Mz22-01-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Tuesday, June 11, 2019

Mz22-01-2019


عید الفطر ... اجتماعیت کا پیغام

تحریر: جناب مولانا ابوالکلام آزاد
دنیا کو جو کچھ دیا گیا تھا وہ سب کچھ مع خدا کی نعمتوں کے اور عطا کردہ فضیلتوں کے اس ماہ کے اندر بخش دیا گیا۔ یہی مہینہ تھا جس میں ارضِ الٰہی کی روحانی اور جسمانی خلافت کا ورثہ ایک قوم سے لے کر دوسری قوم کو دیا گیا اور یہ اس قانون الٰہی کے ماتحت ہوا جس کی خبر داؤدu کو دی گئی تھی:
﴿وَ لَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصّٰلِحُوْنَ۰۰۱۰۵﴾ (الأنبيآء)
’’اور ہم نے زبور میں پند و نصیحت کے بعد لکھ دیا تھا کہ بے شک زمین کی خلافت کے، ہمارے صالح بندے وارث ہوں گے۔‘‘
اس قانون کے مطابق دو ہزار برس تک ’’بنی اسرائیل‘‘ زمین کی وراثت پر قابض رہے اور خدا نے ان کی حکومتوں، ان کے ملکوں اور ان کے خاندانوں کو تمام عالَم پر فضیلت دی، ارشاد فرمایا:
﴿يٰبَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِيَ الَّتِيْۤ اَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَ اَنِّيْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِيْنَ۰۰۴۷﴾ (البقرة)
’’اے بنی اسرائیل! ان نعمتوں کو یاد کرو جو ہم نے تم پر انعام کیں (اور نیز) ہم نے تم کو اپنی خلافت دے کر تمام عالَم پر فضیلت بخشی۔‘‘
یہی وہ مہینہ تھا جس میں اس الٰہی قانون کے مطابق نیابتِ الٰہی کا ورثہ ’’بنی اسرائیل‘‘ سے لے کر ’’بنی اسرائیل‘‘ کو سپرد کیا گیا۔ وہ پیمانِ محبت جو خدا نے بیابان میں ’’اسحاق‘‘ سے باندھا تھا۔ وہ پیغامِ بشارت جو ’’یعقوب‘‘ کے گھرانے کو کنعان سے ہجرت کرتے ہوئے سنایا گیا تھا۔ وہ الٰہی رشتہ جو کوہِ سینا کے دامن میں خدائے ابراہیم و اسحق نے ’’بزرگ موسیٰ‘‘ کی اُمت سے جوڑا تھا اور سرزمینِ فراعنہ کی غلامی سے ان کو نجات دلائی تھی، خدا کی طرف سے نہیں بلکہ اُن کی طرف سے توڑ دیا گیا تھا۔ داؤد کے بنائے گئے ’’ہیکل‘‘ کا دورِ عظمت ختم ہو چکا تھا اور وہ وقت آ گیا تھا کہ اب اسماعیل کی چُنی ہوئی دیواروں پر خدا کا تختِ جلال و کبریائی بچھا دیا جائے۔ یہ نصب و عزل، عزت و ذلت، قرب و بُعد اور ہجر و وصال کے دن تھے جس میں ایک محروم اور دوسرا کامیاب ہوا، ایک کو دائمی ہجر کی سرگشتگی اور دوسرے کو ہمیشہ کے لئے وصال کی کامرانی عطا کی گئی۔ ایک کا بھرا ہوا دامن خالی ہو گیا، مگر دوسرے کی آستینِ افلاس بھر دی گئی، ایک پرقہر و غضب کا عتاب نازل ہوا:
﴿وَ ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَ الْمَسْكَنَةُ١ۗ وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ﴾ (البقرة)
’’بنی اسرائیل کو (ان کی نافرمانیوں کی) سزا میں ذلت اور محتاجی میں مبتلا کر دیا گیا اور وہ اللہ کے بھیجے ہوئے غضب میں آ گئے۔‘‘
لیکن دوسرے کو اس محبت کے خطاب سے سرفراز کیا:
﴿وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ﴾ (النور: 55)
