Mz23-06-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, June 15, 2019

Mz23-06-2019


طب وصحت ... لُو لگنا (Sun Stroke)

تحریر: جناب حکیم راحت نسیم سوہدروی
ہمارے ملک میں مئی جون میں سورج آب و تاب سے چمکتا ہے جس سے بدن کو جھلسا دینے والی گرمی پھیل جاتی ہے تو درجہ حرارت بھی بڑھ جاتا ہے۔ شدت گرمی سے انسان ہی نہیں بلکہ ہر جاندار یہاں تک کہ پودے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ گرمی کی شدت سے پسینہ بہت زیادہ خارج ہوتا ہے۔ اگر کچھ جسمانی مشقت ہو جائے تو پسینہ کی مقدار بڑھ جاتی ہے‘ اس طرح جسم میں موجود توانائی میں بھی کمی واقع ہو جاتی ہے۔ گرمی کی شدت سے لو سے بہت تکلیف بھی لاحق ہو سکتی ہے جو کہ ایک مہلک عارضہ ہے۔
لو لگنے کی علامات:
جب گرمی کی شدت کسی فرد کو متاثر کرتی ہے تو بدن کا درجہ حرارت اچانک بڑھ جاتا ہے اور مریض کا برا حال ہو جاتا ہے۔ جس سے اس کی جسمانی صحت اور احساسات میں تبدیلی آ جاتی ہے، اس کی جلد گرم، خشک ہوجاتی ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ متاثرہ انسان کو لولگنا یعنی (سن سٹروک) کا شکار ہو جاتا ہے۔
دل کی دھڑکن بڑھ جانا:
جب کسی کو لو لگتی ہے تو اس کا دوران خون تیز ہو جاتا ہے‘ اس سے دل کی دھڑکن مزید بڑھ جاتی ہے اور بعض اوقات اسے اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
اعصابی کھچاؤ:
بدن میں بعض کیمیائی تبدیلیوں اور دوران خون کی تیزی کے باعث سارے اعصاب میں کھچائو اور تنائو محسوس ہوتا ہے۔ خصوصاً گردن اور کمر کے پٹھوں میں یہ کھچائو شدید ہوتا ہے۔
شدید بخار:
جسم کا عمومی درجہ حرارت بڑھ جانے اور اعصابی نظام میں خلل آ جانے نیز حرام مغز کی ورمی کیفیت کی وجہ سے شدید بخار لاحق ہو جاتا ہے جو اکثر اوقات ۱۰۴ سے ۱۰۶ درجہ فارن ہائیٹ تک بھی ہو جاتا ہے۔ اس سے جسم میں شدید قسم کی تپش معلوم ہوتی ہے۔
شدید پیاس:
حرارت بڑھ جانے کی وجہ سے مریض بار بار پانی طلب کرتا ہے کیونکہ حرارت کے باعث اس کی پیاس میں بہت اضافہ ہو جاتا ہے۔ پانی پینے کے باوجود اسے بار بار پیاس لگتی اور ہونٹ و منہ خشک رہتے ہیں اور مریض بے چینی سے بار بار پانی طلب کرتا ہے۔
سر چکرانا:
مریض کو اکثر سر کے چکرانے اور درد کرنے کی شکایت رہتی ہے اور اسے چلتے وقت توازن قائم رکھنے میں مشکل پیش آتی ہے۔
قے اور متلی:
مریض کو اکثر اوقات قے آ جاتی ہے اور اس کا جی متلاتا ہے۔ کوئی بھی چیز نگلتے وقت یہ شکایت زیادہ ہو جاتی ہے۔
بے ہوشی:
لو لگنے کا سب سے خطرناک مرحلہ مریض کا بے ہوش ہو جانا ہے، جس سے مریض کا قدرتی مدافعتی نظام کمزور ہو جاتا اور اسے بار بار بے ہوشی کے دورے پڑتے ہیں، جو موت کی شکل بھی اختیار کر لیتے ہیں۔ کیونکہ لو لگنے سے جسم کا قدرتی مدافعاتی نظام ہی متاثر نہیں ہوتا بلکہ دوران خون اور اعصابی نظام بھی متاثر ہوتا ہے۔
حفاظتی تدابیر:
لو لگنے سے عموماً وہ لوگ متاثر ہوتے ہیں جو شدت کی گرمی میں بھی دھوپ میں باہر نکلتے یا کام کاج کرتے ہیں۔گرمی کے اوقات میں باہر مزدوری کرنے والے، گرم بھٹیوں کے سامنے کام کرنے والے اور طلبہ و طالبات جب دوپہر کو واپس آتے ہیں تو گرمی کی تپش کا شکار ہو جاتے ہیں۔
موسم گرما میں پانی کا استعمال بڑھا دیا جائے اور اس میں قدرے نمک ملا کر پئیں، ٹھنڈے مشروبات لیموں کی سکنجبین، ستو کا شکر ملا شربت، بزوری کا شربت اور لسی پئیں۔ گرم اشیاء کم سے کم استعمال کریں۔ دھوپ کے اوقات میں بلاضرورت باہر نہ نکلیں، اگر نکلنا ضروری ہو تو سر ڈھانپ کر نکلیں۔ گہرے رنگدار خصوصاً سیاہ رنگ کے کپڑے نہ پہنیں۔ کیونکہ یہ گرمی کو جلد جذب کرتے ہیں، جبکہ ہلکے رنگوں کے سوتی کپڑے استعمال کریں جو اکثر مفید ہوتے ہیں۔ طلبہ و طالبات سکول سے واپسی پر سر پر گیلا کپڑا رکھیں۔ مناسب جوتے پہنیں۔ تلی ہوئی ناقص، باسی اور نشاستہ والی غذائیں ہر گز نہ کھائیں۔ موسمی سبزیاں اور پھل زیادہ کھائیں۔ فالسہ، کھیرا اور تربوز کا استعمال زیادہ رکھیں جب کہ آلو بخارا بھی اس مرض میں مفید ہے۔
لو لگنے کا علاج:
اگر کسی کو لو لگنے کا حملہ ہو تو فوری طور پر مریض کو ٹھنڈی ہوا دار جگہ پر افقی حالت میں لٹا دیا جائے۔ جسم پر ٹھنڈے برف ملے پانی سے غسل کرائیں۔ مریض کی جلد کو آہستہ آہستہ ٹھنڈے پانی سے گیلا کر کے پیچھے سے ہوا دی جائے۔ یہ ایک خطرناک مرض ہے، اس میں مریض بے ہوش بھی ہو جاتے ہیں۔ ایسی حالت میں نمک ملا پانی اس وقت تک نہ دیں جب تک مریض ہوش میں نہ آئے کیونکہ بے ہوشی میں یہ پانی سانس والی نالی کے ذریعے پھیپھڑوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ برف کے پانی میں پٹیاں بھگو کر پیشانی پر رکھیں۔ خمیرہ مروارید۶ گرام کی مقدار میں دل کی گھبراہٹ کے لیے استعمال کریں۔
کچے آم کو راکھ میں رکھ دیں، پندرہ منٹ بعد نکال کر اس کا رس اچھی طرح نچوڑ کر چینی و برف ملا کر وقفے وقفے سے پلائیں۔

No comments:

Post a Comment

View My Stats