Mz22-07-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Tuesday, June 11, 2019

Mz22-07-2019


صدقۃ الفطر

تحریر: جناب میاں عبداللہ
روزہ کے دوران روزہ دار سے جو لغزشیں سرزد ہو جاتی ہیں ان کے نقصانات سے روزوں کو پاک صاف کرنے کے لیے اللہ کے رسولe نے ایک آسان صورت بتلائی ہے تا کہ ہمارے روزے اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہو سکیں‘ وہ ہے صدقہ فطر جس کو رسول اللہe نے فرض قرار دیا ہے:
سیدنا ابن عباس w نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہe نے زکوٰۃ الفطر کو فرض کیا ہے۔ روزوں کو لغو اور فحش گوئی سے پاک وصاف کرنے کے لیے اور یہ غریبوں اور محتاجوں کے کھانے کا ایک ذریعہ ہے۔‘‘ (ابوداؤد)
 ہر شخص پر صدقۂ فطر واجب ہے:
ارشاد نبویe ہے:
سیدنا عبداللہ بن عمرw نے فرمایا کہ رسول اللہe نے رمضان میں صدقۃ الفطر کو فرض کیا‘ ہر مسلمان پر‘ چاہے آزاد ہو یا غلام‘ مرد ہو یا عورت‘ چھوٹا ہویا بڑا۔‘‘ (بخاری)
صدقۃ فطر ہر مسلمان مرد‘ عورت‘ چھوٹے بڑے‘ آزاد غلام‘ امیر وغریب پر ایک صاع گندم یا جَو فرض ہے۔ غنی کے گناہ کو اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا اور غریب کو اس سے زیادہ دے گا جتنا کہ اس نے صدقہ دیا ہو۔‘‘ (مسند احمد وابوداؤد)
جس کے پاس ایک روز (عید کے دن) اپنی اور اپنے اہل وعیان کی خوراک سے زائد غلہ اور کھانے کی چیز ہو اس پر بھی صدقۃ الفطر فرض ہے۔ صدقۃ الفطر کے لیے صاحب نصاب ہونے کی کوئی شرط حدیث میں نہیں۔ غریب کو بھی چاہیے کہ وہ دوسروں سے حاصل کردہ اجناس میں سے اپنا صدقہ الفطر ادا کرے۔ صدقۃ الفطر خود اپنی طرف سے اور جو اس کے ماتحت ہیں مثلاً بیوی‘ بچے‘ خادم اور جن کے نان ونفقہ کی ذمہ داری اس پر ہے ان تمام کی جانب سے ادا کرے۔
سیدنا عبداللہ بن عمرw فرماتے ہیں کہ رسول اللہe نے بالغ اور نابالغ (چھوٹے اور بڑے) کی جانب سے اور آزاد اور جن کے نان ونفقہ کا ذمہ دار ہو‘ ان تمام کی جانب سے صدقۃ الفطر ادا کرنے کا حکم فرمایا۔ (دارقطنی)
 صدقۃ الفطر کب واجب ہوتا ہے؟
صدقۃ الفطر کا وجوب رمضان کے آخری دن کے سورج غروب ہونے کے بعد ہوتا ہے۔ (المغنی) اور بعض نے یوم عید کے طلوع فجر کے بعد کہا ہے۔ (فقہ السنہ)
 صدقۃ الفطر کب ادا کریں؟
سیدنا عبداللہ بن عمرw نے کہا کہ رسول اللہe نے حکم دیا کہ صدقۂ فطر لوگوں کے نماز عید کو نکلنے سے پہلے ادا کر دیا جائے۔ (بخاری ومسلم)
جس نے نماز عید سے پہلے اس کو ادا کیا تو وہ صدقۂ فطر مقبول ہو گا اور جس نے بعد نماز ادا کیا تو اس کا شمار عام صدقوں میں ہو گا۔ (ابوداؤد)
سیدنا ابن عمرw عید سے ایک دو دن پہلے صدقۂ فطر دے دیا کرتے تھے۔ (ابوداؤد)
