سیدنا صدیق اکبر﷜ 11-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Sunday, July 14, 2019

سیدنا صدیق اکبر﷜ 11-2019


سیدنا صدیق اکبر﷜ ... حیات وسیرت پر ایک نظر

تحریر: جناب پروفیسر عبدالعظیم جانباز
سیدنا ابوبکر صدیقt کا نام عبداللہ بن عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن تیم بن مرہ بن کعب ہے۔ مرہ بن کعب تک آپ کے سلسلہ نسب میں کل چھ واسطے ہیں۔ مرہ بن کعب پر جاکر آپt کا سلسلہ نبی اکرمe کے نسب سے جاملتا ہے۔ آپt کی کنیت ابوبکر ہے۔ (المعجم الکبیر ، نسبتہ ابی بکر الصدیق واسمہ، ۱:۱)
ابتدائی زندگی:
واقعہ فیل کے تین برس بعد آپ کی مکہ میں ولادت ہوئی۔آپ کا سلسلہ نسب ساتویں پشت پر سرکار دو عالمe سے مل جاتا ہے۔ آپ کا نام پہلے عبدالکعبہ تھا جو رسول اللہe نے بدل کر عبداللہ رکھا، آپ کی کنیت ابوبکر تھی۔ آپ قبیلہ قریش کی ایک شاخ بنو تمیم سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے والد کا نام عثمان بن ابی قحافہ اور والدہ کا نام ام الخیر سلمٰی تھا۔ آپ کا خاندانی پیشہ تجارت اور کاروبار تھا۔ مکہ میں آپ کے خاندان کو نہایت معزز مانا جاتا تھا۔ کتب سیرت اور اسلامی تاریخ کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعثت سے قبل ہی آپ کے اور رسول اللہe کے درمیان گہرے دوستانہ مراسم تھے۔ ایک دوسرے کے پاس آمد ورفت، نشست و برخاست، نیز اہم معاملات پر صلاح ومشورہ روز کا معمول تھا۔ مزاج میں یکسانیت کے باعث باہمی انس ومحبت کمال کو پہنچا ہوا تھا۔ بعثت کے اعلان کے بعد آپ نے بالغ مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ ایمان لانے کے بعد آپ نے اپنے مال و دولت کو خرچ کرکے مؤذن رسول سیدنا بلالt سمیت بے شمار ایسے غلاموں کو آزاد کیا جن کو ان کے ظالم آقاؤں کی جانب سے اسلام قبول کرنے کی پاداش میں سخت ظلم وستم کا نشانہ بنایا جارہا تھا۔ آپ کی دعوت پر ہی سیدنا عثمان، سیدنا زبیر بن العوام، سیدنا طلحہ، سیدنا عبدالرحمن بن عوف اور سیدنا سعد بن ابی وقاص جیسے اکابر صحابہ] ایمان لائے جن کو بعد میں دربار رسالت سے عشرہ مبشرہ کی نوید عطا ہوئی۔
القاب و خطاب:
صدیق اور عتیق آپ کے خطاب ہیں جو آپ کو دربار رسالتe سے عطا ہوئے۔ آپ کو دو موقعوں پر صدیق کا خطاب عطا ہوا۔ اول جب آپ نے نبوت کی بلا جھجک تصدیق کی اور دوسری بار جب آپ نے واقعہ معراج کی بلا تامل تصدیق کی۔ اس روز سے آپ کو صدیق اکبر کہا جانے لگا۔
عربی زبان میں ’’البکر‘‘ جوان اونٹ کو کہتے ہیں۔ جس کے پاس اونٹوں کی کثرت ہوتی یا جو اونٹوں کی دیکھ بھال اور دیگر معاملات میں بہت ماہر ہوتا عرب لوگ اسے ’’ابوبکر‘‘ کہتے تھے۔ آپt کا قبیلہ بھی بہت بڑا اور مالدار تھا نیز اونٹوں کے تمام معاملات میں بھی آپ مہارت رکھتے تھے اس لئے آپ بھی ’’ابوبکر‘‘ کے نام سے مشہور ہوگئے۔
