Khutba23-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, June 15, 2019

Khutba23-2019


رمضان کے بعد ہماری زندگی

امام الحرم المکی فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر سعود الشریمd
4 شوال 1440ھ بمطابق  7 جون  2019ء
حمد و ثناء کے بعد!
اللہ کے بندو ، اللہ کا تقوی اختیار کرو ، جب تک تم زمانہ مہلت میں ہو‘ اللہ کا تقوی اختیار کرو‘ اس لئے کہ وقت تیزی سے گزرنے والا اور آہستہ لوٹنے والا ہے ۔
تمہیں زائل ہونے والی دنیا باقی رہنے والی آخرت سے غفلت میں نہ ڈال دے ، اس لئے کہ جو تمہارے پاس ہے وہ ختم ہو جائے گا اور جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور اچھا انجام متقین کا ہے۔
اللہ کے بندو! رات و دن کی حرکت ہمیں زمانے کے قریب ہونے اور اس کے تیزی سے گزرنے کا احساس دلاتی ہے، جیسا کہ وقت بادل کی تیز رفتاری کی طرح گزر رہا ہے، یہاں تک کہ ہم میں سے ہر ایک اس کی تیز رفتاری کا مظاہرہ کرتا ہے ،کہ ہفتہ دن کی طرح اور مہینہ ہفتے کی طرح اور سال مہینے کی طرح گزرتا ہے ۔
ہم اپنے دین کے ذریعے یہ بات جانتے ہیں کہ یہ چیز قیامت کی نشانیوں میں سے ہے ،جیسے کہ صادق مصدوق نبیe کی صحیح حدیث ہے ۔
اللہ کے بندو! یہ سب عقل و دانشمند کو بیدار کرنے کے لئے عظیم موقع ہے کہ وہ نیکی کے کام ، اور سچی توبہ کریں نیز اچھائی کو پھیلانے اور برائی کو روکنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے :
{وَہُوَ الَّذِی جَعَلَ اللَّیْلَ وَالنَّہَارَ خِلْفَۃً لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یَذَّکَّرَ اَوْ اَرَادَ شُکُورًا} (الفرقان: ۶۲)
’’وہ ہی ہے جس نے رات دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے والا بنایا تاکہ جو چاہے نصیحت حاصل کرے یا شکر گزاری کرے۔‘‘
اللہ کے بندو! جب برائی کا کام قبیح ہے، تو نیکی کے بعد برائی کرنا کتنا گھناؤنا اور قبیح ترین ہو گا۔
اگر نیکیاں برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں تو نیکی کے بعد برائی نیک اعمال کو گدلا کر دیتی اور اس میں رکاوٹ ڈالتی ہے ۔
ہمارے نبیe اطاعت کے بعد معصیت سے پناہ مانگتے تھے ۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے:
{وَلَا تَکُونُوا کَالَّتِی نَقَضَتْ غَزْلَہَا مِنْ بَعْدِ قُوَّۃٍ اَنْکَاثًا} (النحل: ۹۲)
’’اور اس عورت کی طرح نہ ہو جاؤ جس نے اپنا سوت مضبوط کرنے کے بعد ٹکرے ٹکرے کر ڈالا۔‘‘
اللہ کے بندو ! اسی لئے جو شخص ذمہ داری پوری کرنے کے بعد کوتاہی کرے، یا گناہوں کو چھوڑنے کے بعد دوبارہ کرنے لگے تو اس کا شمار ان لوگوں میں ہو گا جنہوں نے اطاعت کے ذریعے کامیابی حاصل کی اور پھر اس کو برباد کیا ۔
اگرچہ اس نے معمولی موسمی عبادتوں کے ذریعے اپنے نفس کو دھوکے میں رکھا، مگر وہ اپنی جگہ سے نہیں ہٹا ۔
یہ اس وقت ہوتا ہے جب نیکی کرتے وقت مناجات کی لذت اور عبادت کی حلاوت سے محرومی ہو ، اور نیکی سے پہلے والی حالت پر دوبارہ لوٹنے کا عزم ہو۔
اے اللہ کے بندو غور کرو! اے اللہ کے بندو غور کرو!  کہ تم نے رمضان کے مہینے میں عبادت کے کچھ مزے کو چکھا ہے ، اب ہرگز اس مزے کو ان چیزوں سے خراب نہ کرو جو انہیں معیوب کر دیں ۔