صدقۂ فطر غریب ومحتاج لوگوں کا حق ہے۔ عموما لوگ فقیر اس کو سمجھتے ہیں جو گھر گھر مانگتے پھرتے ہیں‘ یا جو لوگوں کو سحری میں جگایا کرتے ہیں اور اپنا یہ حق وصول کرنے کے لیے نمازِ عید کے بعد محلوں میں گشت لگایا کرتے ہیں۔ اگر واقعی یہ مستحق ہیں تو ان کو نماز عید کے لیے جانے سے پہلے ہی دے دیا کریں ورنہ صدقۂ فطر قبول نہ ہو گا اور انہیں بطورِ اجرت صدقۂ فطر نہ دیا کریں۔ یہ خیرات ہے اور خیرات کسی کام کی اجرت نہیں بن سکتی۔
 صدقۃ الفطر بیت المال میں:
اگر کسی مقام پر بیت المال قائم ہو‘ اس کی نگرانی میں دیانتداری کے ساتھ حاجتمندوں میں صدقۃ الفطر کی تقسیم عمل میں لائی جاتی ہو تو عید سے ایک دو دن پہلے اس میں جمع کرایا جا سکتا ہے اور جو لوگ صدقۂ فطر کو دوسرے مقامات پر بھیجنے کی خاطر جمع کرتے ہیں ان کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ عید سے پہلے وہاں کے مستحقین کو پہنچا دیں تا کہ وہ عید کے دن سوال سے بے نیاز ہو جائیں اور مسلمانوں کے ساتھ عید کی مسرتوں میں شریک ہو جائیں۔
 وضاحت:
آج کل جو نوکر اجرت پر کام کرتے ہیں ان کی طرف سے صدقۂ فطر ادا کرنا مالک پر واجب نہیں۔ (فتاویٰ رمضان)
جمہور کے نزدیک ماہ رمضان کے آخری دن سورج غروب ہوتے ہیں صدقۂ فطر واجب ہوتا ہے لہٰذا جو اس سے پہلے پیدا ہو اس کی طرف سے بھی صدقۂ فطر ادا کیا جائے۔ بعد میں پیدا ہونے والے پر نہیں۔ (توضیح الاحکام)
صدقۂ فطر کے واجب ہونے کے لیے نصاب زکوٰۃ کا مالک ہونا شرط نہیں۔ (الوجیز)
جو شخص عذر کی وجہ سے رمضان کے روزے چھوڑ دے اس کی طرف سے بھی صدقۂ فطر ادا کیا جائے۔
 صدقۂ فطر کی مشروعیت کی حکمت:
صدقۂ فطر کی مشروعیت کی دو حکمتیں ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباسw سے مروی ہے کہ رسول اللہe نے صدقۂ فطر 1 روزہ دار کی بے کار بات اور فحش گوئی سے روزے کو پاک کرنے کے لیے اور 2 مساکین کو کھانا کھلانے کے لیے مقرر کیا ہے۔ (ابوداؤد)
 صدقۂ فطر کن چیزوں سے نکالا جائے؟
سیدنا ابوسعید خدریtسے مروی ہے کہ ہم خوراک سے ایک صاع یا جَو سے ایک صاع یا کھجور سے ایک صاع یا پنیر سے ایک صاع یا منقہ سے ایک صاع صدقۂ فطر نکالتے تھے۔ (بخاری ومسلم)
ابن خزیمہ کی ایک روایت میں آٹے اور ستو کا بھی ذکر آیا ہے۔ (صفۃ صوم النبی)
وضاحت: احادیث میں مذکورہ چیزوں کے علاوہ جو بھی چیز غذا وخوراک کے طور پر استعمال کی جاتی ہو وہ صدقۂ
فطر میں دی جا سکتی ہے جیسے چاول اور آٹا وغیرہ۔ (فتاویٰ رمضان)
 کیا غلہ واناج کے بدلے قیمت دی جا سکتی ہے؟
کسی بھی عبادت کے لیے دو شرطوں کا وجود ضروری ہے: 1 اخلاص 2 اتباع سنت۔ (تفسیر ابن کثیر)
