Mz23-03-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, June 15, 2019

Mz23-03-2019


رؤیت ہلال پر اختلاف کیوں؟!

تحریر: جناب رانا شفیق خاں پسروری
رمضان المبارک اور عید الفطر کے موقع پر ہر سال پاکستان میں مسئلہ رؤیت ہلال‘ در پیش ہوتا ہے۔ ملک کے بعض علاقوں میں رؤیت ہلال کمیٹی کے فیصلے کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک دن پہلے روزہ رکھا جاتا اور عید منائی جاتی ہے۔
اِمسال بھی عید الفطر کے موقع پر ایک بار پھر یہی اختلاف اُبھر کر سامنے آیا۔ جبکہ سوشل میڈیا پر اس کو خوب اُچھالا گیا۔ اس اہم مسئلہ پر سال ۲۰۰۹ء میں ہم نے تفصیلی مضمون شائع کیا تھا۔ جبکہ اس سال اس معاملہ میں مفتی پوپلزئی صاحب سے زیادہ موجودہ حکومت کے وفاقی وزیر سائنس وٹیکنالوجی نے شدت اور انتشار کی فضاء پیدا کر دی۔ بہانہ انہوں نے بھی مفتی پوپلزئی صاحب کے اختلاف ہی کا بنایا اور یہ کہہ کر کہ ’’چاند کی رؤیت کے حوالے سے رؤیت ہلال کمیٹی (مفتی منیب) اور مفتی پوپلزئی کے درمیان اختلاف پیدا ہوتا ہے‘ اس سے قوم ذہنی انتشار میں مبتلا ہو جاتی ہے‘ اس لیے اس اختلاف کو سائنسی بنیادوں پر ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے گا۔‘‘
پھر اس مسئلہ کا حل یوں پیش کیا کہ ’’وزارت سائنس پانچ سال کے لیے قمری کیلینڈر بنا کر دے گی‘ جس میں روزوں اور عیدین کا ابھی سے تعین کر دیا جائے گا۔‘‘
وفاقی وزیر نے اختلاف دور کرتے کرتے، وفاقی حکومت ہی کی بنی ’’سرکاری رؤیت ہلال کمیٹی‘‘ اور اس کے چیئرمین جناب مفتی منیب صاحب کو نشانے پر رکھ لیا اور بیانات سے ایسی فضا بنا دی کہ قوم کا ذہنی انتشار ختم ہونے یا کم ہونے کی بجائے مزید بڑھ گیا۔ اس میں رمضان المبارک کے اختتام پر اس وقت صورت حال یوں مضحکہ خیز بن گئی کہ جب وفاق میں قائم حکومت ہی کی پارٹی کی (کے پی کے کی) صوبائی حکومت نے وزیر سائنس کے بنائے کیلنڈر اور بڑے بڑے بیانات کے بر خلاف وبرعکس مفتی پوپلزئی صاحب کے اعلان کے مطابق 28 روزوں کے بعد ہی عید الفطر منانے کا اعلان کر دیا۔
اس صورت حال پر وفاقی وزیر سائنس اور صوبائی وزراء ایک دوسرے کا مذاق بھی اڑاتے رہے۔ وفاقی وزیر سائنس نے میڈیا پر برملا کہا کہ ’’جب چاند پیدا ہی نہیں ہوا تھا اور نہ ہی اس کے نظر آنے کے (سائنسی بنیادوں پر) امکانات تھے تو کے پی کے والوں نے چاند ہونے پر جھوٹ بولا ہے اور ان کے خلاف مقدمہ ہونا چاہیے۔‘‘ کے پی کے‘ کے صوبائی وزیر اطلاعات‘ وفاقی وزیر سائنس پر ’’مفتی‘‘ کی پھبتی کستے اور قہقہے لگاتے رہے۔
’’مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی‘‘ وفاقی حکومت کی بنائی ہوئی سرکاری کمیٹی ہے جس کے موجودہ چیئرمین مفتی منیب صاحب ہیں جبکہ اس کمیٹی میں تمام مسالک کے مسلمہ نمائندے موجود ہیں۔ اسی طرح محکمہ فلکیات اور موسمیات کے ماہرین بھی موجود ہیں۔ تمام صوبوں میں اس کی زونل کمیٹیاں موجود ہیں اور ان کی بھی حیثیت سرکاری ہے۔ یعنی یہ کمیٹی حکومت پاکستان کی نمائندہ ہوتی ہے جو ہر قمری مہینے کی رؤیت اور تقویم کا باقاعدہ اعلان کرتی ہے اور اسی کے اعلان پر پورے پاکستان میں اعتماد کیا جاتا ہے۔
جبکہ مفتی پوپلزئی صاحب کی کمیٹی کی کوئی سرکاری حیثیت نہیں۔ اس کے باوجود خیبر پختونخواہ کی صوبائی حکومت نے اپنی پارٹی کی وفاقی حکومت ہونے کے باوجود مرکزی اور صوبائی رؤیت ہلال کمیٹیوں کی بجائے مسجد قاسم جان کی نجی کمیٹی کے اعلان کو اہمیت دی‘ یہ واقعتا اچنبھے کی بات ہے۔ (بعض لوگ اس کے پس منظر میں کسی سیاسی مفاد کی بھی بات کرتے ہیں!)
