Mz22-13-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Tuesday, June 11, 2019

Mz22-13-2019


مولانا محمد داؤد رحمہ اللہ

تحریر: جناب جناب ضیاء الرحمٰن
مولانا محمد داؤدa ضلع ایبٹ آباد کے دور دراز اور دنیا کے تکلفات سے نا آشنا گاؤں تتریلہ میں ۱۹۲۸ء کو پیدا ہوئے۔ آپ نے ایک دینی اور جذبہ جہاد سے سرشار گھرانے میں آنکھ کھولی۔ آپ کے والد محترم مولانا محمدادریسؒ‘ سید عبدالجبار غزنویؒ کے شاگرد اور مولانا اسماعیل سلفیؒ کے معتمد خاص تھے اور علاقہ گلیات کے معتبر عالم دین سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے اپنے گاؤں میں ایک دینی مدرسہ بھی قائم کیا ہوا تھا جس میں طلبہ کی رہائش اور تعلیم و تربیت کا معقول بندوبست تھا۔ اس مدرسے سے علاقے کے کثیر لوگوں نے استفادہ کیا انہی میں سے شیخ الحدیث مولانا عبدالرشید ہزاروی بھی ہیں جو ساہیوال میں شیخ الحدیث کے منصب پر فائز ہیں۔ تذکرہ علمائے اہل حدیث کی جلد ۳ صفحہ ۴۳ کے مطابق مولانا ہزاروی نے اپنے آبائی وطن ضلع ہزارہ میں دینی مدرسہ تعلیم الاسلام موضع تتریلہ میں تقریبا تین سال تعلیم حاصل کی۔ یہاں آپ نے مکمل ترجمہ قرآن مجید‘ بلوغ المرام‘ مشکوٰۃاور کچھ صفحات ترمذی  کے پڑھے۔
مولانا محمد ادریسa کے پاس علماء و مجاہدین کی بھی آمدورفت رہتی تھی‘ چنانچہ مولانا ہزاروی کو صوفی عبداللہa اپنے مدرسہ میں پرھنے کے لئے لے گئے۔  مولانا محمد داؤد نے بھی مکمل تعلیم یہاں ہی حاصل کی۔
ان کی زندگی پر مختصر گزارشات سے پہلے مجاہدین بالاکوٹ کے اس جھنڈے کا ذکر ضروری ہے جو آپ کو آباؤ اجداد سے ورثے میں ملا اور مرکزی جمعیت اہل حدیث  کی آل پاکستان کانفرنس ۱۹۵۶ء میں لہرایا گیا۔ مولانا اسماعیل سلفی ؒ نے اس کانفرنس کے خطبہ استقبالیہ میں فرمایا:
یہ پارینہ جھنڈا جو آپ کے قریب لہرا رہا ہے کبھی ستاروں کا ہمراز تھا اور کبھی ملائکہ سے ہم کلام۔ یہ سید شہید کے ان عساکر کاجھنڈا ہے جو اسلام کی سربلندی کے لئے سکھ استبداد اور برطانوی عیاری  سے برسوں برسرِ پیکار رہے۔ یہ جھنڈا کالاباغ علاقہ  ہزارہ کے اہل حدث حضرات کے پاس محفوظ تھا جن کے آباؤ اجداد برسوں ان مقدس عساکر میں داد شجاعت دیتے رہے۔ (نگارشات ص ۶۴۰)
معمول زندگی:
مولانا محمد داؤد ؒ  بہت متقی اور پرہیز گار انسان تھے۔ مسنون اذکار اور نماز تہجد ان کی زندگی کا معمول تھا۔ سفر وحضر میں نماز تہجد نہیں چھوڑتے تھے۔ قرآن مجید کی کثرت سے تلاوت کرتے تھے۔ ایک دن راقم الحروف نے پوچھا کہ آپ روزانہ کتنا قرآن پڑھتے ہیں تو فرمایا کہ صوفی عبداللہ ؒ  صاحب ہمارے گھر آتے تو وہ دس پارے قرآن پڑھتے تھے۔ نماز تہجد میں بھی بہت قرآن پڑھتے تھے۔ میں بھی آٹھ پارے پڑھتا ہوں۔ ان کی گفتگو میں تاریخ اہل حدیث کا بہت تذکرہ ہوتا تھا۔ایک دفعہ مجھے واقعہ سنایا کہ میرے والد صاحب نے مجھے بتایا کہ ہمیں سید عبدالجبار غزنوی یا عبدالمنان وزیر آبادی نے اپنی مجلس میں فرمایا کہ مرزا قادیانی کی حرکتوں سے ہمیںمحسوس ہوتا ہے کہ یہ شخص نبوت کا دعوی کر دے گا ۔ان کی بات سچی نکلی اس لعین نے دعوی نبوت کر دیا۔
