Mz22-03-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Tuesday, June 11, 2019

Mz22-03-2019


عید الفطر ... احکام ومسائل

تحریر: جناب رانا شفیق خاں پسروری
عید سے متعلق چند ضروری مسائل جن کے بارے میں عوام و خواص میں مختلف رائے یا مختلف عمل پایا جاتا ہے عید کے موقع پر ازروئے کتاب و سنت لکھے جا رہے ہیں تاکہ استفادہ کیا جا سکے اور ممکن ہو تو اختلاف و اشتباہ دور ہو سکے۔
تکبیرات عید میں رفع الیدین:
عید کی نماز میں حالت قیام میں کچھ تکبیرات عام نمازوں سے زائد ہوتی ہیں۔ ازروئے سنت ان کی دونوں رکعات میں تعداد بارہ ہے، سات پہلی رکعت میں اور پانچ دوسری میں، ان بارہ تکبیرات میں رفع الیدین پر بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں۔ المغنی لابن قدامہ میں ہے:
[روی ان النبیﷺ کان یرفع یدیہ مع التکبیر قال احمد اما انا فاری ان ھذا الحدیث یدخل فیہ ھذا کلا وروی ابن عمر رضی اللہ عنہ ان کان یرفع فی کل تکبیرۃ فی الجنازۃ وفی العید۔ رواہ الاثرم ولا یعرف لہ مخالف فی الصحابۃ]
یعنی روایت کیا گیا ہے کہ رسول اللہe تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کرتے۔ امام احمد بن حنبلؒ نے کہا کہ یہ حدیث ہر نماز کی تکبیر کو شامل ہے اور سیدنا عبداللہ بن عمرw سے روایت ہے کہ جنازے اور عید میں ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کرتے اور صحابہ کرام میں سیدنا ابن عمرw کے خلاف (عمل) والا کوئی نہیں ملتا۔ سیدنا ابن عمرw کے اس فعل کو بیہقی میں بھی روایت کیا گیا ہے مگر اس میں ایک راوی ابن لہیعہ پر کلام ہے حالانکہ وہ سنن کا راوی ہے۔ امام مسلمؒ نے بھی اس سے روایت کی ہے بس احتراق کتب کے بعد خلط سرزد ہوا، صدوق ہے۔ (تقریب التہذیب)
اسی طرح ابوداؤد، دارقطنی اور بیہقی نے روایت کی ہے کہ جب نماز کی طرف کھڑے ہوتے تو رکوع سے قبل ہر تکبیر میں رفع الیدین کرتے۔
اس حدیث میں بقیہ بن ولید پر کلام کیا جاتا ہے۔ تلخیص الحبیر میں حافظ ابن حجرؒ نے لکھا ہے: امام ابن المنذرؒ اور امام بیہقی   ؒنے اس حدیث سے تکبیرات عید میں رفع الیدین پر استدلال کیا ہے اور بقیہ بن ولید کی موافقت ابن اخی الزہری نے بھی کی ہے۔ یوں ابن لہیعہ اور بقیہ بن ولید کی باہم موافقت سے‘ اس روایت کو حسن لغیرہ تک کا درجہ حاصل ہوا۔ پھر امام بیہقی  ؒو امام ابن المنذرؒ کے استدلال اور صدیوں سے محدثین کے تعامل سے قابل عمل ہیں اور مطلق نماز میں رفع الیدین اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور سنت نبویe ہے۔
تکبیرات کی تعداد: 