آپ عبادت پر مداومت اختیار کرو اگرچہ وہ کم ہی کیوں نہ ہو، اس لئے کہ عبادت میں مقدار مطلوب نہیں بلکہ کیفیت مطلوب ہے۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے :
{لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا} (الملک: ۲)
’’تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ کون اچھا عمل کرتا ہے۔‘‘
یہ نہیں کہا کہ زیادہ عمل کون لاتا ہے ،اللہ کے حکم سے کم عمل پر مداومت عبادت میں نشاط و قوت کے بعد سستی میں مبتلا ہونے سے نگرانی کرتا ہے ۔
اللہ کے رسولe نے فرمایا:
’’تم پر اتنا عمل ضروری ہے جتنے کی تم طاقت رکھتے ہو ، اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نہیں اکتاتا یہاں تک کہ تم اکتا جاؤ، اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ دین وہ ہے جس پر اس کا ماننے والا مداومت اختیار کرے۔‘‘ (صحیح مسلم )
اللہ کے بندو! جان لو توفیق یافتہ انسان اپنے اوقات کو اللہ کی اطاعت میں گزارتا ہے غرض یہ کہ کھڑے بیٹھے ، چلتے پھرتے اور پہلو کے بل بھی اللہ کی عبادت کرتا ہے ، نیز ہر وقت اپنے خالق کی معرفت رکھتا ہے خواہ وہ رمضان ، شوال یا سال کا کوئی بھی مہینہ یا وقت ہو ۔
یہ کہ ان اوقات کے متعلق سارے انسان بلا تفریق سوال کیے جائیں گے، سال کے تمام مہینے ہیں کہ انسان کی عمر کا وقت ان میں گزرتا ہے اور وہ بلا شک و شبہ اپنی عمر کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
نبیe نے فرمایا اور آپ صادق مصدوق ہیں: بندے کے قدم قیامت کے دن نہیں ہل سکیں گے یہاں تک کہ چار چیزوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ (ابن ماجہ)
توفیق یافتہ انسان عبادت کو کسی مہینے میں چھوڑ کر دوسرے مہینے میں محصور نہیں کرتا اس لئے کہ و ہ جانتا ہے کہ رمضان کا رب ہی شوال اور باقی مہینوں کا رب ہے۔
چنانچہ یہ توفیق یافتہ انسان اسی وقت جان لیتا ہے کہ عبادت کے موسم ایک دوسرے پر فضیلت تو رکھتے ہیں لیکن ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں الگ نہیں۔
جبکہ لوگوں میں کم عقل لوگوں کا یہ گمان ہے کہ رمضان کا مہینہ استثنائی مہینہ ہے اور وہ رمضان سے قبل اور اس کے بعد کی معصیت کے درمیان فاصل ہے، اور اللہ کی قسم یہ یقینا جہالت، کج روی اور بصیرت کی کمی ہے ۔
اسی طرح توفیق یافتہ انسان یہ جانتا ہے کہ مشروع عید کی خوشی عبادت ہے جس طرح اس کا مشروع روزہ عبادت ہے ۔
جب رمضان کا مہینہ ایک مہینے میں کئی طرح کی عبادات کے اجتماع سے مخصوص ہے انسان اس میں چھوڑنے اور آراستہ کرنے کے مابین جمع کرتا ہے ، تو ان اکٹھی عبادتوں کو بندہ بقیہ مہینوں میں اپنے سامنے الگ الگ پاتا ہے ۔
پھر کون سی چیز اس کو شوال کے مہینے میں پیر اور جمعرات اور ایام بیض کے روزوں سے روکتی ہے ، اور کون سی چیز اس کو صدقہ ، ذکر اور قرآن کی تلاوت سے روکتی ہے ؟اسی طرح سال کے باقی مہینوں کے متعلق بھی یہ ہی بات ہے۔
نبیe نے شوال کو چھ روزوں سے خاص فرمایا جیسے کہ آپe سے ثابت ہے، جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو گویا کہ اس نے سال بھر روزے رکھے۔(صحیح مسلم)
حاصل کلام یہ ہے کہ نیکی کا اجر دس گنا ملتا ہے رمضان کے روزے دس ماہ کے روزوں کے برابر ہیں اور شوال کے چھ روزے ساٹھ روزوں(دو ماہ)کے برابر ہیں تو گویا کل تعداد بارہ مہینے کی ہو گئی،  یعنی مکمل زمانہ اور زمانہ سے مراد سال ہے ۔
