Mz23-02-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, June 15, 2019

Mz23-02-2019


اعتدال کے فروغ کے لیے رابطہ عالم اسلامی

تحریر: جناب سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم حفظہ اللہ
سعودی عرب کے سابق فرمانروا شاہ فیصل بن عبدالعزیز ؒ ایک پرہیز گار حکمران تھے جو ملت اسلامیہ کے اتحاد کیلئے ہر وقت فکر مند رہتے تھے۔ ۱۹۶۲ء میں ان کی کوششوں سے عالم اسلام کے ممتاز علماء اور داعیان دین کا نمائندہ اجلاس مکۃ المکرمہ میں طلب کیا گیاجس میں رابطہ عالم اسلامی کی بنیاد رکھی گئی۔ را بطہ عالم اسلامی آج عالم اسلام کی ہمہ گیر اور وسیع ترین عوامی تنظیم ہے۔ جسکا صدر دفتر مکہ المکرمہ میں واقع ہے۔ اسکے موجودہ جنرل سیکرٹری ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسی ہیں۔ یہ پوری دنیا کی اسلامی این جی اوز اور نمائندہ شخصیات کا ایک بین الاقوامی فورم ہے۔ جس کے قیام کا مقصد دعوت دین اور اسلامی عقائد وتعلیمات کی تشریح اور انکے بارے میں پیدا ہونے والے شکوک وشبہات یامعاندین اسلام کے اعتراضات کو بہتر طریقہ سے زائل کرنا ہے ۔  نیزحرمین شریفین کی عظمت، شعائر حج کی تقدیس اور مسلم حکمرانوں کا شعائر اللہ سے خاص تعلق، وحدت امت، دعوت الی اللہ، میثاق مکہ اور قضیہ فلسطین ایسے امور اس کی ترجیحات میں شامل ہیں۔
رابطہ عالم اسلامی کے زیراہتمام گزشتہ ہفتے مکہ المکرمہ میں اسلام کی اعتدال پسندانہ تعلیمات اور دین متین کی روشن اقدار کے حوالے سے چار روزہ عالمی کانفرنس منعقد ہوئی ۔خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیزکی سرپرستی میں ہونے و الی کانفرنس میں دنیا بھر سے ایک ہزار سے زائد علمائے کرام، دانشور اور ممتاز شخصیات نے شرکت کی جنہوں نے اسلام کو فرقہ واریت کے باعث درپیش خطرات کے عنوان پر تقاریر اور مقالات پیش کیے۔کانفرنس کا افتتاح گورنر مکہ مکرمہ شہزادہ خالد الفیصل نے کیا۔
کانفرنس میں شاہ سلمان بن عبدالعزیزd کاپیغام گورنر مکہ شہزادہ خالد بن فیصل نے پڑھ کر سنایا جس میں ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب انتہا پسندی، تشدد اور دہشت گردی کی تمام شکلوں کی مذمت کرتا ہے.انہوں نے کہا کہ مملکت کے قیام میں رواداری اور اعتدال کی اقدار پنہاں ہیں۔معتدل طریق کار اختیار کرنے سے ملک کا تحفظ ہوا ہے۔شاہ سلمانd نے ایک مرتبہ پھر نسل پرستی اور منافرت پر مبنی بیانیے کی بیخ کنی کی ضرورت پر زور دیا۔ شاہ سلمانd نے کہا کہ سعودی عرب انتہا پسندی، تشدد اور دہشت گردی کی تمام شکلوں کی مذمت کرتا ہے اور وہ سوچ، نظریے اور عزم کے ساتھ ان کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے۔انہوں نے کہا کہ مملکت تمام انسانی معاشروں میں انصاف کی اقدار کی پاسداری پر زور دیتی ہے اور وہ ان کے درمیان پرامن بقائے باہمی کے فروغ کی خواہاں ہے۔
مقررین کا کہنا تھا کہ اسلام اعتدال اور امن پسند دین ہے، اس نے ہمیں درس دیا ہے کہ ہم فرقہ واریت کی جانب راغب نہ ہوں۔ آج امت کو اکٹھا کرنے اور اس کے مابین اچھے تعلقات کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے کہ ہم قرآن وسنت پر عمل پیرا ہوکر لوگوں کو فلاح انسانیت کادرس دیں۔کانفرنس سے او آئی سی کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر یوسف العثمین، امام کعبہ الشیخ عبدالرحمان السدیسd اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے انتہا پسندی، شدت پسندی اور دہشت گردی کے اسباب اور محرکات پر روشنی ڈالی۔
