Mz23-04-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, June 15, 2019

Mz23-04-2019


قرآن کریم کے حقوق

تحریر: جناب مولانا الشیخ عبدالغفار حسن
قرآنِ مجید کا پہلا حق یہ ہے کہ اسے ٹھہر ٹھہر کر اطمینان کے ساتھ پڑھا جائے۔ آپ جب تراویح میں قرآن سنتے ہیں تو بہت سے حافظ اسے اس طرح پڑھتے ہیں کہ صرف آیت کے آخری الفاظ ہی سننے میں آتے ہیں اور کچھ خبر نہیں ہوتی کہ کیا پڑھا گیا۔ حالانکہ قرآن مجید میں ہے: {وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًا} کہ آپ قرآن مجید کو ٹھہر ٹھہر کر، اطمینان کے ساتھ پڑھیے۔ دوسری آیت میں فرمایا:
{وَقُرْاٰناً فَرَقْنٰہُ لِتَقْرَاَہٗ عَلَی النَّاسِ عَلٰی مُکْثٍ وَّنَزَّلْنٰہُ تَنْزِیْلاً} (الاسراء:۱۰۶)
’’ہم نے اس قرآن مجید کو اتارا کہ آپ اسے ٹھہر ٹھہر کر اطمینان سے پڑھیں۔‘‘
1 یہ قرآن کا پہلا حق ہے۔ اس کے ادب اور احترام کا تقاضا ہے کہ اسے انتہائی عاجزی اور انتہائی خشوع و خضوع کے ساتھ یہ سمجھ کر پڑھا جائے کہ یہ رب العالمین اور احکام الحاکمین کا کلام ہے۔ اس ہستی کا کلام ہے جس کے قبضہ میں آسمان اور زمین ہیں اور جو ساری کائنات کا خالق و مالک ہے۔ اس کے کلام کو پڑھتے ہوئے آدمی کے جسم پر لرزہ اور کپکپی طاری ہو جانی چاہیے، نہ کہ یہ کیفیت ہو کہ آدمی قرآن مجید پڑھے اور اسے معلوم ہی نہ ہو کہ کیا پڑھا ہے۔ پھر آپ نے دیکھا ہو گا کہ بعض قاری قرآن مجید پڑھتے ہیں تو لوگ اس طرح داد دیتے ہیں اور بعض تالیاں بجاتے ہیں جیسے مشاعرہ ہو رہا ہے۔ حالانکہ قرآن مجید سننے کے بعد دل کانپ اٹھنے چاہئیں، ڈر جانے چاہئیں جیسا کہ سورۃ الانفال میں فرمایا:
{اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُہُمْ وَاِذَا تُلِیَتْ عَلَیْہِمْ اٰیٰتُــہٗ زَادَتْہُمْ اِیْمَانًا وَّعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ} (الانفال:۲)
’’اور جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں، اور جب ان پر اللہ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔‘‘
لیکن جب آپ اسے سن کر داد دیں گے یا تالیاں بجائیں گے، جس طرح شعراء کو داد دی جاتی ہے۔ جب آپ اسے مشاعرہ بنا دیں گے تو ظاہر ہے کہ یہ ایمان بڑھے گا کہاں، گھٹ جائے گا۔
تو قرآن مجید کا پہلا حق یہ ہوا کہ اسے اطمینان سے ٹھہر کر پڑھا جائے۔ چاہے آپ اسے تراویح میں پڑھیں یا ویسے ہی تلاوت کریں، بہرحال جلد بازی سے پرہیز کیا جائے۔
2 قرآن مجید کا صرف پڑھ لینا ہی کافی نہیں بلکہ ہم پر اور تمام مسلمانوں پر اس کا دوسرا حق یہ ہے کہ اسے سمجھا جائے اور دیکھا جائے کہ اس کے ہم سے تقاضے کیا ہیں؟ وہ ہم سے کیا مطالبہ کرتا ہے؟ جیسا کہ فرمایا:
{کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِلَیْکَ مُبٰرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوْٓا اٰیٰتِہٖ وَلِیَتَذَکَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ} (سورۃ ص:۲۹)
’’ہم نے برکت والی کتاب اس لئے اتاری ہے کہ اس سے عقل والے لوگ نصیحت حاصل کریں اور اس کی آیات میں تدبر اور غور وفکر کریں۔‘‘
تا کہ انہیں معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون سا کام پسندیدہ ہے اور کون سا ناپسندیدہ ہے، کیا چیز حلال ہے اور کیا حرام ہے؟ یہ ساری باتیں قرآن مجید سے معلوم ہوتی ہیں۔ انہیں معلوم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اسے سمجھ کر پڑھا جائے، اسی لئے ایک اور آیت میں فرمایا:
{اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُہَا} (سورۃ محمد: ۲۴)
’’کیا وہ قرآن مجید میں غور نہیں کرتے؟ کیا ان کے دلوں پر قفل چڑھے ہوئے ہیں؟؟‘‘
قرآن مجید بار بار اس بات پر زور دیتا ہے کہ اسے سمجھا جائے۔ بہرحال اس کا علم حاصل کرنا، اس کو سمجھنا اور سمجھانا یہ قرآن مجید کا ہم پر دوسرا حق ہے۔
3 جب قرآن مجید کو سمجھ لیا تو اس کا تیسرا حق ہم پر یہ ہے کہ اس پر عمل کیا جائے۔ ہمارے تمام فیصلے قرآن مجید کے مطابق ہوں اور قرآن مجید کی اس تفسیر کی روشنی میں ہوں جو رسول اکرمe نے کی ہے۔ اس لئے کہ حدیث و سنت قرآن مجید کی تفسیر ہے۔ رسول اکرمe پر قرآن مجید نازل ہوا تو جس طرح آپe نے اس کا مطلب بیان فرمایا ہے اور اس کی جو تفسیر بیان فرمائی ہے یا آپe کے صحابہ نے آپe سے سن کر آگے بیان کیا ہے، وہی تفسیر درست اور قابل عمل ہے۔ درحقیقت اسی کا اہتمام ہونا چاہیے، اسی کو جاننے اور اسی کے حصول کے لئے ہماری کوششیں وقف ہونی چاہئیں۔ سورۂ نساء میں فرمایا:
{اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَآ اَرٰکَ اللّٰہُ} (النساء:۱۰۵)
’’بے شک ہم نے تیری طرف کتاب حق کے ساتھ اُتاری ہے(اس میں باطل کی کوئی آمیزش نہیں ہے۔ ساری کتاب حق ہی حق ہے) تا کہ آپ لوگوں کے درمیان ان احکام کی روشنی میں فیصلہ کریں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتلائے ہیں۔‘‘
سورۃ حم سجدہ میں فرمایا:
{لَّا یَاْتِیْہِ الْبَاطِلُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَلَا مِنْ خَلْفِہٖ تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَکِیْمٍ حَمِیْدٍ} (حم سجدۃ:۴۲)
’’یہ اللہ کی کتاب ہے، اس کے نہ آگے سے باطل آ سکتا ہے نہ پیچھے سے، اس لئے کہ اس ہستی کی طرف سے نازل کی گئی ہے جو حکمت والی اور لائق ستائش ذات ہے۔‘‘