’’تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور عمل بھی اچھے کئے، خدا کا ان سے وعدہ ہے کہ ان کو زمین کی خلافت بخشے گا جس طرح ان سے بیشتر کی قوموں کو اس نے بخشی تھی۔‘‘
یہ اس لئے ہوا کہ زمین کی وراثت کے لئے عبادی الصالحون کی شرط لگا دی تھی، بنی اسرائیل نے خدا کی نعمتوں کی قدر نہ کی، اس کی نعمتوں کو جھٹلایا، اس کے احکام کی سرتابی کی، اس کی بخشی ہوئی اعلیٰ نعمتوں کو اپنے نفسِ ذلیل کی بتلائی ہوئی ادنیٰ چیز سے بدل دینا چاہا:
﴿قَالَ اَتَسْتَبْدِلُوْنَ الَّذِيْ هُوَ اَدْنٰى بِالَّذِيْ هُوَ خَيْرٌ﴾ (البقرة: 61)
’’خدا کی دی ہوئی اعلیٰ نعمتوں کے بدلے تم ایسی چیزوں کے طالب ہو جو ان کے مقابلے میں نہایت ادنیٰ ہیں۔‘‘
خدائے قدوس کی زمین کثافت اور زندگی کے لئے نہیں، وہ اپنے بندوں میں سے جماعتوں کو چُن لیتا ہے تا کہ اس کی طہارت کے لئے ذمہ دار ہوں لیکن جب ان کا وجود، زمین کی طہارت و نظامت کے لئے گندگی ہو جاتا ہے تو غیرتِ الٰہی، اس بارِ آلودگی سے اپنی زمین کو ہلکا کر دیتی ہے۔ بنی اسرائیل نے اپنے عصیان و تمرد سے ارضِ الٰہی کی طہارت کو جب داغ لگایا تو اس کی رحمتِ غیور نے ’’کوہِ سینا‘‘ کے دامن کی جگہ ’’بوقبیس‘‘ کی وادی کو اپنا گھر بنایا اور شام کے مرغزاروں سے روٹھ کر حجاز کے ریگستانوں سے اپنا رشتہ قائم کیا تا کہ آزمایا جائے کہ یہ نئی قوم اپنے اعمال سے کہاں تک اس منصب کی اہلیت ثابت کرتی ہے۔
’’اور بنی اسرائیل کے بعد پھر ہم نے تم کو زمین کی وراثت دی تا کہ دیکھیں کہ تمہارے اعمال کیسے ہوتے ہیں۔‘‘
پس یہ مہینہ بنی اسرائیل کی عظمت کا اختتام اور مسلمانوں کے اقبال کا آغاز تھا اور اس نئے دورِ اقبال کا مہینہ ’’شوال‘‘ سے شروع ہوتا تھا، اس لئے اس نے یومِ ورود کو عیدالفطر کا ’’جشنِ ملی‘‘ قرار دیا تا کہ افضالِ الٰہی کے ظہور اور قرآنِ کریم کے نزول کی یاد ہمیشہ قائم رکھی جائے اور اس احسان و اعزاز کے شکریے میں تمام اُمتِ مرحومہ اس کے سربسجود ہو:
﴿وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ اَنْتُمْ قَلِيْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِي الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ يَّتَخَطَّفَكُمُ۠ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَ اَيَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ﴾ (الأنفال)
’’اور اس وقت کو یاد کرو جب کہ مکہ مکرمہ میں تم نہایت کم تعداد میں اور کمزور تھے اور ڈرتے تھے کہ کہیں لوگ تمہیں زبردستی پکڑ کر اُڑا نہ لے جائیں۔ لیکن خدا نے تم کو جگہ دی، اپنی نصرت سے مدد کی، عمدہ رزق تمہارے لئے مہیا کر دیا اور یہ اس لئے تا کہ تم شکر ادا کرو۔‘‘
مگر یہ عیدالفطر کا جشنِ ملی، یہ درود و ذکر رحمت الٰہی کی یادگار، یہ سربلندی و افتخار کی بخشش کا بارآور، یہ یومِ کامرانی و فیروزی و شادمانی، اس وقت تک ہمارے لئے عیش و سرود کا دن تھا جب تک ہمارے سرتاجِ خلافت سے سربلند ہونے کے لئے اور جسم خلعتِ نیابت سے مفتخر ہونے کے لئے تھے۔ عزت و عظمت جب ہمارے آگے دوڑتی تھی، خدا کی نعمتوں کا ہم پر سایہ تھا اور اللہ کی بخشی ہوئی خلافت کے تختِ جلال پر متمکن تھے، لیکن اب ہمارے اقبال و کامرانی کا تذکرہ صرف صفحاتِ تاریخ کا ایک افسانۂ ماضی رہ گیا ہے۔