ترمذی، ابن ماجہ، دارمی، نیل الاوطار، منتقی الاخبار اور مشکوٰۃ میں وضاحت سے روایت ہے کہ نبی پاکe کی سنت بارہ تکبیرات ہیں، سات پہلی رکعت میں اور پانچ دوسری رکعت میں۔
علمائے دیوبند کے سرخیل مولانا رشید احمد گنگوہی نے بھوپال سے ایک استفتاء کے جواب میں لکھا۔ (سوال کرنے والے نے لکھا تھا کہ اہل بھوپال خلاف حنفی مذہب تکبیرات کہتے ہیں، میں ان کی اقتداء کروں یا نہیں؟) مولانا نے جواب دیا کہ عیدین میں جس قدر امام وہاں کیا کرے، تم بھی باتباع اسی کے کیا کرو۔ امام ابوحنیفہa تین تکبیریں (تکبیر تحریمہ سمیت) کہتے ہیں چونکہ یہ بھی حدیث سے ثابت ہے۔ تم خلاف مت کرو، امام کی اطاعت کرو۔ ایسی صورت میں اطاعت امام ضروری ہے۔ (مکاتیب رشیدیہ، ص ۹۶)
 بارہ تکبیرات تکبیر تحریمہ کے علاوہ:
دارقطنی میں سیدہ عائشہr سے روایت ہے کہ ’’سوی تکبیرۃ الافتتاح‘‘۔ عون المعبود میں ہے:
[فقال الشافعی ھو سبع فی الاولی غیر تکبیرۃ الاحرام وخمس فی الثانیۃ غیر تکبیرۃ القیام… وقال مالک واحمد وابوثور کذلک ولکن سبع فی الاولی احدھن تکبیرۃ الاحرام]
یعنی اس میں اختلاف ہے چونکہ صریح دلیل کسی کی طرف نہیں، اس لیے تشدد نہیں کرنا چاہیے، کوئی تکبیر تحریمہ سمیت سات کہے یا اس کے علاوہ۔
مکاتیب رشیدیہ میں اہل بھوپال کا جو تیرہ تکبیرات کا تذکرہ ہے تو وہ تکبیر تحریمہ سے الگ سات کہتے تھے۔ البتہ ان بارہ تکبیرات میں تکبیر رکوع اور دوسری رکعت میں کھڑے ہونے کے وقت جو تکبیر کہی جاتی ہے وہ شامل نہیں (تکبیر قیام کے شامل نہ کرنے سے تو تکبیر تحریمہ کا شامل نہ کرنا واضح ہوتا ہے)
  تکبیر کے درمیان کیا پڑھے؟ 
بیہقی میں ہے کہ سیدنا جابرt سے روایت ہے کہ عیدین میں سات اور پانچ تکبیریں ہیں اور ہر دو تکبیروں کے درمیان اللہ کا ذکر کرنا چاہیے۔ جبکہ ذکر معین کی کوئی واضح روایت نہیں۔ امام عبدالجبار غزنویؒ نے اپنے ایک فتویٰ میں لکھا ہے:
’’امام ابوالقاسم رافعیؒ نے شرح و جیز میں لکھا ہے کہ ہر دو تکبیروں کے درمیان ایک آیت کے برابر ٹھہرے جو کہ امام شافعیؒ کا قول ہے۔ ابن مسعودؓ کا قول اور فعل بھی اسی طرح نقل کیا گیاہے۔ حافظ ابن حجرؒ نے تلخیص الحبیر میں کہا ہے کہ طبرانی اور بیہقی ؒنے اس حدیث کو موقوف روایت کیا ہے۔ سیدنا حذیفہؓ اور ابو موسیٰؓ سے بھی اسی طرح نقل کیا ہے۔‘‘
علامہ ابن قدامہؒ نے ’’العمدۃ‘‘ میں لکھا ہے کہ ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کرے اور ہر دو تکبیروں کے درمیان اللہ کی حمد اور رسول اللہe پر درود بھیجے۔ محمد بن عبدالوہابؒ کی مختصر میں ہے کہ ہر دو تکبیروں کے درمیان اللہ کی حمد و ثناء اور نبیe پر درود بھیجے۔ منہاج السنہ میں ہے، لا الہ الا اللہ پڑھے، تکبیر بلند کرے اور اللہ کی بزرگی بیان کرے یعنی سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر۔ اسی طرح تحفہ شرح منہاج میں بیہقی کے حوالے سے عبداللہ بن مسعودؓ سے نقل کیا (قولاً و فعلاً) کہ سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر پڑھنا چاہیے۔ اسی طرح لکھا ہے کہ اللہ اکبر کبیرا والحمد للہ کثیرا و سبحان اللہ بکرۃ واصیلا وصلی اللہ علی سیدنا محمد تسلیما کثیرا بھی بہتر ہے۔ اسی طرح کا قول ابن صباغ کی روض شرح زاد المعاد میں ہے۔
مولانا حافظ عبداللہ روپڑیa نے فتویٰ دیا ہے کہ سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر پڑھے یا کوئی اور ذکر کرے، سب صحیح ہے۔
خطبہ عید بعد از نماز: 
نماز عید سے پہلے خطبہ خلاف سنت ہے۔ صحیحین میں سیدنا ابوسعید خدریt سے مروی ہے کہ رسول اللہe نے پہلے نماز پڑھی پھر خطبہ دیا۔ نماز سے قبل خطبہ کی بدعت مروان نے شروع کی، اسی وقت سیدنا ابوسعیدt نے اس فعل کی سخت تردید کی اور عیدگاہ سے اٹھ کر چلے گئے تھے۔
خطبہ عید میں کتنے خطبے؟ 
ابن ماجہ میں سیدنا جابرt سے، بزار میں سیدنا سعد بن ابی وقاصt سے روایت ہے کہ رسول اللہe عید کے خطبہ کے دوران بیٹھے اور پھر اٹھ کر خطبہ دیا۔ (یعنی جمعہ کی طرح دو خطبے دئیے۔)
اسی طرح سیدنا ابن مسعودt سے روایت ہے کہ سنت طریقہ یہ ہے کہ عیدین کے دو خطبے پڑھے جائیں اور دونوں کے درمیان بیٹھا جائے…… ان تینوں حدیثوں کی اسناد میں کلام ہے اور یہ ضعیف ہیں مگر عیدین کے خطبے کو خطبہ جمعہ پر قیاس کرتے ہوئے اور اہل اسلام کے تعامل کو دیکھتے ہوئے ان روایتوں کی تائید کی جاتی ہے اور دو خطبے دئیے جاتے ہیں۔
عورتوں کا عید گاہ جانا: 
صحیحین میں سیدہ ام عطیہr سے روایت ہے کہ ہمیں حکم تھا کہ ہم تمام عورتوں کو (حیض والیوں سمیت) عید گاہ لے جائیں۔ عورتیں نماز میں شریک ہوںاور حیض والیاں نماز کے دوران الگ رہیں مگر دعا میں ضرور شریک ہوں۔ ایک عورت نے سوال کیا کہ اللہ کے رسولe! اگر کسی کے پاس چادر نہ ہو تو؟ آپe نے فرمایا کہ کوئی (دوسری عورت) اس کو اپنی چادر میں چھپا لیا کرے۔ (مگر عید گاہ ضرور جانا چاہیے۔)
امام نوویؒ شارح مسلم نے قاضی عیاضؒ سے نقل کیا ہے کہ سیدنا ابوبکرt، سیدنا علیt اور سیدنا ابن عمرw کے نزدیک عورتوں کا عیدگاہ جانا واجب ہے۔
شیخ عبدالحقؒ دہلوی شرح مشکوٰۃ میں لکھتے ہیں کہ اگر عورتوں کے پاس چادر نہ ہو تو اس نیک کام کے لیے سوال بھی کر سکتی ہیں۔ شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے حجۃ اللہ البالغہ میں لکھا ہے کہ شوکت اسلام کے لیے تمام افراد کا عورتوں، بچوں سمیت عیدگاہ جانا مستحب ہے۔ اسی طرح ابن ابی شیبہؒ نے لکھا ہے کہ رسول اللہe پہلے مردوں کو پھر عورتوں کو خطبہ سناتے۔ سیدنا ابوبکرt فرماتے ہیں کہ ہر عورت کا عیدگاہ جانا واجب ہے۔