مفتی منیب صاحب‘ بریلوی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔ صرف ان کے مسلک کے باعث ان کی چیئرمینی پر تنقید کرنا مناسب نہیں‘ ان کے اس حوالے سے فیصلہ اور اعلانات صرف ان کے اپنے نہیں ہوتے بلکہ تمام مسالک کے مسلمہ نمائندوں کے بھی ہوتے ہیں۔ اس لیے مفتی پوپلزئی صاحب اور مفتی منیب صاحب کو صرف دو شخصیات یا دو مسالک کے باہمی اختلاف کا نام دینا‘ بالکل مناسب نہیں۔
پشاور مسجد قاسم جان کے مفتی پوپلزئی صاحب اور ان سے پہلے ان کے والد گرامی بھی مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی سے ہمیشہ اختلاف کرتے اور روزے وعید ایک دن پہلے ہی مناتے رہے ہیں۔ مفتی منیب صاحب تو اب چیئرمین ہیں اور بریلوی ہیں‘ مسجد قاسم جان والے تو دیوبندی چیئرمینوں کے دور میں بھی اسی طرح اختلاف کرتے رہے ہیں۔ حضرت مفتی محمد شفیع a‘ مولانا احترام الحق تھانویa اور مولانا محمد عبداللہ (لال مسجد والے) a کے ادوار میں بھی معاملہ یہی تھا۔
اصل میں پشاور کی مسجد قاسم جان والے مفتی پوپلزئی صاحب اور ان کے ساتھیوں کا معاملہ ’’رؤیت‘‘ کا ہے ہی نہیں‘ ان کا معاملہ حضرت امام ابوحنیفہa کا ایک قول کا ہے (جو ردالمحتار میں ہے) کہ ’’مغرب میں چاند نظر آ جائے تو تمام اہل مشرق کے لیے کافی ہو گا۔‘‘
چنانچہ پشاور مسجد قاسم جان والے‘ حضرت امام ابوحنیفہa کے اس قول کی بنیاد پر سعودی عرب کے چاند پر اپنے فقہی رجحان کے باعث‘ پورے پاکستان اور دیگر حنفی علماء کرام کی واضح ترین اکثریت کے برخلاف وبرعکس ایک دن پہلے روزہ اور عید کا اعلان کر دیتے ہیں۔
’’پاکستان فورم‘‘ میں ہمارے ایک سوال کے جواب میں جید حنفی علماء کرام نے فرمایا تھا کہ ’’پشاور والے حضرت امام ابوحنیفہa کے اس ایک قول کے باعث ایک دن پہلے (اور سعودی عرب کے چاند کے مطابق) اعلان کر دیتے ہیں جبکہ ہم پورے پاکستان والے ’’صاحبین‘‘ کے قول پر عمل کرتے ہیں۔‘‘
میں یہ سمجھتا ہوں کہ پشاور والے اور دیگر حنفی علماء کرام حضرت امام صاحب کے قول کو سمجھنے میں (شاید) غلطی پر ہیں جبکہ حضرت امام صاحب کا قول بھی ٹھیک اور برمحل ہے کہ ’’سورج کا مغرب اور ہے اور چاند کا مغرب اور ہوتا ہے۔‘‘
سورج مشرق سے نکل کر جس مغرب میں غروب ہوتا ہے اور چاند اسی مغرب سے نکلتا ہے‘ یعنی سورج کا مغرب درحقیقت چاند کا مشرق ہوتا ہے۔‘‘
اگر حضرت امام صاحب کے قول کی اس طرح توجیہ وتوضیح کر لی جائے تو معاملہ بھی سمجھ میں آ سکتا ہے اور اختلاف بھی ختم ہو سکتا ہے۔