آپؓ کے دو لقب زیادہ مشہور ہیں:
ف           عتیق                        ق            صدیق
عتیق پہلا لقب ہے، اسلام میں سب سے پہلے آپ کو اسی لقب سے ہی ملقب کیا گیا۔ سیدنا عبداللہ بن زبیرt سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیقt کا نام ’’عبداللہ‘‘ تھا، نبی کریمe نے انہیں فرمایا: [اَنْتَ عَتِیْقٌ مِنَ النَّار۔] ’’تم جہنم سے آزاد ہو‘‘۔ تب سے آپt کا نام عتیق ہوگیا۔ (صحیح ابن حبان، کتاب اخبارہ عن مناقب الصحابہ: ۹/۶)
اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہr سے روایت ہے کہ جب حضور نبی اکرمe کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کی سیر کرائی گئی تو آپe نے دوسری صبح لوگوں کے سامنے اس مکمل واقعہ کو بیان فرمایا، مشرکین دوڑتے ہوئے سیدنا ابوبکر صدیقt کے پاس پہنچے اور کہنے لگے:
’’کیا آپ اس بات کی تصدیق کرسکتے ہیں جو آپ کے دوست نے کہی ہے کہ انہوں نے راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کی سیر کی؟‘‘
آپt نے فرمایا: کیا آپe نے واقعی یہ بیان فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپt نے فرمایا:
’’اگر آپe نے یہ ارشاد فرمایا ہے تو یقینا سچ فرمایا ہے اور میں ان کی اس بات کی بلا جھجک تصدیق کرتا ہوں‘‘۔
انہوں نے کہا: ’’کیا آپ اس حیران کن بات کی بھی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ آج رات بیت المقدس گئے اور صبح ہونے سے پہلے واپس بھی آگئے؟‘‘ آپt نے فرمایا:
’’جی ہاں! میں تو آپe کی آسمانی خبروں کی بھی صبح و شام تصدیق کرتا ہوں اور یقینا وہ تو اس بات سے بھی زیادہ حیران کن اور تعجب والی بات ہے‘‘۔ (المستدرک، الرقم: ۴۵۱۵)
پس اس واقعہ کے بعد آپt صدیق مشہور ہوگئے۔
ثانی اثنین کا لقب:
جب سرکار دوعالمe نے مسلمانوں کو مدینہ ہجرت کا حکم دیا تو آپ کو سرکارe کا ہمسفر بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔ اس سفر میں آپ نے تمام مواقعوں بالخصوص غار ثور میں قیام کے دوران حق دوستی ادا کردیا۔ آپ کو اس سفر ہجرت کے حوالے سے ’’ثانی اثنین‘‘ کے لقب سے یاد کیا گیا ہے۔
آپؓ کے والدین کریمین:
آپt کے والد محترم کا نام عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر قرشی تیمی ہے۔ کنیت ابوقحافہ ہے۔ آپ فتح مکہ کے روز اسلام لائے اور آپe کی بیعت کی۔ سیدنا ابوبکر صدیقt کی وفات کے بعد بھی زندہ رہے اور ان کے وارث ہوئے۔ آپe نے خلافت فاروقی میں وفات پائی۔ (تھذیب الاسماء واللغات، اِمام نووی، ۱:۲۹۶)
آپt کی والدہ محترمہ کا نام سلمی بنت صخر بن عامر بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ ہے۔ کنیت ’’اُم الخیر‘‘ ہے۔ آپ‘ سیدنا ابوبکر صدیقt کے والد کے چچا کی بیٹی تھیں۔ ابتدائے اِسلام میں ہی آپe کے ہاتھ پر بیعت کرکے مشرف بہ اسلام ہوگئی تھیں۔ مدینہ منورہ میں جمادی الثانی ۱۳ ہجری میں وفات پائی۔ (الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، ۸:۳۸۶)