مصنف ابی بکر نے سیدنا عمرt سے روایت کیا ہے کہ ہر چادر والی عورت کا عیدگاہ جانا ضروری ہے۔
حافظ ابن حجرؒ نے فتح الباری میں اس مسئلے پر تمام صحابہ کرام] کا اجماع نقل کیا ہے اور جہاں تک حضرت عائشہr کی روایت کا تعلق ہے تو وہ عورتوں کے عیدگاہ جانے کے خلاف نہیں بلکہ عورتوں کی بے جا زیب و زینت، آرائش و زیبائش اور خوشبو اور عطریات استعمال کرنے کی ممانعت میں ہے۔ (جیسا کہ عینی شرح بخاری میں ہے)
عید کے بعد مصافحہ و معانقہ: 
فتاویٰ ثنائیہ میں کسی سائل نے شیخ الاسلام فاتح قادیان مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ سے سوال کیا کہ عید کے روز لوگ مصافحہ و معانقہ کرتے ہیں جس سے اظہار خوشی مراد ہوتا ہے اور بعض لوگوں کے دلوں میں خفیف رنجش موجود ہوتی ہے تو وہ دور ہو جاتی ہے، اس کو سنت سمجھ کر نہیں کیا جاتا۔ (بلکہ علاقائی رسم کے طور پر)
مولانا امرتسریؒ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ مصافحہ بعد از سلام ہے۔ عید کے روز بھی بنیت تکمیل سلام مصافحہ کریں تو جائز ہے۔ بنیت خصوص عید بدعت ہے۔ کیوں کہ زمانہ رسالت اور خلافت میں مروج نہ تھا۔
نماز عید کا مسنون طریقہ: 
باوضو قبلہ رخ ہو کر تکبیر تحریمہ کہتے ہوئے سینے پر ہاتھ باندھ کر اللھم باعد… الآخر یا کوئی اور دعا استفتاح پڑھیں پھر قرأت سے پہلے ٹھہر ٹھہر کر سات تکبیریں کہیں، ہر تکبیر پر رفع الیدین کر کے سینے پر ہاتھ باندھیں اور اللہ کا ذکر و تسبیح کریں پھر امام سورۃ فاتحہ بلند آواز سے اور مقتدی آہستہ پڑھیں۔ پھر امام اونچی آواز سے قرأت کرے اور مقتدی خاموش رہیں۔ بہتر ہے کہ پہلی رکعت میں سورۂ ق اور دوسری میں اقتربت الساعۃ یا پہلی میں سبح اسم اور دوسری میں ھل اتاک یا پہلی میں عم یتسائلون اور دوسری میں والشمس پڑھیں پھر عام رکعت کی طرح رکعت پوری کریں۔
دوسری رکعت میں کھڑے ہونے کے بعد سات تکبیروں کی جگہ پانچ تکبیریں باقی سب کچھ اسی طرح کریں جس طرح پہلی رکعت میں کیا اور دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیں۔ (بعد از تشہد) جب امام سلام پھیرے تو اپنی جگہ پر کھڑے ہو کر خطبہ پڑھے، مقتدی اپنی اپنی جگہ پر بیٹھے رہیں۔ خطبہ کے بعد امام اور مقتدی سب مل کر بارگاہ الٰہی میں ہاتھ اٹھا کر خوب گڑ گڑا کر دعا مانگیں۔ (بہت خشوع و خضوع سے) یہ قبولیت کا دن اور قبولیت کا وقت ہوتا ہے… بعد میں راستہ تبدیل کر کے گھروں کو آ جائیں۔ (عید گاہ جاتے اور آتے ہوئے اونچی آواز سے تکبیرات کہتے رہیں) ۔

No comments:

Post a Comment