Mz22-02-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Tuesday, June 11, 2019

Mz22-02-2019


لیلۃ القدر ... اِک بابرکت رات

تحریر: جناب ڈاکٹر سجاد الٰہی
اللہ تعالیٰ کی امت مسلمہ پر بہت سی مہربانیوں اور نوازشات میں سے ایک مہربانی اور نوازش یہ بھی ہے کہ امت مسلمہ کو لیلۃ القدر جیسی عظیم اور بابرکت رات سے نوازا۔ یہ ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
{لَیْْلَۃُ الْقَدْرِ خَیْْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَہْرٍ} (القدر: ۳)
’’لیلۃ القدر ہزار مہینے سے بہتر ہے۔‘‘
 اس شب میں فرشتے اور جبریل اپنے مالک کے حکم سے ہر کام پر اُترتے ہیں۔ یہ شب صبح کے نکلنے تک امان ہے۔ اس بابرکت رات کے متعلق گفتگو اگرچہ بہت طویل ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ذیل میں صرف آٹھ باتوں پر اکتفا کیا جا رہا ہے۔
1         پہلے زمانوں میں لوگ طویل عمر پایا کرتے تھے۔ نبی کریمe نے جب ان کے مقابلے میں اپنی امت کے لوگوں کو کم عمر پایا تو آپ کو خدشہ ہوا کہ میری امت کے لوگ نیک اعمال میں ان امتوں کے لوگوں سے سبقت نہ کر سکیں گے۔ اس خدشے کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریمe کو لیلۃ القدر سے نوازا جو ہزار مہینے سے بہتر ہے۔ امام مالکؒ اس راوی سے بیان کرتے ہیں جس کے ثقہ ہونے پر انہیں یقین ہے کہ رسول کریمe کو خواب میں پہلے زمانے کے لوگوں کی أعمار(عمر کی جمع) دکھائی گئیں تو جیسے آپ نے ان کے مقابلے میں اپنی امت کے لوگوں کو کم عمر سمجھا۔ کیونکہ وہ نیک اعمال میں ان لوگوں سے (ان کی طویل عمر کی وجہ سے) سبقت نہ کر سکتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے نبی کریمe کو لیلۃ القدر عطا فرمائی جو ہزار مہینے سے بہتر اور برتر ہے۔
2         لیلۃ القدر کی خیر و برکت سے محروم رہ جانے والے کو نبی کریمe نے تمام خیر و برکات سے محروم قرار دیا ہے۔ امام ابن ماجہ حضرت انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں کہ رمضان آیا تو نبی کریمe نے فرمایا: ’’تمہارے پاس یہ مہینہ آیا ہے، اس مہینہ میں ایک رات ایسی ہے۔ جو ہزار مہینے سے بہتر ہے۔ جو اس رات کی خیر و برکت سے محروم رہا پس وہ ساری خیر و برکات سے محروم رہا اور اس رات خیر سے وہی محروم رہتا ہے جو (حقیقی) محروم ہے۔‘‘
شب قدر کی تلاش:
3         بعض روایات کے مطابق لیلۃ القدر آخری سات راتوں میں پوشیدہ ہے اور بعض روایات کے مطابق آخری دس راتوں میں۔ حضرات ائمہ بخاری اور مسلم حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریمe کے بعض صحابہ کو خواب میں لیلۃ القدر آخری سات راتوں میں دکھائی گئی۔ صحابہ نے اس خواب کا رسول کریمe سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ’’میں تمہارے خواب میں لیلۃ القدر کو آخری سات راتوں سے موافقت کرتے ہوئے دیکھتا ہوں، پس جسے لیلۃ القدر کی تلاش ہو، وہ اسے آخری سات راتوں میں تلاش کرے۔‘‘ امام بخاریؒ ایک دوسری روایت میں بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمe نے فرمایا: ’’پس لیلۃ القدر کو آخری دس راتوں میں تلاش کرو۔‘‘
شب قدر کی علامات:
4         لیلۃ القدر کی کچھ علامات ہیں۔ ان علامات میں رات کا صاف، روشن، ساکن اور غیر متحرک ہونا، موسم کا معتدل ہونا اور صبح کے وقت سورج کی شعاعوں کا نہ ہونا شامل ہے۔ امام احمدؒ حضرت عبادۃ بن الصامتtسے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریمe نے فرمایا: ’’لیلۃ القدر کی نشانی یہ ہے کہ رات صاف، روشن، ساکن اور غیر متحرک ہوتی ہے، جیسے چاند اپنی روشنی بکھیر رہا ہو۔ اس رات سردی ہوتی ہے نہ گرمی۔ ستاروں کو (جنوں اور شیطانوں کے مارنے کیلئے) نہیں پھینکا جاتا۔ اس رات کے بعد آنے والے دن کا سورج گولائی میں چودھویں رات کے چاند کی طرح ہوتا ہے اور اس کی کوئی شعاع نہیں ہوتی۔‘‘
شب قدر میں کثرت سے فرشتوں کا نزول:
5         اس مبارک رات میں اس قدر فرشتے آسمان سے زمین پر اترتے ہیں کہ ان کی تعداد زمین پر موجود کنکروں سے تجاوز کر جاتی ہے۔ حضرات ائمہ احمد اور بزار حضرت ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریمe نے فرمایا: ’’لیلۃ القدر کو فرشتوں کی تعداد (زمین پر) کنکروں سے تجاوز کر جاتی ہے۔
شب قدر کی خصوصی دعاء:
6         جس شخص کو اللہ تعالیٰ لیلۃ القدر کی نعمت سے نواز دیں، اسے چاہیے کہ وہ اس دعا کو پڑھے جسے حضرات ائمہ احمد اور ترمذی نے روایت کیا ہے کہ حضرت عائشہ نے نبی کریمe سے پوچھا: ’’اگر میں لیلۃ القدر پالوں تو کیا کہوں؟ آپe نے فرمایا: ’’یہ کہہ [اللھم انک عفو تحب العفو فاعف عنی] ’’اے اللہ! آپ بہت زیادہ معاف کرنے والے ہیں، معافی پسند کرتے ہیں، پس مجھے معاف کر دیجئے۔‘‘
شب قدر پا لینے پر اجر:
7         جو شخص رحمتِ الٰہی کی بدولت اس رات کو پالیتا ہے، اسے اگلے اور پچھلے تمام گناہوں کی معافی کی بشارت دی گئی ہے۔ امام احمد حضرت عبادہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریمe نے فرمایا: ’’جس شخص نے لیلۃ القدر کی تلاش میں رات (بھر) عبادت کی، پھر وہ رات اسے حاصل ہو گئی، اس کے گزشتہ اور پیوستہ تمام گناہ معاف کر دئیے گئے۔
نزولِ قرآن:
8         اس بابرکت رات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم نازل فرمایا۔ اسے لوحِ محفوظ سے بیت العزۃ (جو آسمان دنیا پر ہے) میں ایک ہی مرتبہ اتار دیا اور وہاں سے حسب وقائع نبی کریمe پر اترتا رہا اور 23 سال کے عرصہ میں مکمل ہوا۔
آخر میں بارگاہ ایزدی میں التجا ہے کہ وہ ہمیں لیلۃ القدر کی فیوض و برکات سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

No comments:

Post a Comment