بہرحال جناب مفتی پوپلزئی صاحب اور ان کے ساتھی‘ در حقیقت مغرب (سعودی عرب) کے چاند کو اہمیت دیتے ہیں اور کوئی بات نہیں۔ پورے پاکستان کے لوگ [لکل بلد رؤیتہم] یعنی ’’ہر علاقے کی اپنی رؤیت‘‘ کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں۔ ہمارے لوگ بالخصوص میڈیا والے‘ اس فقہی معاملے سے بے خبر ہوتے ہیں۔ چنانچہ وہ چاند کے مسئلے پر‘ اس اختلاف کو دو مفتیوں کی جنگ قرار دے کر مذہبی طبقات اور عناصر کا مذاق اڑانا اور نت نئی کہانیاں شروع کر دیتے ہیں۔
وفاقی وزیر سائنس (جو پہلے وزیر اطلاعات تھے اور جنہیں خبروں میں رہنے کا ڈھنگ آتا ہے۔) نے بھی مسلمہ مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کو نظر انداز کرتے ہوئے چیئرمین مفتی منیب صاحب اور مفتی پوپلزئی کی لڑائی بنا دیا اور پھر اپنے مخصوص انداز میں اس کو خوب ابھارا۔ بعد ازاں قوم کو ’’مژدہ‘‘ سنایا کہ اس لڑائی اور اختلاف کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے گا اور قمری کیلنڈر بنانے کا اعلان کر دیا۔ یعنی پہلے تمام مکاتب فکر کی متفقہ ومعتمد علیہ‘ مرکزی ہلال کمیٹی سے صرف پشاور کے لوگ ہی (اپنے فقہی رجحان کے باعث) اختلاف کرتے تھے اور اب وفاقی وزیر سائنس نے بھی حکومتی اہم ذمہ داری کے باوصف اختلاف کرنے کا ’’باقاعدہ‘‘ اعلان واقدام کر دیا۔
رؤیت ہلال کے حوالے سے‘ دینی اکابر نے خوب کام کیا ہے اور یہ معاملہ بھی دین ومذہب ہی سے تعلق رکھتا ہے۔ مذہب بیزار لوگ اس حوالے سے مذہبی ودینی طبقات کا مذاق اڑانے کے علاوہ اور کیا کر سکتے ہیں؟!
دینی اکابر کو قدرت نے ذہن رسا اور فہم وادراک سے خوب نوازا ہے‘ وہ خلاف عقل کوئی اقدام کر ہی نہیں سکتے۔
جہاں تک ’’قمری کیلنڈر‘‘ بنانے کا تعلق ہے تو یہ کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں۔ یہ ہر دور میں بنتا رہا ہے۔ ہمارے ہاں ہر جنتری اور ڈائری میں ’’قمری کیلنڈر‘‘ شائع ہوتے ہیں۔ مدارس میں باقاعدہ ’’تقویم‘‘ کے حساب وکتاب کی تعلیم موجود ہے۔ سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک میں قمری کیلنڈر بنے ہوئے ہیں۔ پورا سال قمری کیلنڈر ہی پر معمولات زندگی اور دفتری معاملات چلتے ہیں۔ پھر بھی وہ ’’رؤیت ہلال‘‘ کا باقاعدہ اہتمام کرتے ہیں۔
باقی اس معاملے میں سائنس کے نام پر مذہبی روایات وشعائر اور دینی طبقات کی تضحیک کرنا‘ دین کی خدمت کی غرض سے نہیں‘ ایسی باتیں زیادہ تر وہ لوگ کرتے ہیں جو دینی تعلیمات اور روایات سے ناواقف اور دینی لحاظ سے بے عمل ہوتے ہیں۔ (آج کل سوشل میڈیا کو جھوٹ اور گمراہ کن پروپیگنڈے کے لیے جس طرح استعمال کیا جا رہا ہے وہ اپنی جگہ ایک المیہ اور نہایت افسوس ناک معاملہ ہے۔)
بعض لوگوں نے پھبتی کسی کہ سائنسی ایجادات استعمال کرنے والے‘ عینک لگانے اور گھڑی باندھنے والے‘ چاند کی رؤیت کے لیے‘ سائنسی ترقی سے کیوں بھاگتے ہیں؟!