دنیا کی اور قومیں ہمارے لئے وسیلہ عبرت تھیں، لیکن اب خود ہمارے اقبال و ادبار کی حکایت اوروں کیلئے مثالِ عبرت ہے۔ ہم نے خدا کی دی ہوئی عزت و کامرانی کو ہوائے نفس کی بتلائی ہوئی راہِ مذلت سے بدل لیا۔ اس کے عطا کئے ہوئے منصبِ خلافت کی قدر نہ پہچانی اور زمین کی وراثت و نیابت کا خلعت ہم کو راس نہ آیا۔ اب ہمارے عید کی خوشیوں کے دن گئے، عیش و عشرت کا دور ختم ہو گیا، ہم نے بہت سی عیدیں تخت و حکومت و سلطنت پر دیکھیں اور ہزاروں شادیانے سریرِ خلافت کے آگے بجوائے، ہم پر صدہا عیدیں ایسی گزریں جب دنیا کی قومیں ہمارے سامنے سربسجود تھیں اور عظمت و شوکت کے تختے اُلٹے ہوئے ہمارے سامنے تھے۔ اب عید کے عیش و طرب کی صبحیں ان قوموں کو مبارک ہوں جن کی عبرت و تنبیہہ کیلئے اب تک ہمارا وجود بارِ زمین ہے۔ ان کو خوش نصیب سمجھئے جو اپنے دورِ اقبال کے ساتھ خود بھی مٹ گئے۔ ہمارا اقبال جا چکا ہے، مگر ہم بذاتِ خود اب تک دنیا میں باقی ہیں شاید اس لئے کہ غیروں کے طعنے سنیں اور اپنی ذلت و خواری پر آنسو بہا کر قوموں کیلئے وجودِ عبرت ہوں۔
درکار ماست نالہ و من در ہوائے او
پروانۂ چراغ مزار خردیم ما
اس دن کی یادگار ہمارے لئے جشن و طرب کا پیام تھی۔ کیونکہ یہی دن ہمارے صحیفہ اقبال کا صفحہ اولین تھا اور اسی تاریخ سے ہمارے ہاتھوں قرآنی حکومت کا دورِ جدید قلوب و اجسام کی زمین پر شروع ہوا۔ اس دن کا طلوع ہم کو یاد دلاتا ہے کہ بداعمالیوں نے بنی اسرائیل کو دو ہزار سالہ عظمت سے محروم کیا اور اعمالِ حسنہ کے شرف و افتخار نے کیونکر ہمیں برکاتِ الٰہی کا مہبط و مورد بنایا؟ اس دن کا آفتاب جب نکلتا تو ہمیں خبر دیتا تھا کہ کس طرح خدا کی زمین نافرمانیوں کی ظلمت سے تاریک ہو گئی تھی اور پھر کس طرح ہمارے اعمال کی روشنی اُفقِ عالم پر نیر درخشاں بن کر نمودار ہوئی تھی لیکن:
﴿فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّاۙ﴾ (مريم)
’’پھر ان کے بعد ایسے ناخلف پیدا ہوئے جنہوں نے خدا کی عبادت کو ضائع کر دیا اور نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑ گئے، بس بہت جلد ان کی گمراہی ان کے آگے آئے گی۔‘‘
اب یہ روزِ یادگار اگر یادگار ہے تو عیش و شادمانی کے لئے نہیں بلکہ حسرت و نامرادی کے لئے۔ اگر یاد آور واقعہ ہے تو عطاء و بخشش کی فیروزمندی کے لئے نہیں، بلکہ ناقدری و کفران نعمت کی مایوسی و حسرت سنجی کے لئے… پہلے اس کامرانی کی یاد تھا کہ ہم دولت و قبولیت سے سرفراز ہوئے مگر اب نامرادی کی حسرت کو تازہ کرتا ہے کہ ہم نے اس کی قدر نہ کی اور ذلت و عقوبت سے دوچار ہیں۔ پہلے اس وقت سعادت کی یاد تازہ کرتا تھا جو ہمارے دولت و اقبال کا آغاز تھا اور اب اس دورِ مسکنت و ذلت کا زخم تازہ کرتا ہے جو ہماری عزت و کامرانی کا انجام ہے۔ پہلے یکسر جشن و نشاط تھا مگر اب یکسر ماتم و حسرت، جشن تھا تو قرآن کریم کے نزول کی یادگار کا، جس نے پہلے ہی دن اعلان کر دیا تھا:
﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا﴾ (الأنفال: 29)
’’مسلمانو! اگر تم خدا سے ڈرتے رہے اور اس کے احکام سے سرتابی نہ کی تو وہ تمام عالَم میں تمہارے لئے ایک امتیاز پیدا کر دے گا۔‘‘
اور اب ماتم ہے تو اسی قرآن کی پیش گوئی کے ظہور کا کہ:
﴿وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِيْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِيْشَةً ضَنْكًا﴾ (طٰهٰ: 124)
’’اور جس نے ہمارے ذکر سے روگردانی کی، اس کی زندگی دنیا میں تنگ ہو جائے گی۔‘‘
پہلے اس کی بشارت کو یاد کر کے جشن مناتے تھے اور اب وہ وقت ہے کہ اس کی وعید کے نتائج کو گردوپیش دیکھ کر عبرت پکڑیں۔ اب عید کا دن ہمارے لئے عیش و نشاط کا دن نہیں رہا، البتہ عبرت و موعظت ایک یادگار ضرور ہے:
﴿وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا وَّ صَرَّفْنَا فِيْهِ مِنَ الْوَعِيْدِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُوْنَ اَوْ يُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا۰۰۱۱۳﴾ (طٰهٰ: 113)
’’ایسا ہی ہم نے قرآن کو عربی زبان میں نازل کیا اور اس میں طرح طرح کی وعیدیں درج کیں تا کہ لوگ پرہیزگاری اختیار کریں یا اس کے ذریعہ سے ان دلوں میں عبرت و فکر پیدا ہو۔‘‘
دنیا میں عیش کی گھڑیاں کم میسر آتی ہیں، پھر سال بھر کے اس تنہا جشن کو کیوں نہ عزیز رکھا جائے؟ میں بھی نہیں چاہتا کہ آپ عید کی خوشیوں میں سرمستِ عیش ونشاط ہوں اور میں افسانۂ غم چھیڑ کر آپ کے لذتِ عیش کو منغض کروں مگر یقین کیجئے کہ اپنے دلِ اندوہ پرست کی بے قراریوں سے مجبور ہوں، قاعدہ ہے کہ ایک غمگین دل کے لئے عیش کی گھڑیوں سے بڑھ کر اور کوئی وقت، غم کے حوادث کا یاد آور نہیں ہوتا۔ ایک غمزدہ ماں جو سال بھر کے اندر اپنے کئی فرزندوں کو کھو چکی ہو، اگر عید کے دن اس کو اپنی بقیہ اولاد کے چہرے دیکھ کر خوشی ہو گی تو ایک ایک کر کے اس کے گُم گشتہ لختِ جگر بھی سامنے آئیں گے۔ ایسا بدبخت جو اپنا تمام مال و متاع غفلت و بے ہوشی میں ضائع کر چکا ہو، عید کے دن جب لوگوں کی زریں قباؤں اور پُر جواہر کلاہوں کو دیکھے گا تو ممکن نہیں کہ اس کو اپنی کھوئی ہوئی دولت کے سازوسامان یاد نہ آئیں۔
دیکھتا ہوں تو یہ جشن کی عیدیں، عیش و مسرت کا پیام نہیں، بلکہ یاد آور درد و حسرت ہیں، آہ! کیا دنیا میں غفلت و سرشاری کی حکومت ہمیشہ سے ایسی ہی رہی ہے؟ کیا دنیا میں ہمیشہ نیند زیادہ اور بیداری کم رہی ہے؟ یہ لوگوں کو کیا ہو گیا کہ ایک دن کی خوشیوں میں بے خود ہو کر ہمیشہ کے ماتم و اندوہ کو بھول گئے ہیں؟ بزمِ جشن کی تیاریاں کس کے لئے، جب کہ دنیا اب ہمارے لئے ایک دائمی ماتم کدہ بن گئی ہے؟ عیش و نشاط کی بزموں کو آگ لگائیے۔ عید کے قیمتی کپڑوں کو چاک چاک کر ڈالئے۔ عطر کی شیشیوں کو اپنے بخت زبوں کی طرح اُلٹ دیجئے اور اس کی جگہ مٹھیوں میں خاک بھر کر اپنے سرو سینے پر اُڑائیے، زریں کلاہوں اور ریشمی قباؤں کے پہننے کے دن اب گئے۔
