Idaria23-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, June 15, 2019

Idaria23-2019


اداریہ ... اِصلاحِ معاشرہ میں حسن اخلاق کا کردار

آج ہمارا معاشرہ جس برق رفتاری کے ساتھ روبہ انحطاط ہے وہ ہر باشعور شہری کے لئے باعث تشویش ہے۔ آئے روز چوری، ڈکیتی، قتل و غارت گری، رشوت ستانی، بدعات کی فراوانی، بے پردگی، فحاشی، ناپ تول میں کمی، ٹی وی کی یلغار، اغوا‘ اور دہشت گردی کے واقعات کا رونما ہونا مسلم معاشرے کے چہرے پر بدنما داغ ہے۔ ایسے واقعات اس امر کے غماز ہیں کہ یہاں اسلامی تعلیمات اور اخلاقی ضابطے یکسر نظر انداز اور فراموش کئے جا رہے ہیں، جب کہ اسلام نے اپنی تعلیمات میں حسن اخلاق کو بڑی اہمیت دی ہے اور وہ اخلاقی اقدار کی بنیاد پر ایسے معاشرے کی تشکیل چاہتا ہے۔ جو ہر قسم کی مفاد پرستی، لوٹ کھسوٹ، ظلم و نا انصافی، اخلاقی بے راہروی سے پاک اور خلوص و صداقت‘ امانت و دیانت‘ اکل حلال و صدق مقال اور ایثار و ہمدردی کا آئینہ دار ہو۔
یہ حقیقت ہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو ہر شعبۂ حیات میں انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔ اگرچہ دوسرے مذاہب کے لوگ اپنی اخلاقی قدروں کا دعویٰ کرتے ہیں مگر اسلام کی تعلیمات و ہدایات میں جو جامعیت و کمال‘ رفعت و بلندی اور حسن و خوبی موجود ہے دوسرے مذاہب ان سے تہی دامن ہیں۔ رسول مکرمe کا ارشاد گرامی ہے کہ [اِنَّمَا بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْاَخْلاَق] کہ میں حسن اخلاق کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا ہوں۔ آپe کی حیات طیبہ شاہد ہے کہ آپ کے حسن اخلاق سے متاثر ہو کر بہت سے لوگ حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ آپe کی پوری حیاتِ مبارکہ حسن عمل اور حسنِ اخلاق کا ارفع و اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی سیرت طیبہ کو پوری انسانیت کے لئے اسوۂ حسنہ قرار دیا ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ اسوۂ حسنہ کے تابندہ نقوش پوری جامعیت اور اکملیت کے ساتھ اسوۂ محمدیؐ کے علاوہ کہیں نظر نہیں آتے۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہr سے آپe کے اخلاق کے بارے سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ کَانَ خُلُقُہٗ الْقُرْآنُ گویا آپ کی پوری زندگی قرآن پاک کی عملی تفسیر ہے۔ قرآن مجید کا یہ بھی ارشاد ہے: وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ کہ آپؐ اخلاق کے بلند مرتبہ پر فائز ہیں۔
آپ جانتے ہیں کہ اسلام نے جہاں عبادتِ خداوندی اور حسن معاملات پر زور دیا ہے، وہاں حسن اخلاق کو بھی اپنی تعلیمات میں اہم مقام دیا ہے۔ دراصل عبادات بھی انسان کے اخلاق حسنہ کی تکمیل کرتی ہیں۔ جس طرح نماز بے حیائی اور فواحش سے روکتی ہے‘ روزہ تقویٰ و طہارت پیدا کرتا ہے‘ اسی طرح دوسری عبادات سے مقصود بھی انسان کو پکا سچا اور با اخلاق مسلمان بنانا ہے۔ حسن اخلاق کے بارے میں رسول اکرمe کے چند ارشادات کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیے:
\          مومنوں میں سب سے زیادہ کامل ایمان ان لوگوں کا ہے جن کے اخلاق اچھے ہیں۔
\          تم میں سے بہتر سب سے اچھے اخلاق والے ہیں۔
\          بہترین چیز جو لوگوں کو عطا کی گئی ہے وہ اچھی عادت ہے۔
\          اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کے سب سے محبوب بندے وہ ہیں جو اچھے اخلاق کے مالک ہیں۔
\          حسن اخلاق والا شخص قیامت کے روز میرا قریب ترین ساتھی ہوگا۔
\          آپ e نے بدخلقی کو بدبختی کے مترادف قرار دیا ہے۔
ان تعلیمات سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام جس طرح انسان کی اخروی زندگی کو کامیاب و سرخرو بنانا چاہتا ہے اسی طرح دنیوی زندگی کو بھی اسلام کے مطابق حسن و خوبی کے ساتھ گزارنے کی تلقین کرتا ہے۔ دراصل اسلام کا منشا یہ ہے کہ انسان دنیا میں اپنے باہمی تعلقات کو حسن سلوک‘ معاملات کو عدل و انصاف اور حقوق و فرائض کو اعتدال و توازن کے ساتھ انجام دے تا کہ صحت مند اور صالح معاشرہ وجود میں آ سکے۔ اسی طرح اخروی زندگی میں کامیابی کے لئے اللہ تعالیٰ کے آگے جبینِ نیاز جھکانے، تقویٰ و طہارت اپنانے، قول و عمل میں یکسانیت پیدا کرنے اور اخلاقی قدروں کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ حقیقی بات یہ ہے کہ اسلام کے ضابطۂ اخلاق پر کاربند ہونے سے معاشرہ شر و فساد اور بے راہروی سے محفوظ رہ سکتا ہے اور اسی ضابطے کی آغوش میں انسانیت بہار زندگی سے ہمکنار ہو سکتی ہے۔ شاعر نے خوب کہا ہے  ؎
آسائش دو گیتی تفسیر ایں دو حرف است
بادوستاں تلطف بادشمناں مدارا
ذرا عہدِ رسالتؐ کو پیشِ نظر رکھیے کہ رسول مکرمe نے اپنی امت کی تعلیم و تربیت کا فریضہ اس حسن و خوبی اور اخلاق کریمانہ کے ساتھ سرانجام دیا کہ تئیس سال کے مختصر عرصہ میں آپؐ نے جہالت میں ڈوبی ہوئی قوم کو علم و آگہی سے آراستہ کر دیا۔ چوری اور لوٹ مار کے عادی دوسروں کے مال و دولت کے محافظ بن گئے۔ درندہ صفت اور بدکاری کے رسیا‘ عصمتوں کے نگہبان ہو گئے۔ درندہ صفت اور وحشی لوگ کاروانِ انسانیت کے امام بن گئے۔ الغرض آپؐ کی تعلیمات اور حسن اخلاق سے ایسا معاشرہ وجود میں آیا جس کی مثال ناپید ہے۔
اس وقت ہمارا معاشرہ جن اخلاقی، معاشرتی، سیاسی اور دیگر ناہمواریوں کی آماجگاہ بن چکا ہے اس میں صحت مند تبدیلی لانے کے لئے ضروری ہے کہ ہم انہی ضابطوں اور اصولوں پر عمل پیرا ہو جائیں اور انہیں دل و جان سے اپنا لیں۔ جن اصولوں سے نبی اکرمe نے انسانوں کی اصلاح و تربیت کا بیڑا اٹھایا تھا۔ کیونکہ انہی اصولوں کو اپنانے سے انسانیت امن و راحت کی آغوش میں پنپ سکتی ہے اور معاشرے میں صحت مند انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔

No comments:

Post a Comment