’’رؤیت ہلال‘‘ کی خاطر عینک سے بھی بڑھ کر‘ محکمہ موسمیات وفلکیات کی سب سے بڑی دور بین سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ سائنسی ایجادات سے کوئی انکار نہیں کرتا مگر معاملہ رؤیت کا ہے اور رؤیت میں جو بھی چیز معاون ہو قبول کر لی جاتی ہے۔ اسی طرح نمازوں کے لیے گھڑی کا وقت اصل نہیں۔ اصل سورج ہے اس کے مطابق جو اندازا ہوا اس کو سامنے رکھا جاتا ہے۔ اگر اصل گھڑی ہو تو پھر موسم سرما وگرما میں نماز کے اوقات الگ الگ کیوں ہوتے ہیں؟ جبکہ گھڑی تو وہی ہوتی ہے۔ اسی طرح رمضان المبارک میں روزوں کے سحری وافطاری کے اوقات میں مختلف شہروں میں فرق کیوں ہوتا ہے جبکہ گھڑی سب کے پاس ہوتی ہے اور پورے ملک میں ٹائم زون بھی ایک ہی ہے؟
یہاں اصل سائنسی ایجاد گھڑی نہیں‘ بلکہ شرعی احکام ہیں کہ جن کے باعث لاہور‘ کراچی‘ گوادر‘ کوئٹہ وغیرہ کے سحر وافطار میں ایک ہی ملک اور ایک ہی ٹائم زون ہونے کے باوجود اختلاف وقت موجود ومسلمہ ہے۔
اسلام دین فطرت ہے‘ یہ پڑھے لکھے کا بھی دین ہے اور عام آدمی کا بھی دین ہے۔ اسی طرح محلات اور سائنس کدوں میں رہنے والوں کا بھی دین ہے اور جنگلات‘ پہاڑوں اور بیابانوں میں رہنے والوں کا بھی دین ہے۔ اس لیے اس کی عبادات وتعلیمات کو عین فطرت کے مطابق اور آسان رکھا گیا ہے۔ عبادات کو سورج اور چاند کے مطابق اس لیے رکھا گیا ہے کہ یہ دونوں قدرتی مظاہر‘ ہر ایک کو آسانی سے نظر آتے رہتے ہیں۔ سورج تو ہر روز ایک ہی انداز سے طلوع وغروب ہوتا ہے‘ اس لیے روزانہ کی عبادت نماز کے اوقات اس کے مطابق ہیں اور چاند کا دور ایک مہینے میں مکمل ہوتا ہے اور ایک عام انسان بھی اس کی گنتی اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کے پوروں پر کر سکتا ہے۔ (ایک ہاتھ کی پانچ انگلیوں پر پندرہ پور اور دوسرے ہاتھ کی انگلیوں پر پندرہ پور اور یوں دونوں ہاتھوں کے تیس پوروں پر قمری مہینے کو گننا بہت ہی آسان ہے۔)
نئے چاند کی پیدائش 29 دن 12 گھنٹے کے بعد ہوتی ہے۔ پیدائش کے بعد وہ اپنے مدار پر قریبا 20 سے 30 گھنٹے بعد دکھائی دے گا۔ اب جو چاند پیدا ہی نہیں ہوا یا اس کو پیدا ہوئے چند گھنٹے گزرے ہیں وہ نظر کہاں سے آئے گا؟
اس سال بھی جب خیبر پختونخواہ کے ذمہ داران (وزراء) نے مفتی پوپلزئی صاحب کے ’’اعلان عید‘‘ کی حمایت کی تو وفاقی وزیر سائنس صاحب نے جواب وتردید میں فرمایا تھا: ’’چاند دوپہر قریبا تین بجے پیدا ہوا تھا وہ نظر آ ہی نہیں سکتا تھا‘ کے پی کے والوں نے کہاں سے دیکھ لیا؟ ان پر جھوٹ بولنے پر مقدمہ ہونا چاہیے۔‘‘
وفاقی وزیر سائنس صاحب نے بات واضح کر دی کہ ’’چاند کی پیدائش تو ہو چکی ہے مگر پیدائش کے باوجود اس کا ایک خاص وقت تک نظر آنا محال ہے۔‘‘
یہی بات خود وزیر صاحب کے موقف کے خلاف بھی جاتی ہے کہ ’’سائنسی ایپ‘‘ میں چاند کی پیدائش کا تو معلوم ہو جائے گا مگر نظر آنے کے لیے خاص وقت کے بعد دیکھنا تو بہرحال ضروری ہے۔