رابطہ عالم اسلامی نے کانفرنسوں پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ نئے انداز سے اپنی جدوجہد اغیار کی طرف ان کے اپنے علاقوں میں منتقل کر دی۔رابطہ عالم اسلامی نے اپنے مذہب کے دفاع اور خود اپنے تعارف پر انحصار نہیں کیا بلکہ اغیار کو اپنی باتیں کہنے کا بھی موقع دیا۔ رابطہ عالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر محمد العیسیٰ کی زیر قیادت نیا طریقہ کار اختیار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام اغیار کو اختلاف کا حق دیتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام ہر طرح کے جبر کا مخالف ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ انتہا پسندی کا رواج بیشک ہمارے درمیان موجود ہے، اسی کے ساتھ ساتھ انہوں نے انتہا پسندی کے اسباب کے تجزیہ اور اس کا لاوا بھڑکانے والے ذرائع دریافت کرنے کا بھی اہتمام کیا۔ انہوں نے اسی کے ساتھ ساتھ اسلام فوبیا کے گھنائونے خطرات کی طرف توجہ بھی مبذول کرائی جو مغربی دنیا میں پھیلتا چلا جا رہا ہے  جسے انتہا پسند مسلم نوجوان اپنی انتہا پسندی کے جواز کے طور پر پیش کرنے لگے ہیں۔ رابطہ عالم اسلامی نے مکہ مکرمہ میں کانفرنسوں کے انعقاد پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اغیار کے گڑھ میں پہنچ کر اسلام سے خائف فریقوں کو غور سے سنا اور انہیں اسلامی اعتدال، میانہ روی اور رواداری سے بھرپور شکل میں آگاہ کیا۔ اغیار نے ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں کئی ایوارڈ سے نوازا۔
رابطہ عالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر العیسیٰ نے عملی اسلوب اور متوازن اظہار کی بدولت ہر سطح پر سعودی عرب کی حقیقی تصویر اجاگر کی۔ دنیا کو سعودی عرب کے اعتدال پسند مزاج سے آگاہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب وہ ملک ہے جو دہشت گردی کی آفت سے سب سے زیادہ دوچار ہوا ہے اور وہی ایسا ملک ہے جس نے دہشت گردی کا مقابلہ سب سے زیادہ کیا۔ سعودی عرب نے اس حوالے سے بہت سے کارنامے انجام دئیے۔ انسداد دہشتگردی کا اسلامی اتحاد قائم کیا۔ اپنا تجربہ دوسروں تک پہنچایا۔ بڑے مغربی ممالک تک کو دہشتگردی کے انسداد میں مدد دی۔ امن و امان ہی کے حوالے سے نہیں بلکہ دہشتگردانہ افکار سے نمٹنے کیلئے بھی ٹھوس بنیادوں پر کاوشیں کیں اور کر رہا ہے۔
ڈاکٹر عبد الکریم العیسی سمجھتے ہیں کہ مسلم منحرفین کی طرح تمام مذاہب میں انتہا پسند پائے جاتے ہیں۔ انتہا پسندی کسی ا یک مذہب کے ساتھ مخصو ص یا محدود نہیں۔ ڈاکٹر العیسیٰ نے توجہ دلائی کہ انتہا پسندی کو ناحق اسلام سے جوڑ دیاگیا ہے۔ اسلامی فقہ کے ماہرین قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ کی تفہیم اور تشریح و توضیح مقررہ علمی اصولوں کے مطابق کرتے ہیں۔ آیات و احادیث کے فہم میں ماہرین کے درمیان اختلافات خالص علمی اور اصولی بنیاد پر ہوتا ہے اس کا انتہاپسندی سے کوئی تعلق نہیں۔ البتہ انتہاپسند عناصر قرآنی آیات و احادیث مبارکہ کا مفہوم اپنے مزاج اور ذاتی و جماعتی و گروہی فہم کے مطابق طے کرکے معاشرے میں انتشار پیدا کرتے ہیں۔ پوری مسلم دنیا انتہا پسندانہ افکار کو اسلام مخالف مان کر مسترد کئے ہوئے ہے اور کررہی ہے۔ ماہرین فقہ میں اختلافات ایک دوسرے کی فہم کے احترام کا تقاضا کرتے ہیں، کوئی بھی فقہی مسلک دوسرے فقہی مسلک کے فہم کو ماننے پر مجبور نہیں کرتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام نے مشترکہ انسانی خاندان کا تصور پیش کیا اور اسے فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ اسلام متمدن معاشرے کی تشکیل میں ایک دوسرے سے تعاون اور ایک دوسرے سے محبت کا علمبردار دین ہے۔ مشترکہ انسانی خاندان کے درمیان ہم آہنگی، قربت، محبت، الفت اور تعاون کو نقصان پہنچانے اور متاثر کرنے کی ہر کوشش خلاف شرع ہے، اسلام نے اس کی مزاحمت کا حکم دیا ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ مختلف مذاہب، نسلوں، ثقافتوں اور قومیتوں سے منسوب لوگ ایک دوسرے سے تعاون کریں۔ ایک دوسرے کے ساتھ پیار محبت سے پیش آئیں اور باہمی قربت کے رشتے استوار کریں۔ رابطہ عالم اسلامی پرامن بقائے باہم اور رواداری کی خاطر اقوام عالم کے درمیان قربت کے فروغ کیلئے عالمی پل قائم کررہا ہے، اسلامی اعتدال کی قدروں کا خیرمقدم کرتاہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ رابطے کے اہلکار مذہبی و نسلی بنیادوں پر فلاح و بہبود کے کاموں میں امتیاز نہیں برتتے۔
رابطہ کے زیراہتمام جن شعبہ جات کی اب تک تشکیل کی جا چکی ہے اس میں اشاعت وترویج قرآن کیلئے ایک کونسل ہے جو مسلمانوں کے بچوں میں قرآن سے لگائو پیدا کرنے کیلئے حفظ قرآن کے مقابلوں کا اہتمام کرتی ہے پھرتعلیمی کونسل ہے جسکا کام دنیا بھر میں مسلم ممالک کے علاوہ مسلم اقلیتوں کے بچوں کی تعلیمی ضروریات کاخیال رکھنا ہے۔، اس ضمن میں جہاں نئے اداروں کی ضرورت ہے ان کے قیام کی جدوجہد کرنا اس کے پیش نظر ہے۔ اسی طرح،چیئرٹی  فا ئو نڈیشن، اقصی مسجد فائونڈیشن، انٹرنیشنل اسلامک ریلیف آرگنائزیشن، قرآن وسنت کے سائنسی انکشافات اور نشانیوں پر کمیشن۔ ورلڈ سپریم کونسل برائے مساجد، الفقہ کونسل کی شکل میں کمیٹیاں فعال ہیں۔ انہیں جدید اسلوب اور جدید فقہی، معاشی اور اقتصادی معاملات کے تناظر میں امور سونپے گئے ہیں۔ دنیائے اسلام با لخصوص جبکہ یورپ، افریقہ ودیگر غیر اسلامی ممالک بالعموم جہاں مسلم اقلیتیں ہیں وہاں انکے میڈیکل اور ویلفیئر کے مشن کام کرتے رہتے ہیں۔پاکستان میں آنیوالے زلزلوں اور سیلابوں سمیت قدرتی آفات کے موقع پر سعودی عرب کی حکومت نے رابطہ کے ذریعے کروڑوں روپے کی امداد بھجوائی تھی۔ مصیبت اور پریشانی کا کوئی بھی موقع ہو رابط عالم اسلامی تعاون میں پیش پیش نظر آتا ہے۔
اسلام دشمن عناصر کی طرف سے مسلمانوں پر طرح طرح کے الزامات اور اسلام کا غلط تصور پیش کرنیوالے عوامل کے تدارک کیلئے تقابل ادیان کے شعبہ کے تحت علمی وتحقیقی کام کررہی ہے۔ رابطہ کے فورم پر یورپ اور دیگر مغربی ممالک میں مذاہب کے درمیان مکالمے کی ضرورت واہمیت پر کانفرنسز منعقد کرائی گئی ہیں۔ اسلام کی حقیقی تعلیمات بیان کرکے اسے پر امن مذہب کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔ رواداری اور برداشت پر مبنی اسلامی تعلیمات عام کی جارہی ہیں اور مذہبی انتہا پسندی وغیرہ کے پراپیگنڈہ کی نفی کی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں اب تک کئی کا نفرنسیں ہو چکی ہیں۔ یعنی اسلام اور مسلمانوں کیخلاف جب بھی کوئی سازش ہوتی ہے اسکا حکمت عملی سے جواب دیا جاتا ہے۔ بین المذاہب مذاکرے اور مکالمے اسکے ایجنڈے میں شامل ہیں۔ بدقسمتی سے شدت پسند گروہوںکے انفرادی کردار اور سرگرمیوں کو اسلام کے کھاتے میں ڈالنا بڑی زیادتی ہے۔ غیرمسلموں کو اسلام کا خوبصورت امیج دینا اور دنیا کو تہذیبی ٹکرائو سے بچانا اسکی ترجیحات کا حصہ ہے۔ پاکستان میں فرقہ وارانہ کشیدگی، فقہی اور گروہی مذہبی منافرت کم کرنے کیلئے رابطہ کا پلیٹ فارم بھرپور کردار ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ بعض اندرونی وبیرونی اسلام اور ملک دشمن قوتوں کی خواہش ہے کہ مذہب کے نام پر فساد کو ہوا دی جائے۔ حالانکہ قرآن وسنت کی تعلیمات کو عام کرکے ایسی تمام خرافات ومنکرات اور سازشوں کو مل کر ناکام بنا یا جاسکتا ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ سب سے سنگین اور خوفناک چیلنج یہ ہے کہ آج طا غوتی طاقتیں اسلام کے خلاف ایک گھنائونا پروپیگنڈہ کر رہی ہیں کہ اسلام عدم رواداری اور دہشت گردی کا دوسرا نام ہے۔ جبکہ اسلام امن کا مذہب ہے و ہ مغربی طا قتوں یا بین الاقوامی برادری کے کسی بھی حصے کے خلاف خطرہ نہیں ہے۔ مسلمان ممالک تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ اور پرامن تعلقات رکھنے کے حامی ہیں۔ لیکن وہ دوسروں کی بالادستی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں اور نہ ہی وہ دوسروں کے زیر اثر رہنے کے لیے تیار ہیں۔ رابطہ عالم اسلامی کا دہشت گردی کے بارے میں موقف واضح ہے۔ یہ تنظیم ہر صورت میں دہشت گردی کی مذمت کرتی ہے۔وسطیت اور اعتدال مسلم معاشروں کی ہمیشہ سے ضرورت رہی ہے اور آج زیادہ ہے۔ فکری اور تہذیبی کشمکش موجودہ ماحول میں ملت اسلامیہ کے اس امتیاز کو حوصلہ، تدبر اور حکمت کے ساتھ اجاگر کرنے کے لیے رابطہ عالم اسلامی کی خدمات لائق تحسین ہیں ۔
ماضی میں مشرق وسطیٰ میں کئی منفی تبدیلیاں رونما ہوئیں‘ کئی مسلمان ملکوں پر اس کے خراب اثرات مرتب ہوئے‘ یہ اثرات کافی عرصہ تک جاری رہیں گے۔ سعودی عرب کی طرف سے شروع کی گئی کوششوں سے مسلمان ممالک پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔سعودی عرب نے ایک بڑے بھائی کا کردار ادا کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں مزید تباہی کو روک دیا۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیزd نے مشکل وقت میں اقتدار سنبھالا تھا۔ شاہ سلمان ایک دانش مند‘ نرم مزاج شخصیت کے مالک ہیں۔
ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمانd نے منصب سنبھالنے کے بعد جلد ہی ملکی اور بین الاقوامی امور کے بارے میں انڈرسٹینڈنگ کو مستحکم کر لیا ہے۔ دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سعودی سلطنت میں اپنی ترجیحات کا از سر نو تعین کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کئے۔ ان اقدامات میں معاشی اصلاحات اور کفایت شعاری کے اقدامات شامل ہیں۔ کرپشن کے خلاف مہم نے بعض اہم شخصیات کواحتساب کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔ شہزادہ محمد بن سلمانd کا ’’ویژن ۲۰۳۰‘‘ کے پس منظر میں متحرک کردار بھی تیل پر انحصار ختم کرنے کے لیے سلطنت سعودی عرب نے اپنی طویل المدت ایجنڈے پر کام شروع کیا ہے جو عالمی مارکیٹ میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے سعودی عرب کی طرف سے اہم پیشرفت تھی۔ سعودی ولی عہد کی طرف سے کئی اصلاحات کے نتیجے میں سعودی عرب ایک اعتدال پسند جدید اسلامی ریاست بن رہی ہے۔ اسی طرح شہزادہ محمد بن سلمان کی طرف سے سعودی عرب کے لیے پہلا نیوکلیئر ری ایکٹر بنانے کا فیصلہ خوش آئند ہے۔ اگلے بیس برس میں سعودی عرب دس نیوکلیئرری ایکٹر تعمیر کرے گا۔
میرے خیال میں سعودی عرب نے حال ہی میں جو اقدامات اٹھائے ہیں ان کا مشرق وسطیٰ پر مثبت اثر مرتب ہوگا اور ان ملکوں میں گورننس کا جدید نظام وجود میں آئے گا‘ ان ملکوں کا سماجی اور سیاسی ڈھانچہ بھی تبدیل ہوگا۔ سعودی عرب نے نوجوانوں کو انتہا پسندی سے دور رکھنے کے لیے بہترین پروگرام مرتب کیا ہے۔