ازواج اور اولاد:
سیدنا ابوبکر صدیقt کی ازواج (بیویوں) کی تعداد چار ہے۔ آپ نے دو نکاح مکہ مکرمہ میں کئے اور دو مدینہ منورہ میں۔ان ازواج سے آپ کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہوئیں۔ جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
سیدنا ابوبکر صدیقt کا پہلا نکاح قریش کے مشہور شخص عبدالعزی کی بیٹی ام قتیلہ سے ہوا۔ اس سے آپt کے ایک بڑے بیٹے سیدنا عبداللہt اور ایک بیٹی سیدہ اسماءt پیدا ہوئیں۔
آپt کا دوسرا نکاح ام رومان (زینب) بنت عامر بن عویمر سے ہوا۔ ان سے ایک بیٹے سیدنا عبدالرحمنt اور ایک بیٹی ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہr پیدا ہوئیں۔
سیدنا صدیق اکبرt نے تیسرا نکاح حبیبہ بنت خارجہ بن زید سے کیا۔ ان سے آپt کی سب سے چھوٹی بیٹی سیدہ ام کلثومr پیدا ہوئیں۔
آپt نے چوتھا نکاح سیدہ اسماء بنت عمیسr سے کیا۔ یہ سیدنا جعفر بن ابی طالبt کی زوجہ تھیں، جنگ موتہ کے دوران شام میں سیدنا جعفرt کے بعد سیدنا ابوبکر صدیقt نے ان سے نکاح کرلیا۔ حجۃ الوداع کے موقع پر ان سے آپt کے بیٹے محمد بن ابی بکرw پیدا ہوئے۔ جب سیدنا ابوبکر صدیقt دنیا سے رخصت ہوئے تو سیدنا علی المرتضیٰt نے آپ سے نکاح کرلیا۔ اس طرح آپ کے بیٹے محمد بن ابی بکرw کی پرورش سیدنا علی المرتضیٰt نے فرمائی۔ (الریاض النضرۃ، امام ابو جعفر طبری، ۱:۲۶۶)
سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے اوصاف حمیدہ:
سیدنا ابوبکر صدیقt کو یہ سعادت حاصل ہے کہ وہ اپنے گرد پھیلی ہوئی گمراہیوں، غلط رسوم و رواج، اخلاقی و معاشرتی برائیوں سے پاک صاف ہونے کے ساتھ ساتھ اوصاف حمیدہ سے بھی متصف تھے۔ آپ کے اعلیٰ محاسن و کمالات اور خوبیوں کی بنا پر مکہ مکرمہ اور اس کے قرب و جوار میں آپt کو محبت و عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ سیدنا سلیمان بن یسارt سے روایت ہے کہ نبی اکرمe نے ارشاد فرمایا:
’’اچھی خصلتیں تین سوساٹھ ہیں اور اللہ جب کسی سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کی ذات میں ایک خصلت پیدا فرمادیتا ہے اور اسی کے سبب اسے جنت میں بھی داخل فرمادیتا ہے۔‘‘ سیدنا ابوبکر صدیقt نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میرے اندر بھی ان میں سے کوئی خصلت موجود ہے؟ ارشاد فرمایا: ’’اے ابوبکر! تمہارے اندر تو یہ ساری خصلتیں موجود ہیں۔‘‘
عاجزی و انکساری:
سیدہ انیسہr سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیقt خلیفہ بننے کے تین سال پہلے اور خلیفہ بننے کے ایک سال بعد بھی ہمارے پڑوس میں رہے۔ محلے کی بچیاں آپt کے پاس اپنی بکریاں لے کر آتیں، آپ ان کی دلجوئی کے لئے دودھ دوھ دیا کرتے تھے۔ جب آپt کو خلیفہ بنایا گیا تو محلے کی ایک بچی آپt کے پاس آئی اور کہنے لگی: اب تو آپ خلیفہ بن گئے ہیں، آپ ہمیں دودھ دوھ کر نہیں دیں گے۔ آپt نے ارشاد فرمایا: کیوں نہیں! اب بھی میں تمہیں دودھ دوھ کر دیا کروں گا اور مجھے اللہ کے کرم سے یقین ہے کہ تمہارے ساتھ میرے رویے میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ چنانچہ خلیفہ بننے کے بعد بھی آپt ان بچیوں کو دودھ دوھ کردیا کرتے تھے۔(تھذیب الاسماء واللغات، امام نووی، ۲:۴۸۰)
سیدنا یحییٰ بن سعیدt سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیقt نے ملک شام کی طرف چند لشکر بھیجے۔ ان میں سیدنا یزید بن ابوسفیانt کا لشکر بھی تھا۔ انہیں ملک شام کے چوتھائی حصے کا امیر مقرر کیا گیا تھا۔ ان کی روانگی کے وقت سیدنا ابوبکر صدیقt انہیں چھوڑنے کے لئے ان کے ساتھ ساتھ پیدل چل رہے تھے اور یہ گھوڑے پر سوار تھے۔ سیدنا یزید بن ابوسفیانt نے عرض کیا:
’’اے رسول اللہe کے خلیفہ! یا تو آپt سوار ہوجائیں یا میں اپنے گھوڑے سے اتر جاتا ہوں‘‘۔ آپt نے ارشاد فرمایا:
’’نہ تو تم اپنے گھوڑے سے اترو گے اور نہ ہی میں سوار ہوں گا بلکہ میں تو اپنے ان قدموں کو راہ خدا میں شمار کرتا ہوں۔‘‘ (موطا امام مالک، کتاب الجھاد، الرقم: ۱۰۰۴)
غیرتِ ایمانی:
عام حالات میں سیدنا ابوبکر صدیقt نہایت ہی نرم مزاج تھے ایسے معلوم ہوتا تھا کہ سختی، خفگی اور غصے سے تو آشنا ہی نہیں ہیں۔ دھیمے انداز میں آہستہ آہستہ بات کرتے مگر اسلام کے معاملے میں انتہائی غیرت مند اور بہت سخت تھے۔ مدینہ منورہ کے یہودیوں اور منافقوں کی طنزیہ باتوں پر تو آپt شدید غصے میں آتے ہی تھے مگر اگر کبھی اپنے قریبی رشتہ داروں کی طرف سے بھی انہیں آقاe کی بارگاہ میں بے ادبی کا ہلکا سا بھی شائبہ ہوتا تو اس پر سخت ردعمل کا اظہار فرماتے۔
سیدنا ابوبکر صدیقt کے والد ابوقحافہ نے (قبول اسلام سے پہلے) ایک بار آپe کی شان میں نازیبا کلمات کہہ دیئے تو سیدنا ابوبکر صدیقt نے انہیں اتنے زور سے دھکا دیا کہ وہ دور جاگرے۔ بعد میں آپt نے نبی اکرمe کو سارا ماجرا سنایا تو آپe نے پوچھا: اے ابوبکر! کیا واقعی تم نے ایسا کیا؟ عرض کیا: جی ہاں! فرمایا: آئندہ ایسا نہ کرنا۔ عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر اس وقت میرے پاس تلوار ہوتی تو میں ان کا سرقلم کردیتا۔ اس وقت سورۃ المجادلہ کی آیت نمبر۲۲ آپ کے حق میں نازل ہوئی:
{لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہ وَ لَوْ کَانُوْٓا اٰبَآئَہُمْ اَوْ اَبْنَآئَہُمْ اَوْ اِخْوَانَہُمْ اَوْ عَشِیْرَتَہُمْ۱ اُولٰٓپکَ کَتَبَ فِیْ قُلُوْبِہِمُ الْاِیْمَانَ وَاَیَّدَہُمْ بِرُوْحٍ مِّنْہُ۱ وَیُدْخِلُہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا۱ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ۱ اُولٰٓیِکَ حِزْبُ اللّٰہِ۱ اَلَآ اِنَّ حِزْبَ اللّٰہِ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ٭}
