گا جس کے بعد جنت میں داخل ہونے تک اسے پیاس نہیں لگے گی۔
شوال کے روزے رکھنے والے کو خبر دی کہ تم یوں ثواب پائو گے جس طرح کہ پوری زندگی روزے کی حالت میں ہی گذاری ہو۔ ہر نیک عمل کا کم از کم ثواب دس گنا ہوتا ہے اس اصول کے مطابق ایک مہینے کے روزے دس مہینوں کے برابر ہوئے اور شوال کے چھ روزے اسی اصول کے مطابق ساٹھ دن یعنی دو ماہ کے برابر ہوئے‘ اس طرح رمضان کے روزے کے عوض دس ماہ اور شوال کے روزے کے عوض دو ماہ ہوئے اس طرح ۱۲ مہینے یعنی پورے سال کے روزے کا ثواب مل گیا۔ جو شخص یہی عمل ہر سال کرتا رہا وہ تو یوں ہے کہ جیسے ساری زندگی روزے کی حالت میں رہا۔
شوال کے روزے جو کہ نفلی ہیں رکھنے کی کوشش کی جائے۔ رمضان کے روزے تو مسلسل ایک ماہ رکھنا ہوتے ہیں مگر شوال کے چھ روزے جس طرح آسانی ہو رکھے جا سکتے ہیں، اکٹھے رکھ لئے جائیں یا درمیان میں ناغہ ہو جائے تو کوئی حرج نہیں، شرط یہ ہے کہ یہ روزے دو شوال سے ۲۹ شوال تک رکھے جائیں۔ شوال گذرنے کے بعد وہ ثواب نہیں ہو گا جو شوال کے ساتھ خاص ہے۔
بعض لوگ اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ شوال کے روزے لازمی ہیں یہ بات کسی حدیث سے ثابت نہیں ہر انسان کو اپنی صوابدید کے مطابق شوال کے روزے رکھنے کی اجازت ہے۔

No comments:

Post a Comment