ما خانہ رمیدگان ظلمیم
پیغام خوش از دیارِ ما نیست
لیکن اس طلسم سرائے ہستی کی ساری رونق انسان کی غفلت و سرشاری سے ہے۔ اس لئے ممکن ہے جشن عید کے ہنگاموں میں غم و اندوہ کی یہ آہیں آپ کے کانوں تک نہ پہنچیں۔
قومی زندگی کی مثال بالکل افراد و اشخاص کی سی ہے۔ بچپنے سے لے کر عہدِ شباب تک کا زمانہ ترقی و نشوونما و عیش نشاط کا دور ہوتا ہے۔ ہر چیز بڑھتی ہے اور ہر قوت میں افزائش ہوتی ہے۔ جو دن آتا ہے طاعتِ توانائی کا ایک نیا پیغام لاتا ہے۔ طبیعت جوش و امنگ کے نشے میں ہر وقت مخمور رہتی ہے اور اس سرخوشی و سرور میں جس طرف نظر اُٹھتی ہے، فرحت و انبساط کا ایک بہشت زار سامنے آ جاتا ہے۔ اس طلسم زارِ ہستی میں انسان سے باہر نہ غم کا وجود ہے نہ نشاط کا، البتہ ہمارے پاس دو آنکھیں ضرور ہیں جو اگر غمگین ہوں تو کائنات کا ہر ظہور غم آلود ہے اور اگر مسرور ہیں تو ہر منظر مرقع انبساط ہے۔ عہدِ شباب و جوانی میں آنکھیں سرمست ہوتی ہیں اور دل جوش و امنگ سے متوالا، غم کے کانٹے بھی تلوے میں چبھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ فرشِ گُل پر گزر رہے ہیں۔ خزاں کی افسردگی بھی سامنے ہو تو نظر آتا ہے کہ عروسِ بہار سامنے آ کھڑی ہو گئی ہے۔ دل جب خوش ہو تو ہر شے کیوں نہ خوش نظر آئے لیکن بڑھاپے کی حالت اس سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ پہلے جو چیزیں بڑھتی تھیں‘ اب روز بروز اضمحلال ہوتا ہے۔ طاقت جواب دے دیتی ہے اور عیش و مسرت کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔ جو دن آتا ہے موت و فنا کا ایک پیغام لاتا ہے اور جو دن گزرتا ہے حسرت و آرزو کی ایک یادگار چھوڑ جاتا ہے۔ دنیا کے سارے عیش و عشرت کے جلوے دل کی عشرت کامیوں سے تھے۔ لیکن دل کے بدلنے سے آنکھیں بھی بدل جاتی ہیں۔ پہلے غم کی تصویر بھی شادمانی کا مرقع نظر آتی تھی، اب خوشی کے شادیانے بھی بجتے ہیں تو ان سے در دو اندوہ کی صدائیں سنائی دیتی ہیں۔
قوموں کی زندگی کا بھی یہی حال ہے، ایک قوم پیدا ہوتی ہے بچپنے کا عہدِ بے فکری کاٹ کر جوانی کی طاقت آزمائیوں میں قدم رکھتی ہے، یہ وقت کاروبارِ زندگی کا اصلی دور اور قومی صحت و تندرستی کا عہدِ نشاط ہوتا ہے۔ یہ قوم جہاں جاتی ہے، اوج و اقبال اس کے ساتھ ہوتا ہے اور جس طرف قدم اُٹھاتی ہے، دنیا اس کے استقبال کے لئے دوڑتی ہے لیکن اس کے بعد جو زمانہ آتا ہے اس کو ’’پیری و صدعیب‘‘ کا زمانہ کہتے ہیں کہ قوتیں ختم ہونے لگتی ہیں اور چراغ میں تیل کم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ طرح طرح کے اخلاقی و تمدنی عوارض روز بروز پیدا ہونے لگتے ہیں۔ جمعیت و اتحاد کا شیرازہ بکھر جاتا ہے، اجتماعی قوتوں کا اضمحلال نظامِ ملت کو ضعیف و کمزور کر دیتا ہے، وہی زمانہ جو کل تک اس کی جوانی و طاقت کے آگے دم بخود تھا، آج اس کے بسترِ پیری کے ضعف و نقاہت کو دیکھتا ہے تو ذلت و حقارت سے ٹھکرا دیتا ہے۔ قرآن کریم نے اسی قانونِ خلقت کی طرف اشارہ کیا ہے:
﴿اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُؔعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ضُؔعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُؔعْفًا وَّ شَيْبَةً١ؕ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِيْمُ الْقَدِيْرُ۰۰۵۴﴾ (الروم)
’’اور وہ قادر مطلق ہے جس نے تم کو کمزور حالت میں پیدا کیا، پھر بچپنے کی کمزوری کے بعد جوانی کی طاقت دی۔ پھر طاقت کے بعد دوبارہ کمزوری اور بڑھاپے میں ڈال دیا، وہ جس حالت کو چاہتا ہے پیدا کر دیتا ہے اور وہی تمہاری تمام حالتوں کا علیم اور ہر حال کا ایک اندازہ کرنے والا ہے۔‘‘
شاید ہماری جوانی کا عہد ختم ہو چکا، اب ’’صد عیب و پیری‘‘ کی منزل سے گزر رہے ہیں۔ ہمارا بچپن جس قدر حیرت انگیز اور جوانی کی طاقتیں جس درجہ زلزلہ انگیز تھیں، دیکھتے ہیں تو بڑھاپے کے ضعف و نقاہت کو بھی اتنا ہی تیز پاتے ہیں۔ شاید اس کے بعد اب منزلِ فنادر پیش ہے۔ چراغ تیل سے خالی ہوتا جاتا ہے اور چولہا خاکستر سے بھرتا جاتا ہے۔ گزشتہ باتوں کی صرف ایک یاد رہ گئی ہے اور جوانی کے افسانے خواب و خیال معلوم ہوتے ہیں لیکن اگر ہم کو مٹنا ہی ہے تو مٹنے میں دیر کیوں ہے؟ صبحِ فنا آ گئی ہے تو شمعِ سحر کو بجھ ہی جانا چاہیے۔
جس بزمِ خیال و عظمت میں اب ہمارے لئے جگہ نہیں رہی، بہتر ہے کہ اوروں کے لئے اسے خالی کر دیں، ہم نے ایک ہزار برس سے زیادہ عرصے تک دنیا میں زندگی کے اچھے یا برے دن کاٹے اور ہر طرح کی لذتیں چکھ لیں۔ حکمرانی کے تخت پر بھی رہے اور محکومی کی خاک پر بھی لوٹے۔ علم کی سرپرستی بھی کی اور جہل کی رفاقت میں بھی رہے۔ جب عیش و عشرت کی بزم آرائیوں میں تھے تو اپنی نظیر نہیں رکھتے تھے اور اب حسرت و آرزو کے غمکدے میں ہیں تو اس میں بھی ایک شانِ یکتائی رکھتے ہیں۔ زمانے نے ہمارے مٹانے کا فیصلہ کر لیا ہے تو دیر نہ کرے لیکن گو ہم مٹ جائیں گے مگر ہمارے بٹھائے ہوئے نقشوں کا مٹانا آسان نہ ہوگا۔
تاریخ ہم کو کبھی نہ بھلا سکے گی اور ہمارا افسانہ عبرت ہمیشہ مسافرانِ عالم کو یاد آ آ کر خون کے آنسو رلائے گا  ؎
گو کہ ہم صفحہ ہستی پہ تھے اک حرفِ غلط
لیکن اُٹھے بھی تو اک نقش بٹھا کے اٹھے
رات کے پچھلے پہر کی تاریکی اور سناٹے میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں، میرا قلب مضطر اور آنکھیں اشکبار ہیں۔ آفتاب عید کے اشتیاق میں خفتگان انتظار کروٹیں بدل رہے ہیں، مگر میری نظر جھلملاتے ہوئے تارے پر ہے۔ دیکھتا ہوں رات گو تاریک ہے مگر پھر بھی ہماری اُمید کے اُفق پر ایک آخری ستارا جھلملا رہا ہے، جن کی آنکھوں نے خشک درختوں کو کٹتے دیکھا ہے، انہی آنکھوں نے خشک درختوں کو سرسبز و شاداب ہوتے بھی دیکھا ہے۔

No comments:

Post a Comment

View My Stats