جیسے نماز‘ یہ اسی وقت اللہ کے ہاں قابل قبول ہوتی ہے جب اس میں اخلاص پایا جائے اور وہ اسی طریقہ کے مطابق ادا ہوئی ہو جیسے آپe نے پڑھ کر بتایا ہے۔ صدقۂ فطر بھی ایک عبادت ہے جو خالص اللہ کے لیے ہونی چاہیے اور وہ ویسے ہی دیا جائے جیسے اللہ کے نبی e اور صحابہ کرام] ادا کرتے تھے۔ عہد نبوت میں درہم ودینار اور کپڑوں وغیرہ کی موجودگی کے باوجود وہی چیز صدقۂ فطر میں دی جاتی رہی جو روز مرہ زندگی میں ان کے زیر استعمال تھی جیسے کھجور‘ پنیر‘ منقہ اور گندم وغیرہ۔ لہٰذا آج بھی اسی چیز سے صدقۂ فطر دینا چاہیے جو زیر استعمال ہو‘ قیمت دینا درست نہیں۔ ایک مرتبہ امام ابوداؤد نے امام احمد بن حنبلؒ سے پوچھا کہ صدقۂ فطر میں قیمت دی جا سکتی ہے؟ تو امام احمد بن حنبلؒ نے جواب دیا ڈر ہے کہ قیمت سنت رسول اللہe کے خلاف ہونے کی وجہ سے مقبول نہ ہو‘ امام احمد بن حنبل سے کہا گیا کہ فلاں عالم صدقہ فطر میں قیمت قبول فرماتے تھے‘ تو انہوں نے جواب دیا کہ مجھے تعجب ہے ان لوگوں پر جو قول رسول e کو چھوڑ کر فلاں فلاں کا حوالہ دیتے ہیں۔ (المغنی)
 صدقۂ فطر کی مقدار
زیر استعمال غلہ واناج میں سے ایک صاع دیا جائے جو تقریبا 2.5 (ڈھائی کیلو) کے برابر ہے۔ مثال کے طور پر چار آدمیوں کا صدقہ فطر 2.5 x 4 = 10 (دس کیلو) ہوا۔
صدقۂ فطر کب دیا جائے؟
Ý          صدقہ فطر نماز عید کو نکلنے سے پہلے دیا جائے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرw کی حدیث ہے‘ آپe نے صدقۂ فطر کے متعلق حکم دیا کہ یہ نماز کے لیے نکلنے سے پہلے ادا کر دیا جائے۔ (بخاری ومسلم)
Þ          جو آدمی لوگوں سے صدقۂ فطر وصول کرنے کے لیے مقرر کیا گیا ہو اس کو عید سے ایک یا دو دن پہلے بھی دیا جا سکتا ہے۔
امام نافع سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمرw صدقۂ  فطر ان لوگوں کو دیتے تھے جو اس کو قبول کرتے تھے اور وہ لوگ عید الفطر سے ایک یا دو دن پہلے ہی ادا کرتے تھے۔ (بخاری)
 وضاحت:
مذکورہ حدیث میں قبول کرنے والوں سے مراد غریب ومسکین نہیں بلکہ حکومت کی طرف سے مقرر کردہ وصول کرنے والے ہیں۔ (الموسوعہ الفقہیہ)
ہر بستی ومحلہ کے لوگوں کا اپنے صدقات فطر کو اکٹھا کر کے مستحقین تک پہنچانے کے لیے اجتماعی نظم کرنا مسنون ہے۔
ß          بلا عذر تاخیر سے صدقۂ فطر ادا کرنا جائز نہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عباسw کی حدیث کے الفاظ ہیں:
’’جس نے اسے نماز عید سے پہلے ادا کر دیا تو یہ قابل قبول زکوٰۃ (صدقۂ فطر) ہو گی اور جس نے نماز کے بعد اسے ادا کیا تو وہ صرف صدقات میں سے ایک صدقہ ہی ہے۔‘‘ (ابوداؤد)
صدقۂ فطر کن لوگوں کو دیا جائے؟
1         صدقۂ فطر ایسے غریب وفقیر مسلمان کو دیا جائے جس کے پاس اپنی اور زیر کفالت لوگوں کی ایک دن اور ایک رات سے کم خوراک ہو‘ جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن عباسw کی حدیث میں ہے [طُعْمَۃً لِّلْمَسَاکِیْن] یعنی ’’مساکین کے لیے کھانے کے طور پر۔‘‘ (ابوداؤد)
2         صدقۂ فطر فقراء ومساکین کا حق ہے۔

No comments:

Post a Comment