سعودی عرب ہمیں بہت عزیز ہے۔ سعودی عرب ہمارا بڑا بھائی ہے‘ اس ملک میں ہمارے مقدس حرمین شریفین ہیں‘ ہمارے سعودی عرب سے قریبی اور برادرانہ دوطرف تعلقات ہیں‘ سعودی عرب نے پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ حال ہی میں شہزادہ محمد سلمان بن عبدالعزیزکے دورہ پاکستان نے ہماری معاشی مشکلات سے نکالنے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔
ہم سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب کے اندرونی معاملات میں ایرانی مداخلت مملکت کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش ہے اور ایسے اقدامات سے مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کی سالمیت کو بھی خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ شاہ سلمان نے اس حوالے سے عرب ممالک کی مشترکہ حکمت عملی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ہم دشمن کی جارحیت اور تخریب کاری پر خاموش تماشائی بنے نہیں رہیں گے بلکہ ڈٹ کر مقابلہ کریںگے۔عرب اور مسلمان ممالک کی قیادت مکہ معظمہ میں اس لیے سر جوڑ کر بیٹھی ہے تاکہ ہم اپنی اقوام کے بہتر مستقبل کی بنیاد رکھیں اور عالم اسلام اور عرب ممالک کی سلامتی کو مضبوط بنائیں۔
عالمی کانفرنس کے شرکاء نے مسلم ممالک میں اتحاد پیدا کرنے، امن وسلامتی اور استحکام کا مشن چلانے، انتہا پسندی اور دہشتگردی کے خلاف میانہ روی اور اعتدال کی مہم کی قیادت پر خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو خراج تحسین پیش کیا۔کانفرنس زمان و مکان کے فرق کو مد نظر رکھ کر میانہ روی کے پیغام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے منعقد کی گئی۔ کانفرنس کے شرکاء نے جدید معاشرے کے نئے مسائل اور انکے حل پر بھی غوروخوض کیا۔ اعلامیہ میں شدت پسندی اور انتہا پسندی سے نمٹنے پر زو ردیاگیا۔ واضح کیا گیا کہ نوجوانوں کو انتہا پسندی کے خطرات سے بچانے کیلئے اعتدال اور میانہ روی سے روشناس کرانا ہوگا۔ شرکاء  نے اسلام کے حوالے سے مغالطہ آمیز تصورات کی اصلاح کی طرف بھی توجہ مبذول کرائی۔ علماء، مبلغین،  اورارباب ا بلاغ و تربیت سے کہا گیا کہ وہ انتہا پسندوں کی افتراء پردازیوں کو طشت ازبام کریں۔ انکے پھیلائے ہوئے شکوک و شبہات کی حقیقت کو اجاگر کریں۔ لوگوں کو انکے جھوٹے نعروں کی حقیقت سے مطلع کریں۔ قرآن و سنت سے ماخوذ شرعی احکام پھیلائیں۔سرکاری اور عوامی اداروں کے تعاون سے رابطہ عالم اسلامی اسلام کی روشن تصویر پیش کرنے کیلئے مشترکہ پروگرام نافذ کرے گا۔
پاکستان سے کانفرنس میں شریک ہونے والے علماء کرام میں سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم۔ مولانا علی محمد ابوتراب، چوہدری یاسین ظفر، حافظ سجاد قمر، مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر، مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی، مولانا عبد الغفور حیدری، مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی، مولانا مفتی منیب الرحمٰن، مولانا شاہ اویس نورانی، مولانا عبد الغفار روپڑی، مولانا انوار الحق حقانی، مولانا حامد الحق حقانی، سردار عتیق احمد خان، مولانا قاری میاں تھانوی، مولانا مفتی محمد زاہد، مولانا محمد الیاس چنیوٹی، مولانا قاضی نثار احمد گلگتی، صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی، حافظ طاہر محمود اشرفی اور مولانا راشد محمود سومرو اور وفاقی وزیر مذہبی امور جناب انوار الحق قادری بطور خاص قابل ذکر ہیں۔

No comments:

Post a Comment

View My Stats