یہ بندوں پر اللہ کی رحمت ہے کہ ان کو پورے سال کے روزوں سے منع فرمایا ہے جیسے کہ اس بارے میں نبیe سے صحیح روایات میں ثابت ہے ۔
تو ان کے لئے رمضان کے مکمل اور شوال کے چھ روزوں میں پورا سال روزہ رکھنے کا اجر ملتا ہے ،اور یہ اجر پورے سال کے روزے کی ممانعت میں مبتلا ہوئے بغیر ملتا ہے ، یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور اللہ عظیم فضل والا ہے۔
شوال کے مہینے کو ایسی خصوصیات سے مختص کیا گیا ہے جو اس کے علاوہ مہینوں میں نہیں ہیں ، وہ یہ کہ ماہ شوال ان معروف مہینوں میں پہلا ہے جن میں حج فرض ہے اور وہ شوال ، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ کے دس دن ہیں ۔
اسی طرح شوال کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ اس میں عید الفطر ہے ،اسی طرح اس میں چھ روزوں کو بھی مخصوص فرمایا۔
اللہ کے بندو خلاصہ کلام یہ ہے کہ مسلمان بندہ ہر وقت اور ہر حال میں اللہ کی عبادت کرتا ہے یہاں تک کہ وہ لقمہ جو وہ اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتا ہے اس پربھی اس کو اجر ہے ۔
برائیوں کے مٹانے میں اللہ کے لئے توحید کو خالص کرنے سے زیادہ عظیم کوئی چیز نہیں ،پھر نیکیوں کی کثرت جن کے ذریعے انسان اپنے نامہ اعمال میں اضافہ کرتا ہے۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے:
{وَاَقِمِ الصَّلَاۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّیْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّئَاتِ ذَلِکَ ذِکْرَی لِلذَّاکِرِینَ} (ہود: ۱۱۴)
’’اور دن کے دونوں کناروں میں نماز قائم کر اور رات کی کچھ گھڑیوں میں بھی‘ بے شک نیکیاں برائیوں کو لے جاتی ہیں۔‘‘
میں اسی بات پر اکتفا کرتا ہوں اپنے لئے اور تمام مسلمانوں کے لئے اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں‘ آپ بھی اسی سے مغفرت طلب کریں وہ بہت زیادہ معاف کرنے والا نہایت مہربان اور رحم کرنے والا ہے ۔
دوسرا خطبہ
حمد و صلاۃ کے بعد!
سب سے بہترین بات اللہ کا کلام اور سب سے بہترین طریقہ محمدe کا طریقہ ہے ، نیز سب سے بری بات دین میں نئی چیزوں کا ایجاد کرنا ہے ، دین میں ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے ،
تم مسلمانوں کی جماعت کو لازم پکڑو اس لئے کہ جماعت پر اللہ کا ہاتھ ہوتا ہے ۔جو جماعت سے الگ ہوا وہ جہنم میں ڈال دیا گیا ۔
اللہ کے بندو ، اللہ کا تقوی اختیار کرو ، اور جان لو جو رمضان کی عبادت کرتا تھا تو رمضان چلا گیا اور فوت ہو گیا، اور جو اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے اس کو موت نہیں ۔
عقلمند وہ ہے جس نے محاسبہ نفس کیا اور اللہ کی عبادت کی اور موت کے بعد کے لئے عمل کیا۔
عاجز وہ ہے جس کے نفس نے خواہشات کی پیروی کی اور اللہ سے امیدیں لگائیں۔
جان لو کہ انسان اپنی عمر کو اپنے رب کی ناراضگی کی چیزوں میں ضائع نہ کرے اور تمام مہینوں میں خیر کو غنیمت جاننے میں کوتاہی نہ کرے نیز خیر کے حصول کے لئے اللہ سے مدد طلب کرے ، جیسے کہ نبیe اپنی مشہور دعا میں کہا کرتے تھے،۔
’’زندگی میں خیر کو میرے لئے ہر طرح کے اضافے کا ذریعہ بنا دے۔‘‘