’’آپ اُن لوگوں کو جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں کبھی اس شخص سے دوستی کرتے ہوئے نہ پائیں گے جو اللہ اور اُس کے رسول (e) سے دشمنی رکھتا ہے خواہ وہ اُن کے باپ (اور دادا) ہوں یا بیٹے (اور پوتے) ہوں یا اُن کے بھائی ہوں یا اُن کے قریبی رشتہ دار ہوں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اُس (اللہ) نے ایمان ثبت فرما دیا ہے اور انہیں اپنی روح (یعنی فیضِ خاص) سے تقویت بخشی ہے، اور انہیں (ایسی) جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں، وہ اُن میں ہمیشہ رہنے والے ہیں، اللہ اُن سے راضی ہوگیا ہے اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے ہیں، یہی اللہ (والوں) کی جماعت ہے، یاد رکھو! بے شک اللہ (والوں) کی جماعت ہی مراد پانے والی ہے۔‘‘
سیدنا ابوبکر صدیقt کا ہر معاملہ آقاe کی محبت کی خاطر ہوتا تھا اور آپe اس معاملے میں اپنے والدین اور اولاد وغیرہ کا بھی لحاظ نہ فرماتے تھے۔ ایک دفعہ آپt‘ نبی اکرمe کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپt کو اپنی بیٹی سیدہ عائشہ صدیقہr کی بلند آواز سنائی دی۔ آپt یہ کہتے ہوئے سیدہ عائشہ صدیقہr کو تھپڑ مارنے کے لئے ہاتھ اٹھاکر آگے بڑھے:
[اَلاَ اَرَاکِ تَرْفَعِیْنَ صَوْتَکِ عَلَی رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ۔]
’’یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں کہ تم رسول اللہe کے سامنے اپنی آواز بلند کررہی ہو‘‘۔
یہ حالت دیکھ کر رسول اللہ e نے آپt کو تھپڑ مارنے سے روکا۔ آپt اسی طرح غصے کی حالت میں واپس تشریف لے گئے۔ آپe نے فوراً سیدہ عائشہ صدیقہr سے فرمایا:
’’دیکھا! میں نے تمہیں ان سے کس طرح بچایا‘‘۔
چند دنوں کے بعد سیدنا صدیق اکبرt کاشانہ نبوی میں حاضر ہوئے تو حضورe اور سیدہ عائشہ صدیقہr کو باہم راضی اور خوش دیکھا تو بارگاہ رسالت میں یوں عرض گزار ہوئے:
’’اللہ کے رسول! جس طرح آپ نے مجھے اپنی ناراضگی میں شریک کیا تھا، اسی طرح مجھے اپنی صلح (خوشی) میں بھی شریک فرمالیجئے۔‘‘
آپe نے ارشاد فرمایا:
’’ہم نے آپ کو شریک کرلیا، شریک کرلیا‘‘ (سنن ابی داؤد، الرقم: ۴۹۹۹)
ایثار و سخاوت:
آپt کو بدر،احد،خندق،تبوک،حدیبیہ،بنی نضیر، بنی مصطلق،حنین، خیبر،فتح مکہ سمیت تمام غزوات میں سرکار دو عالمe کی ہمراہی کا شرف حاصل رہا۔ غزوہ تبوک میں آپ نے جو اطاعت رسولe کی اعلی مثال قائم کی جس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ اس غزوہ میں سرکاردو عالمe کی ترغیب پر تمام صاحب استطاعت صحابہ نے دل کھول کر لشکر اسلامی کی امداد کی مگر ابوبکرt نے ان سب پر اس طرح سبقت حاصل کی کہ آپ اپنے گھر کا سارا سامان لے آئے۔ جب رسول اکرمe نے ارشاد فرمایا کہ ’’ اے ابوبکر! گھر والوں کے لئے بھی کچھ چھوڑا ہے؟‘‘ تو آپt نے عرض کی ’’ گھر والوں کے لئے اللہ اور اس کا رسول ہی کافی ہے۔‘‘