آپ بلا تفریق مسلک ہر ایک کے جنازے میں شریک ہوتے تھے۔ جب بھی کسی کی وفات کی خبر ملتی دن رات‘ گرمی سردی کی پروا کیے بغیر پہنچ جاتے۔ اگر جنازہ میں شریک نہ ہو سکتے تو تعزیت کے لئے ضرور جاتے۔
دینی خدمات:
مولانا صاحب کو مسجد اور مدرسہ سے بہت لگاؤ تھا۔ والد صاحب کے مدرسہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے لائق او قابل مدرس مولانا عبدالقیوم سلفی(حال شیخ الحدیث جامعۃ الحرمین راولپنڈی) کی خدمات حاصل کیں۔ وہ کافی عرصہ پڑھاتے رہے پھر علاقے کی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے طالبات کے مدرسے کا اہتمام کیا‘ کئی طالبات نے اس مدرسے سے وفاق کا امتحان پاس کیا۔ مرور زمانہ کے ساتھ مسجد خستہ حال ہو چکی تھی‘ اس کی از سر نو تعمیر کرائی۔
سیاست سے لگاؤ:
مولانا محمد داؤد ملکی اور علاقائی سیاست سے بھی دلچسپی رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیا اور وائس چیئرمین منتخب ہوئے ۔اس کے علاوہ  مصالحتی کمیٹی کے چیئرمین بھی تھے۔ علاقے کے رفاہی کاموں میں بھی بڑھ چرھ کر حصہ لیا ۔
جہاد کشمیر:
مولانا داؤدؒ شاہ شہید کی روایات کے امین تھے۔ ۱۹۴۸ء کے جہاد کشمیر کے قافلے میں شرکت کی لیکن جنگ کی نوبت نہیں آئی تھی۔
اولاد:
چار بیٹے (عبدالحفیظ‘ عبدالعزیز‘ عبدالوحید عبدالقدیر) اور ایک بیٹی۔ تمام بیٹے بقید حیات ہیں‘ سب بیٹوں کو دینی تعلیم دلوائی اور بڑے بیٹے مولانا عبدالحفیظ آپ کے ساتھ مسجد و مدرسہ کے کام میں شریک محنت رہے۔
وفات:
۳مارچ بروز اتوارہلکی سی پیشاب کی تکلیف ہوئی تو انہیں ہسپتال لایا گیا‘ علاج کے بعد ہری پور تشریف لے گئے۔ ۱۰ مارچ اچانک طبیعت خراب ہوئی اور آناً فاناً وفات پا گئے  انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی وفات کی خبر علاقہ میں بجلی کی طرح پھیل گئی۔ رات ۱۱ بجے ہری پور میں نماز جنازہ ادا کی گئی اور ۱۱ مارچ دن دو بجے گاؤں میں ادا کی گئی  نماز جنازہ آپ کے بیٹے مولانا عبدلحفیظ نے پڑھائی۔ تمام فضا افسردہ تھی اور پورا علاقہ حزن و ملال میں ڈوبا ہوا تھا  اور سردی بھی اپنے جوبن پر تھی‘ برف باری بھی رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی لیکن سوگواروں کا ہجوم تھا‘ پیدل راستہ اور برف باری کی وجہ سے سینکڑوں سوگوار راستے میں ہی پھنس گئے۔ میت کابھی عجیب منظر تھا‘ لبوں پر مسکراہٹ تھی جو مرد مومن کی نشانی ہے۔
نشان مرد مومن باتو گویم
چو مرگ آید تبسم بر لب اوست
اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے اور اعلیٰ علیین میں مقام عطا فرمائے آمین ۔

No comments:

Post a Comment