وہ خیر کو صرف رمضان میں محدود نہ کرے ،بلکہ خیر تو ہر زمانے میں ہے ،اسے تلاش کرنا ہر وقت مطلوب ہے، یہ سب اللہ جلّ جلالہ کے حکم کی تکمیل ہے ۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے:
{وَاعْبُدْ رَبَّکَ حَتَّی یَأْتِیَکَ الْیَقِینُ}
’’اپنے رب کی عبادت کر یہاں تک کہ تجھے موت آلے۔‘‘ (الحجر: ۹۹)
عبادت اور اللہ سے قریب ہونے کی موت کے سوا کوئی انتہا نہیں۔
اللہ کے بندو! بندگی پر مداومت اور اللہ کی رضا تلاش کرنے میں جمے رہنے کا بھر پور خیال رکھیں اور ڈٹے رہیں۔
خیر‘ نیکی اور حسن سلوک کی راہ پر برابر چلنے سے کمزور نہ پڑھیں اور سستی نہ برتیں ،
اللہ تعالی کا فرمان ہے :
{إِنَّمَا یُوَفَّی الصَّابِرُونَ اَجْرَہُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ}
’’بیشک صبر کرنے والوں ہی کو ان کا اجر بے شمار دیا جائے گا۔‘‘ (الزمر: ۱۰)
انسان دنیا کی مہلت میں ہے‘ ان چیزوں کے اوقات کو غنیمت جاننے میں کوتاہی نہ کرے جو اللہ کو راضی کریں ، تمہارے اموال و اولاد اور تمہاری عیدیں تمہیں رب کی اطاعت سے غافل نہ کر دیں ،اس لئے کہ موت اچانک آئے گی ،
حساب سخت ہے‘ ندامت بڑی ہوگی اور وہ ندامت کی گھڑی نہ ہو گی۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے:
{یٰٓاَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تُلْہِکُمْ اَمْوَالُکُمْ وَلَا اَوْلَادُکُمْ عَنْ ذِکْرِ اللَّہِ وَمَنْ یَفْعَلْ ذَلِکَ فَاُولَئِکَ ہُمُ الْخَاسِرُونَ٭ وَاَنْفِقُوا مِنْ مَا رَزَقْنَاکُمْ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَاْتِیَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ فَیَقُولَ رَبِّ لَوْلَا اَخَّرْتَنِی إِلَی اَجَلٍ قَرِیبٍ فَاَصَّدَّقَ وَاَکُنْ مِنَ الصَّالِحِینَ٭ وَلَنْ یُؤَخِّرَ اللَّہُ نَفْسًا إِذَا جَائَ اَجَلُہَا وَاللَّہُ خَبِیرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ} (المنافقون: ۹-۱۱)
’’اے ایمان والو! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کی یاد سے غافل نہ کر دیں جو ایسا کرے گا تو وہ ہی خسارہ اٹھانے والا ہے ، اور اللہ نے جو تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کیا کرو اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کو موت آ جائے پھر وہ کہے اے رب! تو نے مجھے تھوڑی مہلت کیوں نہ دی کہ میں صدقہ کرتا اور نیکوں میں ہو جاتا، اور جب کسی کا جانے کا وقت آ جائے تو اللہ ہر گز مہلت نہیں دے گا، اور جو تم کر رہے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔‘‘
یا اللہ مسلمانوں میں مومنین کے غموں کو دور کر کے کشادگی فرما۔ پریشان حالوں کی پریشانیاں دور فرما۔ مقروضوں کے قرضے اتار دے۔ ہماری اور مسلمانوں کی بیماریوں کو اپنی رحمت سے شفاء عطا فرما۔ یا ارحم الراحمین۔
یا اللہ ہمارے دلوں کو تقوی دے، ان کو پاکیزہ کر دے ، تو ہی ان کو سب سے بہتر پاک کرنے والا ہے۔
یا اللہ ہمیں ہمارے ملکوں میں امن عطا فرما، اور ہمارے ائمہ، اور حکمرانوں کی اصلاح فرما۔اور اس کو ہمارا ولی بنانا جو تجھ سے ڈرتا‘ متقی اور تیری رضا کی پیروی کرنے والا ہو۔ آمین!

No comments:

Post a Comment