Idaria22-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Tuesday, June 11, 2019

Idaria22-2019


اداریہ ... رمضان المبارک کے تاریخی واقعات


رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے اور عید کی آمد آمد ہے۔ ان لوگوں کی بڑی خوش نصیبی ہے جنہوں نے ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے دن کو صیام اور رات کو قیام کیا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے اپنے سابقہ گناہوں کی بخشش کا سامان کر لیا۔ رمضان کا مہینہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ وہ سب مہینوں پر عظمت وبرتری اور فوقیت رکھتا ہے۔ اس کی بہاریں کبھی خزاں آشنا نہیں ہوتیں اور اس میں انوار کے دن اور برکات کی راتیں اہل ایمان کے لیے بہت بڑی نعمت ہیں۔ اس ماہ مبارک میں بہت سے اہم واقعات رونما ہوئے جنہوں نے نہ صرف جغرافیہ بلکہ تاریخ بدل ڈالی اور عالم انسانیت میں ایسا صحتمند انقلاب برپا کر دیا جس کی مثال نہیں ملتی۔ چند واقعات کا تذکرہ اختصار کے ساتھ نذر قارئین کیا جاتا ہے۔ اسی مہینہ میں عالم انسانیت کی رہنمائی‘ رشد وہدایت اور اصلاح وترقی کے لیے قرآن مجید نازل ہوا جس نے انسان کو ضلالت وگمراہی کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان کی روشنی عطاء کی۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کو لیلۃ القدر کی شب کو نازل فرمایا جس رات کی فضیلت ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ قرآن پاک کا یہ کتنا بڑا اعجاز ہے کہ روئے زمین کی یہ واحد کتاب ہے جسے دن میں پانچ مرتبہ کروڑوں بنی آدم پڑھ لیتے ہیں۔
17 رمضان 2ھ میں بدر کے مقام پر حق و باطل کے درمیاں فیصلہ کن جنگ ہوئی جس میں اہل ایمان کو فتح نصیب ہوئی۔ اسلامی لشکر کا سب سے بڑا ہتھیار اللہ اور رسول اللہe پر ایمان، ان کی سچی محبت اور نصرت الٰہی پر یقینِ کامل تھا۔ 8 رمضان\  8ھ کو نبی اکرمe اور صحابہ کرام غزوۂ تبوک سے فتح یاب ہو کر مدینہ منورہ تشریف لائے۔ 20رمضان المبارک 8ھ کو رسول اللہe دس ہزار مجاہدین اسلام کی معیت میں مکہ مکرمہ میں فاتحانہ انداز میں داخل ہوئے اور مجاہدین کو آپ نے حکم دیا کہ\ جو شخص ہتھیار پھینک دے اسے قتل نہ کیا جائے۔ \ جو شخص خانہ کعبہ میں داخل ہو جائے اسے قتل نہ کیا جائے۔ \ جو شخص اپنے گھر کے اندر بیٹھا رہے، اسے قتل نہ کیا جائے۔ \ جو شخص ابوسفیان اور حکیم بن حزام کے گھر میں داخل ہو جائے اسے قتل نہ کیا جائے۔ \ بھاگ کر جانے والے کا تعاقب نہ کیا جائے۔ \ زخمی کو قتل نہ کیا جائے۔ \ اسیروں کو قتل نہ کیا جائے۔ رسول اللہe کا یہ فرمان فاتحین کے لئے تاقیامت مشعل راہ رہے گا۔ 13 رمضان المبارک 15ھ کو امیر المومنین سیدنا عمر فاروقt فلسطین پہنچے تو بیت المقدس شہر کے نگران نے چابی آپ کے حوالے کر دی۔ آپ نے شہر میں داخل ہو کر شہریوں کو جان و مال کی امان لکھ دی۔ یکم رمضان 20ھ کو سیدنا عمر فاروقt کے عہد میں ہی سیدنا عمرو بن العاصt کے ہاتھوں مصر فتح ہوا۔ 4 رمضان 92ھ کو مسلمانوں نے طارق بن زیادa کی کمان میں سپین کے شہر القوط کو فتح کر لیا اور سپین کا کمانڈر مسلمانوں کے ہاتھوں ہلاک ہوا۔ آٹھ سو سال تک مسلمانوں نے سپین پر حکومت کی۔ 10 رمضان ۲۱۳ھ میں محمد بن قاسمa نے دریائے سندھ کے کنارے راجہ داہر کی فوجوں پر فتح حاصل کی۔ 9 رمضان 213ھ کو مسلمان جزیرہ صقلی کے ساحل پر پہنچے اور اسلام پھیلانے کے لئے یہاں کا اقتدار سنبھال لیا۔ 27 رمضان المبارک ۱۳۶۶ھ (14 اگست 1947ء) کو اسلامی جمہوریہ پاکستان معرض وجود میں آیا۔ اللہ کرے یہ صحیح معنوں میں پاکستان بن جائے، ایسے ہی بے شمار واقعات رمضان المبارک میں رونما ہوئے، جنہوں نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔
بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ امت مسلمہ ایک عرصہ سے ملتِ کفر کے ظلم و ستم کا شکار ہے۔ اس کے ناتواں وجود کو اسلام {وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا} کا درس اور حوصلہ و امید کا پیغام دیتا ہے اور تنبیہہ بھی وارد ہوئی ہے کہ اگر وہ آسمانی حقیقت کا ادراک نہیں کرے گی تو مصائب و آلام میں کمی کی بجائے اضافہ ہوگا اور مسلمانوں کی شوکت و عظمت کے اجتماع بھی اس کے حقیقی مقاصد سے تہی دامن ہو جائیں گے، جیسا کہ علامہ اقبالؒ نے کہا تھا    ؎
عیدِ آزاداں شکوۂ ملک و دیں
عیدِ محکوماں ہجومِ مومنیں
یہ کس قدر تلخ حقیقت ہے کہ اسلامی ممالک جو قدرتی وسائل، افرادی قوت، مال و دولت اور سامان حرب کی فراوانی کے باوجود اپنے وسائل آزادی کے ساتھ استعمال کرنے کے حق سے محروم ہیں‘ غیروں نے ان کی آزادی پر پہرے بٹھا رکھے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر، افغانستان، عراق، شام، بھارت، برما، ایریٹیریا اور فلسطین کے مجبور و مقہور مسلمان آئے روز آتش و آہن کا نشانہ بن رہے ہیں اور ستم یہ ہے کہ ہمارے حکمران ملک میں ریاست مدینہ کے احیاء کے لیے کوشاں نہیں۔ پھر ستم یہ بھی ہے کہ امریکہ ہمارے داخلی مسائل میں اس قدر دخیل ہو چکا ہے کہ حکومت اس کے آگے بے بس نظر آتی ہے۔ ہر ماہ پٹرولیم، گیس اور بجلی کے نرخوں میں اضافہ اور کمرتوڑ مہنگائی پر عوام چیخ رہے ہیں۔ ضروریات زندگی کی اشیاء گراں تر ہو رہی ہیں۔ ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ملک کئی بحرانوں کا شکار ہے۔ سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور با اثر شخصیات کے اربوں روپے کے قرضے معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ ضرورت یہ ہے کہ وہ قومی سرمایہ واپس لے کر عوام کی فلاح و بہبود پر صرف کیا جائے اور اقربا پروری اور کرپشن کے تمام دروازے بند کیے جائیں۔  پچھلے دنوں عدلیہ نے قرضے معاف کرانے والوں کا کیس شروع کیا تھا پھر خاموشی ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ روزہ جس طرح انسان کو بھوک اور پیاس کا احساس دلاتا ہے، اسی طرح مخیر حضرات کی توجہ بھی مبذول کرواتا ہے کہ وہ فقراء و مساکین کی بنیادی ضروریات کے لئے ان سے لوجہ اللہ تعاون کریں تا کہ وہ بھی سحری و افطاری کا اہتمام کر سکیں اور عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔ رمضان المبارک میں روزہ دار نے جس طرح روزے کے تقاضے پورے کئے، گناہوں سے اجتناب کیا اور نیکیوں میں سبقت حاصل کرنے کی کوشش کی‘ اسی طرح ضروری ہے کہ ہم رمضان کے بعد بھی اپنی زندگیوں کو کتاب و سنت کی تعلیمات کے تابع رکھیں۔ منکرات سے بچتے رہیں۔ نیکی کی تلقین کرتے رہیں۔ غیر ملکی مداخلت کے خاتمہ اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے اس قوت کا ساتھ دیں جو اس کے لیے کوشاں ہے۔

No comments:

Post a Comment