جب یہ کتاب حق کے ساتھ اُتاری گئی ہے اس میں حق ہی حق ہے، سچ اور صداقت ہے تو پھر ایک مسلمان کے لیے کیسے جائز ہو سکتا ہے کہ وہ اس کتاب کو پڑھے لیکن اس پر عمل نہ کرے؟ قرآن مجید جس چیز کو حلال ٹھہرائے، اسے حرام سمجھے اور جسے حرام قرار دے، اسے حلال ٹھہرائے۔ اس لئے قرآن مجید کا تیسرا حق ہم پر یہ ہے کہ اس پر عمل کیا جائے۔
پہلا حق تو یہ ہوا کہ انسان اسے ٹھہر ٹھہر کر اطمینان سے پڑھے۔ لیکن اس سے پہلے ایمان بالقرآن ہے یعنی قرآن مجید پر ایمان لایا جائے۔ اس بات پر ایمان لایا جائے کہ یہ اللہ کی کتاب ہے اور بڑی عظمت والی ہے۔ زبان سے تو سب ہی ایمان لاتے ہیں لیکن دل سے ایمان لانا بھی مطلوب ہے۔ تو قرآن کا ہم پر پہلا حق ہوا: دل سے ایمان لانا۔ دوسرا ٹھہر ٹھہر کر تلاوتِ قرآن، تیسرا حق ہے اس کو سمجھنا، اس پر تدبر کرنا اور چوتھا اس پر عمل کرنا اور اپنے تمام جھگڑوں اور نزاعات میں اس کو ’’حکم‘‘ اور جج ماننا۔ قرآن حکیم کے ادب اور اس کے احترام کا یہ تقاضا ہے کہ جب آپ نے سمجھ لیا، اس پر عمل کر لیا تو یہ قرآن حکیم بہت بڑی نعمت ہے پھر اسے دوسروں تک بھی پہنچایا جائے۔ فرمایا:
{وَاَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْھِمْ وَلَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ} (نحل: ۴۴)
’’ہم نے آپ کی طرف ذکر کو نازل کیا (قرآن مجید کا ایک نام ذکر بھی ہے) تا کہ آپ دوسروں تک پہنچائیں، دوسروں کے سامنے کھول کھول کر بیان کریں جو ان کی طرف نازل کیا گیا ہے اور تا کہ وہ غور و فکر کریں۔‘‘
{قرآن کریم کے نزول کا اصل مقصد}   
لیکن افسوس کہ قرآن کریم سے روز بروز ہمارا تعلق کٹتا جا رہا ہے۔ ہم قرآن مجید کے حقوق بھولتے جا رہے ہیں۔ اب تو قرآن کے ساتھ ہمارا اتنا تعلق رہ گیا ہے کہ اسے عدالتوں میں حلف اٹھانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، حلف چاہے سچا ہو یا جھوٹا۔ یا پھر چور پکڑنے کیلئے قرآن مجید کی آیت کو دیکھا جاتا ہے۔ کہیں سفر پر جا رہے ہوں تو جانے یا نہ جانے کے لئے اس سے فال نکالی جاتی ہے۔ یا پھر اس سے تعویذ گنڈے کئے جاتے ہیں۔ نزلہ‘ زکام، کھانسی، بخار اور دوسرے ظاہری و باطنی امراض کے لئے تعویذ گنڈے دئیے جاتے ہیں جن کی باقاعدہ فیس مقرر ہے۔ پیروں فقیروں کا کاروبار خوب چل رہا ہے۔ کوئی تعویذ پانچ روپے کا ہے، کوئی دس روپے کا ہے، کوئی بیس کا۔ ہر چیز کی قیمتوں کے ساتھ تعویزوں کی قیمتیں بھی روز بروز بڑھتی جا رہی ہیں۔
لوگوں نے قرآن مجید پر اس قسم کی کتابیں بھی لکھ ڈالی ہیں کہ اس کی فلاں آیت کی فلاں خاصیت ہے اور فلاں کی فلاں!… اس سے انکار تو نہیں کہ قرآن مجید سے ظاہری امراض کو بھی شفا نصیب ہوتی ہے جیسا کہ فرمایا:
{وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا ہُوَشِفَآئٌ وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ} (بنی اسرائیل: ۸۲)
’’ہم قرآن میں ایسی آیتیں اتارتے ہیں جن میں شفا ہے۔‘‘
لیکن شفا کس چیز کی؟ اصل شفا اس بات کی ہے کہ ہمارے دلوں کی جو بیماریاں اور روگ ہیں، وہ دور ہوں۔ اس لئے فرمایا:
{یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ قَدْجَآئَ تْکُمْ مَّوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَشِفَآئٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ۵وَہُدًی وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ} (سورۃ یونس: ۵۷)
’’اے لوگو! تمہارے پاس رب کی طرف سے نصیحت آ گئی اور اس میں شفا ہے، سینوں کی بیماری کا علاج ہے اور یہ مومنوں کے لئے ہدایت و رحمت ہے۔‘‘
سینے میں دل ہوتا ہے، اس لئے دل میں کھوٹ اور غلط میلانات ہیں، غلط محبتیں، غلط نفرتیں، غلط خواہشات اور غلط عقیدے ہیں، ان کو مٹانے اور ان کی اصلاح کے لئے قرآن مجید کو نازل کیا گیا ہے۔ سینوں اور دلوں میں جو بیماریاں ہیں ان کے لئے قرآن شفا ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ قرآن کریم پڑھنے سے نزلہ نہیں جائے گا، سر کا درد نہیں جائے گا، سر کا درد اور نزلہ بھی جا سکتا ہے لیکن کہنا مقصود یہ ہے کہ قرآن مجید کے نزول کا اصل مقصد یہ نہیں۔
اس کی مثال یوں سمجھئے کہ ٹوپی جو سر پر رکھنے کے لئے ہوتی ہے لیکن اگر آپ بازار گئے ہوئے ہوں، آپ نے لیموں خریدے‘ پاس کوئی تھیلا نہیں تھا، آپ نے وہ لیموں ٹوپی میں ڈال لئے۔ اب دیکھئے اس سے آپ کا کام تو چل گیا لیکن ظاہر ہے کہ ٹوپی سر پر رکھنے کے لئے ہے، لیموں رکھنے کے لئے تو نہیں۔
یا توپ کی مثال لے لیجئے اس کے بنانے کا مقصد تو یہ ہے کہ اس کے استعمال سے دشمن کو ختم کیا جائے۔ آپ اگر اس سے مچھر یا مکھی مارنا چاہیں گے تو وہ مر تو جائیں گے لیکن ظاہر ہے کہ توپ مچھر اور مکھی مارنے کے لئے تو نہیں بنائی گئی۔ اس کا مقصد تو یہ ہے کہ ایک مسلمان مجاہد اسے اسلام کے دشمنوں کے خلاف استعمال کرے۔
اسی طرح قرآن کریم تعویذ گنڈوں کے لئے نازل نہیں کیا گیا۔ جاہلوں میں یہ چیز عام ہے۔ پھر جہاں تعویذ گنڈے ہوتے ہیں وہاں عورتوں کا ہجوم زیادہ ہوتا ہے۔ کسی کو بچے کی طلب ہے تو کسی کا کوئی اور مقصد ہے۔ ایک عورت جاتی ہے اور پیر صاحب سے کہتی ہے کہ مجھے ایسا تعویذ دو کہ میری بہو ٹھیک ہو جائے اور میری تابع ہو جائے۔ دوسری جاتی ہے اور کہتی ہے کہ اس کو ایسا تعویذ دیا جائے کہ اس کا شوہر اپنی ماں سے متنفر ہو کر اس کا غلام بن جائے۔ ایسے الٹے سیدھے تعویذ بھی قرآن سے بنا لئے گئے ہیں۔