چاند کی پیدائش کے 20 سے 30 گھنٹے بعد ہی چاند نظر آتا ہے۔ اس سال بھی عید الفطر کے چاند کی رؤیت تقریبا ساڑھے 28 گھنٹے بعد ہوئی ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر چاند زمین کے قریب ہو تو پیدائش کے 17 گھنٹے بعد بھی انسانی نظر میں آ سکتا ہے۔ لیکن اگر فاصلہ زیادہ ہو تو 24 گھنٹے بعد بھی انسانی نظر میں نہیں آتا۔
یہ بھی مشاہدہ میں آیا ہے کہ دوسرے دن کے چاند کا سائز دیکھ کر بعض افراد کو یہ شبہ ہوتا ہے کہ حکومتی اداروں (رؤیت ہلال کمیٹی وغیرہ) سے ایک دن کی غلطی ہو گئی ہے کیونکہ انہیں چاند (ہلال) کا سائز کچھ بڑا نظر آ رہا ہوتا ہے۔ (عملاً یہ بات درست نہیں)
ہوتا یہ ہے کہ اگر پہلے دن چاند کی پیدائش کو 1516 گھنٹے تک بھی ہوئے ہوں تو وہ انسانی نظر میں نہیں آئے گا۔ اس طرح دوسرے دن کا چاند 40 (16+24) گھنٹے کا ہو جائے گا جو بڑا ہی ہو گا۔ 29 دن والے مہینے کی نسبت 30 دن والے مہینے کا چاند بڑا دکھائی دے گا۔
روزے اور عیدین بھی عبادات ہی ہیں اور ہر عبادت کا طریق وسلیقہ حضرت شارعu نے سکھایا اور بتایا ہے‘ اس کو کسی کی خواہش یا مرضی پر نہیں چھوڑا جا سکتا اور نہ ہی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
روزوں اور عید کے چاند کے حوالے سے اگر میڈیا چٹخارے دار تبصرے وتجزیئے نہ کرے تو اتنا شور کبھی نہ مچے اور اگر بعض حکومتی عناصر اپنے سیاسی یا دین بیزار رویوں سے اختلاف کو نہ اُبھاریں اور نہ ہی ہوا دیں تو ذہنی انتشار کی کیفیت بھی پیدا نہ ہو۔
وفاقی وزیر سائنس نے ’’قمری کیلنڈر‘‘ اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس بھیجا ہے تا کہ وہ اس پر اسلامی تعلیمات کے مطابق روشنی ڈال سکے۔ اس پر کونسل میں بحث ہو گی تو ہم بھی اپنا حصہ (رکن ہونے کی حیثیت میں) ضرور ڈالیں گے۔ مگر ایک بات ضرور عرض کرنا چاہتے ہیں کہ وفاقی وزیر سائنس نے ’’قمری کیلنڈر‘‘ کے رو بہ عمل ہونے کی شرعی حیثیت جاننے کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس اگر بھیجنا ہی تھا تو (بلاوجہ) مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی اور اس میں موجود علماء کرام پر ناروا فقرے چست کرنے اور دینی روایات پر کھلے انداز میں تبصروں کی کیا ضرورت تھی؟
ہم نے ’’رؤیت ہلال‘‘ کے حوالے سے اختلاف پر گذشتہ برسوں روزنامہ پاکستان میں کئی فورم کیے اور کئی مضامین لکھے۔ اب جبکہ بعض حکومتی عناصر نے ’’چاند‘‘ کے مسئلہ پر اپنے اپنے چاند چڑھانا شروع کر دیئے ہیں اور دین بیزار طبقے نے کھل کر دینی روایات وتعلیمات پر ناگفتہ بہ تبصرے شروع کر رکھے ہیں تو ہم نے مناسب سمجھا کہ اپنے فورموں اور مضامین میں سے بعض کو افادۂ عام کے لیے شائع کر دیا جائے۔

No comments:

Post a Comment

Pages