دور رسالت میں امامت:
دور رسالت کے آخری ایام میں رسول اللہe نے آپt کو نماز وں کی امامت کا حکم دیا۔ آپ نے مسجد نبوی میں سرکار دوعالمe کے حکم پر مصلائے رسول پر ۱۷ نمازوں کی امامت فرمائی۔ رسول اللہe کا یہ اقدام آپ کی خلافت کی طرف واضح اشارہ تھا۔ ایک دفعہ نماز کے اوقات میں آپt مدینہ سے باہر تھے۔ سیدنا بلالt نے آپt کو نہ پا کر سیدنا عمرt کو نماز کی امامت کا کہا۔ سیدنا عمرt کو امامت کرواتا دیکھ کر آپe نے فرمایا: ’’اللہ اور اس کا رسول یہ پسند کرتا ہے کہ ابوبکر نماز کی امامت کرے۔‘‘ یہ بات سیدنا ابوبکر صدیقt پر آپe کے اعتماد کا اظہار تھا کہ آپ ہی مسلمانوں کے پہلے خلیفہ ہوں گے چنانچہ آپ پہلے خلیفہ مسلمین منتخب ہوئے۔
اول امیر المومنین:
رسول اللہe کے اس دنیا سے جانے کے بعد صحابہ کرام کے مشورے سے آپ کو جانشین رسول مقرر کیا گیا۔ آپ کی تقرری امت مسلمہ کا پہلا اجماع کہلاتی ہے۔
امیرالمومنین منتخب ہونے کے اگلے روز آپ نے قصد کیا کہ آپ اپنی تجارتی سرگرمیوں کا آغاز کریں تاکہ معاشی معاملات کو انجام دیا جا سکے۔ راستے میں سیدنا عمرt سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے آپ سے عرض کیا ’’یا امیر المومنین! آپ کہاں تشریف لے جارہے ہیں؟‘‘ آپt نے فرمایا: ’’تجارت کی غرض سے بازار کی طرف جارہا تھا۔‘‘ سیدنا عمرt نے فرمایا: ’’اب آپ امیر المومنین ہیں‘ تجارت اور مسلمانوں کے باہمی معاملات ایک ساتھ کیسے چلیں گے؟‘‘ آپt نے فرمایا: ’’بات تو آپ (عمر) کی درست ہے مگر اہل وعیال کی ضروریات کیسے پوری کی جائیں گی؟‘‘ سیدنا عمرt نے عرض کیا: ’’آئیے سیدنا ابوعبیدہt کے پاس چلتے ہیں اور ان سے مشورہ کرتے ہیں۔‘‘ (واضح رہے کہ سیدنا ابوعبیدہ کو رسول اکرمe نے ’’امت کا امین‘‘ مقرر کیا تھا اسی لئے بیت المال کی نگرانی بھی آپ ہی کے ذمہ تھی۔)
حضرات شیخین، امین الامت کے پاس پہنچے اور صورتحال ان کے سامنے رکھ دی۔ امین الامت نے فرمایا: ’’اب ابوبکرt مسلمانوں کے خلیفہ ہیں۔ مسلمانوں کے مسائل اور معاملات کے ذمہ دار ہیں۔ خلافت کے معاملات کو نبٹانے کے لئے طویل وقت اور سخت محنت درکار ہوتی ہے۔ اگر خلیفہ تجارت کریں گے تورعایا کا حق ادا نہ کرسکیں گے۔ لہٰذا ان کی اور ان کے اہل وعیال کی ضرورت کے لئے بیت المال سے وظیفہ مقرر کردینا چاہیے۔‘‘