بعض پیر نقوش بنا کر دیتے ہیں جیسے نقش سلیمانی۔ اسی طرح قرآن کریم کی آیات کو ایک کھیل بنا لیا گیا ہے۔ کوئی بیمار ہو، سورۂ فاتحہ پڑھ کر دم کر دو، اللہ شفا دینے والا ہے، اس سے انکار نہیں لیکن اس کو سمجھو تو سہی۔ اس کے علاوہ قرآن مجید ایصال ثواب کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے جس کا عام رواج ہے۔ مردوں کو ثواب پہنچانے کے لئے پڑھا جاتا ہے۔ خواہ اس نے پوری عمر قرآن نہ پڑھا ہو اور کھول کر بھی دیکھنے کی توفیق نہ ہوئی، مگر مرنے کے بعد ا سکے لئے قرآن خوانی ضرور ہوگی۔
میں کہتا ہوں کہ قرآن خوانی کے ساتھ قرآن دانی بھی ضروری ہے۔ اب قرآن خوانی ہوتی ہے، قرآن دانی نہیں ہوتی۔ ابھی ہمارے ایک عزیز کا انتقال ہوا، وہاں پر ہم گئے۔ ایک صاحب نے کہا کہ مرحوم کے لئے گیارہ قرآن ختم کئے گئے ہیں۔ میں نے کہا گیارہ قرآن تو ختم کر لیے مگر قرآن میں اترا ہے: {اقیموا الصلوٰۃ} تو اس پر بھی عمل ہوا کہ نہیں؟ تو معلوم ہوا کہ قرآن مجید ختم کرنے والے ۱۱۰۰ افراد میں سے بمشکل گیارہ آدمی نماز پڑھنے والے ہونگے۔ تو یہ قرآن مجید بس مردوں کو ثواب پہنچانے کے لئے رہ گیا ہے، زندوں کا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔ موت والے دن، سوئم میں، دسویں اور چالیسویں میں اسے پڑھ دو، برسی کے موقع پر اسے پڑھ دو اور بس معاملہ ختم۔ حالانکہ قرآن مجید کے نزول کا اصل مقصد تو یہ تھا کہ اس کو سمجھ کر پڑھا جائے، اس کی تعلیمات پر عمل کیا جائے، زندہ چلتے پھرتے انسانوں کے مردہ دلوں کو زندہ کیا جائے۔ ان کے اخلاق، عقیدے اور عمل کی اصلاح کی جائے، افسوس کہ اس مقصد کو فراموش کر دیا گیا ہے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ نیا گھر بنایا جائے یا نئی دکان کھولی جائے تو اس میں برکت کے لئے قرآن خوانی ہوتی ہے لیکن دکان میں کاروبار کس طرح کا ہوگا، اس سے کوئی غرض نہیں۔ بعض لوگ تو غضب کرتے ہیں، ایک صاحب نے شراب خانہ کھولا تو اس کے افتتاح کے موقع پر قرآن مجید کی تلاوت کرا دی حالانکہ وہاں تو یہ آیت صادق ہوتی ہے:
{یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ} (سورۃ المائدہ: ۹۰)
’’اے ایمان والو! یہ شراب اور جوا، یہ آستانے اور پانسے سب گندے شیطانی کام ہیں لہٰذا ان سے بچتے رہو تا کہ تم فلاح پاسکو۔‘‘
اسی طرح رمضان المبارک، عیدالفطر یا عیدالاضحی کے مبارک ایام میں فلموں کا سینمائوں میں افتتاح کرنا بھی ہمارے ہاں روزمرہ کا معمول ہے۔ لوگوں نے قرآن مجید کا مذاق بنا رکھا ہے۔ یہاں پر اگر قوالی، کوئی مشاعرہ یا کوئی فلم لگی ہوتی تو آپ دیکھتے ہیں کہ لوگوں کے ٹھٹ کے ٹھٹ لگ جاتے، لیکن قرآن مجید کا بیان ہو، رسول اکرمe کی حدیث و سنت یا آپe کی سیرت کا بیان ہو تو بس دوچار اللہ کے بندے آ جاتے ہیں۔ یہ ہمارا حال ہے۔ اسی لئے قرآن مجید میں آیا ہے کہ قیامت کے دن حضور اکرمe اپنی امت کے بارے میں یوں شکوہ کریں گے:
{وَقَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا ہٰذَا الْقُرْاٰنَ مَہْجُوْرًا} (الفرقان:۳۰)
’’رسول کہے گا: اے میرے پروردگار! میری قوم نے قرآن کو چھوڑ دیا تھا (اس پر عمل کرنا ترک کر دیا تھا) ‘‘
اب تو حالت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ لوگ بچوں کو ناظرۂ قرآن بھی نہیں پڑھاتے، حفظ تو دور کی بات ہے۔ لوگ سوچتے ہیں کون حفظ کرائے، حفظ کرانے میں چار سال لگتے ہیں۔ چار سال میں تو بچہ کہاں سے کہاں پہنچ جائے گا۔ میٹرک کرنے میں سولہ سال لگتے ہیں (یعنی سولہ سال کی عمر میں بچہ میٹرک پاس کر لیتا ہے) حفظ کرائیں گے تو کہیں بیس سال میں جا کر کرے گا۔ کچھ لوگوں نے تحقیق کی کہ کالجوں میں اخلاق و کردار کے لحاظ سے کون سے لڑکے اچھے ہوتے ہیں تو سروے کے بعد معلوم ہوا کہ جن لڑکوں نے بچپن میں قرآن مجید ناظرہ پڑھا تھا، کالج میں بھی وہ اخلاق و کردار کے لحاظ سے ممتاز تھے۔ یہ قرآن مجید کی برکت ہے۔ اگر سمجھ کر پڑھا جائے تو یہ بڑی بات ہے۔ لیکن اگر ناظرہ ہی پڑھ لیا جائے تو اس میں بھی برکت ہوتی ہے اور انسان کا اپنے رب کے ساتھ کچھ نہ کچھ تعلق ہو جاتا ہے۔
یہ معاملہ اب گھٹتا جا رہا ہے۔ پہلے بچے نہ صرف ناظرہ پڑھتے تھے بلکہ حفظ کرتے تھے‘ انہیں اس کا شوق ہوتا تھا۔ اب وہ زمانہ لد گیا۔ اب نہ حفظ کا وہ چرچا ہے، نہ پہلے جیسے قرآن مجید پڑھنے والے ہیں۔ پہلے عورتیں تک قرآن مجید حفظ کرتی تھیں۔ وہ حافظہ ہوتی تھیں، ان میں باہم ایک دوسرے سے مقابلہ ہوتا تھا۔ اب مقابلہ اس کا نہیں ہوتا کہ اللہ کے دین کا کتنا علم حاصل کیا، قرآن کتنا پڑھا۔ اب مقابلہ کھیلوں کا ہوتا ہے۔ قرآن کریم کے ساتھ ہمارا یہ سلوک نہایت افسوسناک ہے!!!
بعض لوگوں میں حفظ قرآن بھی رواج اور فیشن کے طور پر چل نکلا ہے۔ حفظ قرآن ایک قابل تعریف امر ہے لیکن حافظ قرآن کا صرف حفظ پر اکتفا کر لینا اور قرآن کریم کے ترجمے اور دینی تعلیم و تربیت کے حصول سے صرفِ نظر کرنے کا رویہ مناسب نہیں۔ ایسا حفظ جس پر عمل نہ کیا جائے اور نہ اس کو یاد رکھا جائے اور اس کے تقاضے پورے نہ کئے جائیں، روز قیامت وبالِ جان ہوگا، اللہ تعالیٰ بچائے۔ حفظ قرآن دراصل ایک سیڑھی ہے جو اگر دینی تعلیم اور دینداری کی طرف لے جائے تو کیا کہنے! وگرنہ آج بعض حافظ قرآن فلموں میں اداکاری کرتے یا برے پیشے اپناتے بھی مل جائیں گے۔ ایسے حفظ قرآن کا کوئی فائدہ نہیں جو حافظ کو اسلام اور قرآن سے غافل کر دے۔

No comments:

Post a Comment

View My Stats