اب سوال یہ تھا کہ وظیفہ کی مقدار کتنی ہو؟ اس موقع پر سیدنا ابوبکرt نے فرمایا کہ ’’ جتنا مدینے کے کسی ایک مزدور کی آمدنی ہوتی ہے اتنا کافی رہے گا۔‘‘ عرض ہوا کہ ’’اتنے کم سے تو آپ کا گزارہ نہیں ہو سکے گا۔‘‘ آپt نے فرمایا: ’’اگر اس سے ایک عام آدمی کے گھر کا گزارہ ہوسکتا ہے تو خلیفہ کا بھی ہونا چاہیے۔ اگر نہیں ہوسکتا تو اس کا مطلب ہے کہ ایک عام مزدور کس طرح گزارہ کرتا ہوگا۔‘‘
چنانچہ خلافت اسلامی کے اس پہلے تاجدار کا وظیفہ ایک عام مزدور کے مساوی مقرر ہوا۔ بعد ازاں آپ نے اس قلیل رقم میں مزید کمی کروا دی۔ واقعہ یوں ہے کہ آپ کو میٹھا مرغوب تھا۔ اب روز جو مقدار بیت المال سے عطا ہوتی اس میں ہی گزارہ کرنا دشوار تھا چہ جائیکہ میٹھا کہاں سے آتا؟ آپ کی زوجہ محترمہ نے یہ کیا کہ روز جو آٹا بیت المال سے آتا تھا اس میں سے چٹکی چٹکی جمع کرنا شروع کردیا۔ جب اس کی مقدار زیادہ ہوگئی تو ایک روز میٹھا تیار کرکے دسترخوان پر رکھا گیا۔ آپ نے فرمایا: ’’یہ کہاں سے آیا؟‘‘ زوجہ محترمہ نے عرض کیا ’’گھر میں بنایا ہے‘‘ آپ نے فرمایا ’’جو مقدار ہم کو روزانہ ملتی ہے اس میں تو اس کی تیاری ممکن نہیں؟‘‘ زوجہ محترمہ نے سارا ماجرا عرض کیا۔ آپ نے یہ سن کر فرمایا ’’اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہم کو اتنی مقدار (جو روز کفایت کی گئی) ہم کو روزانہ زیادہ ملتی ہے اس سے کم میں بھی گزارہ ہوسکتا ہے۔ لہذا اس کو بیت المال میں داخل کروا دیا جائے اور آئندہ سے روزانہ ملنے والے وظیفے سے یہ مقدار کم کردی جائے۔‘‘
سیدنا ابوبکرصدیقt کو اللہ تعالیٰ کے ہاں اور بارگاہِ رسالت مآبe میں خصوصی اہمیت و فضیلت حاصل تھی۔ قرآن مجید کی تقریباً ۳۲ آیات آپ کے متعلق ہیں جن سے آپ کی شان کا اظہار ہوتا ہے۔ آپe نے آپt کے بارے میں فرمایا کہ مجھ پر جس کسی کا احسان تھا میں نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے مگر ابوبکر کے مجھ پر وہ احسانات ہیں جن کا بدلہ اللہ تعالیٰ روز قیامت انہیں عطا فرمائے گا۔
یہ ایک تاریخ ساز حقیقت ہے کہ خلیفہ المسلمین، جانشین پیغمبر سیدنا ابو بکر صدیقt نے خلافت کا منصب وذمہ داری سنبھالتے ہی پہلے روز اپنے خطبے میں جس منشور کا اعلان فرمایا پورے دور خلافت میں اس کے ہر حرف کی مکمل پاسداری کی۔ آپ کی دینی ومذہبی خدمات تاریخ اسلام کا روشن باب ہیں۔ مغربی مورخین (جو عموما تاریخ اسلام کے واقعات بیان کرنے میں تعصب اور جانبداری سے کام لیتے آئے ہیں) عہد صدیقی کی کچھ ان الفاظ میں تشریح کرتے ہیں۔ سیدنا ابوبکرt کا دور گو کہ نہایت مختصر تھا مگر خود اسلام، محمدe کے بعد کسی اور کا اتنا احسان مند نہیں جتنا سیدنا ابو بکرt کا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سیرتِ سیدنا صدیقِ اکبرt سے اکتسابِ فیض کرتے ہوئے اپنے اقوال، اعمال اور احوال بدلنے کی توفیق عطا فرمائے اور محبتِ رسولe کی خیرات سے ہمارے قلوب و ارواح کو منور فرمائے۔ آمین!


No comments:

Post a Comment